Connect with us
Sunday,08-November-2026

سیاست

تبلیغی مرکز کو آخر نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے؟

Published

on

(نامہ نگار)
حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کس کس چیز کاسہارا لیتی ہے۔ اس کا ثبوت نظام الدین کا تبلیغی مرکز ہے۔ دودنوں میں جس طرح حکومت اور میڈیا نے جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلائی اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں بھی حکومت اور میڈیا کس قدرمسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے میں مصروف ہے۔جموں کے ویشنو دیوی مندر میں چار سو لوگ میڈیا اور حکومت کو پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ حضرت نظام الدین اور دیگر مساجد میں پناہ گزیں لوگ چھپے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کورونا کے دوران مدھیہ پردیش اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کرکے حکومت کی تشکیل دی جاتی ہے، حلف لیا جاتا ہے، جشن منایا جاتا ہے، لیکن حکومت اور میڈیا کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہیں نظر آتی۔
حضرت نظام الدین میں تبلیغی مرکز کے متعلق متضاد خبریں آرہی ہیں۔ دراصل اس کا مقصد اسے بدنام کرنا ہے۔ہندی اور ہندوتو میڈیا کو جس میں ٹی وی چینل اور اخبارات شامل ہیں،کو ایک سنہرا موقع مل گیا ہے کہ اس بہانے وہ مسلمانوں اور مرکز کو بدنام کریں۔ بغیر سوچے سمجھے اور حقیقت کو جانے اس میں مسلمانوں کاکچھ طبقہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب دہلی اور مرکزی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے اس کی جگ ہنسائی ہورہی تھی، دہلی سمیت پورے ملک میں غریب سڑکوں پر تھے، سارے لوگ پریشان حال ہیں اسی دوران مرکز کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ حکومت اور میڈیا نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ تمام ناکامی کو چھپانے کے لئے اس کا رخ مرکز کی طرف موڑ دیا۔ حکومت ایسا ظاہر کررہی ہے کہ سب کچھ پوشیدہ طور پر رہ رہے تھے، جب کہ تمام چیزیں پولیس کے علم تھی۔ پولیس نے مرکز والوں سے سوسل ڈسٹنس بناکر رہنے کو کہا تھا۔ ان میں سے تین سو بعض رپورٹ میں صرف سو غیر ملکی باشندے ہیں جو مختلف ممالک کے ہیں۔ یہ چھ منزلہ عمارت ہے ظاہر سی بات ہے کہ سب ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔ تین سو لوگ جو غیر ملکی تھے واپس بھیجا گیا تھا جو ہوائی جہاز بند ہونے کی وجہ سے پھر واپس آگئے۔
لاک ڈاؤن اچانک کردیا گیا ان لوگوں کو یہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ لوگ اپنے ایمبیسی کے رابطے میں تھے۔ کچھ ایمبیسی میں بھی ہیں۔ مجبوراً انہیں یہیں قیام کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ باقی ماندہ بیرون دہلی کے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ کہیں سفر نہیں کرسکتے تھے۔ اسی طرح ملک بھر میں جماعتیں گئی ہوئی تھیں جو مختلف مسجدوں میں قیام پذیر تھیں چھپی ہوئی نہیں تھیں۔ یہ کہنا لاک ڈاؤن کے بعد بھی وہ باہر نہیں نکلے، وہ باہر نکل کر کہاں جاتے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمد و رفت کے تمام ذرائع بند تھے۔یہ ساری باتیں پولیس کے علم تھی۔ اس کے باوجود اسے بدنام کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ جن لوگوں کو لے جایا گیا ہے ان کی پوری رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن میڈیا کا ایک بڑا طبقہ کورونا کا مرکز کہنا شروع کردیا ہے۔جب کہ معلوم ہونا چاہئے کہ جو غیر ملکی آتے ہیں اس کا علم وزارت داخلہ اور خارجہ کو ہوتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ان لوگوں کو بھیجنے کا انتظام کرتی، جسے اس نے پوری نہیں کی، مرکز والے انتظامیہ کے بھی رابطے میں تھے۔لاک ڈاؤن کے سبب وہ مرکز میں رہنے کو مجبور تھے۔ جو لوگ انہیں عقل سے پیدل قرار دے رہے ہیں کیا وہ یا ان کی جماعت ان لوگوں کو اپنے کیمپس یا گھروں میں پناہ دیتی۔کیا وہ لوگ مزدورں کی سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں کھاتے، ذلیل ہوتے۔ مسائل کو سمجھے بغیر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
تبلیغی مرکز نظام الدین اور بنگلہ والی مسجد کے تعلق سے الیکٹراک میڈیا حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے من گھڑت خبروں کو پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ مسلمانوں کی دیگر جماعتیں اور تنظیمیں اب آگے بڑھ کر اپنے مسلکی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھکر یکے بعد دیگرے مرکز نظام الدین کی حمایت میں آگے آرہے ہیں یہ ایک خوش آئند اقدام ہے مقامی سطح پر سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید، سابق میئر شیخ رشید، تحفظ ملت ایکشن کمیٹی، اور انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی سمیت کئی تنظیموں نے کھلے الفاظ میں اس مصیبت کی گھڑی میں مرکز نظام الدین کیساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے وہیں تحفظ ملت ایکشن کمیٹی کے صدر شیخ رشید اور جنرل سکریٹری صابر گوہر نے تبلیغی جماعت کے آپسی اختلافات کو بھی ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ شاید اختلافات کو ختم کرنے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ نے یہی سبیل پیدا کردی ہو-

سیاست

لارنس بشنوئی گینگ کا رکن ہری باکسر امریکہ میں حراست میں، اسے بھارت لانے کی کارروائی جاری

Published

on

جے پور : راجستھان پولیس کی جانب سے منظم جرائم اور مجرمانہ گروہوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ کے سرگرم رکن اور مطلوب مفرور، بدنام زمانہ گینگسٹر ہری چند جاٹ عرف ’ہری باکسر‘ کو امریکہ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کمار شرما کی ہدایت پر کی گئی، جو منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف ریاستی پولیس کی مسلسل مہم کا حصہ ہے۔ راجستھان کی ’اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس‘ (اے جی ٹی ایف) ​​نے، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) دنیش ایم این کی رہنمائی میں، اس گرفتاری کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اور انٹرپول لائژن آفیسر یوگیش یادو کی نگرانی میں کام کرنے والی ایک خصوصی ٹیم نے اہم خفیہ معلومات اکٹھی کیں اور مفرور ملزم کا سراغ لگانے کے لیے مربوط کوششیں کیں۔

اس بین الاقوامی آپریشن کے حصے کے طور پر، راجستھان پولیس نے ہری باکسر کے خلاف ’ریڈ کارنر نوٹس‘ جاری کروانے میں مدد کی۔ پولیس نے اس کے ٹھکانے کا پتہ لگانے اور اس کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے پانچ مختلف ممالک میں انٹرپول کو 14 الگ الگ درخواستیں (ریفرنسز) بھیجیں۔ اس کی حراست کے قانونی جواز کو مضبوط بنانے کے لیے، پولیس نے متعلقہ حکام کو ’عارضی گرفتاری کی درخواست‘ (عارضی گرفتاری کی درخواست)، ملزم کی تفصیلات پر مشتمل ایک تازہ ترین اور جامع ڈوزیر (فائل)، اور اس کے انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) فراہم کیے۔ ہری باکسر کا تعلق راجستھان سے گہرا ہے۔ اس کی پیدائش، پرورش اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کا ابتدائی سفر، سب اسی ریاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کا اصل نام ہری چند جاٹ ہے اور اس کا تعلق بنیادی طور پر راجستھان کے ضلع کوٹ پتلی-بہروڑ کے علاقے ’بانسور‘ سے ہے۔ اس کے والد، گردھاری جاٹ، اسی علاقے کے ایک عام کسان ہیں۔

جرائم کی دنیا میں آنے سے پہلے، ہری چند اپنے گاؤں میں ایک عام زندگی گزارتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ وہ ملک یا ریاست کی خدمت کرے۔ ہری باکسر کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہری چند جاٹ شروع میں بھارتی فوج یا راجستھان پولیس میں بھرتی ہونا چاہتا تھا۔ مسابقتی امتحانات کی تیاری کے دوران وہ ریاست کے دارالحکومت جے پور منتقل ہو گیا۔ جے پور میں قیام کے دوران، اس نے باکسنگ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کی اور بعد میں نوجوانوں کو اس کھیل کی کوچنگ دینا شروع کر دی۔ جے پور میں باکسنگ رنگ سے وابستگی اور بعد ازاں باکسنگ کوچ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے انہیں ‘ہری باکسر’ کا عرفی نام ملا۔ یہ نام رفتہ رفتہ ان کے دوستوں اور سوشل میڈیا پر مقبول ہو گیا، اور پھر مجرمانہ حلقوں میں بھی پہچانا جانے لگا۔ ہری باکسر کو واپس بھارت لانے کا عمل اب جاری ہے۔ ان کی گرفتاری راجستھان پولیس کی جانب سے منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور بھارت کی سرحدوں سے باہر سرگرم گینگسٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کی کوششوں میں ایک اہم کامیابی ہے۔

Continue Reading

سیاست

راہل گاندھی اور اکھلیش یادو پر نتن نبین کے بیان سے سیاسی تنازع، بی جے پی اور اپوزیشن آمنے سامنے

Published

on

نئی دہلی : ہفتے کے روز بی جے پی، کانگریس، سماج وادی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین کے ایک انٹرویو میں دیے گئے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اس انٹرویو میں نبین نے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو خاندانی سیاست، بدامنی پھیلانے کی مبینہ کوششوں اور ان کے سیاسی طرزِ عمل کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نبین کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان آر پی سنگھ نے کہا کہ پارٹی صدر کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ راہول گاندھی اور اکھلیش یادو ایسے رہنما ہیں جن کی دلچسپیاں صرف اپنے اپنے خاندانوں تک محدود ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان دونوں رہنماؤں نے کبھی بھی اپنے خاندانی مفادات سے آگے بڑھ کر نہیں سوچا۔ مغربی بنگال کے وزیر تاپس رائے نے بھی نبین کے تبصروں کی تائید کی اور بات کا رخ ریاست میں ترقی اور حکمرانی کی جانب موڑ دیا۔

کمیونسٹ اور ترنمول کانگریس کی سابقہ ​​حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے، تاپس رائے نے الزام لگایا کہ گزشتہ 50 سالوں میں روزگار پیدا کرنے یا مناسب صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات قائم کرنے کے لیے بہت کم کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اب عوامی بہبود پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ تاہم، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ بلونت وانکھڈے نے راہول گاندھی اور گاندھی خاندان کے خلاف نبین کی تنقید کو مسترد کر دیا۔ مہاراشٹر کے شہر امراوتی میں گفتگو کرتے ہوئے، وانکھڈے نے کہا کہ اس خاندان نے ہمیشہ ذاتی مفادات پر ملک کو ترجیح دی ہے۔ سابق وزرائے اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے قوم کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، اور مزید کہا کہ راہول گاندھی بھی ملک کے مفادات کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام شنکر راج بھر نے بھی ‘سنتن’ (سناتن) اور ‘ٹوپی’ سے متعلق سیاست پر دیے گئے نبین کے بیانات کا سخت جواب دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی، اکھلیش یادو کی ‘پی ڈی اے’ (پچھڑے، دلت، اقلیت) سیاست، مذہبی رسومات اور ایٹاوہ میں تعمیر کیے جا رہے مندر کی وجہ سے پریشان ہے۔ دریں اثنا، ایس بی ایس پی (ایس بی ایس پی) کے رکن اسمبلی بیدی رام نے ترقی کے حوالے سے نبین کے خیالات کا خیرمقدم کیا اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ سڑکوں کی تعمیر، ایکسپریس ویز، مواصلاتی رابطوں اور دیہی سڑکوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست اور ملک کی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیادی ڈھانچہ ناگزیر ہے۔ نبین کے ریمارکس میں راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کو اس کی غیر ملکی فنڈنگ ​​کے حوالے سے ہدف بنایا گیا، راہول گاندھی پر الزام لگایا گیا کہ انہیں بدامنی پھیلانے کے لیے ایک ’غیر ملکی ٹول کٹ‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور کانگریس رہنما کے جمہوری اداروں اور پارلیمانی روایات کے تئیں رویے پر سوال اٹھایا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : جیولرس کی دکان سے گاہک بن کر سونے کی چین چوری کرنے والا ملزم نئی دلی سے گرفتار، مسروقہ مال برآمد

Published

on

ممبئی : ۱۵نومبر ۲۰۲۵کو کاندیولی پولیس تھانہ حدود میں پدماوتی جیولرز، متھورا داس روڈ، کاندیولی مغرب ممبئی جیولرز کی دکان میں نامعلوم شخص نے گاہک بن کر 43.2 گرام وزن کی سونے کی چین پہننے کے بہانے دکان سے باہر جا کر چین لے کر فرار ہو گیا۔ شکایت کنندہ پریتی دیپک ساکریا، عمر 50 سال شکایت کی ۔ کاندیولی پولیس تھانہ878/2025، دفعہ 305(اے) بی این ایس کے تحت جرم درج کیا گیا۔ مذکورہ جرم کی تفتیش کے دوران تفتیشی افسر سندیپ گورڈے اور تفتیش ٹیم نے جائے وقوعہ اور آس پاس کے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کرکے مذکورہ ملزم دکان میں داخل ہونے والا ملزم کے آدھار کارڈ اور موبائل نمبر حاصل کیا۔ لیکن مذکورہ موبائل بند ہونے کا پتہ چلا اور مذکورہ ملزم کے بارے میں کوئی معلومات نہ ہونے سے تکنیکی تفتیش کے ذریعے ملزم کی تلاش کر اتم نگر، نئی دلی اس علاقے سے زیر حراست لے کر گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے دوران گرفتار ملزم سے چوری کیا گیا سامان مسروقہ مال کے متعلق پوچھ گچھ کی تو اس نے جرم میں چوری کے سامان گھر میں چھپایا تھااس کے بعد سامان برآمد کر لیا گرفتار ملزم فی الحال پولیس حراست میں ہے۔ گرفتار ملزم نے اس سے پہلے اسی طرح کے جرائم کیے ہیں اس متعلق تفتیش جاری ہے. گرفتار ملزم ستیش کمار کرشن پرساد کیشری، عمر 42 سال، دھندہ-نہیں، رہائش- آر زیڈ بی 17، مہیندر پارک، اتم نگر، ضلع دوارکا، نئی دلی اس سے اب پولس مزید تفتیش کررہی ہے ڈی سی پی سندیپ گھگے کی ہدایت پر مذکورہ معاملہ کی تفتیش کی گئی ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان