Connect with us
Friday,06-November-2026

مہاراشٹر

شنکربھگوان کی مورتی پر ووٹ بینک کی سیاست تیز

Published

on

دھولیہ:اسمبلی انتخابات سے پہلے شنکر بھگوان کے نام پر سیاست گرم ہوچکی ہے۔ تین مرتبہ رکن اسمبلی ہوکر دھولیہ شہر کی سیاسی تاریخ میں جعلی حرف سے لکھے جانے والے دانشور سیاست داں انیل گوٹے بی جے پی کی لہر میں بی جے پی کے عہدہ سے اور رکن اسمبلی کے عہدہ سے استعفیٰ دے کر سرخیوں میں بنے رہے تھے۔ وزرا کی باتوں کو نظر انداز کرنے والے ایم ایل اے نے شہریان سےجھولتا پل پانجرا ندی میں بنانے کا وعدہ انتخابی دور میں کیا تھا۔ جھولتا پل کا کل تخمینہ ۶۷؍ کروڑ روپئے ہے، پل کے مضبوط بنیادی ستون پانجرا ندی کے زیرِ زمین کئی فٹ اندرسے تعمیر کرتے ہوئے۳۰؍ فٹ اوپر اچانک مورتی کی تنصیب کردی یہ مورتی ۳۳؍ فٹ اونچی ہے۔ مورتی نصب کرنے کے بعد انیل گوٹے پر کیس درج کیا گیا ہے، کیونکہ بھگوان شنکر کی مورتی کی تعمیر کے لیے تعمیراتی محکمہ و پی ڈبلیو ڈی سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ مورتی نصب ہونے کے بعد مخصوص مذہب کے لوگوںمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔اپوزیشن لیڈران نے مورتی ہٹانے کا مطالبہ کیا تو عوام برہم ہوگئی، اور کہاکہ چوپاٹی توڑواکر پیٹ نہیں بھرا جو مورتی ہٹانے کی بات کررہے ہو؟ انیل گوٹے نے بھی اپوزیشن کو چیلنج کیا ہے کہ اگر دم ہو تو مورتی کو اپنی جگہ سے ہٹاکر بتاؤ۔ میں اپنی جان دے کر مورتی کی حفاظت کروں گا، یوں بغیر اجازت کی شنکر بھگوان کی مورتی اپنی جگہ موجود ہے۔پانجرا ندی میں سیلاب سی کیفیت پیدا ہونے پر پانچ پل زیرِآب ہوگئے ہیں صرف بڑا پُل ڈوبنا باقی ہے۔ مورتی بڑے پل اور بڑے پل کی سطح مساوی ہے ، مورتی اب تک پانی میں ڈوبی نہیں ہے۔ انیل گوٹے نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی پوجا کریں گے، مورتی کی مضبوطی کے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نسل در نسل صدیوں تک مورتی اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتی ہے ۔ پانجرا ندی میں زبردست سیلاب بھی مورتی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔ میرا کیا ہوا کام اتنا مضبوط ہے کہ کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا ہے۔ اسمبلی الیکشن میں شنکر بھگوان کی مورتی سب سے بڑا موضوع ہوگا، دھولیہ میں اس کے بغیر الیکشن ہونا ممکن نہیں ہے ۔ہندو ووٹ بینک صرف بی جے پی کے ہاتھوں میں نہیں ہے، ۴۰۰۰۰؍ پاکٹ ووٹ کے دعویدار گوٹے لڑائی کے میدان میں آسانی سے شکست کھانے والے نہیں ہیں۔بی جے پی سے استعفیٰ دینے والے آر ایس ایس کے ایم ایل اے اپنی ایم ایل اے کی کرسی حاصل کرنے کے لیے آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہیں ۔ ۲؍ ماہ قبل شرد پوار سے بھی راز ونیاز کی باتیں ہوئی ہیں ،انیل گوٹے کے قریبی تعلقات کے لوگوں نے کہا کہ پرکاش امبیڈکر سے بھی دو مرتبہ ملاقات ہوچکی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ماؤنوازوں کے خلاف گڈچرولی پولس کی بڑی کارروائی! پولس آپریشن کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف اشیاء اور دھماکہ خیز مواد برآمد کی گئیں

Published

on

Maoists

مہاراشٹر : گڈچرولی ضلع میں اب ماؤ نواز نظریے کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہاں کے شہری بالآخر اس دہشت سے آزاد ہو چکے ہیں جو کبھی ان پر مسلط تھی۔ ماضی میں، ماؤ نواز سکیورٹی فورسز کو دھمکانے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے مختلف ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے تھے۔ وہ ریاستی سرحدوں کے ساتھ واقع دور دراز اور جنگلات سے بھرپور علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ مواد تیار کرتے اور اسے خفیہ طور پر زیر زمین دفن کرتے تھے۔ ان کا مقصد مخصوص مواقع جیسے کہ ‘نکسل ہفتوں’ (Naxal weeks) یا انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے اس مواد کا استعمال کرنا تھا۔ اس صورتحال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے، گڈچرولی پولیس نے 4 نومبر 2026 کو یہ چھپایا گیا مواد کامیابی سے برآمد کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق، گڈچرولی پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ماؤ نوازوں نے ‘تَوے’ (Tavve) کے جنگلی علاقے میں جو گراپٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا ہے۔ اس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر، گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی رہنمائی میں، 4 نومبر 2026 کو ایک تلاشی آپریشن (سرچ آپریشن) شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں ‘اسپیشل آپریشن اسکواڈ’ (گڈچرولی اور پرانہِتا) کے چار یونٹس اور ‘بم ڈٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ’ (BDDS) کی دو ٹیموں نے حصہ لیا۔ جنگلی علاقے میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (SOS) اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS) کی جانب سے چلائے گئے تلاشی آپریشن کے دوران، جائے وقوعہ سے 1) 11 پریشر ککر (جنہیں دھماکہ خیز مواد کے طور پر استعمال کیا جانا تھا)، 2) کورڈٹیکس (Cordtex) تار کے 3 بنڈل (100 فٹ)، 3) 3 کلو گرام بارود، 4) 4 ڈیٹونیٹرز، 5) ایک 12 وولٹ کی بیٹری، 6) آتش بازی میں استعمال ہونے والا 250 گرام بارود، 7) اسٹیل کے 4 کنٹینر، 8) تاروں کے 8 بنڈل، 9) ایک سولر پینل، اور اس کے ساتھ ماؤ نواز (Maoist) سرگرمیوں سے متعلق دیگر سامان برآمد ہوا ۔

یہ آپریشن گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی ہدایات اور رہنمائی میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ کارروائی ایڈیشنل ایس پی (آپریشنز) کارتک مدھیرا، ایڈیشنل ایس پی شری گوکل راج جی، ایڈیشنل ایس پی آہری (پرانہتا) ہرش وردھن بی جے، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) سنیل اوئکے کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس آپریشن میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (گڈچرولی اور پرانہتا)، انٹیلی جنس سیل، اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS)کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایم رمیش نے اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی ستائش کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کرلا کاجوپاڑہ منشیات فروش کرنے والی ملزمہ گرفتار

Published

on

ممبئی : اس مقام پر کوڈین فاسفیٹ مشروب کی بوتلوں کو فروخت کے لیے روم میں ذخیرہ کیا گیا تھا, اس پر پولس نے 01 خاتون کو زیر حراست لے کر گرفتار کر لیا, اس کی شناخت حسینہ، عمر 38 سال، رہائشی کرلا ممبئی کے طور پر ہوئی, مذکورہ ملزمہ سے ہر ایک 100 ملی کی کوڈین فاسفیٹ مشروب نشیلی ادویات کی 460 بوتلیں (قیمت 4,60,000/- روپے) ضبط کی گئی ہیں۔ مذکورہ بہترین کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے، ڈی سی پی اے این سی پورنیما چوگلے شرینگی، اور باندرہ یونٹ نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”

Continue Reading
Advertisement

رجحان