Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

جس نام نہاد سیاسی نمائندے کی وجہ سے جمیعتہ علماء ارشد مدنی بار بار بدنامی جھیل رہے ہے اس شخص کی ہکال پٹّی سے آخر کیوں لاچار ہے, عوام کا سوال

Published

on

(نامہ نگار)
آج جمعتہ علماء ارشد مدنی کی جانب سے شوشل میڈیا پر وائرل کئے گئے ایک لیٹر بعنوان دھولیہ کے غریبوں کے ساتھ شرمناک مذاق نظروں سے گزرا اس لیٹر میں کسی شخص کے ذریعے لکھے گئے لیٹر کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک نام نہاد سیاسی نمائندے کے گھر سے 2000 روپیہ تقسیم کرنے کی خبر کی وضاحت کی گئی ہے اور اسے غریبوں کے ساتھ سیاسی مذاق بتایا گیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بار بار اس نام نہاد سیاسی نمائندے کی وجہ سے ہونے والی جمعتہ علماء ارشد مدنی کی بدنامی کو کیوں نظر انداج کیا جا رہا ہے؟ ساڑی کی امداد کا معاملہ ہو یا پولس ڈپارٹمنٹ کو لکھے گئے محبت بھرے خط کا معاملہ ہو آخر کونسی ایسی مجبوری ہے کہ جمیعت کے ذمہ داران اس نام نہاد شخص سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہے؟ اِسی شخص کی وجہ سے آج جمیعتہ علماء ارشد مدنی دو گروپ میں بٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ دوسرے گروپ نے باقائدہ امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بھی شروع کر دیا ہے۔ جمیعت کے اس بِکھراؤ کو آسانی سے مٹایا جا سکتا تھا جب اِس نام نہاد سیاسی نمائندے کے اشارے پر دھولیہ کورٹ میں پیسہ لینے سے منع نہیں کیا گیا ہوتا اور انھیں پیسہ لگانے کی عزازت دی گئی ہوتی۔ آخر وہ بھی جمعیتہ علماء ارشد مدنی سے تعلق رکھنے والے عہدے دار لوگ تھے۔ جمیعتہ علماء خالص علماؤں کی تنظیم ہوتے ہوئے بھی وہاں سیاسی نمائندوں کا بول بالا آخر کیوں ہے؟ آج کے لیٹر میں غریبوں کا سیاسی مذاق لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ آخر جمیعت کا سیاست سے کیا لینا دینا ہے جو سیاسی مذاق کا لفظ استعمال کیا گیا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمیعتہ علماء ارشد مدنی کے ذمہ داران بھی اس بات سے واقف ہو چکے ہیں کہ جمیعت میں اُس نام نہاد سیاسی نمائندے کی موجودگی سے ہی سارے معاملات پیدا ہو رہیں ہیں تو پھر اس نام نہاد سیاسی نمائندے کی ہکال پٹی کیوں نہیں ہوتی ؟ آخر جمیعت کے ذمہ داران کس بات سے مجبور ہیں؟ آج کے لیٹر میں نام نہاد سیاسی نمائندے کے گھر سے 2000 روپیہ تقسیم کرنے کی بات کو جھوٹ کرار دیا گیا ہے۔ لیکن جمیعت کے کسی بھی ذمہ دار نے آج تک اس بات کی مذمت کیوں نہیں کی کہ بار بار اس نام نہاد سیاسی نمائندے کے گھر سے ہی کیوں جمعیت کے بہت سارے کاموں کو انجام دیا گیا جیسے الیکشن میں نمائندے کو جمعیت کے دفتر پر میٹنگ کا بول کر اپنے گھر پر بلانا، سیلاب متاثرین کے لئے دی جانے والی ساڑی اپنے گھر پر فوٹو کھنچوا کر دکھاوا کرنا اور اپنی واہ واہی کرنا جبکہ جمیعت کا دفتر مولوی گنج میں موجود ہے ان سارے کاموں کو وہاں سے انجام دیا جانا چاہئیے۔ اب کسی سرپھرے نے اس نام نہاد سیاسی نمائندے کے گھر کا ایڈریس دیا تو اس میں حیرانی والی کونسی بات ہے وہاں کا ایڈریس تو آپ ہی لوگوں نے عوام کو دیا ہے ؟ لیٹر لکھنے والے اُس شخص کی تلاش ضرور ہونا چاہیئے جس نے لیٹر میں جمیعت کے نام کا استعمال کیا کیوں کہ اس سے پہلے بھی جمیعت کے لیٹر ہیڈ پر شہر کے علمائے کرام کی شان میں گستاخی کی گئی تھی لیکن گشتاخی کرنے والا آج تک پکڑا نہیں گیا ۔ جمیعتہ علماء ارشد مدنی کے ذمہ داران سے مودبانہ گذارش ہے کہ خدارا مسلمانوں کی ریڑھ کی ہڈی کہی جانے والی اس تنظیم کو اس طرح سرے عام رسوا ہونے سے بچائے اور اُن لوگوں کی فوری طور پر ہکال پٹی کریں جن کی سیاسی موت ہو چکی ہے اور وہ جمیعت کے سہارے ہی زندہ رہنا چاہتے ہیں.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان