Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل اور نفرت کے خاتمے کیلئے اب ہمیں متحد ہوکرمیدان عمل میں آنا ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی

Published

on

Arshad-madni

فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں تمام طقبات کو شامل کرنے اور نفرت کے خاتمے کیلئے متحد ہوکرمیدان عمل میں آنے کی اپیل کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر اور نو منتخب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف ان طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار کانپور میں منعقد ہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ستائیسویں اجلاس میں بورڈ کے نائب صدر منتخب ہونے کے بعدکیا اور انہوں نے اپنے خطا ب میں سب سے پہلے بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں مختلف عوارض اور عمر کے تقاضے کی وجہ سے اب زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرپاتا لیکن آپ کے حکم کی تعمیل میں مجھے جو ذمہ داری دی گئی ہے اس کی ادائیگی کی حتی المقدور کوشش کروں گا۔ مولانا مدنی نے ملک کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ بورڈ کے اجلا س میں ملک میں بڑھتی ہوئی خطرناک فرقہ پرستی کے تعلق سے جو باتیں سامنے آئی ہیں اور جس پر گفتگو ہورہی ہے ان باتوں کو لیکر حکومت کا جو نظریہ اور رویہ ہے اور جس طرح ان چیزوں کو پورے ملک میں پیش کیا جارہا ہے وہ نفرت اور تعصب پر مبنی ہے، احکام شرعیہ میں مداخلت درحقیقت اسی نفرت وتعصب کی سیاست پر مبنی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان چیزوں کو روکنے کے لئے ہمارے پاس بظاہر کوئی طاقت نہیں ہے اور جولوگ ایسا کررہے ہیں ان کے پاس اقتدار کی طاقت ہے جسے آج کی دنیا میں سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے مایوس کن حالات میں بھی امید اور یقین کے چراغ روشن ہیں،ملک کا ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو ملک کی موجودہ روش کو غلط سمجھتا ہے اور ایک مخصوص طبقے کے خلاف پچھلے کچھ برسوں سے جو کچھ ہورہا ہے اسے وہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اس طرح کی چیزیں ملک کے لئے انتہائی خطرناک اور نقصاندہ ہیں۔
مولانا مدنی نے کہا کہ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ میں ہم تنہا کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ہمیں نہ صرف اس طبقے کو بلکہ سماج کے تمام ہم خیال افراد کو اپنے ساتھ لانا ہوگا۔ منافرت اور فرقہ پرستی کی اس آگ کو بجھانے کے لئے ہمیں مل جل کر آگے آنا ہوگا اگر ہم ایسا کریں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ فرقہ پرست طاقتو ں کو سکشت نہ دے سکیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فرقہ پرستی اور منافرت کا یہ کھیل جنوب کے مقابلے میں شمالی ہندوستان میں اپنے شباب پر ہے،اس کی بنیادی وجہ سیاسی مفاد ہے۔اشتعال انگیزیوں اور اوٹ پٹانگ بیانات سے سماجی سطح پر فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی سازش ہورہی ہے تا کہ اکثریت کو اقلیت سے بالکل الگ تھلگ کر کے اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیابی حاصل کرلی جائے۔ اس سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اکثریت کے ان تمام لوگوں کو اپنے ساتھ لانا ہوگا جو ان باتوں کو غلط سمجھتے ہیں اور جن کا ماننا یہ ہے کہ اس طرح کی سیاست ملک کے اتحاد، سا لمیت اور ترقی کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے آگے کہا کہ منافرت اور فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے والے مٹھی بھر لوگ ہی ہیں لیکن وہ طاقتور اس لئے ہیں کہ انہیں اقتدار میں موجود لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے، اس لئے قانون کے ہاتھ بھی ان کے گریبان تک نہیں پہنچ پاتے۔ مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں کیا جاسکتا ہے، آگ سے آگ کو بجھانے کی کوشش نادان لوگ ہی کرسکتے ہیں، اس کے مقابلے میں ہمیں اخوت، ہمدردی اور اتحاد ومحبت کو فروغ دینا ہوگا جو ہماری اور اس ملک کی پرانی تاریخ بھی رہی ہے۔ اس تاریخ کو دوبارہ زندہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلا شبہ ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ملک کے اندر ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو اس نفرت کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے،ایسے لوگو ں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ڈر اور خوف کے اس ماحول میں بھی فرقہ پرستی اور منافرت کے خلاف مضبوطی سے لڑ رہے ہیں۔ یاد رکھیں جس دن ہم فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف تمام طبقات کو متحد کرنے اور اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہوگئے،یہ طاقتیں اسی روز دم توڑ دیں گی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ اس کے لئے ہمیں ایک مظبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور میدان عمل میں آنا ہوگا، ورنہ کل تک بہت دیر ہوسکتی ہے۔ برادران وطن کو خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کو چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں، بشرطیکہ وہ اس نفرت کے خلاف ہوں انہیں ساتھ لیکراس نفرت کے خلاف مہم چلانی چاہیے تب جاکر ان مسائل کا حل ہوگا ورنہ تمام طبقات کو متحد کئے بغیر فرقہ پرستی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اخیر میں مولانامدنی نے دعوی کیاکہ”اس وقت ہندوستان کے حالات جس قدر تشویشناک ہیں اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلا گیا ہے۔ فرقہ پرست اور انتشار پسندقوتوں کا بول بالا ہوگیا ہے، جس نے ہر ایک محبِ وطن کو فکرمند کر دیا ہے“۔

(جنرل (عام

وقف بل پر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اویسی اور کانگریس کے بعد آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے کھٹکھٹایا سپریم کورٹ کا دروازہ

Published

on

MLA-Amanatullah-Khan

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے منظور کر لیا ہے۔ لیکن اس حوالے سے تنازعہ اب بھی ختم نہیں ہو رہا۔ عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان نے اس بل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ خان نے درخواست میں درخواست کی کہ وقف (ترمیمی) بل کو “غیر آئینی اور آئین کے آرٹیکل 14، 15، 21، 25، 26، 29، 30 اور 300-اے کی خلاف ورزی کرنے والا” قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اے اے پی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ یہ بل آئین کے بہت سے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے مذہبی اور ثقافتی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے حکومت کو من مانی کرنے کا اختیار ملتا ہے اور اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو چلانے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2025 کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ جاوید کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر “من مانی پابندیاں” فراہم کرتا ہے، جس سے مسلم کمیونٹی کی مذہبی خودمختاری کو نقصان پہنچے گا۔ ایڈوکیٹ انس تنویر کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کیونکہ یہ پابندیاں عائد کرتا ہے جو دیگر مذہبی اوقاف میں موجود نہیں ہیں۔ بہار کے کشن گنج سے لوک سبھا کے رکن جاوید اس بل کے لیے تشکیل دی گئی جے پی سی کے رکن تھے۔ اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ بل میں یہ شرط ہے کہ کوئی شخص صرف اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کی بنیاد پر ہی وقف کا اندراج کرا سکتا ہے۔

اس دوران اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس بل کے ذریعے وقف املاک کا تحفظ چھین لیا گیا ہے جبکہ ہندو، جین، سکھ مذہبی اور خیراتی اداروں کو یہ تحفظ حاصل ہے۔ اویسی کی درخواست، جو ایڈوکیٹ لازفیر احمد کے ذریعہ دائر کی گئی ہے، میں کہا گیا ہے کہ “دوسرے مذاہب کے مذہبی اور خیراتی اوقاف کے تحفظ کو برقرار رکھتے ہوئے وقف کو دیے گئے تحفظ کو کم کرنا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے، جو مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی ممانعت کرتی ہے۔” عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ ترامیم وقفوں اور ان کے ریگولیٹری فریم ورک کو دیے گئے قانونی تحفظات کو “کمزور” کرتی ہیں، جبکہ دوسرے اسٹیک ہولڈرز اور گروپوں کو ناجائز فائدہ پہنچاتی ہیں۔ اویسی نے کہا، ’’مرکزی وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں غیر مسلموں کی تقرری نازک آئینی توازن کو بگاڑ دے گی۔‘‘ آپ کو بتاتے چلیں کہ راجیہ سبھا میں 128 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 95 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا نے 3 اپریل کو بل کو منظوری دی تھی۔ لوک سبھا میں 288 ارکان نے بل کی حمایت کی جبکہ 232 نے اس کی مخالفت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading

قومی

کیا نیا وقف بل مسلم کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ہے…؟

Published

on

Waqf-Bill-2024

حکومت کی جانب سے حال ہی میں پیش کیا گیا نیا وقف بل ایک مرتبہ پھر مسلم کمیونٹی میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک بھر میں وقف جائیدادوں کے بہتر انتظام، شفافیت، اور ان کے غلط استعمال کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم، اس بل پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی مسلم کمیونٹی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ نئے بل میں چند اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جیسے کہ وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ، وقف جائیدادوں کی ڈیجیٹل رجسٹری، اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت کارروائی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس بل کے ذریعے وقف اثاثوں کا تحفظ ممکن ہوگا اور ان سے حاصل ہونے والے وسائل کا استعمال تعلیم، صحت، اور فلاحی منصوبوں میں کیا جا سکے گا۔

تاہم، کچھ مذہبی و سماجی تنظیموں نے بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف جائیدادیں خالصتاً مذہبی امور سے منسلک ہیں، اور حکومت کی براہِ راست مداخلت مذہبی خودمختاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بعض افراد کا خدشہ ہے کہ یہ بل وقف جائیدادوں کی آزادی اور ان کے اصل مقصد کو متاثر کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین قانون اور کچھ اصلاح پسند رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر بل کو ایمانداری سے نافذ کیا جائے تو یہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ وقف اثاثے، جو اب تک بد انتظامی یا غیر قانونی قبضوں کی نظر ہوتے آئے ہیں، ان کے بہتر انتظام سے کمیونٹی کی فلاح و بہبود ممکن ہے۔

پرانے اور نئے وقف بل میں کیا فرق ہے؟
پرانا وقف قانون :
پرانا وقف قانون 1995 میں “وقف ایکٹ 1995” کے تحت نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں موجود لاکھوں وقف جائیدادوں کا بہتر انتظام اور تحفظ تھا۔
اس قانون کے تحت:

  • ریاستی وقف بورڈز قائم کیے گئے۔
  • وقف جائیدادوں کے انتظام کی ذمہ داری وقف بورڈ کے سپرد کی گئی۔
  • وقف کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
  • متولی (منتظم) کی تقرری بورڈ کی منظوری سے ہوتی تھی۔

تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ اس قانون میں عمل درآمد کی کمزوریاں سامنے آئیں۔ وقف املاک پر غیر قانونی قبضے، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نگرانی جیسے مسائل بڑھتے چلے گئے۔
نیا وقف بل :
نئے وقف بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد وقف نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ ان میں شامل ہیں :

  • ڈیجیٹل رجسٹری : تمام وقف جائیدادوں کی آن لائن رجسٹری اور ان کی نگرانی کا نظام۔
  • مرکزی ڈیٹا بیس : ایک قومی سطح کا وقف پورٹل بنایا جائے گا جہاں تمام معلومات دستیاب ہوں گی۔
  • غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی : قبضے کی صورت میں فوری انخلا کے لیے قانونی اختیار دیا گیا ہے۔
  • انتظامی شفافیت : وقف بورڈ کی کارروائیوں کو شفاف بنانے اور آڈٹ سسٹم کو سخت بنانے کی تجویز۔
  • شکایتی نظام : عوام کے لیے ایک فعال شکایت سیل کا قیام تاکہ وقف سے متعلق بدعنوانی یا زیادتیوں کی شکایت کی جا سکے۔

فرق کا خلاصہ:
| پہلو… | پرانا وقف قانون (1995) | نیا وقف بل (2025)
1995 رجسٹریشن | دستی رجسٹری |
2025 ڈیجیٹل رجسٹری و قومی پورٹل |
1995 نگرانی | ریاستی سطح پر |
2025 قومی سطح پر نگرانی و ڈیٹا بیس |
1995 شفافیت, محدود |
2025 بڑھتی ہوئی شفافیت و آڈٹ سسٹم |
1995 قبضہ ہٹانے کا نظام | پیچیدہ قانونی طریقہ کار |
2025 فوری قانونی کارروائی کا اختیار |
1995 عوامی شمولیت | کمزور شکایت نظام |
2025 فعال شکایتی نظام |

نئے وقف بل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفافیت میں اضافہ اور انتظامی اصلاحات جیسے مثبت پہلو نمایاں ہیں۔ تاہم، کچھ ماہرین اور مذہبی حلقوں کو اندیشہ ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کہیں خودمختاری کو متاثر نہ کرے۔ بل کے اصل اثرات اس کے نفاذ اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر منحصر ہوں گے۔ فی الحال، یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند ہوگا یا نہیں۔ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، اور کمیونٹی کی رائے کو کس حد تک شامل کیا جاتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com