Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

حب الوطنی کا ثبوت آپ کودینا ہوگا، کہ ہماری قربانیاں توتاریخ کے اوراق میں سنہرے حرفوں میں قید ہیں

Published

on

وفا ناہید
آج شہر میں جامعہ کے بے گناہ اور نہتے طلباء پر پولس کی جانب سے ظلم وبربریت کا جو ننگا ناچ کل سے جاری ہیں. کس طرح پولس نے کیمپس میں گھس کر طالبات پر بھی لاٹھی چارج کیا پوری یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کی. ساتھ ہی آنسو گیس کے گولے داغے. پولس کی اس جارحانہ کاروائی میں کتنے طلباء زخمی ہوئے، کچھ اساتذہ کے مطابق کتنے طلباء اب بھی لاپتہ ہے. ان معصوم بے گناہوں کا قصور کیا تھا کہ پولس نے ظلم وبربریت کا دہانہ ان معصوموں پر کھول دیا. اتنا ہی بسوں میں آگ لگا کرانہیں جلایا گیا اوراس کا الزام بھی ان بے گناہوں کے سر منڈھ دیا گیا. جامعہ کے ان طلباء کا قصور یہ تھا کہ وہ ہٹلر شاہی مودی سرکار کے راج میں شہریت ترمیمی بل کے خلاف اپنا خاموش اور پرامن احتجاج درج کرا رہے تھے. جس کی وجہ سے مودی سرکار کے چاروں پائے ہل گئے تھے. ان طلباء کے خاموش احتجاج میں مودی حکومت کو اپنی شکست صاف نظر آرہی تھی. تب پھر کی تھا. ان کی آواز کو دبانے کے لئے پولس کا سہارا لیا گیا مگر کیا یہ تانا شاہی سرکار بھول گئی کہ اسپرنگ کو جتنی شدت سے دبایا جاتا ہے وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آتی ہے. مودی حکومت بھول گئی کہ وقت نے بڑے بڑے جابر اور ظالم ہٹلر کو نہیں بخشا تو یہ کس کھیت کی مولی ہے. کل جامعہ میں جو کچھ بھی ہوا وہ نہایت افسوسناک ہے. جمہوری ملک میں یہ جمہوریت کا سرعام قتل ہے. جو مسلسل مودی سرکار کررہی ہیں. ارے مسلمانوں سے ان کی حب الوطنی کا ثبوت مانگنے والے تم کون ہو ؟ مسلمانوں نے اس دیش کے لئے کو کچھ کیا ہے. وہ تاریخ کے اوراق میں سنہرے الفاظ میں قید ہے. تم تو اس ملک کے وہ سیاہ داغ ہو جسے بتاتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہوگی. اس ملک کو ہمارے اجدادحب برٹش گورنمنٹ سے آزاد کراسکتے ہیں تو ہم میں اتنی طاقت ہے کہ تم جیسے وقت کے فرعونوں سے ہم اس ملک کو بچا لیں گے. مسلسل مسلمانوں کے صبر وضبط کا امتحان لیا گیا. کبھی گئو رکھشا کے نام پر، کبھی لو جہاد، گھر واپسی تو کبھی طلاق ثلاثہ بل کے نام پر شریعت میں مداخلت کر کے اس کے بعد بھی تمہارا خون ٹھنڈا نہیں ہوا تو مسلمانوں کی مآب لنچنگ نہیں پولیٹیکل مرڈر کرکے انہیں اپنے ہی گھر میں خوفزدہ کیا گیا. جب بات یہاں بھی نہیں بنی تو این آر سی کے نام سے ڈرایا گیا. اب این آر سی کو چھوڑ کر تم شہریت تعلیمی بل اٹھا لائے. جس میں واضح طور پر مسلمانوں کا نام چھوڑ کر تمام مذاہب کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا. ارے تم کیا ہم سے دستاویز مانگو گے؟ یہ ملک ہمارا ہے. اس کی مٹی ہمارے اجداد کے خون سے لالہ زار ہیں. تم قربانی کی بات کرتے ہو. قربانی کا مطلب پتہ ہے. اس ملک کی ایک ایک اینٹ پر ہمارے اجداد کا نام لکھا ہے. یہ ہمارا اپنا گھر ہے. ہمارا اپنا ہندوستان. جس وقت دیش پر انگریز حکمرانی کررہے تھے. اس ملک کو اپنا غلام بنالیا تھا. اس وقت تم نے اس ملک کے لئے کیا کیا تھا. اب تم ہمیں ثبوت دونگے. اپنی حب الوطنی ثابت کروں گے. ورنہ اس ملک کے غداروں میں تمہارا نام تو پہلے سے شامل ہے. اب ہم کوئی ثبوت نہیں دیں گے. نا بار بار اپنی قربانیوں کو دہرائیں گے کیونکہ ہماری قربانیوں کی گواہ اس دیش کی مٹی ہے. جس میں ہمیں مرنے کے بعد مل جانا ہے. ہماری حب الوطنی کا ثبوت تاریخ کے اوراق ہیں. جسے کوئی بدل نہیں سکتا. مسلمانوں کو مت للکارو. کیونکہ اگر مسلمان اپنے پر آگئے تو تمہاری حکومت کا تختہ پلٹ کر تمہیں جہنم رسید کر دیں گے. ہمارے اجداد سے روم اور فارس کی بڑی بڑی طاقتیں کانپتی تھیں. اس لئے سنبھل جاؤ اگر 5 سال پورے کرنے ہیں تو شہریت تعلیمی بل واپس لے لو. ورنہ 1947 کی جنگ آزادی کے بعد اس ملک کو فرقہ پرست زعفرانی طاقتوں سے آزاد کرانے کے لئے ایک اور جنگ انتظار کر رہی ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com