Connect with us
Friday,27-March-2026

سیاست

تبلیغی مرکز کو آخر نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے؟

Published

on

(نامہ نگار)
حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کس کس چیز کاسہارا لیتی ہے۔ اس کا ثبوت نظام الدین کا تبلیغی مرکز ہے۔ دودنوں میں جس طرح حکومت اور میڈیا نے جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلائی اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں بھی حکومت اور میڈیا کس قدرمسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے میں مصروف ہے۔جموں کے ویشنو دیوی مندر میں چار سو لوگ میڈیا اور حکومت کو پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ حضرت نظام الدین اور دیگر مساجد میں پناہ گزیں لوگ چھپے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کورونا کے دوران مدھیہ پردیش اراکین اسمبلی کی خریدو فروخت کرکے حکومت کی تشکیل دی جاتی ہے، حلف لیا جاتا ہے، جشن منایا جاتا ہے، لیکن حکومت اور میڈیا کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہیں نظر آتی۔
حضرت نظام الدین میں تبلیغی مرکز کے متعلق متضاد خبریں آرہی ہیں۔ دراصل اس کا مقصد اسے بدنام کرنا ہے۔ہندی اور ہندوتو میڈیا کو جس میں ٹی وی چینل اور اخبارات شامل ہیں،کو ایک سنہرا موقع مل گیا ہے کہ اس بہانے وہ مسلمانوں اور مرکز کو بدنام کریں۔ بغیر سوچے سمجھے اور حقیقت کو جانے اس میں مسلمانوں کاکچھ طبقہ بھی شامل ہوگیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب دہلی اور مرکزی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے اس کی جگ ہنسائی ہورہی تھی، دہلی سمیت پورے ملک میں غریب سڑکوں پر تھے، سارے لوگ پریشان حال ہیں اسی دوران مرکز کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ حکومت اور میڈیا نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ تمام ناکامی کو چھپانے کے لئے اس کا رخ مرکز کی طرف موڑ دیا۔ حکومت ایسا ظاہر کررہی ہے کہ سب کچھ پوشیدہ طور پر رہ رہے تھے، جب کہ تمام چیزیں پولیس کے علم تھی۔ پولیس نے مرکز والوں سے سوسل ڈسٹنس بناکر رہنے کو کہا تھا۔ ان میں سے تین سو بعض رپورٹ میں صرف سو غیر ملکی باشندے ہیں جو مختلف ممالک کے ہیں۔ یہ چھ منزلہ عمارت ہے ظاہر سی بات ہے کہ سب ایک ساتھ نہیں ہوں گے۔ تین سو لوگ جو غیر ملکی تھے واپس بھیجا گیا تھا جو ہوائی جہاز بند ہونے کی وجہ سے پھر واپس آگئے۔
لاک ڈاؤن اچانک کردیا گیا ان لوگوں کو یہاں سے نکلنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ لوگ اپنے ایمبیسی کے رابطے میں تھے۔ کچھ ایمبیسی میں بھی ہیں۔ مجبوراً انہیں یہیں قیام کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ باقی ماندہ بیرون دہلی کے تھے اور لاک ڈاؤن کی وجہ کہیں سفر نہیں کرسکتے تھے۔ اسی طرح ملک بھر میں جماعتیں گئی ہوئی تھیں جو مختلف مسجدوں میں قیام پذیر تھیں چھپی ہوئی نہیں تھیں۔ یہ کہنا لاک ڈاؤن کے بعد بھی وہ باہر نہیں نکلے، وہ باہر نکل کر کہاں جاتے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمد و رفت کے تمام ذرائع بند تھے۔یہ ساری باتیں پولیس کے علم تھی۔ اس کے باوجود اسے بدنام کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ جن لوگوں کو لے جایا گیا ہے ان کی پوری رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے اس لئے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن میڈیا کا ایک بڑا طبقہ کورونا کا مرکز کہنا شروع کردیا ہے۔جب کہ معلوم ہونا چاہئے کہ جو غیر ملکی آتے ہیں اس کا علم وزارت داخلہ اور خارجہ کو ہوتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ ان لوگوں کو بھیجنے کا انتظام کرتی، جسے اس نے پوری نہیں کی، مرکز والے انتظامیہ کے بھی رابطے میں تھے۔لاک ڈاؤن کے سبب وہ مرکز میں رہنے کو مجبور تھے۔ جو لوگ انہیں عقل سے پیدل قرار دے رہے ہیں کیا وہ یا ان کی جماعت ان لوگوں کو اپنے کیمپس یا گھروں میں پناہ دیتی۔کیا وہ لوگ مزدورں کی سڑکوں پر پولیس کی لاٹھیاں کھاتے، ذلیل ہوتے۔ مسائل کو سمجھے بغیر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔
تبلیغی مرکز نظام الدین اور بنگلہ والی مسجد کے تعلق سے الیکٹراک میڈیا حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے من گھڑت خبروں کو پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ مسلمانوں کی دیگر جماعتیں اور تنظیمیں اب آگے بڑھ کر اپنے مسلکی اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھکر یکے بعد دیگرے مرکز نظام الدین کی حمایت میں آگے آرہے ہیں یہ ایک خوش آئند اقدام ہے مقامی سطح پر سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید، سابق میئر شیخ رشید، تحفظ ملت ایکشن کمیٹی، اور انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی سمیت کئی تنظیموں نے کھلے الفاظ میں اس مصیبت کی گھڑی میں مرکز نظام الدین کیساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے وہیں تحفظ ملت ایکشن کمیٹی کے صدر شیخ رشید اور جنرل سکریٹری صابر گوہر نے تبلیغی جماعت کے آپسی اختلافات کو بھی ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ شاید اختلافات کو ختم کرنے کیلئے اللّٰہ تعالیٰ نے یہی سبیل پیدا کردی ہو-

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل سے ویڈیو فوٹیج سامنے آئی… ہزاروں کوے تل ابیب پر آسمان پر اڑ رہے ہیں، جس سے ایک بڑے حصے میں تشویش پھیل گئی ہے۔

Published

on

thousands-of-crows

تل ابیب : اسرائیلی شہر تل ابیب پر ہزاروں کووں کے غول نے ملک میں تشویش اور بحث چھیڑ دی ہے۔ کوے کو کئی حلقوں میں موت اور جنگ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے درمیان، اسے تباہی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اسے بائبل کی آیات سے جوڑا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے خاص طور پر توجہ مبذول کرائی ہے کیونکہ اسرائیل گزشتہ ایک ماہ سے ایران کے ساتھ جنگ ​​میں مصروف ہے۔ ایران نے میزائل حملوں سے اسرائیل کے کئی شہروں کو تباہ کر دیا ہے۔ منگل کو تل ابیب پر کووں کا ایک جھنڈ دیکھا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں ان پرندوں نے شہر کی اسکائی لائن کو بھر دیا، عمارتوں کے اوپر چکر لگاتے اور منڈلاتے رہے۔ کووں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جس سے بہت سے لوگ یہ سوال کرنے لگے کہ کیا ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران اس کی کوئی خاص اہمیت ہے؟

انٹرنیٹ صارفین نے کووں کے چکر لگانے کو قیامت کی پیشین گوئیوں سے جوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے لکھا کہ یہ خوفناک منظر آنے والی کسی بڑی تباہی کی علامت ہے۔ صارفین کا کہنا تھا کہ کووں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ یہ گہرے بادلوں کا جھنڈ ہے۔ اتنی بڑی تعداد دیکھ کر شہری حیران رہ گئے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے لکھا کہ اس کے بعد اکثر بڑی تباہی ہوتی ہے۔ بہت سے صارفین نے کتاب کی کتاب کے باب 19:17 کا حوالہ دیتے ہوئے اسے بائبل کی پیشین گوئیوں سے جوڑا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آیت میں ایک فرشتہ بیان کیا گیا ہے جو ہوا میں پرندوں کو خدا کی عظیم عید کے لیے جمع ہونے کے لیے پکار رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوے کے بارے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ تل ابیب کے اوپر کے آسمان پرندوں کی پرواز کے مصروف راستوں کا حصہ ہیں۔ یہ کوے محض اپنی باقاعدہ موسمی ہجرت کے درمیان تھے۔ موسم بہار کی ہجرت کے دوران، تقریباً 500 ملین پرندے اسرائیل سے گزرتے ہیں، اور گھونسلے کے موسم میں شہری علاقوں میں آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں کوّے کی حرکتیں عام ہیں۔ ہزاروں کوّے تل ابیب جیسے شہری علاقوں سے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں، خاص طور پر مارچ کے آس پاس۔ اس کی بنیادی وجوہات موسمی رویے میں تبدیلی، ماحولیاتی عوامل یا کسی قسم کی خلل ہے۔ اس بار جنگ نے اس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

اس واقعے پر ماہرین کی وضاحت کے باوجود لوگ اسے ایک نحوست سمجھ رہے ہیں۔ یہ خاص طور پر مغربی ایشیا کی موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے حوالے سے ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران کی صورتحال بتاتی ہے کہ یہ ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت کے بارے میں مسلسل بیانات، جوہری بم بنانے کی صلاحیت کے بارے میں فکر مند امریکہ۔

Published

on

Vance-&-Weapons

واشنگٹن : امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران خودکش بمباروں کا استعمال کرکے امریکا کے خلاف حملہ کرسکتا ہے۔ یہ بمبار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوں گے۔ وینس نے یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکہ ایران جنگ تقریباً ایک ماہ سے جاری ہے۔ وینس نے جنگ میں درپیش خطرات اور ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے حربوں پر تبادلہ خیال کیا۔ وینس نے ایک بار پھر ایران کے جوہری ہتھیاروں پر تبصرہ کیا۔ وائٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے ایران سے امریکہ کو لاحق ممکنہ خطرات کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا، “کچھ لوگ بھری ہوئی سپر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے جسم پر بنیان ہوتی ہے اور وہ اس بنیان میں دھماکہ کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بہت سے لوگ مارے جاتے ہیں۔ ہم نے یہ دیکھا ہے، لیکن خطرہ اس سے زیادہ ہے۔”

وینس کا مزید کہنا تھا، “ہم نے بمباروں کو خود کو دھماکے سے اڑا کر زخمی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس میں بہت سے لوگ مارے گئے ہیں۔ لیکن کیا ہوگا اگر یہ جیکٹ ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کو مارنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اگر اس جیکٹ میں چھوٹے جوہری ہتھیار ہوں گے تو یہ بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے گا، اور ہم اس کا اندازہ لگاتے ہیں۔” امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اب تک بنائے گئے سب سے چھوٹے ایٹمی بم کا وزن 23 کلو گرام ہے۔ اس بم کا اثر دس ٹن ٹی این ٹی کے مساوی تھا۔ اس سے بھی چھوٹے بموں کے امکان کے بارے میں کئی بار قیاس کیا گیا ہے، لیکن سرکاری طور پر کبھی یہ تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ بنائے گئے ہیں۔

وینس کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے دستبرداری کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ مبصر ناصر ترابی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے۔ ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا تاہم ان کی موت کے بعد ملک اس حوالے سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے جنگ جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں طرف سے مسلسل جارحانہ بیان بازی دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان