Connect with us
Saturday,23-May-2026
تازہ خبریں

سیاست

ہمیں ریاستی درجے کی بجائے خصوصی درجے کی بحالی کے لئے لڑنا چاہئے: التجا مفتی

Published

on

پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے کہا ہے کہ ہمیں ریاستی درجے کی بحالی کے لئے نہیں بلکہ خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے یک جٹ ہو کر لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا درجہ واپس دینا بی جے پی کی اپنی مجبوری ہے وہ ان کا ہم پر کوئی احسان نہیں ہے۔
موصوفہ نے کہا کہ ہم سے بہت بڑی چیز چھینی گئی ہے اور ہماری بڑے پیمانے پر توہین کی گئی ہے تو ہم کیوں اب ریاستی درجے کی بھیک مانگیں گے۔
انہوں نے اپنے ایک انٹریو میں کہا: ‘ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں ہی کہا تھا کہ جب حالات ٹھیک ہوں گے تو اس کو بحال کیا جائے گا، ریاستی درجے کی بحالی بی جے پی کی مجبوری ہے کوئی مہربانی نہیں ہے لیکن ہم سے ایک بڑی چیز چھینی گئی ہے۔ ہمیں خصوصی درجے کی بحالی، اپنے آئین اور اپنے جھنڈے کی واپسی کے لئے متحد ہو کر لڑنا چاہئے’۔
التجا مفتی نے کہا کہ دفعہ370 کی تنسیخ کشمیریوں کے منہ پر بہت بڑا تھپڑ تھا۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم کشمیریوں کے منہ پر بہت بڑا تھپڑ لگ گیا ہے، ہماری بڑے پیمانے پر بے عزتی کی گئی ہے، یہ صرف مین اسٹریم جماعتوں کی بات نہیں ہے ڈومیسائل قانون صرف گپکار میں نہیں لگ گیا ہے، مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی یہاں ہماری ثقافتی شناخت کو ختم کرنے کے در پے ہے، یہ بہت بڑی لڑائی ہے، ہم نے متحد ہوکر چلنا پڑے گا’۔
موصوفہ نے کہا کہ ہم سے ریاستی درجہ اس لئے چھینا گیا تاکہ ہم خصوصی درجہ کو بھول جائیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہم سے ریاستی درجہ اس لئے چھین لیا گیا تاکہ ہم خصوصی درجے کو بھول جائیں، مثال کے طور پر ہم سے تین چیزیں چھین لی گئیں اور اب ایک واپس دی جارہی ہے ہم کیوں ان سے بھیک مانگیں گے ہم نے الحاق مساوی بنیادوں پر کیا ہے’۔
پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان الائنس کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں التجا نے کہا: ‘ہم نے بی جے پی کے ساتھ الائنس جب کیا تو ایجنڈا آف الائنس میں یہ بات تھی کہ دفعہ 370 کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی، میرے نانا مرحوم مفتی محمد سعید نے نارتھ پول اور ساؤتھ پول کو جوڑنے کی بات کی تھی لیکن بعد میں جب بی جے پی مرکز میں اکثریت کے ساتھ دوبارہ برسر اقتدار آگئی تو انہوں نے دفعہ 370 ہٹایا اس میں پی ڈی پی کو مورود الزام ٹھہرانا صحیح نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بحیثیت کشمیری ملک پر بھروسہ نہیں رہا یہاں نفرت پنپ رہی ہے اور ہندوتوا کا ایجنڈا بھی کشمیر سے ہی لاگو کیا جارہا ہے۔
موصوفہ نے کہا مجھے اپنی والدہ کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے بہت دکھ ہوا۔
انہوں نے کہا: ‘جس طریقے سے میری والدہ کی توہین کی گئی اور جو وہ اپنا موقف بدل نہیں رہی ہیں جس کی وجہ سے پارٹی کو توڑا جارہا ہے اس سے مجھے بہت ہی دکھ ہوا’۔
پی ڈی پی کی طرف سے سیاسی سرگرمیاں شروع ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں التجا نے کہا: ‘ہماری پارٹی کے بیشتر سینئر لیڈران ابھی بھی نظر بند ہیں، پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر جو تھوڑی بہت تقریب ہوئی وہ ضروری تھی باقی پی ڈی پی میں کسی بھی سطح پر سیاسی سرگرمیاں ابھی بحال نہیں ہوئی ہیں’۔
انہوں نے کہا میں جو بھی کہتی ہوں انفرادی طور ہی کہتی ہوں میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں ہوں اور میں نے اپنی والدہ کا ٹویٹر ہینڈل اس لئے سنبھال رکھا ہے کہ وہ نظربند ہیں جب وہ رہا ہوں گی پھر خود ہی اس کو سنبھالیں گیں۔
موصوفہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی خواہ وزیر اعلیٰ ہیں یا ایک قیدی میرے لئے وہ ایک ماں ہیں جس کے وقار کی بحالی کے لئے میں لڑائی جاری رکھوں گی۔

بین الاقوامی خبریں

پاکستان اور بھارت کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں, لکین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور مذاکرات پر بات چیت شروع ہوگئی ہیں۔

Published

on

shahbaz-sharif-&-modi

اسلام آباد : پہلگام دہشت گردانہ حملے اور بھارتی فوج کے آپریشن سندھور کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں، مئی 2025 میں چار روزہ فوجی تنازعے کے ایک سال مکمل ہونے پر دونوں طرف سے جارحانہ بیان بازی دیکھنے میں آئی۔ دریں اثنا، ایک نئی پیشرفت نے پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے اور بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بات چیت کو جنم دیا۔ اس کا اشارہ آر ایس ایس کے ایک لیڈر کے ایک بیان سے ہوا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہئے۔ ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ایک تجزیے میں، الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کیا ہندوستان اور پاکستان طویل عرصے کی کشیدگی کے بعد بات چیت کے دروازے کھول رہے ہیں۔

دتاتریہ ہوسابلے کے تبصروں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ دہشت گردی کو پناہ دیتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے ہوسابلے کے تبصروں کا نہ صرف جواب دیا بلکہ ان کا خیرمقدم بھی کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد اس بات کا انتظار کرے گا کہ آیا مذاکرات کی اس کال پر بھارت کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل آتا ہے۔ تاہم نئی دہلی نے اس معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے ہوسابلے کے تبصروں پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے دلائل مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ کام کیا گیا ہو، لیکن ایک مکمل رسمی مکالمے کو ٹریک پر واپس لانا آسان نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں۔ ہوسابلے کے علاوہ سابق بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نروانے نے بھی ایسا ہی موقف ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ عام لوگوں کے درمیان دوستی قدرتی طور پر ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر کرتی ہے۔ طاہر اندرابی نے جواب دیا، “ہمیں امید ہے کہ حالات بہتر ہوں گے۔”

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ہندوستانی سیاست کے پروفیسر عرفان نورالدین نے الجزیرہ کو بتایا، “آر ایس ایس اور نروانے جیسے ریٹائرڈ جنرل ایک خاص وجہ کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ درحقیقت نریندر مودی حکومت نے پاکستان مخالف بیانات دے کر خود کو ایک مشکل پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔” عرفان کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور سابق فوجی افسران کے بیانات بات چیت کے لیے زمین تیار کر رہے ہیں۔ اس سے دہلی میں حکومت کو سیاسی دفاع کا موقع ملتا ہے۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ بات چیت معاشرے کے مطالبات کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے۔

سابق پاکستانی سفارت کار جوہر سلیم کا دعویٰ ہے کہ سابق ہندوستانی اور پاکستانی حکام، ریٹائرڈ جنرلز، انٹیلی جنس حکام اور اراکین پارلیمنٹ کے درمیان تقریباً چار ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ یہ ملاقاتیں مسقط، دوحہ، تھائی لینڈ اور لندن میں ہوئیں۔ انہیں “ٹریک 2” اور “ٹریک 1.5” فارمیٹس میں تقسیم کیا گیا تھا، جس میں دونوں اطراف کے اہلکار شامل تھے۔ جوہر کے مطابق، “ٹریک 1.5 فارمیٹ میں دونوں طرف سے موجودہ حکام، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، فوجی افسران، اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں۔ ٹریک 2 کے واقعات دونوں طرف سے سول سوسائٹی کے اراکین اور ریٹائرڈ سرکاری اور فوجی افسران کو اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ طریقے تعلقات کو پگھلانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔” برونائی میں پاکستان کے سابق سفیر طارق رشید خان کا کہنا ہے کہ ٹریک 1.5 اور ٹریک 2 مذاکرات رسمی سفارت کاری کا متبادل نہیں ہیں۔ اس کے بجائے، وہ حفاظتی والو کے طور پر کام کرتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Continue Reading

سیاست

مہاراشٹر حکومت نے 16 سینئر آئی پی ایس افسران کے تبادلے منسوخ کر دیئے، 14 افسران کا 6 دنوں میں دوسری بار تبادلہ

Published

on

Transfer-Order

ممبئی : مہاراشٹر پولس ڈیپارٹمنٹ میں محض چھ دنوں کے اندر دو بڑے پیمانے پر تبادلوں نے انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکومت نے محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کے احکامات جاری کئے۔ ان احکامات کے تحت کل 41 سینئر افسران کی پوسٹنگ تبدیل کی گئی۔ ان میں سات اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پیز)، پانچ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی)، 11 ایس پی/آئی پی ایس، اور 18 ایس پی ایس سطح کے افسران شامل ہیں۔ سب سے زیادہ زیر بحث معاملہ یہ ہے کہ جن افسران کی پوسٹنگ 15 مئی کو تبدیل کی گئی تھی، 14 افسران کی پوسٹنگ صرف چھ دن بعد دوبارہ تبدیل کر دی گئی۔ آئی پی ایس افسران کمتھ چنتھا اور نتیا نند جھا کو بھی نئی پوسٹنگ دی گئی ہے۔ چنتھا کو 15 مئی کو جاری کردہ ایک حکم نامے میں ناگپور سٹی کا ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) مقرر کیا گیا تھا، جب کہ جھا پہلے یاوتمال کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے طور پر تعینات تھے۔

آئی پی ایس افسر اکبر پٹھان، جنہیں ناسک کی پولیس اکیڈمی میں تبدیل کیا گیا تھا، اب انہیں ممبئی شہر میں تعینات کیا گیا ہے، اور دیپک گرہے، جنہیں امراوتی کے ڈی سی پی مقرر کیا گیا تھا، کو اب ناسک میں کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے ایس پی کے طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر آئی پی ایس افسر پروین پڈوال، جو پہلے ناسک میں اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کے طور پر تعینات تھے، اب انہیں دادر میں وی آئی پی سیکورٹی کے خصوصی آئی جی پی کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر آئی پی ایس افسران بشمول سنجے ینپورے، پنجابراو اوگلے، مہیش پاٹل، سمبھاجی کدم، سنجے سرگوڑا پاٹل، وکرانت دیشمکھ، پریتی ٹپرے، ہمت جادھو اور بالاصاحب پاٹل کا بھی چھ دنوں کے اندر مختلف عہدوں پر تبادلہ کیا گیا، عہدیدار نے بتایا۔

سب سے زیادہ زیر بحث تبدیلیوں میں پروین پڈوال اور سنجے ینپورے کی پوسٹنگ شامل تھی۔ پڈوال کو 15 مئی کو ناسک منتقل کیا گیا تھا، لیکن نئے حکم نے انہیں دادر میں وی آئی پی سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ میں دوبارہ تفویض کیا ہے۔ ینپورے، جنہیں وی آئی پی سیکورٹی پر مامور کیا گیا تھا، کو ناسک کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسے محکمہ کے اندر “میوزیکل چیئر پوسٹنگ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان