Connect with us
Wednesday,03-June-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

کیوں اویسی صاحب نے پچھلے 85 سالوں میں تلنگانہ میں 7 سیٹ سے زیادہ اُمیدوار میدان میں نہیں اُتارے: اعجاز خان

Published

on

بالی ووڈ سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے اور مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کرنے والے بے باک نوجوان نے اویسی کوکشمکش میں مبتلا کردیا ہے، اعجاز خان کے بیانات سے اسدالدین اویسی کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگنے لگا ہے۔ اعجاز خان پر الزامات عائد کرنے والے چند افراد کی نیندیں حرام ہونے لگی ہیں جب اعجاز خان پر لین دین کا الزام لگایا گیا تو اعجاز خان نے صاف طور پر بتا دیا کہ اگر میں لین دین کرتا تو انتخابی پرچہ واپس لے لیا ہوتا میں اسمبلی انتخاب کے میدان میں نہیں ہوتا جس طرح بلبل سیٹھ نے مجلس اتحادالمسلمین کے ٹکٹ سے سودے بازی کرکے پیچھے ہٹ گیا ۔
اعجاز خان نے کہا مجھ سے بار بار سوال کیا جارہا ہے کہ وارث پٹھان کے سامنے ووٹ کاٹنے کے لیے پرچہ داخل کرے ہو،میں ان سے سوال کررہا ہوں کےمجھ سے سوال کرنے سے پہلے آپ اسدالدین اویسی سے سوال کرو کہ مجلس مسلمانوں کی حامی پارٹی ہے مسلمانوں کے حقوق کی بات کرنے والی پارٹی ہے تو ریاست میں کئی قدآور مسلم ایم ایل ایز ایسے ہیں جو عوام میں معروف ہیں ،عوام کے کام کرتے ہیں وہاں کی عوام ان سے مطمئن ہیں ۔ کام کرنے والے مسلم ایم ایل ایز کے خلاف اویسی نے کیوں امیدوار کھڑے کئے ہیں؟میں تو صرف ایک جگہ سے عوام کی فرمائش پر انتخاب لڑ رہا ہوں لیکن اویسی نے تو پورے مہاراشٹر میں کام کرنے والے ایم ایل ایز کو نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے
وہیں اعجاز خان نے کا کہنا ہے کے میں جیسے جیسے مجلس پارٹی اور اویسی کے بارے میں جانکاری جمع کرتا گیا تو مجھے اب اس بات کا احساس ہو رہا ہے کے اللہ نے مجھے اس پارٹی کا اُمیدوار ہونے اس بچایا کیوں کے یہ پارٹی سودے بازیاں کرتی ہے امت اور مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرتی ہے کیوں اویسی جی تلنگانہ سے سبھی سیٹوں پر اپنا امیدوار نہیں کھڑا کرتے کیوں پچھلے 85 سالوں میں 7 یا 8 سیٹوں سے زیادہ اپنا اُمیدوار نہیں اترا جب کے تلنگانہ اُن کا گڑھ ہے کیوں اترپردیش میں بہار میں کئی سارے سیٹنگ مسلمان امیدواروں کے سامنے اپنے امیدوار اُتار کے ووٹوں کا بٹوارا کیا کیوں مہاراشٹرا میں جو جیتے ہوے اُمیدوار ہیں آمین پٹیل اسلم شیخ عارف نسیم خان آصف شیخ وغیرہ وغیرہ کے سامنے اپنا اُمیدوار اترا ؟ مقصد کیا ہے ؟ شیوسینا بی جے پی کو فائدہ پہچانا ؟ مسلمانوں کے حق کو بات کر رہے بہار اُتر پردیش میں کتنے مسلم جگہوں پر مجلس کی وجہ سے بی جے پی کی سیٹ آگی مجھے افسوس ہوتا ہے کہ اویسی جی کھلے عام مسلمانوں کا سودا کر رہے اور اب ایک طبقہ اویسی بھکت بھی ہوگیا ہے جیسا مودی بھکت ہیں ویسے اویسی بهکت اور ان بھکتوں کے چکر میں سہی مسلمان اُمیدوار ہار جائیگا اور شیوسینا بی جے پی کے اُمیدوار جیت جائینگے۔

اعجاز خان نے آگے بتایا کے 2014 کے ایک جلسے میں اویسی بھائیوں نے کہا تھا کہ ہمارے دو اُمیدوار بھی آ گئے تو ریلائنس سے اور سرکار وقف بورڈ کی ساری زمینے واپس نکل کے لانے کی ذمےداری میری ہے میں پوچھتا ہوں آپ کے وارث پٹھان اور آپ کے امتیاز جلیل نے اب تک کتنی وقف بورڈ کی زمینے نکال لی کتنا بھلا کر دیا مسلمانوں کا۔ ان کی صرف باتیں ہیں یہ ایک مسلم واد پارٹی ہے جو مسلمانوں کو اس دیش میں الگ تھلگ رکھنا چاہتی ہے جب کے ہمارا دیش سیکولر دیش ہے یہاں ہر مذہب کے لوگ رہتے ہیں تو اس طرح سے مسلمانوں کو گمراہ کر کے اُن کے ذہن کیوں بگاڑے جا رہے۔ اعجاز خان کے مطابق کانگریس پارٹی کو دیش سے ختم کرنے میں مجلس کا بہت بڑا ہاتھ ہے بی جے پی ہندوؤں کو الگ کر رہی اور یہ مسلمانوں میں زہر گھول رہے اس سے مسلمانوں کی ترقی نہیں ہو رہی اور یہ مذہبی فرقہ پرستی کا زہر آنے والی نسلوں میں گھول جا رہا۔۔۔

مجلس اتحادالمسلمین ہر جگہ کہتی ہے کہ ہمارے امیدوار کو ووٹ دو ،ہمیں ووٹ دے کر کامیاب کرو، میں کہتا ہوں جمہوریت ہے ہر کسی کو اپنے پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کا حق ہے، میرے حلقہ اسمبلی بائیکلہ میں وارث پٹھان نے کچھ ترقیاتی کام کیا ہوگا، لوگوں کےبنیادی مسائل کو حل کیا ہوگا تو انہیں ووٹ دو۔مجھ پر بھروسہ ہے میں کام کرنے کا اہل ہوں تو مجھے ووٹ دیں ،کسی پر زبردستی کرکے ووٹ نہیں مانگا جاسکتا ہے۔ وہ بھی سیاسی میدان میں ہیں میں بھی ہوں دونوں کے موازنہ میں جو بہتر ہو اسے ووٹ کریں۔میری مجلس سے ذاتی دشمنی نہیں ہے ، میرے مداحوں کی خواہش تھی کہ میں انتخاب لڑکر جیت درج کراؤں تاکہ مظلوموں کے حق میں اٹھائی جانے والی آواز کو اور زیادہ زور و شور سے اٹھا سکوں اور لوگوں کی بھلائی کا کام کر سکوں.

(Monsoon) مانسون

اس مانسون کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی، ہائی ٹائیڈز کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

Published

on

hightide

ممبئی : اس مانسون کے دوران یعنی جون سے ستمبر تک 4 ماہ کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اونچی لہر کا مطلب ہے کہ اس جوار کے دوران سمندر میں ساڑھے چار میٹر سے زیادہ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اس میں جوار کی تاریخ اور وقت کے ساتھ ساتھ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کی اونچائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، اس مانسون میں سب سے زیادہ لہریں 16 جولائی 2026 کو اٹھیں گی۔ میونسپل انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام دنوں میں تیز لہر کے دوران ساحلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

جون 2026

  1. اتوار، 14.06.2026 اے ایم – 11.24 AM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  2. پیر، 15.06.2026 پی ایم – 12.14 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.80
  3. منگل، 16.06.2026 پی ایم – 01.05 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.87
  4. بدھ، 17.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86
  5. جمعرات، 16.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86 18.06.2026 پی ایم – 02.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.79
  6. جمعہ، 19.06.2026 پی ایم – 03.32 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.64

جولائی 2026

  1. پیر، 13.07.2026 اے ایم – 11.14 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.53
  2. منگل، 14.07.2026 پی ایم – 12.04 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  3. بدھ، 15.07.2026 پی ایم – 12.51 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.85
  4. جمعرات، 16.07.2026 پی ایم – 01.36 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.89
  5. جمعہ، 17.07.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  6. ہفتہ، 18.07.2026 پی ایم – 03.00 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.66

اگست 2026

  1. بدھ، 12.08.2026 اے ایم – 11.48 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.68
  2. جمعرات، 13.08.2026 پی ایم – 12.28 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.81
  3. جمعہ، 14.08.2026 پی ایم – 01.07 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
  4. ہفتہ، 15.08.2026 پی ایم – 01.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
  5. اتوار، 16.08.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.50

ستمبر 2026

  1. جمعرات، 10.09.2026 اے ایم – 11.26 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.57
  2. جمعہ، 11.09.2026 پی ایم – 12.00 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
  3. ہفتہ، 12.09.2026 پی ایم – 12.34 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.61
  4. اتوار، 13.09.2026 آدھی رات – 01.02 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  5. پیر، 28.09.2026 آدھی رات – 00.38 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
  6. منگل، 29.09.2026 آدھی رات – 01.14 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.59
  7. بدھ، 30.09.2026 آدھی رات – 01.53 بجے۔ لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.56
Continue Reading

(Tech) ٹیک

گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ : فیز 3-بی کے تحت جڑواں سرنگوں کی تعمیر کے لیے ٹنل بورنگ مشین کے اسپیئر پارٹس کو شافٹ سے جوڑنے کا کام زوروں پر۔

Published

on

tunnel boring machine

ممبئی : پہلی ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام جون کے دوسرے ہفتے تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس دوران دوسری ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام متوازی طور پر زوروں پر ہے۔ پروجیکٹ کی جگہ پر پہلی ٹنل بورنگ مشین کے پورے سسٹم کو انسٹال کرنے کے بعد، اس کی کارکردگی، حفاظت اور تمام سسٹمز کے مناسب کام کو جانچنے کے لیے ایک سائٹ ایکسیپٹنس ٹیسٹ (ایس اے ٹی) کرایا جائے گا۔ اس میں بنیادی طور پر مکینیکل، الیکٹریکل، ہائیڈرولک، کنٹرول اور حفاظتی نظام کی جانچ شامل ہوگی۔ مقررہ معیار کے مطابق تمام ٹیسٹ تسلی بخش پائے جانے کے بعد اصل سرنگ کی کھدائی شروع کر دی جائے گی۔

گوریگاؤں میں دادا صاحب پھالکے چتر نگری سے ملنڈ کے کھنڈی پاڑا تک جڑواں اور زیر زمین سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔ یہ جڑواں سرنگیں، جو ایک دوسرے کے متوازی ہیں، ہر ایک کی لمبائی 4.70 کلومیٹر ہے۔ سنجے گاندھی قومی پناہ گاہ کے علاقے میں ان متوازی سرنگوں کا قطر 14.20 میٹر اور 13 میٹر ہے۔

دونوں سرنگوں کی کھدائی طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع کر دی گئی ہے اور اکتوبر 2028 سے پہلے سرنگوں کی کھدائی کو مکمل کرنے کا مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، میونسپل کارپوریشن اس منصوبے کو دسمبر 2028 تک مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کی جانب سے غریب نگر کے متاثرین کے لیے ریلیف آپریشن, اس سے قبل 400 غذائی پیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے تھے

Published

on

شہر کے غریب نگر علاقے میں حالیہ کارروائی کے دوران بے گھر ہونے والے شدید مشکلات کے شکار خاندانوں کی بازآبادکاری اور فوری امداد کے لیے جماعتِ اسلامی ہند ممبئی نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ منگل، ۲ جون ۲۰۲۶ء کو جماعت کی جانب سے غریب نگر کے ۱۸ منتخب متاثرہ خاندانوں میں مالی امداد تقسیم کی گئی، جو اس وقت کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ترجمان کے مطابق ان مستحق خاندانوں کا انتخاب رضاکاروں کی ایک ٹیم کی جانب سے کیے گئے تفصیلی اور منظم زمینی سروے (آن گراؤنڈ سروے) کے بعد کیا گیا۔ سروے کا مقصد متاثرین کے حقیقی حالات کا جائزہ لینا تھا تاکہ یہ مالی امداد بلا تفریق صرف انتہائی ضرورت مند، بے سہارا اور متاثرہ گھرانوں تک پہنچائی جا سکے۔

جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یہ مالی امداد ان خاندانوں کی فوری اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور اس انتہائی کٹھن وقت میں انہیں حوصلہ فراہم کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس مستقل مالی امداد سے قبل، کارروائی کے فوراً بعد جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کی جانب سے ہنگامی ریلیف کے طور پر متاثرہ مکینوں میں ۴۰۰ تیار شدہ غذائی پیکیٹ (فوڈ پیکٹ) بھی تقسیم کیے گئے تھے، تاکہ متاثرین کو فاقہ کشی سے بچایا جا سکے۔ جماعت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر مظلوموں اور ضرورت مندوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان