Connect with us
Friday,22-May-2026
تازہ خبریں

جرم

اترپردیش: تشدد سے زیادہ خطرناک تھا پولیس کا تشدد روکنے کا طریقہ

Published

on

اترپردیش کے مختلف اضلاع میں شہریت(ترمیمی)قانون اور مجوزہ این آر سی کے خلاف گذشتہ 19/20 دسمبر کو کئے گئے احتجاجی مظاہروں کے درمیان مظاہرین پر پولیس ایکشن پر کاروان محبت کی ٹیم نے یوپی پریس کلب میں ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کی۔
اترپردیش میں گذشتہ 19/20 دسمبر کو صوبہ کے مختلف مقامات میں سی اے اے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔جس میں تقریبا 23 افراد جان بحق ہوئے تھے تو وہیں پولیس کی لاٹھی چارج کے ساتھ آگزنی اور پتھر بازی بھی ہوئی تھی۔بعد میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے بے تحاشہ افراد کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا اور پبلک پراپرٹی کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر مبینہ مظاہرین کے نام ریکوری نوٹس جاری کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے متنازع بیان دیتے ہوئے مظاہرین سے بدلہ لینے کی بات کہی تھی۔
اس ضمن میں یوپی پریس کلب میں کاروان محبت اور یوپی کوآرڈینیش کمیٹی اگینسٹ سی اے اے ،این آر سی اینڈ این پی آر کے بینر تلے منعقد پروگرام میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے سابق آئی اے ایس ومعروف سماجی کارکن ہرش مندر نے کہا کہ اترپردیش میں یوگی کی قیادت میں حکومت نے انسانیت کے خلاف سنگین جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ریاستی انتظامیہ نے تشدد کو قابو میں کرنے کے لئے جو طریقہ استعمال کیا ہے وہ اس تشدد سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے۔
وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ’اشتعال انگیز‘زبان کا استعمال کرتے ہوئے پولیس دستے کی مدد سے اپنی ہی ریاست کے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دیا ہے۔وہ اپنی مخالفت میں اٹھنے والی ہرآواز کو دبانا چاہتے ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ پرتشدد جھڑپوں میں پولیس نے اقلیتوں کے خلاف بربریت کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اترپردیش میں یہ پیٹرن پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ پولیس خود ہی فسادی بن گئی اور گھروں میں گھس کر بے سہارا خواتین، بچوں ،بوڑھوں اور بیماروں کو ہراساں کیا۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق مظفر نگر،میرٹھ،سنبھل اور فیروزآباد میں متأثرین سے ملاقات کے دوران جانچ ٹیم نے پایا کہ نفرت سے بھری وردی دھاری پولیس نے مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر مارا،ان کے اسکوٹر۔کاروں کو آگ کے حوالے کردیا۔ٹی وی،واشنگ مشین جیسے آلات کو پوری طرح سے تباہ کردیا۔پولیس کو روکنے کی کوشش کرنے پر گھر کے بزرگوں ،خواتین،اور یہاں تک معصوم بچوں پر بھی پولیس نے لاٹھیاں برسائیں،مسلمانوں کے خلاف پولیس نے بھدی اور قابل اعتراض تبصرے کئے۔پولیس نے فرقہ وارانہ نعرے لگائے۔
رپورٹ کے مطابق مظفر نگر،میرٹھ ،سنبھل اور فیروزآباد میں کل 16 افراد کی موت سینے سے اوپر گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مہلوکین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی تک اہل خانہ کو نہیں سونپی گئی ہے۔ 16 میں سے صرف ایک شخص کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دی گئی ہے جس میں گولی کا کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ ٹیم کے پاس وافر ثبوت موجود ہیں کہ سبھی افراد کی اموات گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔
زخمیوں کے ساتھ پولیس کی زیادتی اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانبداری کا ذکر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ان 16 افراد کی اموات ان کے گولی لگ کر زخمی ہونے کے دو ،تین دنوں بعد ہوئی ہے۔ان زخمیوں کو کئی کئی دنوں تک اسٹریچر سے نہیں اتارا گیا۔ کئی دن بعد ڈاکٹر آئے تو انہیں دوسرے اسپتال میں ریفر کردیا گیا۔زخمیوں کے کپڑے پوری طرح سے اتار دئیے گئے اور مخالفت کرنے پر ڈاکٹروں کی جانب سے کہا گیا کہ کپڑے جسم پر نہ ڈالو تاکہ ہر کوئی دیکھ سکے کہ کون مریض آیا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے تشدد کے الزام میں گرفتار کئے گئے افراد کے خلاف تھانوں میں ٹارچر کئے جانے اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے زخمیوں کے ساتھ سلوک ایک طے شدہ پیٹرن کے مطابق کیا گیا ہے اور اس میں تمام حدود کو توڑ دیا گیا ہے۔ پولیس نے جہاں مکمل طور سے اپنی دشمنی وعناد کے مظاہرہ کیا ہے تو وہیں ڈاکٹروں نے ہر مریض کے علاج کرنے کے قسم کھانے کے دھرم کو نہیں نبھایا ہے۔
یوپی میں مظاہروں کے دوران پولیس کی جانبدارانہ کاروائی کا پردہ فاش کرنے اور حقیقی صورتحال کو آشکارا کرنے کے لئے دہلی میں 16 جنوری کوجسٹس سدھا شرن ریڈی کی قیادت میں منعقد پبلک ٹریبونل میں گواہوں کو سننے اور رپورٹوں کو دیکھنے بعد ٹریبونل نے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جیوری کہ اگرچہ قانونی اہمیت کافی کم ہو لیکن اس کی اخلاقیت کافی طاقت ور ہے۔ریاستی حکومت کے اوپر سے لے کر نیچے تک کے پورے عملے نے ایک مخصوص طبقے خاص کر مسلمانوں اور مظاہرین کی قیادت کررہے سماجی کارکنوں کے خلاف بدلے کے جذبات سے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
پولیس نے نہ صرف عام لوگوں کے ساتھ تشدد کیا بلکہ بے گناہ مسلمانوں اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔پولیس نے نابالغوں اور بچوں تک کو اپنی حراست میں لے کر ان کی بری طرح سے پٹائی کی ہے ۔میڈیکل ملازمین کو علاج کرنے سے روکا گیا ہے۔اور حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے۔پولیس کی ہراسانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
’’ریاستی منصوبہ بند تشدد سے ہلکان اترپردیش کی عوام‘‘ کے نام سے پیش کی گئی اس طویل تفصیل رپورٹ کو سابق آئی اے ایس وسماجی کارکن ہرش مندر اور نورشن سنگھ کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے۔

جرم

مغربی بنگال فائرنگ اور بم دھماکہ میں ملوث تین مفرور ملزمین ممبئی سے گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ۷ مئی کو مغربی بنگال ہاوڑا میں فائرنگ اور بم دھماکہ میں مطلوب تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, مغربی بنگال کے شیبوپور پولس اسٹیشن کی حدود میں فائرنگ کی واردات انجام دی گئی تھی, اس میں مطلوب ملزمین ممبئی کے دیونار ایس آر اے کی بلڈنگ میں روپوش ہے اس بنیاد پر ۲۱ مئی کو کرائم برانچ نے یہاں چھاپہ مار کر تین مفرور ملزمین شمیم احمد عبدالرشید ۴۰ سال، جمیل اختر علی ۴۳ سالہ، آفتاب انور خورشید ۴۴ سالہ کو ممبئی میں گرفتار کر لیا۔ ان مفرور ملزمین پر شیبو پور پولس اسٹیشن میں کئی تقریبا ۵ معاملات بھی درج ہیں, یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

مہاراشٹر کے ناگپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ہیڈکوارٹر کے قریب کھلے عام فائرنگ, یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا اور کہرام مچ گیا۔

Published

on

Firing

ناگپور : مہاراشٹر کے ناگپور سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بائک سوار نوجوانوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈکوارٹر کی طرف کھلے عام فائرنگ کی۔ فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹر کے حساس زون میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا تھا۔ اب اس واقعہ نے سیکورٹی انتظامات پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں چھ موٹر سائیکل سوار فائرنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے، جب کہ ناگپور میں محل کے کوٹھی روڈ علاقے میں فائرنگ کے واقعے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ یہ علاقہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہیڈ کوارٹر کے بہت قریب ہے۔ سنگھ کا ہیڈکوارٹر ریشم باغ میں واقع ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار، 17 مئی کو تقریباً 11:30 بجے پیش آیا، جب چھ نامعلوم افراد تین موٹرسائیکلوں پر آئے اور آر ایس ایس ہیڈکوارٹر سے 1.5 کلومیٹر (کلومیٹر) دور ایک علاقے میں فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ روی موہتو اور گنگا کاکڑے نے شکایت کنندہ سوربھ کے ساتھ جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے علاقے میں تسلط قائم کرنے اور دہشت پھیلانے کی نیت سے فائرنگ کی۔ تفتیش کاروں کو ملزمان کے درمیان جھگڑے کا شبہ ہے۔ ریشم باغ میں آر ایس ایس کا ہیڈکوارٹر ہونے کی وجہ سے سیکورٹی کافی سخت ہے۔

ناگپور کے محل علاقے کے کوٹھی روڈ علاقے میں دو راؤنڈ فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ روی موہتو، گنگا کاکڑے، اور دیگر ملزمان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سامان رکھنے کا سابقہ ​​مجرمانہ ریکارڈ ہے۔ ان کے مجرمانہ پس منظر کے پیش نظر پولیس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ واقعہ کے فوراً بعد کوتوال تھانے کی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور شواہد اکٹھے کر کے ملزمان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعہ سے محل کے علاقہ مکینوں میں خوف وہراس پھیل گیا ہے جس کے باعث پولیس کی گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پاکستانی شہزاد بھٹی لنک کیس : اے ٹی ایس نے ممبئی کے میرا روڈ، پونے، ناگپور اور مہاراشٹر میں چھاپے مارے۔ 57 نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی۔

Published

on

ATS

ممبئی : مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بدھ کو پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی اور ڈوگرہ گینگ کے نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد ان افراد کو نشانہ بنانا ہے جو پاکستان میں موجود گینگسٹر نیٹ ورکس بشمول شہزاد بھٹی گینگ اور ڈوگرہ گینگ سے وابستہ ہیں یا ان سے روابط رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق، مربوط چھاپے بدھ کی صبح آٹھ بجے مہاراشٹر کے کئی مقامات پر شروع ہوئے اور رات گئے تک جاری رہے۔ چھاپے کے دوران اے ٹی ایس نے 57 لوگوں سے پوچھ گچھ کی، جن میں ممبئی کے 17، چھترپتی سمبھاجی نگر کے 14 اور پونے اور ناسک سے آٹھ-آٹھ افراد شامل ہیں۔ اے ٹی ایس نے نالاسوپارہ، میرا روڈ، ناگپور، پونے، ممبئی، اکولا، ناندیڑ، ناسک اور جلگاؤں میں چھاپے مارے۔ یہ آپریشن ایک بڑے آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاست کے اندر کام کرنے والے مبینہ گینگسٹر سے متعلق نیٹ ورکس کو ختم کرنا ہے اور ایسے افراد کی شناخت کرنا ہے جن کے ان گینگز کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہونے کا شبہ ہے۔

عہدیداروں نے کہا کہ اے ٹی ایس ان لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو مبینہ طور پر ان بدمعاشوں سے جڑے ہوئے ہیں، بشمول وہ لوگ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ ان کے ساتھ رابطے میں ہیں یا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان نیٹ ورکس کے پیروکار یا حامی ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، وقتاً فوقتاً موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ سرحد پار سے سرگرم گینگسٹر مبینہ طور پر مہاراشٹر کے نوجوانوں کو متاثر کرنے اور اپنے مجرمانہ نیٹ ورکس میں بھرتی کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔

حکام نے دعویٰ کیا کہ ان گروہوں نے مبینہ طور پر مقامی نوجوانوں کو پرتعیش طرز زندگی اور مالی فوائد کے وعدے کے ساتھ لالچ دیا۔ ایسا کرکے وہ ریاست کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے تھے۔ حکام نے کہا کہ اے ٹی ایس کا آپریشن بنیادی طور پر ‘سلیپر سیلز’، مقامی آپریٹو، اور ان گینگز سے وابستہ ممکنہ سپورٹ سسٹم کی شناخت پر مرکوز ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسلحے کی اسمگلنگ یا کسی بڑی سازش کو شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی روکا جائے۔ اے ٹی ایس کی کئی ٹیمیں فی الحال اس بڑے پیمانے پر تلاشی اور تصدیقی آپریشن میں مصروف ہیں، جو کہ ایک ساتھ مختلف شہروں اور اضلاع میں چلائی جا رہی ہے۔

چھاپوں کے دوران، اے ٹی ایس کے اہلکاروں نے جاری تفتیش کے حصے کے طور پر مشتبہ افراد سے منسلک مقامات سے لیپ ٹاپ، موبائل فون، پین ڈرائیوز اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔ تفتیش کار مشتبہ افراد کے بینک اکاؤنٹس اور مالیاتی لین دین کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ آیا کوئی فنڈز مبینہ طور پر پاکستان یا دیگر غیر ملکی مقامات سے غیر قانونی ‘حوالہ’ چینلز کے ذریعے بھیجے جا رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مبینہ نیٹ ورک کی حد کا تعین کرنا اور اضافی افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو ان گینگسٹرز یا ان سے منسلک دیگر ماڈیولز کے ساتھ رابطے میں ہو سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان