Connect with us
Saturday,21-September-2024
تازہ خبریں

سیاست

بیٹیوں کے روشن مستقبل کے لئے بلا تفریق کام کر رہے ہیں : مودی

Published

on

Narendra-Modi..

وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو پریاگ راج میں منعقد ’خاتون بااختیاری سمیلن‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی و ریاست میں ڈبل انجن کی حکومت بغیر کسی تفریق، بغیر کسی جانبداری کے بیٹوں کے روشن مستقبل کے لئے لگاتار کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے خاتون بااختیاری سے وابستہ مختلف پروجکٹوں کا افتتاح و سنگ بنیاد رکھنے کے بعد سمیلن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیٹاں کوکھ میں ہی نہ مار دی جائیں۔ بلکہ وہ بھی جنم لیں، اس کے لئے ہم نے بیٹی بچاو۔ بیٹی بڑھاو مہم کے تحت سماج میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مرکزی حکومت کی اسی مہم کا نتیجہ ہے کہ متعدد ریاستوں میں بیٹیوں کی تعداد میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔

اس موقع پر اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، نائب وزیر اعلی کیشو پرساد موریہ، مرکزی وزیر انوپریا پٹیل اور پریاگ راج کی رکن پارلیمان ریتا بہوگنا جوشی و متھرا سے بی جے پی کی ایم پی ہما مالنی سمیت مرکزو ریاستی حکومت کے سینئر افسران موجود تھے۔

وزیر اعظم مودی نے دوپہر 01:10 بجے پریڈ گراونڈ میں منعقد جائے پروگرام پہنچ کر یوپی میں ’اپنی مدد آپ گروپ‘ چلا رہی خواتین سے بات چیت کی۔ خواتین کے ساتھ تقریبا نصف گھنٹے تک تبادلہ خیال کیا۔

بعد مودی نے ریمورٹ دبا کر 202 سپلیمنٹری نیوٹریشن مینوفیکچرنگ یونٹس کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ہی خواتین کے ذریعہ چلائے جا رہے ’سیلف ہیلپ گروپس‘ کے بینک کھاتوں میں 100 کروڑ روپئے کی رقم ٹرانسفر کیا۔ نیا سمنلگا اسکیم کے مستفیدین ’کنیا سمنگلا اسکیم‘ کے تحت ایک لاکھ ایک ہزار بیٹیوں کے بینک کھاتوں میں 20 کروڑ روپئے کی رقم ٹرانسفر کیا۔

انہوں نے اپنی مدد آپ گروپ کی بہنوں کو خودکفیل ہندوستان کی چمپین قرار دیا اور کہا کہ یہ گروپ اصل میں ’ملک کو مدد فراہم کرنے والا گروپ ہے۔

وزیر اعظم مودی مشن خاتون بااختیاری کے تحت منعقد پروگرام میں موجود خواتین کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے بہن۔بیٹیوں کے بہبود کے لئے حکومت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات اور اسکیمات کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ حاملہ خواتین کی ٹیکہ کاری، اسپتال میں ڈلیوری، حمل کے دوران تغذیہ بخش غذا پر مکمل دھیان دیا گیا۔ اور اس کے لئے حاملہ خاتون کے اکاونٹ میں 5 ہزار روپئے بہم پہنچانے کا انتظام کیا۔ یہ اسکیمات گاؤں۔ غریب کے لئے بیٹیوں کے لئے اعتماد کا بہت بڑا ذریعہ بن رہی ہے۔

لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کے معاملے میں اپوزیشن کو ہدف تنقدی بناتے ہوئے مودی نے کہا کہ بیٹیوں کی شادی عمر بڑھانے پر آج کس کو تکلیف ہو رہی ہے، یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کو پڑھائی لکھائی، آگے بڑھنے اور برابر مواقع ملے اس کے لئے ان کی شادی کی عمر 21 سال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک یہ فیصلہ بیٹیوں کے لئے کر رہا ہے۔

خواتین کے خلاف سماج میں پنپنے رہے عدم مساوات کو ختم کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں تک ایسے انتظامات رہے ہیں کہ گھر اور گھر کی ملکیت کو صرف مردوں کا ہی حق سمجھا جانے لگا تھا۔ گھر، کھیت، نوکری دوکان سب پر صرف مردوں کا ہی حق سمجھا جانے لگا تھا۔ آج ہماری حکومت کی اسکیمات اس عدم مساوات کو بھی دور کر رہی ہیں۔ اور وزیر اعظم آواس اسکیم اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے تحت یوپی میں تقریبا 25 لاکھ رہائش گاہیں، خواتین کو فراہم کئے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر مکانات فراہم کئے جا رہے ہیں۔

لڑکیوں کی تحفظ کے معاملے میں یوگی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ پانچ سالوں قبل یوپی کی سڑکوں پر غنڈہ مافیا راج تھا۔ بیٹیوں کو سڑک پر نکلنا مشکل ہوا کرتا تھا۔ اسکول، کالج جانا مشکل ہوتا تھا۔ یوگی حکومت نے ان غنڈوں کو ان کے اصل مقام تک پہنچایا ہے۔ ڈبل انجن کی حکومت نے یو پی کی خواتین کو جو سیکورٹی، احترام اور وقار دیا ہے۔ وہ عدیم المثال ہے۔ مودی نے کہا کہے۔ آج یوپی میں سیکورٹی بھی ہے، اور امکانات بھی، حقوق بھی ہیں اور کاروبار بھی۔ میں پر امید ہوں کہ بہنوں کے آشیرواد سے اس نئی یوپی کو کوئی واپس اندھیرے میں نہیں دھکیل سکتا۔

سیاست

چھترپور میں تیسری کلاس کی کتاب کے صفحہ 17 پر لو جہاد پھیلانے کے الزامات لگائے گئے، این سی ای آر ٹی نے تمام الزامات کو غلط قرار دیا۔

Published

on

Love-Jihad

چھترپور : حال ہی میں ایک والدین نے چھتر پور پولیس میں شکایت درج کرائی تھی جس میں این سی ای آر ٹی کی ماحولیات کی کتاب پر لو جہاد کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ جس پر این سی ای آر ٹی نے اپنا موقف دیتے ہوئے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ چھتر پور کے رہنے والے ڈاکٹر راگھو پاٹھک نے پولیس سے شکایت کی تھی کہ انہیں این سی ای آر ٹی کی تیسری کلاس میں ماحولیات کے مضمون کے صفحہ نمبر 17 پر اعتراض ہے۔ دراصل اس پیج پر ایک ٹائٹل تھا ‘چھٹی آئی ہے’، جس میں ریما نامی لڑکی احمد کو چھٹیوں میں اگرتلہ آنے کی دعوت دیتی ہے اور آخر میں تمہاری رینا لکھتی ہے۔

اس کلاس 3 کی کتاب کو لے کر پیدا ہونے والے تنازعہ پر این سی ای آر ٹی نے اپنا موقف دیا ہے۔ این سی ای آر ٹی کے خط میں لکھا گیا ہے، ‘گریڈ 3 انوائرنمنٹل اسٹڈیز کی نصابی کتاب میں شائع ہونے والے خط سے متعلق حالیہ خبر غلط ہے۔ نئے قومی نصاب کے فریم ورک (2023) کے تحت، ایک نیا مضمون ‘ہمارے ارد گرد کی دنیا’ کو گریڈ 3 سے متعارف کرایا گیا ہے، جو پہلے سے جاری ماحولیاتی مطالعات کی جگہ لے رہا ہے۔ ماحولیاتی تعلیم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے یہ مضمون سائنس اور سماجی علوم میں ضروری مہارتیں بھی سکھائے گا۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ‘این سی ای آر ٹی نے اس نئے مضمون کے لیے نئی نصابی کتابیں بنائی ہیں، جن میں سماجی مسائل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کلاس 3 کے لیے ‘ہماری حیرت انگیز دنیا’ کے نام سے ایک نئی نصابی کتاب جاری کی گئی ہے۔ این سی ای آر ٹی تمام اسکولوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ گریڈ 1، 2، 3 اور 6 کے لیے صرف این سی ای آر ٹی کی نئی نصابی کتابیں استعمال کریں۔ یہ کتابیں قومی تعلیمی پالیسی 2020 پر مبنی ہیں، جس میں ثقافت، متعدد زبانوں کا استعمال، تجربے سے سیکھنا اور تعلیمی تکنیک بھی شامل ہیں۔

Continue Reading

سیاست

دھاراوی میں مسجد کے غیر قانونی حصے کو منہدم کرنے کی کارروائی معطل، ورشا گائیکواڑ کی انٹری، لوگوں سے امن کی اپیل

Published

on

Dharavi-Varsha-Gaikwad

ممبئی : ممبئی کی سب سے بڑی کچی بستی دھاراوی میں حالات کشیدہ ہیں۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے کارکن دھاراوی میں 90 فٹ روڈ پر واقع 25 سالہ محبوب سبحانی مسجد کے ایک غیر مجاز حصے کو منہدم کرنے پہنچے۔ اس کے خلاف مقامی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل افراد نے میونسپل کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ بھی کی۔ دریں اثنا، شمالی وسطی ممبئی لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ ورشا گایکواڑ، جس کا دائرہ اختیار دھراوی پر ہے، موقع پر پہنچ گئیں۔ گایکواڑ نے لوگوں سے امن اور صبر برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ مسجد کے غیر قانونی حصے کو گرانے کی کارروائی بھی روک دی گئی ہے۔ یہ کام چھ دنوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

دھاراوی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ممبئی کے ایڈیشنل کمشنر آف پولیس دھاراوی پہنچ گئے۔ اے سی پی نے صورتحال کا جائزہ لیا۔ اسی درمیان رکن اسمبلی ورشا گائیکواڑ بھی داخل ہوگئی ہیں۔ مسجد کے ٹرسٹی اور ورشا گائیکواڑ نے پولیس کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔ اس دوران مسجد کمیٹی نے خود وقت مانگا ہے۔ اس پر بی ایم سی نے انہیں 6 دن کا وقت دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹھاکرے گروپ کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

دراصل، دھاراوی میں 25 سال پرانی محبوب سبحانی مسجد کے غیر مجاز حصے کو گرایا جانا ہے۔ جی-نارتھ کے انتظامی وارڈ سے بی ایم سی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم صبح تقریباً 9 بجے دھاراوی میں 90 فٹ روڈ پر واقع محبوب سبحانی مسجد کے مبینہ غیر قانونی حصے کو منہدم کرنے پہنچی تھی۔ جلد ہی مقامی لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہو گئی۔ انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے اہلکاروں کو اس گلی میں داخل ہونے سے روک دیا جہاں مسجد واقع ہے۔

سڑک پر بھیڑ بڑھنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور سیکورٹی بڑھا دی۔ مقامی لوگوں نے بات کی اور پولیس نے کشیدہ صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا۔ لیکن فی الحال دھاراوی میں حالات کشیدہ ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ دھاراوی تھانے کے باہر بھی لوگوں کا ہجوم ہے۔ دھاراوی پولیس اسٹیشن کو دھاراویکاروں نے گھیر لیا ہے۔

پولیس افسران نے لوگوں کو سمجھایا اور ٹریفک کو ہموار کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور پتھراؤ نہ کرنے کی اپیل کی۔ پولیس کی طرف سے سمجھانے کے بعد مشتعل افراد نے سڑک کے ایک حصے سے ٹریفک کو بہ آسانی چلنے دیا۔ سب سڑک کے پار بیٹھے ہیں۔ مسجد کے پاس پوری سڑک پر لوگ بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مسجد کو نہ گرایا جائے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی کے دھاراوی میں کشیدگی کی صورتحال، بی ایم سی کے ذریعہ سبحانیہ مسجد کے 25 سال پرانے حصے کو منہدم کرنے کے خلاف احتجاج۔

Published

on

Dharavi

ممبئی : اس وقت سب سے بڑی خبر ممبئی سے آرہی ہے۔ ایشیا کی سب سے بڑی کچی بستی سمجھی جانے والی دھاراوی کچی آبادی میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ بی ایم سی ملازمین کے ذریعہ وہاں واقع مسجد کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے کی وجہ سے ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کے خلاف سینکڑوں لوگ سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بی ایم سی کی جو ٹیم موقع پر کارروائی کرنے گئی تھی اسے بھی مقامی لوگوں نے روک دیا۔ اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ بی ایم سی ٹیم کی گاڑی میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔

درحقیقت، بی ایم سی نے ممبئی کے دھاراوی میں 90 فٹ روڈ پر واقع 25 سال پرانی سبحانیہ مسجد کے کچھ حصے کو غیر مجاز بتاتے ہوئے اسے منہدم کرتے ہوئے دکھایا ہے۔ مقامی لوگ کل رات سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد بہت پرانی ہے۔ اس لیے اسے توڑنا نہیں چاہیے۔ ایسے میں جب بی ایم سی کے اہلکار مسجد کے غیر قانونی حصے کو گرانے پہنچے تو مظاہرین نے ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود ہے۔

سینکڑوں لوگ سڑکوں پر موجود تھے پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور ٹریفک کو ہموار کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اور پتھراؤ نہ کرنے کی اپیل کی۔ پولیس کی طرف سے سمجھانے کے بعد مشتعل افراد نے سڑک کے ایک حصے سے ٹریفک کو بہ آسانی چلنے دیا۔ سب سڑک کے پار بیٹھے ہیں۔ مسجد کے پاس پوری سڑک پر لوگ بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ مسجد کے غیر قانونی حصے کو نہ گرایا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com