Connect with us
Tuesday,14-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

یوپی میں 14 آئی پی ایس افسران کے تبادلے

Published

on

اترپردیش حکومت نے جمعرات کو لکھنؤ اور غازی آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سمیت 14 آئی پی ایس افسران کو تبادلہ کردیا۔
آفیشیل ترجمان نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ لکھنؤ کے ایس ایس پی کلاندھی نیتھانی کو غازی آباد بھیجا گیا ہے جبکہ غازی آباد کے ایس ایس پی سدھیر کمار سنگھ کا تبادلہ 15 ویں بٹالین پی اے سی آگرہ کیا گیا ہے۔ایس ٹی ایف کے ایس ایس پی راجیو نارائن مشرا کو 24 ویں بٹالین پی اے سی کا کمانڈنٹ بنا کر مرادآباد بھیجا گیا ہے جبکہ اب تک 24 وہیں بٹالین پی اے سی کے کمانڈنٹ کے عہدے پر تعینات منی راج کو جھانسی کا ایس ایس پی بنایا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق جھانسی کے موجودہ ایس ایس پی ڈاکٹر اوم پرکاش سنگھ کو غازی پور کا ایس پی بنایا گیا ہے وہ اروند چودھری کی جگہ لیں گے جنہیں اسی عہدے پر بارہ بنکی بھیجا گیا ہے۔ بارہ بنکی کے ایس پی آکاش تومر کا ٹرانسفر اٹاوہ میں ایس ایس پی کے عہدے پر کیا گیا ہے۔ اے ٹی ایس اناؤ کے ایس پی شیو ہر ی مینا کو سلطان پو ر کا ایس پی بنایا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ سلطان پور کے موجودہ ایس پی ہمانشو کمار کو کمانڈنٹ 28 ویں بٹالین پی اے سی اٹاوہ بھیجا گیا ہے۔رامپور کے ایس پی ڈاکٹر اجے پال شرما کو پی ٹی ایس اناؤ کا ایس پی بنایا گیا ہے۔کشی نگر میں ادیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس گورو بھنسوال کو ہاتھرس کا ایس پی بنایا گیا ہے وہیں ہاتھرس کے موجود ایس پی سدھارتھ شنکر مینا کا ٹرانسفر باندہ کردیا گیا ہے جو گیش پرساد ساہا کی جگہ لیں گے ۔اور ساہا کو حقوق انسانی کمیشن لکھنؤ بھیج دیا گیا ہے جہاں ہو ایس پی ہوں گے۔

جرم

پوائی یرغمالی کیس : ممبئی پولیس نے آر اے اسٹوڈیوز سے پستول، پیٹرول اور کیمیکل برآمد کیا۔ روہت آریہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا۔

Published

on

Weapons-Ammunition

امپھال : منی پور میں سیکورٹی فورسز نے الگ الگ کارروائیوں میں بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا ہے۔ کالعدم تنظیم پریپک کے ایک خطرناک جنگجو کو گرفتار کر کے تقریباً 50 کلو گرام مشتبہ افیون برآمد کر لی گئی جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت 3 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ منگل کو منی پور پولیس اور 19 گڑھوال رائفلز کی مشترکہ ٹیم نے کے کے جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم کے دوران اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور جنگی مواد کا ایک بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔ چورا چند پور ضلع کا تھینزانگ گاؤں، جو میانمار اور میزورم سے متصل ہے۔ پولیس افسر کا کہنا تھا کہ برآمد ہونے والے اسلحہ اور گولہ بارود بشمول جدید ہتھیاروں کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے۔

ایک اور کارروائی میں، سیکورٹی فورسز نے امپھال مشرقی ضلع میں یورابنگ پنتھوبی لیکائی علاقے سے کالعدم تنظیم پیپلز ریولوشنری پارٹی آف کنگلیپک (پریپک) کے ایک خطرناک جنگجو کو گرفتار کیا۔ اس کے پاس سے آٹھ طاقتور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ گرفتار جنگجو کی شناخت ننگومبام اموتھوئی میتی (30) کے طور پر ہوئی ہے جو امپھال مشرقی ضلع کا ساکن ہے۔ دریں اثنا، منی پور پولیس نے امپھال-دیما پور قومی شاہراہ پر ہینگ بنگ بیپٹسٹ چرچ کے قریب ایک لاوارث کار سے مشتبہ افیون کے 49 پیکٹ برآمد کیے جن کا وزن تقریباً 50 کلو گرام ہے۔

پولیس کے مطابق، گاڑی اس سے پہلے سینا پتی ضلع کے سینا پتی پولیس اسٹیشن کے تحت ٹی کھلن میں ناکہ چیکنگ پوائنٹ سے آگے بڑھی تھی۔ لاوارث کار سے زیڈ ریتھنگم (52) جو کہ اکھرول ضلع کے رہنے والے تھے کے دستاویزات بھی برآمد ہوئے ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ضبط شدہ افیون کی غیر قانونی مارکیٹ میں قیمت 3 کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کھیپ پڑوسی ملک میانمار سے آئی تھی، جس کی منی پور کے ساتھ تقریباً 400 کلومیٹر طویل غیر باڑ والی سرحد ہے۔ میانمار دنیا کے بڑے افیون پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، خاص طور پر اس کے شمالی علاقوں بشمول کاچین اور شان ریاستوں میں۔ یہ تازہ ترین ضبطی گزشتہ چند مہینوں میں منی پور میں کام کرنے والے میانمار سے منسلک منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف ایک اور بڑے کریک ڈاؤن کی نشاندہی کرتی ہے۔

دریں اثنا، مرکزی اور ریاستی سیکورٹی فورسز باغیوں کے خلاف اپنا وسیع کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ریاست بھر میں باہر کے علاقوں، مخلوط آبادی والے علاقوں اور دیگر حساس علاقوں میں باقاعدہ تلاشی کی کارروائیاں اور علاقے پر تسلط (علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے گشت) کی جا رہی ہے۔ منی پور کی وادی اور پہاڑی دونوں اضلاع میں باغیوں، سماج دشمن عناصر اور مشکوک گاڑیوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے کل 111 چوکیاں/چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ حفاظتی دستے تمام گاڑیوں بشمول ضروری سامان لے جانے والے ٹرکوں کو امفال-جیریبام قومی شاہراہ (این ایچ-37) پر بھی لے جا رہے ہیں۔ گاڑیوں کی محفوظ اور بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے حساس علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات اور قافلے کی حفاظت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ منی پور پولیس نے ایک بار پھر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں یا غیر تصدیق شدہ معلومات پر یقین نہ کریں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی ویڈیوز اور گمراہ کن مواد سے ہوشیار رہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مجلس منتظمہ کا اجلاس، ایس آئی آر پر عوامی بیداری وقت کی اہم ضرورت، غفلت نہ برتی جائے : مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

Jamiat-Ulema-M.

ممبئی : جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی مجلس منتظمہ کا درمیانی ٹرم کا اجلاس حج ہاؤس، پلٹن روڈ کے دوسرے منزلہ پر مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) کی صدارت میں دوپہر دو بجے شروع ہوا اور شام کو 5 بجے اختتام کو پہنچا۔ اس اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک اور مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی (صدر جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) کی نعت خوانی سے ہوا، پورے صوبہ مہاراشٹر کے تقریباً ایک ہزار سے زائد ممبران مجلس منتظمہ نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

مفتی محمد یوسف قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے سکریٹری رپورٹ پیش کی اور مولانا حلیم اللہ قاسمی (صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے مفصل خطبہ صدارت دیا جس میں جمعیۃ علماء کے منہج، طریقہ کار اور اس کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے اس تنظیم کو خالص مذہبی تنظیم بتایا، ملک کی آزادی میں اس کے رہنماؤں کی خدمات بیان کیں اور ملک کے موجودہ حالات میں فرقہ واریت کا مقابلہ کرنے کے لئے ھندو مسلم اتحاد اور مسلم سماج میں اخلاقی سدھار پر خاص زور دیا۔ اس اجلاس میں مختلف موضوعات پر سات تجاویز جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے عہدے داروں نے پیش کی، ایس آئی آر سے متعلق تجویز جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے نائب صدر مولانا محمد عارف عمری نے پیش کی،جس میں انومیریشن فارم پر کرنے کا طریقہ بتایا اور اس بات پر خاص توجہ دلائی کہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر بی ایل او کا انتظار نہ کریں، بلکہ جگہ جگہ کیمپ لگائیں، وہاں لوگوں کو اکٹھا کریں اور بی ایل او کو اس کیمپ میں بلاکر لوگوں کے فارم بھرنے میں مدد کریں۔

مولانا عمری نے یہ بھی کہا کہ 2002 کی لسٹ جس سے میپنگ کی گئی ہے، اس کا فوٹو اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔ اس اجلاس میں بحیثیت مہمان خصوصی ایڈووکیٹ عمران خان نے شرکت کی اور اپنی مختصر تقریر میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی ایس آئی آر تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے تین مرحلے ہیں۔پہلا مرحلہ میپنگ کا تھا جو ہوچکا ہے۔دوسرا مرحلہ انومیریشن فارم پر کرنے کا ہے جس کا سلسلہ جاری ہے، اس کے بعد ایک تیسرا مرحلہ آئے گا وہ یہ کہ الیکٹرول میں جن لوگوں کا نام نہ آسکے گا ان کو مایوس نہیں ہونا ہے بلکہ اس کے لئے قانونی طریقے پر دستاویز پیش کرکے اپنے آپ کو اہل ثابت کرنا زیادہ اہمیت کا حامل مرحلہ ہے۔اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کے لئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔

استحکام جمہوریت کے عنوان سے تجویز مفتی محمد ہارون ندوی صاحب (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے پیش کی، جس میں نظام جمہوریت کی افادیت اور ہندوستان جیسے کثیر المذاھب ملک میں اس کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں راجستھان میں منہدم کی جانے والی مساجد کے احتجاج میں برادران وطن اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو ملک کے جمہوری نظام کے لئے فال نیک ہے، قاری محمد ادریس انصاری (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے نوجوان نسل میں نشہ خوری کی عادت اور اس کے عام چلن کا ذکر کیا اور اس کے ازالے کے لئے مناسب حل بتایا، قاری عبد الرشید حمیدی (نائب صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقہ مراٹھواڑہ میں 16 نوجوان شوشل میڈیا پر غیر محتاط رویہ اختیار کرنے کی بنا پر گرفتار کئے جاچکے ہیں اور متعدد مقامات کے نوجوان سوشل میڈیا پر کمنٹ اور لائیک کرنے کی وجہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جن کے مقدمے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی لڑ رہی ہے، مولانا اشتیاق قاسمی (خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے ہندو مسلم اتحاد پر تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ھند اپنے قیام کے اول دن سے اس بات کی قائل ہے کہ ملک ہندو مسلم اتحاد کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا ہے

اس تجویز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مولانا حلیم اللہ صاحب قاسمی نے کہا کہ اتحاد کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا مذہب یا رسم و رواج اختیار کر لیں، بلکہ اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرا رہتے ہوئے حسن سلوک، اخلاق و مروت اور پڑوسی کے حقوق کی ادائیگی کا عام ماحول بنائیں، جمعیۃ علماء ھند نے اس کے لئے حضرت مولانا سید اسجد مدنی (نائب صدر جمعیۃ علماء ھند) کی کنوینر شپ میں ایک فورم تشکیل دیا ہے جو ملک میں اس کی تحریک چلائے گا، 27 اگست کو اس کا ایک تربیتی پروگرام ممبئی میں رکھا جانا طے پایا ہے، جس کی تفصیلات سے جلد آگاہ کیا جائے گا، قاری محمد یونس چودھری (نائب خازن جمعیۃ علماء مہاراشٹر) نے اصلاح معاشرہ کی ضرورت و اہمیت پر تجویز پیش کی، مولانا عبد القیوم نازش (ناظم مکاتب دینیہ) نے دینی تعلیم کی ضرورت پر تجویز پیش کی اور مفتی حفیظ اللہ قاسمی (ناظم تنظیم) نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی نئی یونٹوں کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے یہ تجویز رکھی کہ ریاست مہاراشٹر کے ہر ضلع میں سہ ماہی احتسابی میٹنگ ہونی چاہئے۔

اخیر میں ریاست مہاراشٹر کے پانچ جغرافیائی علاقوں (ممبئی و اطراف، خاندیش، ودربھ، مغربی مہاراشٹر اور مراٹھواڑہ) کے ایک ایک نمائندوں نے اس اجلاس کے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے اور صدر اجلاس کی دعا پر اجلاس اختتام کو پہنچا، اجلاس سے قبل ظہرانہ کا نظم تھا، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم دفتر حافظ محمد عارف انصاری، مولانا محمد اسید قاسمی (رکن مجلس عاملہ) اور ریاستی دفتر کے عملہ نے نظم و انتظام کو حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مین ہول کی حفاظت کے لیے تیار کردہ ‘مین ہول ریل گارڈ’ پروٹو ٹائپ کا ریتو تاؤڑے کا معائنہ، پائلٹ ٹیسٹنگ ‘ایل’ وارڈ میں کی جائے گی

Published

on

BMC

ممبئی : ممبئی چارکونے مربع شکل کا ‘مین ہول ریل گارڈ’ پروٹو ٹائپ ایک تنظیم نے مین ہول سے متعلق کارروائیوں کے دوران عوام کی حفاظت کو بڑھانے اور دیکھ بھال اور مرمت کے کام میں مصروف اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا ہے۔ ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر نے آج (13 جولائی 2026) میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ذاتی طور پر اس پروٹو ٹائپ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کئی کارپوریٹرس بھی موجود تھے, پروٹو ٹائپ کی تفصیلات کا جائزہ عمل مکمل کیا ہے۔ اس کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ ان کی سفارشات میں ریل گارڈ کو ٹوٹنے کے قابل بنانا شامل تھا تاکہ اس کے سائز کو مین ہول کے طول و عرض کے مطابق آسانی سے ایڈجسٹ کیا جا سکے، اور کم روشنی والے حالات میں مرئیت کو بڑھانے کے لیے عکاس پینٹ یا چمکتی ہوئی لائٹس کو شامل کیا جائے۔ شہریوں اور میونسپل عملے کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے، مربع شکل کے ‘مین ہول ریل گارڈ’ کو مضبوط اور ہینڈل کرنے کے لیے آسان بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 1 میٹر اونچائی، 1.5 میٹر لمبائی، اور 1.5 میٹر چوڑائی کی پیمائش کرتے ہوئے، ریل گارڈ مختلف آپریشنل ضروریات اور سائٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دو وزن کی مختلف اقسام 225 کلوگرام اور 80 کلوگرام میں دستیاب ہے۔ اس پروٹوٹائپ کو ممبئی کے ‘ایل’ انتظامی وارڈ میں پائلٹ بنیادوں پر تعینات کیا جائے گا۔ اس وارڈ میں حقیقی نفاذ کے بعد، ‘مین ہول ریل گارڈ’ کے حتمی ڈیزائن کے بارے میں فیصلہ آپریشنل تجربے، تکنیکی ضروریات، اور میونسپل عملے اور شہریوں کے تاثرات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ مزید برآں، میونسپل انتظامیہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اس پروٹوٹائپ کے استعمال کو ممبئی کے دیگر تمام انتظامی وارڈوں تک بڑھانا ہے یا نہیں اس پائلٹ ٹرائل کے دوران حاصل کردہ بصیرت اور تاثرات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان