Connect with us
Saturday,01-August-2026

سیاست

ایک معمولی حکم نامے سے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے: عمر عبداللہ

Published

on

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر حکومت کے زرعی اراضی کے تحفظ سے متعلق دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے ذریعے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں نوکریاں صرف مقامی نوجوانوں کو ہی دینے کے حکم نامے جاری ہو رہے ہیں وہیں جموں و کشمیر میں مقامی لوگوں سے اراضی، نوکریوں اور اسکالر شپ کے حقوق چھیننے جا رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے یہ باتیں جمعے کو یہاں شیر کشمیر بھون میں نیشنل کانفرنس کے لیڈران و کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ وہ اور ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ پانچ اگست 2019 کے بعد پہلی بار جموں کے دورے پر آئے ہیں اور یہاں انہوں نے اپنی جماعت کے لیڈران و کارکنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے نئے اراضی قوانین پر حکومتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ‘کہتے ہیں کہ کسانوں کی زمین کو کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اراضی قوانین میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے تحت زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جس آر ایس پورہ کی باسمتی چاول ملک کے مختلف حصوں کو سپلائی ہوتی ہے اس آر ایس پورہ کے کسان کو آج یہ یقین نہیں ہے کہ وہ اگلے سال اس زرعی زمین کا ملک ہوگا یا نہیں۔ زمین ہماری نہیں، نوکریاں ہماری نہیں، سکالر شپ ہمارا نہیں’۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے چند روز قبل دعویٰ کیا کہ نئے اراضی قوانین کے تحت 90 فیصد اراضی، جو کہ زرعی ہے، کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زرعی اراضی صرف مقامی کاشت کاروں کو ہی فروخت کی جا سکے گی اور یہاں تک کہ جموں و کشمیر کے وہ باشندے، جو کاشت کار نہیں ہیں، وہ بھی زرعی زمین نہیں خرید سکیں گے۔
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لئے گئے حالیہ فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ‘عجیب بات یہ ہے کہ باقی ریاستوں میں یہی بی جے پی والے الگ انداز میں بات کرتے ہیں۔ ہریانہ میں بی جے پی حکومت نے کل ہی اعلان کیا کہ 75 فیصد نوکریوں پر صرف ہریانوی لوگوں کا ہی حق ہوگا’۔
انہوں نے کہا: ‘وہاں کے لئے ایک قانون لیکن جب ہم اپنی نوکریاں اپنے لئے بچاتے تھے تو ہم سے کہا جاتا تھا کہ آپ لوگ اینٹی نیشنل ہو۔ ہم سے کہا جاتا تھا کہ ایک ملک میں الگ الگ نظام نہیں چل سکتا’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے بدلہ لیا گیا ہے اور یہاں کا کوئی بھی باشندہ 5 اگست کے فیصلوں کے ساتھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ کھلے عام اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں تو کچھ لوگ دبے الفاظ میں۔ پروپیگنڈا میں بی جے پی والوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے اگر مقابلہ تھا تو وہ ہٹلر کی حکومت کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد شاید ہی کوئی حکومت آئی ہوگی جس نے پروپیگنڈا کا اتنا استعمال کیا ہو’۔
انہوں نے کہا: ‘جیسے ہی کوئی دفعہ 370 کی بات کرتا ہے تو بی جے پی والوں کی مشین چالو ہو جاتی ہے۔ دفعہ 370 پاکستان کے آئین میں نہیں تھا۔ اگر اس کا ذکر تھا تو ہندوستان کے آئین میں تھا’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں وہ کسی مخصوص علاقے یا مذہب کی لڑائی نہیں بلکہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم اس لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور انشاء اللہ کامیابی حاصل کر کے ہی دم توڑیں گے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، سچ اور جھوٹ کی بہت بڑی لڑائی لڑی جا رہی ہے کیونکہ کچھ لوگوں کے لئے جھوٹ بولنا بہت ہی آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 سے پہلے ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کو بہت جھوٹ سنائے گئے۔ یہ بتایا گیا کہ یہاں ترقی اور روزگار نہیں ہے۔ یہاں غربت ہے۔ یہاں لوگ فاقہ کشی سے مر رہے ہیں۔ یہاں پر علاحدگی پسند لوگ زیادہ ہیں۔ چونکہ یہاں دفعہ 370 ہے اس وجہ سے یہاں کے لوگ ملک کے ساتھ نہیں ہیں۔ طرح طرح کے شوشے ڈالے گئے’۔
انہوں نے کہا: ‘ملکی عوام کو یہ کہا گیا کہ اگر دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹا تو جموں و کشمیر کی تمام بیماریاں راتوں رات دور ہوجائیں گی۔ آج ایک سال اور تین مہینے گزر چکے ہیں۔ کس بیماری کا علاج ہمارے سامنے ہے۔ کہاں ہے وہ ترقی کا دور جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی علاحدگی پسند بھی قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے لیکن آج میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ جو لوگ ہندوستان کے خلاف سوچ رکھتے تھے وہ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد نزدیک آنے کی بجائے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘نوجوانوں کی طرف سے جنگجو تنظیموں کی صفوں میں شمولیت کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے کرتوتوں سے ان نوجوانوں کو مزید دور کر دیا۔ مجھے تو ترقی کہیں نظر نہیں آتی’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی علاقائی، ایک علاقے کو دوسرے علاقے سے لڑانے اور مذہبی سیاست نہیں کی ہے۔ ہم شیر کشمیر کے نعرے ‘ہندو مسلم سکھ اتحاد’ پر قائم ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان