Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دے : مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ

Published

on

malegaon-lum

مالیگاؤں (خیال اثر ) مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کی جانب سے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو جی ٹھاکرے صاحب کو ایک مکتوب بھیجا گیا ہے. جس میں نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف اور پاورلوم مزدوروں کو مہاراشٹر حکومت ماہانہ پانچ ہزار نقد اور مفت راشن دینے کی مانگ کی گئی ہے.

کورونا وباء اور مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاست مہاراشٹر بری طرح متاثر ہوچکا ہے. حکومت کے پل پل بدلتے فیصلے اور فرمان سے عوام ذہنی طور پر پریشان حال ہے. ایک جانب ریاست مہاراشٹر حکومت کی جانب سے مزدوروں کو مالی تعاون اور مفت راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری جانب ایسے بہت سے لاک ڈاؤن سے متاثر مستحق افراد کو اس سے محروم کردیا گیا ہے

ریاست مہاراشٹر کے مسلم اقلیتی شہر مالیگاؤں میں کورونا مرض , مسلسل لاک ڈاؤن اور کارپوریشن انتظامیہ کی ناکارہ کارکردگی کی وجہ سے ہزاروں افراد کی وفات ہوگئی. نیز بے روزگاری میں بے انتہا اضافہ ہوا, ہزاروں لوگ بھکمری کا شکار , سینکڑوں کی تعداد میں خودکشی اور وقت پر طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں نے بند ہسپتالوں کے باہر دم توڑ دیا. عام لوگوں کی جمع پونجی ختم ہوگئی اور لوگ مقروض ہونے لگے. اب تو عالم یہ ہے کہ بحالت مجبوری روٹی روزی اور بال بچوں کی بھوک مٹانے کے خاطر مزدور آدمی چاہے وہ کسی بھی شعبہ میں کام کرتا ہوں در در بھٹکنے پر مجبور ہے.

مالیگاؤں شہر کا دارومدار پاورلوم صنعت پر ہی منحصر ہے جس سے لاکھوں مزدوروں کو روزگار ملتا ہے. لیکن ابتک ریاستی و مرکزی سرکار کی جانب سے ان مستحق مزدوروں کو کوئی مالی تعاون نہیں مل سکا. دوسری جانب مالیگاؤں شہر میں نجی و ماینارٹی اداروں, پرائیویٹ اسکول و کالج , انگلش میڈیم اسکولوں اور سرکار سے منظور شدہ تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دینے والے نان گرانٹ اساتذہ کو بھی حکومت مہاراشٹر نے اور مقامی کارپوریشن نے نظر انداز کردیا۔

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ حکومت مہاراشٹر سے اپیل کرتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں کے ساتھ نان گرانٹ اساتذہ کو بھی ماہانہ پانچ ہزار اور مفت راشن فراہم کرے. پاورلوم صنعت سے منسلک ہر طرح کے مزدوروں کو جلد از جلد مدد فراہم کی جائے. اس طرح سے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کی معلومات اداروں سے جمع کرکے انھیں فوری طور پر مالی مدد اور مفت راشن تقسیم کیا جائے.

یاد رہے شہر مالیگاؤں میں پاورلوم مزدوروں کو ماضی میں کبھی بھی لیبر ایکٹ کے تحت سہولیات نہیں ملی اور یہ مزدور یونہی کئی کئی سال تک ایمانداری, وفاداری اور محنت کے ساتھ کارخانوں میں کام کرتے رہے. ایسے بھی مزدور ہیں جنھوں نے دس سال, بیس سال اور یہاں تک کے اپنی پوری زندگی کارخانہ داروں کی خدمت کرنے میں گزار دی. لیکن انھیں بھی لاک ڈاؤن میں کچھ نہیں ملا.

پاورلوم صنعت سے منسلک مزدوروں میں لوم کاریگر , راشن بھرنے والے, رچ بھر, بھیم جوڑنے والے, میتھا, مقادم, گھڑی لگانے والے, گانٹھ پریس مزدور, رنگاڑی, سائزنگ مزدور, حمال, چرخہ بھرنے والے, بابن کوئین بنانے والے, سائزنگ کی بھٹی جلانے والے, ورکشاپ اور ٹیکسٹائل میں کام کرنے والے کاریگر, ساڑی کاریگر, سوت, کپاس اور پھولکا میں کام کرنے والے اور دیگر کئی طرح کے مزدور شامل ہیں.

اسی طرح سے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے نان گرانٹ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف میں ہیڈ ماسٹر, سپر وائزر, لیکچرار, کلاس ٹیچر, ڈی ایڈ و بی ایڈ اساتذہ, پیون, کلرک, لیب اسسٹنٹ, صاف صفائی کامگار, سیکورٹی گارڈ, ڈرائیور وغیرہ شامل ہیں. ان میں ایسے خودار اورغیرتمند اساتذہ بھی ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کو بس اس آس میں کاٹ دیئے کہ انھیں بھی سرکار سے گرانٹ ملے گی. لیکن لاک ڈاؤن کے حالات نے یہ بھی منظر دکھایا کہ تعلیمی اداروں کے خود غرض منیجمنٹ نے انہیں چھٹی پر بھیج دیا اور بغیر تنخواہ سال بھر سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی ان کی معاونت تک نہیں کی.

یہ بھی حقیقت ہے کہ شہر مالیگاؤں میں موجود نام نہاد فعال شکشھ سنگھٹنا بھی ہیں جنھوں نے نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کیلئے بھی تگ و دو نہیں کی. البتہ ایسی شکشھ سنگھٹناوں نے ان اساتذہ کیلئے مہم و تحریک چلائی جنھوں نے ڈونیشن کی موٹی رقم بھر کر نوکری حاصل کی. ان کی بیس ,چالیس, ساٹھ اور سو فیصد گرانٹ منظوری کو لیکر ہلا مچایا. افسوس! نان گرانٹ پر کام کرنے والے اساتذہ کی جانب توجہ تک نہیں دی گئی بلکہ انھیں سماج میں حکارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا. ان مزدوروں اور اساتذہ خصوصی طور پر خواتین کا مسلسل استحصال بھی کیا جاتا رہا اور اب لاک ڈاؤن کے شنگین حالات میں آج ان لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں!

مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ شہر کے تمام کارخانہ مالکان سے گزارش کرتی ہے کہ وہ بھی اس کار خیر میں پہل کرے تاکہ مستحق محنت کشوں اور ضرورت مندوں کو ان کا حق ملے. اس طرح سے ایسے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے بھی گزارش کیجاتی ہے کہ وہ بھی اپنے ان خودار و عزت دار اساتذہ و نان ٹیچنگ اسٹاف کا ساتھ دیں. شہر کے تمام ہی سیاسی, سماجی و فلاحی تنظیموں سے بھی گزارش کی جاتی ہے کہ پاورلوم مزدوروں اور نان گرانٹ اساتذہ و دیگر اسٹاف کے حق میں آواز بلند کریں.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔

مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان