Connect with us
Tuesday,11-August-2026
تازہ خبریں

جرم

وڈالا زدو کوب معاملہ جونائل جسٹس بورڈ نے ملزم کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر باعزت بری کردیا، پولس والوں پر ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی

Published

on

کمسن بچوں کے خلاف قائم مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت (جونائل جسٹس بورڈ) نے آج یہاں نابالغ ملزم واجد لعل محمد کو ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے باعزت بری کردیا جس کی وجہ سے پولس کو شدید دھچکا لگا ہے، ملزم پر الزام عائد تھا کہ وہ پولس کے کام میں مداخلت کررہا تھا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃعلماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
جنوبی ممبئی ڈونگری علاقے میں واقع آشاسدن میں قائم جونائل جسٹس بورڈ کی جج ایس این شیٹی نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ مقدمہ درج کرنے میں دیری اور پولس افسران کے بیانات سے ملزم کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوتا ہے، انہوں نے اپنے فیصلہ میں مزید کہاکہ پولس والوں نے دوران گواہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ملزم واجد نے ہائی کورٹ میں ان کے خلاف پٹیشن داخل کی ہے جس پر عدالت نے نوٹس جاری کیا ہے۔اس معاملے میں چار پولس افسران نے گواہی دی تھی لیکن ان چاروں افسران کے بیان میں تضاد پایا جس کا فائدہ ملزم کو دیا۔
گلزار اعظمی نے بتایا کہ با شرع نابالغ لڑکے محمد واجد لعل محمد کو وڈالا پولس نے سال 2014میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ممبئی کے انٹاپ ہل نامی مقام سے گذر رہا تھا اور وہاں پر چند پولس والے ایک نوجوان کو زدوکوب کر رہے تھے۔ واجد نے جب پولس والوں کو نوجوان کو مارتے دیکھا تو وہ بھی ایک کونے میں کھڑے ہوکر دیگر لوگوں کی طرح بڑی دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا جس کے بعد پولس والوں نے ملزم کو جیپ میں بیٹھا لیا تھا اور انہیں اس بات کا شبہ ہونے لگا تھا کہ ملز اپنے موبائل سے پولس کے تشدد کی شوٹنگ کر رہا تھا۔ ملزم کو پولس تحویل میں لینے کے بعد پولس نے جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے وہ ناقابل بیان ہیں یہاں تک کے اس باشرع نوجوان کو برہنہ کر کے اس کے جیب میں موجودمسواک کو اس کے مقعد میں گھسایا گیا تھااور اس کے ساتھ مبینہ طور پر بد فعلی بھی کی گئی تھی، جسمانی اور ذہنی اذیتیں بھی دی گئی تھی جس کی طبی معائنہ میں تصدیق ہوچکی ہے۔
ایک جانب جہاں جمعیۃعلما ء کے وکلاء شریف شیخ، متین شیخ، انصار تنبولی، شاہد ندیم، رازق شیخ، ارشد شیخ و دیگرنے جونائل جسٹس بوڑد میں مقدمہ لڑ ا وہیں ہائی کورٹ میں خاطی پولس والوں کے خلاف کاروائی کیئے جانے کے لیئے پٹیشن بھی داخل کی ہے، اب جبکہ جونائل جسٹس بورڈ نے ملزم کوباعزت بری کردیا ہے، فیصلہ کی نقل موصول ہوتے ہی ہائی کورٹ میں اسے داخل کرکے عدالت سے پولس والوں پر کارروائی کرنے کی گذارش کی جائے گی۔
جونائل جسٹس بورڈ کا فیصلہ آنے کے بعد ملزم واجد لعل محمد نے دفتر جمعیۃعلماء پہنچ کر گلزار اعظمی وکلاء انصار تنبولی اور شاہد ندیم سے ملاقات کرکے اسے قانونی امداد فراہم کرنے پر جمعیۃ علماء کا شکریہ ادا کیا اور گلزار اعظمی سے گذارش کی کہ وہ خاطی پولس افسران کو سزا دلانے کے لیئے ہائی کورٹ سے رجوع کریں جس پر گلزا راعظمی نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع ہونگے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان