Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

یوگی حکومت کے محکمہ داخلہ کو بے نقاب کرنے والے خط پر مرکزی محکمہ داخلہ نے کیا کارروائی کی ہے؟ : شیو سینا

Published

on

sanjay raut

ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کی جانب سے ریاستی وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر لگائے گئے الزامات اورانکے تبادلے کو لیکر مہاراشٹرا میں حزب اختلاف بی جے پی اور حزب اقتدار حلیف جماعتوں کے درمیان تیکھی نوک جھونک، تنقید اور الزام تراشیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اور مخالفین نے ادھو ٹھاکرے حکومت کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ جس پر آج شیو سینا کے ترجمان مراٹھی اخبار ‘سامنا’ نے اپنے اداریہ میں بی جے پی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا، گجرات کے سینئر پولیس افسران سنجیو بھٹ اور شرما نیز یو پی کے ایک اعلیٰ افسر ویبھؤ کرشنا کا حوالہ دیتے ہوئے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا ہے کہ، ان افسران نے جو سوالات اٹھائے تھے، اس پر کیا کارروائی ہوئی۔ “پرمبیر سنگھ کے معاملے کو لیکر ‘پھدکنے’ والے بی جے پی کے ورکرس کو بتانا چاہئے، کہ یوگی حکومت کے محکمہ داخلہ کو بے نقاب کرنے والے خط پر مرکزی محکمہ داخلہ نے کیا کارروائی کی ہے”؟

مہاراشٹرا میں حزب اختلاف کی چیخ پکار اور الزام تراشیوں کو ریاست مہاراشٹرا کو بدنام کرنے اور یہاں صدر راج کے نفاذ کے لیے راہیں ہموار کرنے کی ایک سازش اور اسے لنگڑے گھوڑوں کی مدد سے ریس جیتنے کی ناکام کوشش قرار دیتے یوئے اخبار نے لکھا کہ، “پرمبیر سنگھ نے اپنے خط میں جو الزامات لگائے ہیں، وہ سنگین ہیں اور ان کی تحقیقات ہونی چاہئے، لیکن بی جے پی کی پیاری ریاست گجرات میں حکمرانوں کے خلاف سینئر پولیس افسران سنجیو بھٹ اور شرما نے جو الزامات لگائے وہ بھی چونکا دینے والے ہیں۔ اس پر ایکشن لیا گیا ہے؟”

سنجیو بھٹ نے بتایا تھاکہ اس وقت کے گجرات کے حکمران کس طرح بدعنوان اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث تھے، اور پولیس فورس کا کس طرح غلط استعمال کیا گیا تھا، بدلے میں، بھٹ کو جھوٹے الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ اسی طرح بی جے پی کی ‘یوگی’ ریاست میں پولیس کے ایک اعلی افسر، ویبھؤ کرشنا، نے وزیر اعلی یوگی کو خط لکھ کر ریاست میں تبادلوں اور ترقیوں کا رشوت کا ‘ریٹ کارڈ’ ہی سامنے لایا تھا۔ مہاراشٹر میں ‘پھدکنے’ والے بی جے پی والوں کو بتانا ہوگا کہ یوگی حکومت کے محکمہ داخلہ کو بے نقاب کرنے والے اس خط پر مرکزی محکمہ داخلہ نے کیا کارروائی کی ہے؟

سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے ضمن میں اخبار نے لکھا کہ، کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ، جو ریاستی وزیر داخلہ پر الزام عائد کرتے رہے ہیں، اب بھی حکومت کی خدمت میں ہیں۔ پیرمبیر سنگھ نے وزیر داخلہ کے خلاف نہ صرف الزامات لگائے ہیں، بلکہ انہوں نے سی بی آئی کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ اس کے باوجود، خدمت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔” (یہاں واضح رہے کہ ذرایع کے مطابق آج سپریم کورٹ نے، پیرمبیر سنگھ کی درخواست کی سماعت سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ انھیں سماعت کے لیے ہائی کورٹ جانا چاہئے۔)

اخبار نے لکھا کہ، اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ حکومت یا ریاست کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے۔ اور مہاراشٹر حکومت کو ہراساں کرنے کے لئے اہلکاروں کے ساتھ اتفاق رائے بنا کر یہ کام کیا جا رہا ہے جو کہ جس تھالی میں کھانااسی میں چھید کرنے کے مترادف ہے۔ ‘سامنا’ نے مہاراشٹرا میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس قانون کی تھوڑی سے بھی سمجھ ہے تو، انہیں مرکزی حکومت کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

سیاست

پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

Published

on

Rahul-Gandhi

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”

اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”

اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان