(جنرل (عام
اترپردیش اسمبلی انتخابات : آخری مرحلہ کیلئے ووٹنگ کا آغاز
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے کے لیے نو اضلاع کی 54 نشستوں کے لیے پہلے سے طے شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق پیر کی صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہو گئی۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس مرحلے میں اعظم گڑھ، مؤ، جونپور، غازی پور، چندولی، وارانسی، مرزا پور، بھدوہی اور سون بھدرا اضلاع کی 51 اسمبلی سیٹوں پر شام 6 بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان کے علاوہ 3 سیٹوں چندولی ضلع کی چکیہ (محفوظ) اور سون بھدرا ضلع کی رابرٹس گنج اور دودھی (محفوظ) سیٹوں پر رائے دہندگان شام 4 بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔
الیکشن کمیشن سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہونے کے فوراً بعد دیہی علاقوں کے پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹروں کی قلیل تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹروں سے سورج نکلنے کے بعد گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پولنگ عملے کی پولنگ ٹیمیں اتوار کی شام دیر گئے تک پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچ چکی تھیں تاکہ ووٹنگ کا عمل بروقت شروع کیا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ پولنگ کے ساتویں مرحلے میں 2.06 کروڑ ووٹر ای وی ایم میں 75 خواتین امیدواروں سمیت 613 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ پولنگ کے اس مرحلے میں 1.09 کروڑ مرد، 97.08 لاکھ خواتین اور 1027 تیسری جنس کے ووٹر ہیں۔
انتخابات کے آخری مرحلے میں 12,210 پولنگ مراکز میں سے 23,614 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ ہوگی۔ پرامن، آزادانہ اور منصفانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لیے 52 جنرل آبزرور، 09 پولیس مبصر اور 17 ایکسپینڈیچر آبزرور بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر میں گیس کا بحران! لیکن عوام کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ایوان میں چھگن بھجبل کا دعویٰ… مٹی کے تیل کی فراہمی بھی ممکن

ممبئی : مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں بھی ایندھن اور گیس سلنڈروں کی کالا بازار ی اور قلت کی گونج اب عام ہو گئی ہے ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے سبب ایندھن کی بحرانی کیفیات سے عوام پریشان ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں وزیر رسد وخوراک شہری چھگن بھجبل نے یہ واضح ہے کہ گیس کے بحران و فقدان سے متعلق فکر مندہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا ہے کہ گیس اور ایندھن کا ذخیرہ اس کے پاس دستیاب ہے اس لیے کسی کو بھی قطار لگانے یا بلیک مارکیٹنگ سے ایندھن کیا گیس خریدنے کی ضرورت نہیں ہے گیس کی کالا بازاری پر سرکار سخت ہے اور کاروائی بھی جاری ہے۔ ریاست اس وقت ایندھن کی قلت کا شکار ہے، سلنڈر کی کمی ہے۔ اس پس منظر میں بات کرتے ہوئے خوراک اور شہری رسد وزیر چھگن بھجبل نے مقننہ میں اہم معلومات دی ہیں۔ گیس کی فراہمی ایک مرکزی موضوع ہے، اور مرکز نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایل پی جی اور پی این جی کا کافی ذخیرہ ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس لیے متفکر ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کہیں بھی قطاریں نہ لگائیں اور گیس کی بلیک مارکیٹنگ نہ ہو۔ ہر ضلع کلکٹر، ایس پی اور دیگر افسران کی کمیٹیاں مقرر کی ہیں۔ اس کے ذریعے اب تک 2129 چیک کیے ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے اب تک ایک ہزار دو سو آٹھ گیس سلنڈر قبضے میں کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 33 لاکھ 66 ہزار 411 روپے کا سامان ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس معاملے میں کل 23 مقدمات درج کیے ہیں اور 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔بھجبل نے کہا کہ پچھلے مہینے گیس سلنڈر کی قیمت 852.50 روپے تھی۔ اب یہ بڑھ کر 912.50 روپے ہو گیا ہے۔ کمرشل سلنڈر 1720.50 روپے سے بڑھ کر 1835 روپے ہو گئے ہیں۔ آج صبح میں نے بڑی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، ڈی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، آئی او سی ایل کے نمائندوں سے بات کی، جن میں سے کچھ بڑی کمپنیاں ہیں۔ انہوں بتایا کہ ایل پی جی کی یومیہ پیداوار 9 ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر 11 ہزار میٹرک ٹن کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی مسئلہ تو ان کو دور کرنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ کمپنیوں کو مرکزی حکومت کے احکامات ہیں، اور بعض اداروں کو گیس کی فراہمی کے لیے ترجیح دی گئی ہے، جس میں اسپتالوں کو سو فیصد ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں ،عوامی خدمات کوبھی صد فیصدی ترجیحات دی گئی ہے۔ بھجبل نے کہا ہے کہ ریلوے، ہوا بازی اور دفاعی شعبوں سے متعلق گفٹ شاپس کو 70 فیصد ترجیح دی گئی ہے، اور اگر اس میں سے گیس باقی رہ جاتی ہے تو 50 فیصد گیس فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو اور 50 فیصد سیڈ پروسیسنگ کو فراہم کی جائے گی۔
دریں اثنا، ریاست اس وقت گیس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے اس کے ازالہ کا بھی راستہ اب سرکار نے طے کر لیا ہے ۔ گیس سلنڈر اور ایندھن کے نعم البدل کے طور پر بھجبل نے کہا کہ ایک راستہ مٹی کا تیل ہے۔ ہمارے پاس مٹی کے تیل کا ذخیرہ دستیاب ہے ۔ کچھ سال پہلے ناگپور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اجولا گیس اسکیم ہے تو آپ کو مٹی کے تیل کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس لیے مٹی کا تیل ہونے کے باوجود ہم اسے فراہم نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اب ہم نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ موجودہ صورتحال مشکل ہے، اس لیے عوام کواستعمال کے لیے مٹی کا تیل فراہم کرنا ضروری ہے یہ مٹی کا تیل اب مٹی کے تیل کے ڈیلرز کو تقسیم کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ ہمآئی او سی ایل، بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل کمپنیوں کے پمپوں پر مٹی کا تیل بھی فراہم کریں گے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ایس آئی آر سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو بھی پریشان ہے، ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کا یوپی سرکار اور الیکشن کمیشن پر تنقید

ممبئی: سماجوادی پارٹی قومی صدر رکن پارلیمان اکھلیش یادو نے یہ واضح کیا ہے کہ آئی ایس آر سے صرف مسلمانوں کو ہی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے بلکہ اترپردیش میں ہندوبھی قطار میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں ہندوؤں کو بھی ایس آئی آر سے پریشانی کا سامنا ہے وزیر اعلیٰ بھی اس سے گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ ۴ کروڑ ووٹ ہمارا کٹ کیا جو لوگ مسلمانوں کے کاغذ ڈھونڈ رہے تھےاب سب ہندو بھائیو کو انہوں نے لائن میں لگادیا۔ ہندو بھائی کاغذ ڈھونڈ رہے ہیں یوپی میں ایس آئی آر سے پریشان اپوزیشن نہیں بلکہ برسراقتدار جماعتیں پریشان ہے۔ فرضی ووٹ ڈالے گئے تھے الیکشن کمیشن ضمنی انتخابات میں خاموش تھا اس کی غیر جانبداری اور ایمانداری پر بھی سوال اٹھا اکھلیش یادو نے کہا کہ ایس آئی آر سے اپوزیشن کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ وہ یہاں ممبئی میں ایک سمٹ سے خطا ب کررہے تھے انہوں نے مغربی بنگال میں ایک مرتبہ پھر ممتا بنرجی کی واپسی کی بھی پیشگوئی اور دعویٰ کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹرسماجوادی پارٹی ریاستی صدر ابوعاصم اعظمی بھی موجود تھے۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن اور یوپی سرکار پر بھی جم کر تنقید کی اور سرکار کے طریقہ کار اور فرقہ پرستی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مئیر ریتو تاورے اور وی وی آئی پی کی کار پر بتی لائٹ کو کاروں سے بتیاں ہٹانے کا بی ایم سی کا دعویٰ، انتظامیہ کی وضاحت

ممبئی: ممبئی مئیر آف ممبئی ریتو تاوڑے کی کار پر بتی اور بی ایم سی عہدیداروں کے وی آئی پی کلچرل کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بی ایم سی نے تمام سرکاری عہدیداروں کی کار سے بتی اور چمکتی ہوئی لائٹیں نکالنے کا دعوی کیا ہے بی ایم سی کے مطابق میڈیا میں میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں کی گاڑیوں پر چمکتی ہوئی لائٹیں لگانے کی خبریں نشر ہوئی تھی اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ عہدیداران کو عہدہ سنبھالنے کے بعد گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسے ہی ان گاڑیوں پر چمکتی ہوئی بتی روشنی کا معاملہ سامنے آیا تو عہدیداران کی گاڑیوں پر لگی چمکتی روشنیاں (فلشر لائٹس) ہٹا دی گئیں۔ واضح رہے کہ بی ایم سی اس وقت حرکت میں آئی جب میئر ریتوتاوڑے کی کار پر نصب وی وی آئی پی کلچرل سے متعلق سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی تھی اور اب بی ایم سی انتظامیہ نے اس مسئلہ پر وضاحت کر کے کاروں سے بتی ہی ہٹا دی ہے وزیر اعظم نریندر مودی نے وی وی آئی پی کلچرل کے خلاف وزراسمیت دیگر کی کاروں سے لال بتیاں نکالنے کا حکم دیاتھا اس کے بعد بی ایم سی میئر کی کار پر بتی کی تنصیب پر تنقیدیں شروع ہو گئی تھی اب یہ تمام کاروں کی بتیاں نکالنے کا دعویٰ بی ایم سی نے کیا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
