Connect with us
Saturday,25-July-2026

(جنرل (عام

وارانسی:سماجی کارکن ایکتا و روی ضمانت پر رہا

Published

on

اترپردیش کے ضلع وارانسی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے دوران گرفتار کئے گئے سماج جورٹے سمیت دیگر 56 کو افراد کو دو ہفتے بعدمقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف وارانسی میں 19 دسمبر کو ہوئے احتجاج کے دوران تقریبا 60 افرد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ان میں معروف سماج کارکن جوڑا اکتا اور روی شیکھر بھی شامل تھے۔ایکتا اور روی کے14 ماہ کی بیٹی بھی تھی ۔دونوں ’کلائیمٹ ایجنڈا‘ نام کی این جی او چلاتے ہیں۔
اڈیشنل سیشن جج نے بدھ کو روی اور ایکتا کو 25 ہزار روپئے کے مچلکے پر رہا کردیا ۔قابل ذکر ہے کہ ایکتا کے 14 ماہ کی بیٹی چمپک ماں سے دور تھی ۔دودھ پیتی بیٹی کے ماں کے جیل میں ہونے کی وجہ سے اس معاملے نے سبھی کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی۔چپمک گذشتہ 14 دنوں سے ماں سے دور تھی اور اس کی دیکھ بھال اس کی دادی کررہی تھیں۔
جیل سے باہر آنے کے بعد ایکتا نے کہا کہ’’ میری بیٹی چمپک میری دودھ پر ہی منحصر تھی۔ اس لئے مجھے اس کی کافی فکر لاحق تھی ۔یہ میرے لئے بہت ہی مشکل وقت تھا۔ایکتا نے مزید کہا کہ سماجی کارکن ہونے کی وجہ سے جیل جانا میرے لئے باعث افتخار ہے لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے بیٹی سے دور رہنا میرے لئے ایک ایک پل کافی مشکل ہورہا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ شہریت قانون کے خلاف 19 دسمبر 2019 کو بینا علاقے سے تقریبا 60 افراد گرفتار کئے گئے تھے۔ جن میں بی ایچ یو کے درجنوں طالب علم شامل تھے۔ پولیس کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد بھی کچھ لوگوں کے ذریعہ بغیر اجازت کے 19 دسمبر 2019 کو بینیا علاقے میں جلوس نکال کر ملک مخالف نعرے بازی کی گئی۔
وہیں دفاعی وکلاء کے مطابق ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ محض امن وامانکو لاحق خطرہ کے نام پر سبھی ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے اور بعد میں دفعات میں اضافہ کردیا گیا۔ گرفتار افراد میں سے زیادہ تر طلبا ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا ہے کہ صحیح۔غلط کی بنیاد پر تبصرہ کئے بغیر ملزمین ضمانت پر رہائی کے قابل ہیں۔
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران اترپردیش میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات پیش آئے جن میں تقریبا 23 مظاہرین کے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 1100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ریاستی حکومت نے تقریبا 372 افراد کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ریکوری نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
اترپردیش میں مظاہرین پر پولیس کی کاروائی سوالات کے گھیرے میں ہے تو وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے لہجے کی مذمت کی جارہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک ترنگا مارچ : اعلی افسران کی پولیس کمشنر کے ہمراہ اہم میٹنگ، پولیس کا حفاظتی انتظامات سخت، ضروری ہدایات جاری

Published

on

police-chased-people

ممبئی : ممبئی کے شیواجی پارک میں ترنگا ریلی کو لے کر پولیس بھی مستعد ہے دلی جنتر منتر میں طلباء کے احتجاج سے اظہار ہمدردی کے لئے ٹھاکرے برادر نے ترنگا مارچ کا انعقاد کیا ہے۔ جس میں لاکھوں مظاہرین کے شریک ہونے کی توقع ہے۔ ایسے میں پولیس نے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی دعوی کیا ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقععہ پیش نہ آئے اس لئے پولیس محتاط ہے اور حالات پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ترنگا مارچ کیلئے روٹ پر نگرانی کے ساتھ آج ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں ایڈیشنل پولیس کمشنر سمیت اعلی افسران کی میٹنگ بھی منعقد کی گئی تھی۔ جس میں نظم و نسق اور احتجاجی مظاہرہ سے متعلق حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ ممبئی شہر میں شیواجی پارک میں احتجاجات کا سلسلہ دراز ہے۔

ممبئی شہر و مضافات میں ترنگا مارچ کے دوران کہاں کہاں سے مظاہرین شیواجی پارک میں جمع ہوسکتے ہیں, اسکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں احتجاجات شروع ہے۔ نیٹ امتحانی پرچہ لیک کے معاملہ میں طلباء نے وزیر تعلیم دھریندر پردھان کا استعفی طلب کیا ہے اور طلباء اپنے موقف پر قائم ہے۔ ممبئی شہر و مضافاتی علاقوں میں ترنگا مارچ کے سبب پولیس بھی الرٹ ہے۔ شیواجی پارک میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران ٹریفک روٹ پر بھی پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضروری احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ ممبئی اور ریاست میں طلباء کے احتجاجات کے سبب پولیس نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے اعلی افسران کو اس متعلق ضروری ہدایت بھی جاری کی گئی ہیں۔ ممبئی کے مضافاتی علاقے کرلا, چمبور, بائیکلہ, اندھیری, ملاڈ مالونی, جوگیشوری سمیت دیگر علاقوں سے بھی احتجاج میں طلباء کے شریک ہونے کا اندازہ ہے۔ ترنگا مارچ کے دوران گڑ بڑی کی کوشش یا بدامنی قابل برداشت ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو جواب دیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایم این ایس سر براہ راج ٹھاکرے نے دیا ہے اور کہا ہے کہ دلی کے طرز پر اگر ممبئی میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو اسی قطعی برداشت نہیں کیا جائے۔ ممبئی میں احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ایسے میں پولیس بھی مستعد ہے۔

Continue Reading

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک پرامن ترنگا ریلی اختتام پذیر

Published

on

Mumbai-Protest

ممبئی بھیونڈی کے شہریوں نے جمعہ کے روز بے ساختہ ایک ‘ترنگا پیدل یاترا’ (ترنگا مارچ) کا اہتمام کیا تاکہ ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک اسکینڈل پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاسکے اور ملک گیر طلباء کے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے (بھیونڈی ایسٹ) رئیس شیخ کی قیادت میں پیدل مارچ میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مارچ بھیونڈی کے امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک کے راستے کا احاطہ کرتے ہوئے شام کو جلوس نکالا گئا جلسے کے دوران کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے نہیں لہرے گئے بلکہ ہاتھوں میں ترنگا تھام کر شہریوں نے یکجتی کا جذبہ کو سرشار کیا۔ پرامن جلوس کے ذریعے اتحاد کے جذبے ایک قوم، ایک جذبہ’ کا مظاہرہ کیا۔ “انقلاب زندہ باد” (انقلاب زندہ باد) جیسے نعرے سمیت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے بہت سے شرکاء نے ہندوستانی قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ مارچ کا اختتام بھیونڈی سب ڈویژنل افسر کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ’ترنگا مارچ‘ کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا بلکہ بھیونڈی کے شہریوں کی طرف سے ایک بے ساختہ اقدام تھا۔ انہوں نے ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر وحشیانہ لاٹھی چارج کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے ملک گیر غم و غصے کو نوٹ کیا۔ مارچ کا مقصد طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک کے واقعہ کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ’ترنگا ریلی‘ کے ذریعہ جاری کردہ میمورنڈم میں چار مطالبات پیش کیے گئے ہیں: دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر طلبہ کے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات؛ این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے پر خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد؛ اور دہلی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات کو واپس لے لیا جائے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان