Connect with us
Saturday,08-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ملک کو تباہ کردے گا، مذہبی شدت پسندی کا یہ جنون مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک : مولانا ارشد مدنی

Published

on

Maulana Arshad Madani

نئی دہلی, 25 فروری 2022 : جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند 1 بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں مولانا ارشد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا، واضح رہے کہ حضرت مولانا ارشد مدنی مدظلہ نے دستور اساسی کی دفعہ 44؎ کے تحت نئے ٹرم کی عہدہ صدارت کا چارج لے لیا۔ اسی کے ساتھ موجودہ مجلس عاملہ تحلیل کر دی گئی۔ اب دستور کے مطابق صدر محترم نئی مجلس عاملہ نامزد کر کے بمشورہ عاملہ ناظم عمومی نامزد کریں گے۔ عنقریب جمعیۃ علماء ہند کے مجلس منتظمہ کے ہونے والے اجلاس میں نائبین صدور و خازن کا انتخاب ہو گا، اس میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی و سماجی ایشوز اور عصری تعلیم، لڑکے اور لڑکیوں کے لئے اسکول اور کالج کا قیام خاص کر لڑکیوں کے لئے دینی ماحول میں تعلیمی ادارے کا قیام اور اصلاح معاشرہ کے طریقہ کار نیز دفتری وجماعتی امور پر تفصیل سے غور و خوض ہوا۔ مجلس عاملہ کے ممبران نے زیر بحث آئے موضوعات پر کھل کر اپنی رائے و احساسات کا اظہار کیا، اور کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اپنی تاسیس سے ملک میں فرقہ وارانہ یکجہتی اور رواداری کے لیے سرگرم عمل اور کوشاں رہی ہے، اور ملک میں آباد تمام مذہبی لسانی اور تہذیبی اکائیوں کے درمیان پیار ومحبت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے ہر سطح پر کوشش کرتی آئی ہے، اور کر رہی ہے۔ وہ آج بھی اسی بنیادی پالیسی اور مقصد کے لئے ملک کے دانشوروں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ئحیات سے تعلق رکھنے والے افراد سے پر زور اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے اثرات کا استعمال کر کے ملک کے بگڑتے ہوئے ماحول کو بچانے کی کوشش کریں، جس نے ملک کی یکجہتی، وحدت اور سلامتی کے لئے شدید خطرات پیدا کر دیئے ہیں۔

صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ مذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد قابل قبول نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ مذہب انسانیت، رواداری، محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے اس لئے جو لوگ اس کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کے لئے کرتے ہیں، وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں، اور ہمیں ہر سطح پر ایسے لوگوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور فرقہ پرستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر سیاستدانوں میں نفرت کی تخم ریزی کر کے اقتدار حاصل کرنے کی ہوس شدید تر ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے فرقہ پرستی اور مذہبی شدت پسندی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض سیاست دان اکثریت کو اقلیت کے خلاف صف آراء کرنے کے لیے مذہبی شدت پسندی کا سہارا لینے لگے ہیں، تاکہ آسانی سے اقتدار حاصل کر سکیں اور حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے ہی چلا کرتی ہے۔ آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کے نظریے سے چلے گیا یا سیکولرزم کے اصولوں پر۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہت دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں ہمیں متحد ہو کر میدان عمل میں آنا ہوگا۔ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارا اختلاف اور ہماری لڑائی کسی سیاسی پارٹی سے نہیں، صرف ان طاقتوں سے ہے جنہوں نے ملک کے سیکولر قدروں کو پامال کر کے ظلم و جارحیت کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں طرح طرح کے غیر ضروری ایشوز اٹھا کر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، مگر امید افزاء بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے۔ ملک کے حالات بلاشبہ مایوس کن ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد انصاف پسند لوگوں کی موجود ہے، جو فرقہ پرستی، مذہبی شدت پسندی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف نہ صرف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں، بلکہ نڈر ہو کر حق کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ان فرقہ پرستوں کے خلاف عدالت کا بھی رخ کر رہے ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا آ رہا ہے، یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، نئے نئے تنازعہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو نہ صرف اکسانے کی کوششیں ہو رہی ہیں، بلکہ انہیں کنارے لگا دینے کی منصوبہ بند شازشیں ہو رہی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ مثال ہے۔ اس کے لیے ملک کا ایک بڑا انصاف پسند طبقہ انہیں تحسین پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں آگے بھی اسی طرح کا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ فرقہ پرست طاقتیں آئندہ بھی مختلف بہانوں سے اکسانے اور مشتعل کرنے کی کوششیں کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جدو جہد آزادی میں قربانی دینے والے ہمارے بزرگوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایسی نفرت اور ظلم وستم کا ہندوستان ہرگز نہیں تھا۔ ہمارے بزرگوں نے ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا، جس میں بسنے والے تمام لوگ نسل برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ تعلیم کے فروغ پر جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے۔ مدارس و مکاتب کے قیام کے ساتھ ساتھ عصری اور ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کو جمعیۃ علماء ہند اور مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند 2012 سے مسلسل میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کو اسکالرشپ فراہم کر رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران 656 طلباء کو تقریبا ایک کروڑ روپے کی اسکالر شپ دی گئی، جس میں ہندو طلبہ بھی شامل تھے۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر کوئی کام نہیں کرتی۔ اسی اسکیم کے تحت اس سال بھی اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ مولاںا مدنی نے کہا کہ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں دینی ماحول میں ہمارے بچے اعلی دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں، انہوں نے قوم کے بااثر افراد سے اپیل بھی کی، جن کو اللہ نے دولت دی ہے، زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ ایسے اسکول و کالج بنائیں جہاں بچے دینی ماحول میں آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں جس طرح مفتی علماء حفاظ کی ضرورت ہے، اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر انجینئر وغیرہ کی بھی ضرورت ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے، اس جانب مسلمان خاص کر شمالی ہندوستان کے مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کو دوسرے چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے، لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔ یہ ہمیں اچھی طرح سمجھنا ہوگا، ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم ہی سے کیا جا سکتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند ملک کے ہر باشندے سے بھی یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے دام میں نہ آئیں، اور ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ نیز اپنے آباء و اجداد کی قدیم روایتوں کو نہ چھوڑیں جمعیۃ علماء ہند اس موقع پر ان تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور اداروں سے بھی پر زور اپیل کرتی ہے، جو ملک میں سیکولرزم اور قانون کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا یہ پختہ یقین ہے کہ ملک کی ترقی خوشحالی اور سلامتی کی کلید باہمی اخوت، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی میں مضمر ہے، اس کے بغیر ہمارا ملک ہندوستان ترقی کے راستے طے نہیں کرسکتا۔ مجلس عاملہ کی کارروائی صدر محترم کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی، اجلاس میں صدر جمعیۃ کے علاوہ جن اراکین نے شرکت کی ان کے نام یہ ہیں۔ مفتی سید معصوم ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند، مولانا عبدالعلیم فاروقی نائب صدر جمعیۃ علماء ہند لکھنو، مولانا اسجد مدنی دیوبند، مولانا عبداللہ ناصر بنارس، مولانا اشہد رشیدی مرادآباد، مفتی غیاث الدین حیدرآباد، فضل الرحمن قاسمی ممبئی، اس کے علاوہ بطور مدعوئین خصوصی مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی، مولانا محمد خالد قاسمی ہریانہ، مولانا عبدالقیوم قاسمی مالیگاؤں، مولانا حبیب الرحمن قاسمی جودھپور، مولانا محمد راشد راجستھان، مولانا بدر احمد مجیبی پٹنہ، شامل ہوئے۔

فضل الرحمن قاسمی
پریس سکریٹری جمعیۃ علماء ہند

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان