Connect with us
Saturday,02-May-2026

سیاست

ایک معمولی حکم نامے سے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کیا جا سکتا ہے: عمر عبداللہ

Published

on

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر حکومت کے زرعی اراضی کے تحفظ سے متعلق دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے ذریعے زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں نوکریاں صرف مقامی نوجوانوں کو ہی دینے کے حکم نامے جاری ہو رہے ہیں وہیں جموں و کشمیر میں مقامی لوگوں سے اراضی، نوکریوں اور اسکالر شپ کے حقوق چھیننے جا رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے یہ باتیں جمعے کو یہاں شیر کشمیر بھون میں نیشنل کانفرنس کے لیڈران و کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ وہ اور ان کے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ پانچ اگست 2019 کے بعد پہلی بار جموں کے دورے پر آئے ہیں اور یہاں انہوں نے اپنی جماعت کے لیڈران و کارکنوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے نئے اراضی قوانین پر حکومتی وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ‘کہتے ہیں کہ کسانوں کی زمین کو کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اراضی قوانین میں صاف طور پر لکھا ہے کہ ایک معمولی سرکاری حکم نامے یا دستخط کے تحت زرعی زمین کو غیر زرعی زمین میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا سکتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جس آر ایس پورہ کی باسمتی چاول ملک کے مختلف حصوں کو سپلائی ہوتی ہے اس آر ایس پورہ کے کسان کو آج یہ یقین نہیں ہے کہ وہ اگلے سال اس زرعی زمین کا ملک ہوگا یا نہیں۔ زمین ہماری نہیں، نوکریاں ہماری نہیں، سکالر شپ ہمارا نہیں’۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے چند روز قبل دعویٰ کیا کہ نئے اراضی قوانین کے تحت 90 فیصد اراضی، جو کہ زرعی ہے، کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زرعی اراضی صرف مقامی کاشت کاروں کو ہی فروخت کی جا سکے گی اور یہاں تک کہ جموں و کشمیر کے وہ باشندے، جو کاشت کار نہیں ہیں، وہ بھی زرعی زمین نہیں خرید سکیں گے۔
نیشنل کانفرنس نائب صدر نے بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں لئے گئے حالیہ فیصلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ‘عجیب بات یہ ہے کہ باقی ریاستوں میں یہی بی جے پی والے الگ انداز میں بات کرتے ہیں۔ ہریانہ میں بی جے پی حکومت نے کل ہی اعلان کیا کہ 75 فیصد نوکریوں پر صرف ہریانوی لوگوں کا ہی حق ہوگا’۔
انہوں نے کہا: ‘وہاں کے لئے ایک قانون لیکن جب ہم اپنی نوکریاں اپنے لئے بچاتے تھے تو ہم سے کہا جاتا تھا کہ آپ لوگ اینٹی نیشنل ہو۔ ہم سے کہا جاتا تھا کہ ایک ملک میں الگ الگ نظام نہیں چل سکتا’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں سے بدلہ لیا گیا ہے اور یہاں کا کوئی بھی باشندہ 5 اگست کے فیصلوں کے ساتھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ کھلے عام اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں تو کچھ لوگ دبے الفاظ میں۔ پروپیگنڈا میں بی جے پی والوں کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے اگر مقابلہ تھا تو وہ ہٹلر کی حکومت کے ساتھ تھا۔ اس کے بعد شاید ہی کوئی حکومت آئی ہوگی جس نے پروپیگنڈا کا اتنا استعمال کیا ہو’۔
انہوں نے کہا: ‘جیسے ہی کوئی دفعہ 370 کی بات کرتا ہے تو بی جے پی والوں کی مشین چالو ہو جاتی ہے۔ دفعہ 370 پاکستان کے آئین میں نہیں تھا۔ اگر اس کا ذکر تھا تو ہندوستان کے آئین میں تھا’۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم جو لڑائی لڑ رہے ہیں وہ کسی مخصوص علاقے یا مذہب کی لڑائی نہیں بلکہ ہم سب کی لڑائی ہے۔ ہم اس لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور انشاء اللہ کامیابی حاصل کر کے ہی دم توڑیں گے’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، سچ اور جھوٹ کی بہت بڑی لڑائی لڑی جا رہی ہے کیونکہ کچھ لوگوں کے لئے جھوٹ بولنا بہت ہی آسان ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا: ‘پانچ اگست 2019 سے پہلے ملک اور جموں و کشمیر کے عوام کو بہت جھوٹ سنائے گئے۔ یہ بتایا گیا کہ یہاں ترقی اور روزگار نہیں ہے۔ یہاں غربت ہے۔ یہاں لوگ فاقہ کشی سے مر رہے ہیں۔ یہاں پر علاحدگی پسند لوگ زیادہ ہیں۔ چونکہ یہاں دفعہ 370 ہے اس وجہ سے یہاں کے لوگ ملک کے ساتھ نہیں ہیں۔ طرح طرح کے شوشے ڈالے گئے’۔
انہوں نے کہا: ‘ملکی عوام کو یہ کہا گیا کہ اگر دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے ہٹا تو جموں و کشمیر کی تمام بیماریاں راتوں رات دور ہوجائیں گی۔ آج ایک سال اور تین مہینے گزر چکے ہیں۔ کس بیماری کا علاج ہمارے سامنے ہے۔ کہاں ہے وہ ترقی کا دور جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی علاحدگی پسند بھی قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گے لیکن آج میں یہ دعوے سے کہتا ہوں کہ جو لوگ ہندوستان کے خلاف سوچ رکھتے تھے وہ دفعہ 370 ہٹنے کے بعد نزدیک آنے کی بجائے زیادہ دور چلے گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘نوجوانوں کی طرف سے جنگجو تنظیموں کی صفوں میں شمولیت کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے کرتوتوں سے ان نوجوانوں کو مزید دور کر دیا۔ مجھے تو ترقی کہیں نظر نہیں آتی’۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی علاقائی، ایک علاقے کو دوسرے علاقے سے لڑانے اور مذہبی سیاست نہیں کی ہے۔ ہم شیر کشمیر کے نعرے ‘ہندو مسلم سکھ اتحاد’ پر قائم ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں مردم شماری 2027 مہم کا آغاز, شہریوں سے قومی مردم شماری میں بے ساختہ شرکت کی اپیل : دیویندر فڑنویس

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے گورنرجشنو دیو ورما اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج (1 مئی 2026) کو ممبئی سے ڈیجیٹل طور پر خود گنتی شماریات کروا کر حکومت ہند کی طرف سے چلائی جا رہی مردم شماری-2027 مہم کا آغاز کیا۔ نیز گورنر اور وزیر اعلیٰ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس قومی مردم شماری میں خود بخود حصہ لیں۔ مردم شماری-2027 کا پہلا مرحلہ حکومت ہند کی طرف سے نافذ کیا جا رہا ہے، یعنی خود گنتی، یکم مئی 2026 سے شروع ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں، مہاراشٹر ریاست کے گورنرجِشنو دیو ورما نے ممبئی میں لوک گنتی کے ایک سرکاری دفتر میں مردم شماری2027 کی مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر گورنر کی اہلیہ سدھا دیو ورما موجود تھیں۔ مہاراشٹر ریاست کے وزیر اعلیٰ، دیویندر فڑنویس نے ممبئی میں ورشا کی سرکاری رہائش گاہ پر خود گنتی کی اور مردم شماری2027 میں اندراج کرایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کی اہلیہ امرتا فڑنویس اور بیٹی محترمہ دیویجا فڑنویس موجود تھیں۔ دریں اثنا، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس چندر شیکھر، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر، ایڈوکیٹ ثقافتی امور اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر راہل نارویکر اور ممبئی مضافاتی ضلع کے سرپرست وزیر ایڈکیٹ آشیش شیلار، وزیر برائے ہنر، روزگار، کاروباری اور اختراعات اور ممبئی مضافاتی ضلع کے شریک نگراں وزیر منگل پربھات لودھا، ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے، ڈپٹی میئرسنجے گاڈی اور دیگر معززین نے بھی مردم شماری مہم میں خود شماری کرکے حصہ لیا۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) اور ایڈیشنل پرنسپل مردم شماری آفیسر ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر (محترمہ) اشونی جوشی، مہاراشٹر کی پرنسپل مردم شماری افسر ڈاکٹر نروپما جے ڈانگے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (ایسٹرن) جوائنٹ کمشنر (ایڈیشنل میونسپل کمشنر)۔ (کارکردگی) ایم دیویندر سنگھ گورنر کے سکریٹری ڈاکٹر پرشانت نارانورے، جوائنٹ ڈائرکٹر (مردم شماری) سنتوش، مردم شماری کے ڈپٹی رجسٹرار جنرل اے این راجیو، میونسپل کارپوریشن کے مردم شماری افسر ڈاکٹر سنتوش گائیکواڑ اور دیگر متعلقہ افسران اس موقع پر موجود تھے۔ میونسپل کارپوریشن کمشنر اور پرنسپل مردم شماری افسراشونی بھیڈے کی رہنمائی میں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بنگر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش دھکنے، مردم شماری 2027 اور شہری علاقے میں کرائی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) اور ایڈیشنل پرنسپل مردم شماری افسر ڈاکٹر وپن شرما نے کہا کہ مردم شماری2027 دو مرحلوں میں کرائی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں، شہریوں کو 1 سے 15 مئی 2026 تک ڈیجیٹل طور پر خود گنتی کرنی ہوگی۔ اس کے لیے، آپ کو ویب سائٹ https://se.census.gov.in پر اندراج کرانا ہوگا اور خود گنتی کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ، آپ کو اس میں دیے گئے 33 سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔ صرف دس منٹ میں خود شماری کرنا ممکن ہے۔ اس کے تحت مردم شماری کرنے والے 16 مئی سے 14 جون 2026 تک گھر گھر جا کر معلومات کی تصدیق اور تصدیق کریں گے۔ مردم شماری کا دوسرا مرحلہ فروری 2027 میں شروع ہوگا۔ جس میں گھر گھر جا کر اصل گنتی کی جائے گی۔ ممبئی (ممبئی شہر اور مضافات) کے علاقے میں، ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تقریباً 25 ہزار ملازمین مردم شماری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ممبئی والوں کو اس مردم شماری میں بے ساختہ حصہ لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ، ڈاکٹر وپن شرما نے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے اپیل کی ہے کہ وہ صحیح معلومات فراہم کریں اور مردم شماری کے لیے گھروں کا دورہ کرنے والے شمار کنندگان کے ساتھ تعاون کریں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کاندیولی میں دکاندار پر قاتلانہ حملہ, حملہ آور گرفتار، دہشت پیدا کرنے کی کوشش

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی کاندیولی لوکھنڈوالا میں ایک دکان میں گھس پر دکاندار پر قاتلانہ حملہ کر اس سے ہفتہ طلب کرنے والے بدمعاش و غنڈہ بالا پاٹل کو سمتا نگر پولس نے اقدام قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے. پولس کے مطابق گزشتہ دوپہر دکاندار پر ملزم نے حملہ کی کوشش کی. اس کے ساتھ ہی اس حملہ میں اس کا ملازم زخمی ہو گیا. ملزم کے خلاف کئی مجرمانہ معاملات درج ہیں اور اسے شہر بدر تڑی پار بھی کیا گیا تھا. اس واقعہ سے علاقہ میں دہشت و دبدبہ پیدا کرنا اس کا مقصد تھا. اس لئے دہشت پیدا کرنے اور قاتلانہ حملہ کی پاداش میں پولس نے اسے گرفتار کر لیا ہے. اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی وائرل ہوئی تھی, جس کے بعد پولس نے غنڈہ کو گرفتار کر کے کارروائی کی ہے

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نئی ممبئی : این سی بی کی بڑی کارروائی، 1745 کروڑ روپے کا کوکین ضبط، پولس نے اشونی کو ٹٹ والا کی پدماوتی رائلز سوسائٹی سے کیا گرفتار

Published

on

ممبئی: ملک کی مالیاتی راجدھانی نئی ممبئی میں کوکین کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا گیا ہے۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ 349 کلو گرام کوکین ضبط کی گئی این سی بی کے ذریعہ ضبط کی گئی کوکین کی تخمینہ مارکیٹ قیمت 1775 کروڑ روپے ہے۔ منشیات کا اتنا بڑا ذخیرہ کہاں سے آیا؟ کون لایا؟ کہاں جا رہا تھا؟ یہ تحقیقات کا موضوع ہے۔ کوکین کا اتنا بڑا ذخیرپکے جانے سے این سی بی کی ٹیم بھی ششدر رہ گئی ہے۔ این سی بی نے کوکین کی ضبطی کے ساتھ ایک بین الاقوامی ڈرگ ریکیٹ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس کارروائی کے لیے این سی بی کو مبارکباد دی ہے۔
امیت شاہ نے این سی بی کی اس کامیابی کے بارے میں ایکس پر پوسٹ کیا ہے۔ انہوں نے منشیات فروشی کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ این سی بی نے نئی ممبئی میں ایک بڑی کارروائی کی۔ 349 کلو گرام ہائی گریڈ کوکین ضبط کی جس کی بین الاقوامی مارکیٹ کی قیمت 1745 کروڑ روپے ہے۔ یہ آپریشن ایجنسی کے نیچے سے اوپر تک کے نقطہ نظر کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ حکومت منشیات فروشوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پدماوتی رائلز سوسائٹی سے گرفتار

اس سے قبل ممبئی پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں سابق بار ڈانسر کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے ملزم سے 5000 ایم ڈی ایم اے (ایکسٹیسی) گولیاں ضبط کی ہیں جن کی مالیت تقریباً 6 کروڑ روپے ہے۔ گرفتار خاتون کا نام اشونی پال ہے۔ ملزم خاتون پونے میں مقیم ہے۔ وہ ممبئی اور مہاراشٹر میں پھیلے ایک بڑے ڈرگ ریکیٹ کی ایک اہم کڑی ہو سکتی ہے۔ پولس نے اشونی کو ٹٹ والا کے پدماوتی رائلز سوسائٹی سے گرفتار کیا۔ چھاپے کے دوران پولیس نے پانچ موبائل فون اور آٹھ سم کارڈ قبضے میں لے لیے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اشونی نے اپنے شوہر کے جیل جانے کے بعد منشیات کے کاروبار میں قدم رکھا۔
ان سے 200 گولیاں برآمد ہوئیں
پولیس کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق اشونی 2012 میں ممبئی آئی اور ایک ڈانس بار میں کام کرنے لگی۔ وقت کے ساتھ، اس نے پارٹیوں میں منشیات کی فراہمی شروع کردی۔ آہستہ آہستہ، اس کا نیٹ ورک ممبئی سمیت مہاراشٹر کے دوسرے شہروں میں پھیل گیاخاص طور پر کالج جانے والے بچے اس کے ریڈار پر تھے۔ وہ ایک گولی کے 1500 سے 2000 روپے لیتی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ساکیناکا علاقے سے دو ملزمان عرفان انصاری اور سفیان کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے ساتھ 200 گولیاں برآمد ہوئیں۔ ان کی طرف سے دی گئی اطلاع کی بنیاد پر پولس
نئی ممبئی میں منشیات کے بین الاقوامی ریکٹ کا پردہ فاش این سی بی نے 1745 کروڑ روپے ضبط کئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان