Connect with us
Saturday,01-August-2026

(جنرل (عام

شہر میں ڈیڑھ مہینے کے اندر 148؍ ڈینگو کے مریض پائے گئے

Published

on

شہر دھولیہ میں کچرے کے انبار اور گٹریں صاف نہیں ہونے پر مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔ مچھروں کو ختم کرنے کے لیے ہفتہ میں کم از کم دو مرتبہ گھروں گھر دھواں کے ذریعہ مچھر وں کا خاتمہ کرنا چاہیے لیکن دھولیہ میونسپل کارپوریشن صرف کمانے کا اڈا بن گیا ہے۔ ہر چیز کو ٹھیکیداری پر دینے سے اہلیان شہر کے کام نہیں ہورہے ہیں ۔ صرف کاغذ پر کام کروانے والے بدعنوان افراد علاقوں کی گندگی صاف کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ انتخابی مہم میں بڑے بڑے وعدے کرنے والے کارپوریٹرس معمولی کام کرنے سے قاصر ہیں ،عوام میں زبردست ناراضگی پائی جارہی ہیں۔ ترقیاتی کام کو تھوڑی دیر کے لیے بازو میں رکھ کر انسانی جان کے تحفظ کے بارے میں سوچا جائے تو اس کام میں بھی کارپوریشن محکمہ معزور دکھائی دیتا ہے۔ ۱۵؍ دنوں تک گٹر صاف نہیں کرنے والے نا اہل کارپوریٹرس کو آئندہ انتخابات میں منہ کی کھانی پڑ سکتی ہے۔ شہر بیماریوں کی زد میں آچکا ہے، صرف ڈیڑھ مہینہ کے عرصے میں ۱۴۸؍ مریض ڈینگو کے پائے گئے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں لاپرواہی شروع ہیں کوئی بیدار سماجی تنظیم اس معاملہ میں سنجیدگی سے کام نہیں کررہی ہیں۔ کارپوریشن محکمہ میں تحریری شکایت نہ دینے پر کارپوریشن کی جانب سے لاپرواہی کی جارہی ہیں۔ کچھ لوگوں نے کارپوریٹرس سے بات چیت کی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم کوشش کررہے ہیں۔ عملی کام کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہیں ،جس کی وجہ سے ڈینگو جیسی مہلک بیماری پر قابو پانا دشوار ہوتا جارہا ہے۔ ۱۵؍ اکتوبر سے ۲۴؍ اکتوبر کے درمیان ۷۸؍ افراد کے خون کے نمونے نکالے گئے ہیں لیکن ان کی رپورٹ اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ پرائیوٹ اسپتالوں میں مریضوں کی لمبی قطار لگی ہوتی ہیں جن میں سے اکثر مریضوں کی خون کی جانچ کی جارہی ہیں، جس میں ۲۴؍ اگست سے اکتوبر کے نصف ماہ تک ۳۶۹؍ مریضوں کی خون کی جانچ کی گئی۔سرکاری رپورٹ کے مطابق اگست مہینے سے ہی ڈینگو کے مریض پائے جارہے تھے لیکن ستمبر میں مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہونے لگا تھا۔ستمبر مہینے میں ۱۰۲؍ خون کے نمونے جانچ کے لیے نکالے گئے ان میں سے ۵۴؍ مریضوں میں ڈینگو کا امراض پائے گئے ہیں۔ یکم اکتوبر ۲۰۱۹؁ سے ۱۵؍ اکتوبر ۲۰۱۹؁ تک صرف پندرہ دنوں میں ۲۶۶؍ مریضوں کے خون کی جانچ کی گئی تو ۱۰۲؍ مریض ڈینگو کے قہر میں مبتلا تھے۔ محض پندرہ دنوں میں ۱۰۲؍ مریض ڈینگو کا شکار ہونے پر ہر ایک فرداپنے افراد خانہ کے تئیں بے چینی محسوس کررہا ہے۔ حالانکہ ۱۵؍ اکتوبر سے ۲۴؍ اکتوبر تک ۷۸؍ مریضوں کے خون کی جانچ کی گئی ہیں لیکن اب تک رپورٹ کو سامنے نہیں لانا قابل افسوس بات ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۷۸؍ مریضوں میں اکثر مریضوں کو ڈینگو کی بیماری ہوسکتی ہے۔کارپوریشن نے دعویٰ کیا ہے کہ ۲؍ نومبر کو ۱۸۳۴؍گھروں پر ملازمین ڈینگو مہم کے لیے پہنچے وہاں ۵۳۹۵؍ پانی کے ذخائر کو چیک کیا گیا۔ ۵۷؍ پانی کے ذخیروں کو فوری طور پر خالی کروایا گیا،جبکہ لاپرواہی برتنے پر ۹؍ گھروں کو نوٹس دی جانے کی بات کارپوریشن نے کہی ہے۔ ڈینگو پر قابونہ پانے پر کارپوریشن کے ایک ذمہ دار سے سوال پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ امسال بارش بہت زیادہ دنوں تک آنے سے ڈینگو کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے ،لیکن وہ اپنی غیرذمہ دارانہ حرکت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ مزید دعویٰ مہم کے نام پر کیا جارہا ہے لیکن مسلم اکثریتی علاقوں میں ڈینگو مہم پر عملی کاروائی میں فاگنگ، فوارنی ،ابیٹنگ وغیرہ کام نہیں کئے جارہے ہیں ۔ دو چیزیں اس ضمن میں دکھائی دے رہی ہیں ایک تو مسلم علاقوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ،دوسرا یہ کہ کارپوریشن میں بی جے پی کا قبضہ ہونے پر مسلم کارپوریٹرس کی وقعت میں کمی دکھائی دے رہی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ ایک سو ایک کروڑ کے فنڈز میں مسلمانوں کے علاقوں کی خستہ حال سڑکوں کو نظر انداز کرنا بھی ہے۔

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان