Connect with us
Tuesday,02-June-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

خواتین کے تحفظ اور عصمت دری کے مجرمین پر سخت سزا کے قانون کے نفاذ کے لیے نربھیا کی حمایت میں خواتین ڈاکٹرس کی ریلی کا انعقاد

Published

on

عطاؤ الرحمٰن، دھولیہ
ملک میں عصمت دری کے واقعات سے خواتین کی آزادی اور تحفظ پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ رات میں نو بجے کے بعد خواتین کا گھر سے باہر نکلنا ان کی عزت کو تار تار کررہا ہے۔ حال ہی میں حیدرآباد کی ویٹینری ڈاکٹر پرینکا کا معاملہ ملک میں زیر بحث رہا ۔ 16 دسمبر 2012 کو ملک کو شرمسار کرنے والا حادثہ نربھیا کانڈ رونما ہوا تھا جس میں ایک لڑکی کی بس میں اجتماعی عصمت دری کرکے چلتی بس سے پھینک دیا گیا تھا۔ لڑکی کی موت کو سات سال گزرنے کے باوجود مجرمین زندہ ہے۔ اس کے بعد سے ملک میں کئی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں دھولیہ شہر کی تمام مسلم خواتین ڈاکٹرس آج بروز اتوار رات ساڑھے نو بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک پیدل ریلی نکال کر خواتین کا تحفظ اور عصمت دری کے مجرمین کےلیے سخت قانون کا مطالبہ کریں گی۔ نربھیا کے مجرمین کو سپریم کورٹ نے بھی پھانسی کی سزا تجویز کی ہے لیکن ابھی تک مجرمین کو پھانسی نہیں دی گئی ہے۔ مجرمین کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکایا جائے یہ مطالبہ بھی ریلی میں کیا جائے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : آرے کالونی درگاہ شہید… کریٹ سومیا کی مسلسل لینڈ جہاد کی مہم کے بعد بی ایم سی کی کارروائی، وارث پٹھان کا یکطرفہ کاروائی کا الزام

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی : ممبئی کے گوریگاؤں آرے کالونی میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی, جب یہاں واقع قدیم درگاہ بابا سید برکت علی پیر کے مزار کو شہید کردیا گیا۔ دو ماہ قبل کریٹ سومیا نے اس مزار کو غیر قانونی قرار دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا, جس کے بعد انتظامیہ نے آج اس درگاہ کو شہید کر دیا۔ اس دوران پولس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ یہ معاملہ فرقہ وارانہ شکل اختیار نہ کرے اس لئے پولس نے سخت پہرہ لگایا تھا اور بالآخر درگاہ کو شہید کر دیا گیا۔ جس کے بعد یہاں پر حالات پرامن ضرور ہے, لیکن کشیدگی برقرار ہے اس انہدامی کارروائی درگاہ کے ساتھ اطراف کے غیر امانی ڈھانچوں کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ اس انہدامی کارروائی پر ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان نے اعتراض کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ جو انہدامی کارروائی کی گئی, اس میں صرف درگاہ کو ہی ہدف بنایا گیا۔ اس کے اطراف میں جو غیر قانونی چار سو سے زائد مکانات اور دیگر ڈھانچے ہیں, اس پر کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ اگر قانون مساوی ہے تو انہیں بھی منہدم کیا جائے۔ کریٹ سومیا نے اس کارروائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ماہ سے وہ مسلسل اس متعلق کوشش کر رہے تھے۔ آج بی ایم سی اور پولس و انتظامیہ نے اس غیر قانونی لینڈ جہاد اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کی ہے۔ درگاہ کی آڑ میں یہاں لینڈ جہاد اور لینڈ مافیا فعال تھے۔ اس کارروائی پر کریٹ سومیا نے اظہار اطمینان کیا۔

مقامی ڈی سی پی راج گجانن راج مانے نے کہا کہ جنگلات کی زمین پر غیر قانونی قبضہ جات کو ہٹایا گیا۔ پولس کا بندوبست مامور تھا یہاں نظم و نسق کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس غیر قانونی ڈھانچوں کو نوٹس بھی ارسال کی تھی, اس پر کوئی جواب نہ ملنے کے بعد یہ کارروائی کی گئی ہے۔ فی الوقت بندوبست تعینات ہے امن قائم ہے لیکن کشیدگی بھی برقرار ہے۔ پولس نے حالات پر نظر رکھنا بھی شروع کر دیا ہے۔ درگاہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں غم و غصہ اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اندھیری اولا ڈرائیور بنی ڈرگس اسمگلر، دو منشیات فروش گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی ساکی ناکہ پولس نے ایک ایسے ڈرگس فیکٹری کو بے نقاب کیا, جس میں ایم ڈی سازی کی جاتی تھی۔ اس معاملہ میں اہم ملزم وجہہ القمر چودھری ۵۴ سالہ کو گرفتار کیا ہے۔ ملزمہ مسکان سمیر ۲۶ سالہ کو اندھیری علاقہ میں ۲۱ مئی کو ۱۰۱ گرام ایم ڈی کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ خود ساختہ اولا ڈرائیور بھی تھی, اس کے ملزم وجہہ القمر سے تھے اور یہ کلب میں اس سے ملاقات کرتی تھی۔ اس معاملہ میں پولس نے تفتیش کی اور ایم ڈی فیکٹری کو بے نقاب کیا۔ وجہہ القمر ابولفاچودھری عرف پاپا یہاں ایک ایم ڈی فیکٹری چلایا کرتا تھا اور ممبئی سمیت مضافاتی علاقے میں دونوں ڈرگس منشیات فروشی کیا کرتے تھے۔ وجہہ المقمر چودھری گجرات نرمدا میں ایک کرایہ کے مکان میں ایم ڈی سازی کیا کرتا تھا۔ یہ اطلاع آج یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑا نیٹ ورک کو پولس نے نقاب کیا ہے اور ایم ڈی سازی کے ساز وسامان سمیت ۷۵ لاکھ سے زائد کی منشیات ضبط کی ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی بھی ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں جس نے مکان کرایہ فراہم کیا تھا اور ملزمین کے کتنے لوگ رابطے میں تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ ملزمین کا ڈرگس فروشی کاُ ریکیٹ ہے۔ ملزمہ یہاں ممبئی میں برائے نام اولا چلایا کرتی تھی, لیکن اس کا اہم کام ڈرگس اسمگلنگ ہی تھا, جبکہ وجہہ القمر چودھری کے ڈی آر آئی میں بھی ڈرگس فروشی کا کیس درج ہے۔ ۲۰۰۱ میں اس کے قبضے سے پالگھر میں ۲۳۲ گرام منشیات ملی تھی۔ ۲۰۰۱ کو وہ مراد آباد جیل میں بند تھا اور ۱۱ سال تک قید تھا۔ اس کے ساتھ ۲۰۱۷ سے ۲۰۲۳ تک وہ تھانہ جیل میں رہا, وہ ڈرگس کے نیٹ ورک کو آپریٹ کیا کرتا تھا اور اس کام میں مسکان اس کی ساتھی تھی۔ مسکان کو اندھیری سے گرفتار کرنے کے بعد پولس نے نشہ کے اس ریکیٹ کو ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے مزید گرفتاریوں کا بھی امکان روشن ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وزیر نتیش رانے کا تصور : روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے موبائل فوڈ وین سکیم نافذ کی جائے گی۔ جھینگا پاو بھی فروخت کیا جائے گا

Published

on

Nitish-Rane

ممبئی : ریاست میں ماہی گیروں کی مصنوعات کے لیے ایک مناسب بازار فراہم کرنے اور شہری کھانے پینے والوں کو صاف اور غذائیت سے بھرپور سمندری غذا فراہم کرنے کے لیے ‘متسیا پاو’ اب ممبئی سمیت ریاست کے بڑے شہروں میں دستیاب کرایا جائے گا۔ یہ انوکھی “متسیہ پاو موبائل فوڈ وان” اسکیم ماہی پروری اور بندرگاہوں کے وزیر نتیش رانے کے تصور کی بنیاد پر نافذ کی جائے گی، اور اس سلسلے میں ایک تفصیلی تجویز حکومت کو منظوری کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ اس سے شہری علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔ اس مہتواکانکشی اسکیم کے تحت ‘مچھلی پاو’، ‘متسیہ وڈا پاو’ جھینگا پاو اور مچھلی کی دیگر مختلف مزیدار مصنوعات کو خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ موبائل فوڈ وین کے ذریعے فروخت کیا جائے گا۔ اس موبائل فوڈ وین پروجیکٹ کی تخمینہ لاگت تقریباً 12.50 لاکھ روپے ہے، اور اس اسکیم کا بنیادی مقصد اس کے ذریعے ریاست میں بے روزگار نوجوانوں، خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس اور مچھلی پیدا کرنے والی تنظیموں کے لیے معقول روزگار پیدا کرنا ہے۔

خواتین ماہی گیروں کے لیے ہینڈ گلوز اور گمبوٹ اسکیم :
وزیر اعلیٰ فشریز اسکیم کے تحت مچھلی منڈیوں میں کام کرنے والی خواتین ماہی گیروں کی حفاظت اور صحت کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ ممبئی کی مچھلی منڈیوں میں صفائی، حفاظت اور پروسیسنگ کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے 500 خواتین کارکنوں کو مفت دستانے، گمبوٹ اور دیگر حفاظتی سامان تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے لیے ‘آئی سی اے آر-سی آئی ایف ٹی’ کے ذریعے ایک خصوصی تربیتی پروگرام بھی نافذ کیا جائے گا، اور اس پورے پروجیکٹ پر تقریباً 30.69 لاکھ روپے لاگت آنے کی امید ہے۔

امبرگریس کے حوالے سے الگ پالیسی :
اجلاس میں ‘امبرگریس’ (مچھلی کی قے) کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جو کہ سمندری حیاتیاتی تنوع اور ساحلی سلامتی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ وزیر نتیش رانے نے اس قیمتی مادے کی اسمگلنگ کو روکنے اور ماہی گیروں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے محکمہ جنگلات، کوسٹ گارڈ، وائلڈ لائف کرائم کنٹرول بیورو اور ماہی پروری کے محکمے کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کی بہبود کے لیے ‘میرین فشرمین ویلفیئر اینڈ ریزیلینس فنڈ’ کے قیام کی تجویز بھی اس میٹنگ میں پیش کی گئی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان