Connect with us
Monday,16-March-2026

(جنرل (عام

وی ایچ پی اور آر ایس ایس اب 6 دسمبر کو نہیں منائیں گے شوریہ دوس.

Published

on

babri-masjid

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد جہاں مسلمانان ہند اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں تو وی ایچ پی اور آر ایس ایس والے اس دن کو شوریہ دوس کا نام دیتے ہیں. امسال 6 دسمبر سے ایک ماہ قبل ملک کی سب سے بڑی عدلیہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے. چونکہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے خلاف تھا پھر بھی مسلمانان ہند نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا . اب جب کہ 6 دسمبر کی آمد ہے لہذا سپریم کورٹ کے ایودھیا مسئلے پر فیصلہ آنے کے بعد آر ایس ایس اور وی ایچ پی بہت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں ۔ آر ایس ایس اس مسئلے پر بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اسی وجہ سے اس بار 6 دسمبر کو ہونے والے ’شوریہ دیوس‘ (یومِ بہادری) کو منعقد نہیں کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ آر ایس ایس ذرائع کے مطابق ’’رام مندر مسئلے پر سپریم کورٹ سے آئے فیصلے کے بعد جس طرح پرامن ماحول رہا ہے، ویسا ہی ماحول آگے بھی بنا رہے . اس کے پیش نظر فیصلہ لیا گیا کہ شوریہ دیوس نہ منایا جائے۔‘‘
آر ایس ایس نے اس تعلق سے اپنی ذیلی تنظیم وی ایچ پی کو الرٹ کر رکھا ہے۔ شوریہ دیوس کے چکر میں زیادہ جوش میں کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جائے جسے لے کر تنازعہ کھڑا ہو اور مندر کا مسئلہ پھر پھنس جائے۔ اسی وجہ سے 6 دسمبر کو ہونے والے شوریہ دیوس پروگرام کو نہیں منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی آر ایس ایس چاہتی ہے کہ اس مسئلے پر فیصلہ آنے کے بعد مسلم طبقہ کے زیادہ تر لوگوں نے جس طرح سے اسے قبول کیا ہے . اسے دیکھتے ہوئے کسی طرح کی شعلہ بیانی نہ کی جائے۔ اسی وجہ سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے نظر ثانی عرضی پر سبھی کو بولنے سے منع کیا گیا ہے ۔ دونوں تنظیمیں چاہتی ہیں کہ اس مسئلے پر کہیں بھی کچھ بھی ایسا نہ ہو . جس سے مسلم سماج کے دل میں کوئی اندیشہ پیدا ہو۔ اسی وجہ سے وہ بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ وی ایچ پی کے ترجمان شرد شرما نے ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’’سپریم کورٹ سے رام للا کے حق میں آئے فیصلہ کے بعد اب مندر تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اسی لیے 6 دسمبر کو وی ایچ پی کے عہدیداروں نے شوریہ دیوس کی اس تقریب کو منعقد کرنے سے منع کر دیا ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ شوریہ دیوس کے پروگرام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ وی ایچ پی عہدیداروں نے لے کر ملک میں امن اور خیرسگالی کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔ شرد شرما نے کہا کہ وی ایچ پی نہیں چاہتی ہے کہ عدالت کے اتنے بڑے فیصلہ کو ہم دو چار گھنٹے تک محدود کر دیں۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’6 دسمبر کا واقعہ ہندوؤں کو ہمیشہ عزت اور وقار کا احساس کرتا رہے گا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ وی ایچ پی شوریہ دیوس منانے کی جگہ مٹھ اور مندروں و گھروں میں دیپ جلانے کا کام کرے .

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

Published

on

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

Published

on

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی کریٹ سومیا کے دباؤ میں کیس درج, خوانچہ فروشوں سمیت دیگر پر کارروائی

Published

on

ممبئی: ملا ڈ ریلوے اسٹیشن پر نماز ادائیگی پر پولس نے کریٹ سومیا کی شکایت کے بعد کیس درج کرلیا ہے اور اس معاملہ ریلوے کی ملکیت پر نماز ادا کرنے پر ملزمین کو نوٹس بھی ارسال کردی ہے بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے ریلوے اسٹیشن پر نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیا تھا اتنا ہی نہیں ہے اسے مراٹھی ممبئی کو مسلم ممبئی قرار دینے کی سازش بھی قرار دیا تھا اس کے بعد کریٹ سومیا نے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا اور پھر ریلوے پولس میں شکایت درج کروانے کےلیے ایک تحریری شکایت بھی کی تھی ایک مسافر نے سوشل میڈیا پرنماز کا ویڈیو جاری کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کریٹ سومیا نے اس پر نوٹس لیا اور پھر کیس درج کر لیا گیا ہے۔ ممبئی میں جس طرح سے نماز پر کریٹ سومیا نے اعتراض درج کرایا ہے اسی طرز پر کیا وہ ریلوے میں بھجن منڈلی اور دیگر خرافات پر بھی کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔ ریلوے پولس نے ملاڈریلوے اسٹیشن پر نماز
کے خلاف کارروائی شروع کردی پولس نے اس معاملے میں اسٹیشن ماسٹر کی شکایت کے بعد مشتاق بابو لون (عمر 35) ہاکر، صہیب صداقت ساہا (عمر 25) ہاکر، بسم اللہ دین انصاری (عمر 43) ہاکر اور دیگرکے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس آر پی ایف نے ریلوے ایکٹ کی دفعہ 147 کے تحت شکایت درج کی ہے۔ریلوے پولیس جی آر پی نے بی این ایس کی دفعہ 168 کے تحت نوٹس جاری کیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔ پولس کی اس کارروائی کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ریلوے پولس نے جس طرح کریٹ سومیا کے دباؤ میں کارروائی کرتے ہوئے کیس درج کر لیا ہے کیا اسی طرز پر ریلوے میں غیر قانونی بھجن منڈلیوں کے خلاف کارروائی ہو گی ۔ اس معاملہ میں جن ملزمین پر کیس درج کیا گیا ہے وہ خوانچہ فروش ہے اور اس کے ساتھ پولس اس معاملہ مزید تفیش میں مشغول ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان