Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دے : مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ

Published

on

malegaon-lum

مالیگاؤں (خیال اثر ) مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو جی ٹھاکرے صاحب کو ایک مکتوب بھیجا گیا ہے. جس میں نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دینے کی مانگ کی گئی ہے.

کورونا وباء اور مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاست مہاراشٹر بری طرح متاثر ہوچکا ہے. حکومت کے پل پل بدلتے فیصلے اور فرمان سے عوام ذہنی طور پر پریشان حال ہے. ایک جانب ریاست مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مزدوروں کو مالی تعاون اور مفت راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری جانب ایسے بہت سے لاک ڈاؤن سے متاثر مستحق افراد کو اس سے محروم کردیا گیا ہے

ریاست مہاراشٹر کے مسلم اقلیتی شہر مالیگاؤں میں کورونا مرض , مسلسل لاک ڈاؤن اور کارپوریشن انتظامیہ کی ناکارہ کارکردگی کی وجہ سے ہزاروں افراد کی وفات ہوگئی. نیز بے روزگاری میں بے انتہا اضافہ ہوا, ہزاروں لوگ بھکمری کا شکار , سینکڑوں کی تعداد میں خودکشی اور وقت پر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں نے بند ہسپتالوں کے باہر دم توڑ دیا. عام لوگوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی اور لوگ مقروض ہونے لگے. اب تو عالم یہ ہے کہ بحالت مجبوری روٹی روزی اور بال بچوں کی بھوک مٹانے کے خاطر مزدور آدمی چاہے وہ کسی بھی شعبہ میں کام کرتا ہوں در در بھٹکنے پر مجبور ہے.

مالیگاؤں شہر کا دارومدار پاورلوم صنعت پر ہی منحصر ہے جس سے لاکھوں مزدوروں کو روزگار ملتا ہے. لیکن ابتک ریاستی و مرکزی سرکار کی جانب سے ان مستحق مزدوروں کو کوئی مالی تعاون نہیں مل سکا. دوسری جانب مالیگاؤں شہر میں نجی و ماینارٹی اداروں, پرائیویٹ اسکول و کالج , انگلش میڈیم اسکولوں اور سرکار سے منظور شدہ تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دینے والے نان گرانٹ اساتذہ کو بھی حکومت مہاراشٹر نے اور مقامی کارپوریشن نے نظر انداز کردیا۔

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ حکومت مہاراشٹر سے اپیل کرتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں کے ساتھ نان گرانٹ اساتذہ کو بھی ماہانہ پانچ ہزار اور مفت راشن فراہم کرے. پاورلوم صنعت سے منسلک ہر طرح کے مزدوروں کو جلد از جلد مدد فراہم کی جائے. اس طرح سے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کی معلومات اداروں سے جمع کرکے انھیں فوری طور پر مالی مدد اور مفت راشن تقسیم کیا جائے.

یاد رہے شہر مالیگاؤں میں پاورلوم مزدوروں کو ماضی میں کبھی بھی لیبر ایکٹ کے تحت سہولیات نہیں ملی اور یہ مزدور یونہی کئی کئی سال تک ایمانداری, وفاداری اور محنت کے ساتھ کارخانوں میں کام کرتے رہے. ایسے بھی مزدور ہیں جنھوں نے دس سال, بیس سال اور یہاں تک کے اپنی پوری زندگی کارخانہ داروں کی خدمت کرنے میں گزار دی. لیکن انھیں بھی لاک ڈاؤن میں کچھ نہیں ملا.

پاورلوم صنعت سے منسلک مزدوروں میں لوم کاریگر , راشن بھرنے والے, رچ بھر, بھیم جوڑنے والے, میتھا, مقادم, گھڑی لگانے والے, گانٹھ پریس مزدور, رنگاڑی, سائزنگ مزدور, حمال, چرخہ بھرنے والے, بابن کوئین بنانے والے, سائزنگ کی بھٹی جلانے والے, ورکشاپ اور ٹیکسٹائل میں کام کرنے والے کاریگر, ساڑی کاریگر, سوت, کپاس اور پھولکا میں کام کرنے والے اور دیگر کئی طرح کے مزدور شامل ہیں.

اسی طرح سے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف میں ہیڈ ماسٹر, سپر وائزر, لیکچرار, کلاس ٹیچر, ڈی ایڈ و بی ایڈ اساتذہ, پیون, کلرک, لیب اسسٹنٹ, صاف صفائی کامگار, سیکورٹی گارڈ, ڈرائیور وغیرہ شامل ہیں. ان میں ایسے خودار اورغیرتمند اساتذہ بھی ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کو بس اس آس میں کاٹ دیئے کہ انھیں بھی سرکار سے گرانٹ ملے گی. لیکن لاک ڈاؤن کے حالات نے یہ بھی منظر دکھایا کہ تعلیمی اداروں کے خود غرض منیجمنٹ نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا اور بغیر تنخواہ سال بھر سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کی معاونت تک نہیں کی.

یہ بھی حقیقت ہے کہ شہر مالیگاؤں میں موجود نام نہاد فعال شکشھ سنگھٹنا بھی ہیں جنھوں نے نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کیلئے بھی تگ و دو نہیں کی. البتہ ایسی شکشھ سنگھٹناوں نے ان اساتذہ کیلئے مہم و تحریک چلائی جنھوں نے ڈونیشن کی موٹی رقم بھر کر نوکری حاصل کی. ان کی بیس ,چالیس, ساٹھ اور سو فیصد گرانٹ منظوری کو لیکر ہلا مچایا. افسوس! نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کی جانب توجہ تک نہیں دی گئی بلکہ انھیں سماج میں حکارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا. ان مزدوروں اور اساتذہ خصوصی طور پر خواتین کا مسلسل استحصال بھی کیا جاتا رہا اور اب لاک ڈاؤن کے شنگین حالات میں آج ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں!

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ شہر کے تمام کارخانہ مالکان سے گزارش کرتی ہے کہ وہ بھی اس کار خیر میں پہل کرے تاکہ مستحق محنت کشوں اور ضرورت مندوں کو ان کا حق ملے. اس طرح سے ایسے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی گزارش کیجاتی ہے کہ وہ بھی اپنے ان خودار و عزت دار اساتذہ و نان ٹیچنگ اسٹاف کا ساتھ دیں. شہر کے تمام ہی سیاسی, سماجی و فلاحی تنظیموں سے بھی گزارش کی جاتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں اور نان گرانٹ اساتذہ و دیگر اسٹاف کے حق میں آواز بلند کریں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان