Connect with us
Tuesday,05-May-2026

جرم

قومی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ کے طلبہ کا انوکھا احتجاج

Published

on

قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے مظاہرے اور پولیس کا لائبریری میں گھس کے کی گئی وحشیانہ کارروائی کے خلاف 16دسمبر سے جامعہ کے گیٹ نمبر سات پر مسلسل مظاہرہ جاری ہے جو تقریباً چھ بجے ختم ہوجاتا ہے لیکن کچھ طلبہ اور طالبات ایسے ہیں جو اس کے بعد سے رات کے چار بجے تک ترنگا لپیٹے‘، آئین کی تمہید اور تختی اٹھائے احتجاج کرتے ہیں۔
اس طرح کے احتجاج کرنے والے وہ طلبہ و طالبات ہیں جن لوگوں کو جامعہ کی لائبریری میں گھس کر پولیس نے زدوکوب کا نشانہ بنایا اور پولیس نے ہاٹھ اٹھاکر ایک مجرم کی طرح ان طلبہ کی پریڈ کروائی تھی۔ان طلبہ میں سے رضی انور‘ صادق خاں،ساجد اور فراز نے بتایا کہ ہم لوگوں نے اس پولیس کارروائی کے خلاف شکایت کی تھی لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے پر ہم لوگوں 17دسمبر سے مسلسل چھ بجے سے رات کے چار پانچ بجے تک ترنگا لپیٹے، آئین کی تمہید لئے اور آئین کی حمایت میں تختی لئے کھڑے ہوتے ہیں۔
یو این آئی اردو سروس جب ان سے اس سخت سردی اور رات کے کڑاکے کی ٹھنڈ میں کھڑے ہوکر احتجاج کرنے کی وجہ سے پوچھے جانے پر کہاکہ جب اسٹیٹ پر تشدد پر اتر آئے اور آئین کے خلاف کام کرنے لگے تو عوام کو احتجاج کے لئے سڑکوں پر اترنا ہی ہوتا ہے۔ جمہوریت ہمیں احتجاج کرنا سکھاتی ہے اور اپنے حقوق اور خاص طور پر آئین کی حفاظت کے لئے ہر شہری کو سڑکوں پر اترنا چاہئے اور حکومت کو مجبور کرناچاہئے کہ وہ کوئی ایسا غیر آئینی کام نہ کرے۔
انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریر اور لڑکیوں کے ہاسٹل پر پولیس کے حملے کو ہندوستان کی سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے کہاکہ دنیاکی کسی یونیورسٹی اس طرح کا حملہ نہیں ہوا ہے اور پولیس نے کسی طرح کی بربریت لائبریری میں گھس کر نہیں کی تھی۔انہوں نے کہاکہ حکومت نہ صرف غیر آئینی کام کر رہی ہے بلکہ غیر قانونی زبان اوردنگائیوں کی زبان استعمال کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی وحشیانہ کارروائی کے خلاف جامعہ اور شاہین باغ کے علاوہ ملک کے دیگر حصے میں احتجاج جاری ہے۔
شاہین مظاہرین کا نظام دیکھنے والوں میں سے ایک محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ نے اس مظاہرہ میں شریک ہوکر خواتین کا حوصلہ بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبردست سردی کے موسم میں خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اس کا قدم کس قدر غلط ہے اور اس نے مذہبی بنیاد پر قانون بناکر لوگوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان خواتین نے کہاکہ ہم سخت ترین سردی کے موسم میں مظاہرہ کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت ہمارے درد کو سمجھے۔شاہین باغ میں اتوار کو لاکھوں مرد و خواتین نے جمع ہوکر یہ دکھادیا کہ وہ لوگ کتنے متحد ہیں اور اسی کے ساتھ شاہین باغ مظاہرین اسکوائر پر پنڈتوں نے ہون، سکھوں نے کیرتن، بائبل اور قرآن کی تلاوت کرکے صلح کل کا پیغام دے رہے ہیں۔
محترمہ صائمہ خاں نے بتایا کہ اس دھرنا اور مظاہرہ میں شریک ہونے والے مقررین نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس لینے اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) اور قومی آبادی رجسٹر (این آر پی) کا بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مقصد ملک کو تقسیم کی جانب دھکیلنا ہے۔ یہ قانون نہ صرف آئین کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سیکولر اقدار و روایات کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ شاہین باغ میں پورے ہندوستان کا سنگم نظر آئے گا۔
انہوں نے بتایا کہ شاہین باغ مظاہرین کی حمایت میں ہون بھی کیا گیا اور مسلم خواتین نے ٹیکے بھی لگائے۔ یہ اس بات ثبوت ہے کہ اس مظاہرہ میں صرف ایک فرقہ کے لوگ نہیں بلکہ ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی سب شامل ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ آکر شاہین باغ خواتین مظاہرین کی حمایت کررہے ہیں اور پورے ملک سے مردو خواتین آکر شاہین باغ خواتین کی حمایت کر رہے ہیں۔

جرم

پونے عصمت دری اور قتل کیس : اپوزیشن نے مہاراشٹرا کے محکمہ داخلہ پر سنگین الزامات لگائے، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ

Published

on

پونے ضلع کی بھور تحصیل کے نصرا پور میں چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل نہ صرف امن و امان کا مسئلہ بن گیا ہے, بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دیویندر فڑنویس پر سخت حملہ کیا ہے، جن کے پاس ہوم پورٹ فولیو ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر وجے ودیٹیوار نے پولس کے کام کاج پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم کے ماضی کے مجرمانہ ریکارڈ سے آگاہ تھی, لیکن یہ معلومات عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عدالت کی سرزنش کے بعد ہی ریمانڈ کی درخواست میں ترمیم کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پولیس اتنی ہی لاپرواہ ہے تو متاثرہ کو انصاف کیسے ملے گا؟ کیا غمزدہ خاندان اور عوام پر لاٹھی چارج ان کا واحد کارنامہ ہے؟ ودیٹیوار نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس کی سربراہی ایک خاتون آئی پی ایس افسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پونے پولیس کا رویہ غیر حساس رہا ہے اور اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اسی دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فڑنویس 24/7 سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے محکمہ داخلہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ راؤت نے طنزیہ انداز میں پوچھا، “اگر ‘لڑکی بھین’ (لڑکی بہن) کو ماہانہ 1500 روپے ملتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ان کی بیٹیوں کا استحصال ہوتا ہے، تو کیا وہ خاموش رہیں؟” ممبئی کانگریس کی صدر اور ایم پی ورشا گائیکواڑ نے بھی اس واقعہ کو انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے اور پولیس کا احتساب کمزور ہو گیا ہے۔ دریں اثنا، مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنما امیت ٹھاکرے نے گہرے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی تکلیف دہ ہے کہ لڑکی صرف چھٹیاں منانے اپنی دادی کے گھر آئی تھی لیکن اس کے ساتھ ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ایک بزرگ نے اس کی عصمت دری اور پھر قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب پولیس نے مظاہرین اور متاثرہ خاندان پر لاٹھی چارج کیا، جو فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے اپوزیشن کے حکومتی بے حسی کے دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ کیس کو بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کی جائے گی، اور حکومت مجرموں کو سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔ مزید برآں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں پولیس گشت بڑھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔

Continue Reading

جرم

10 لاکھ کا تعلیمی گھوٹالہ : ممبئی پولیس نے کاندیوالی کنسلٹنسی ڈوپس فیملی کے طور پر ایک کو کیا گرفتار۔

Published

on

ممبئی : ایک چونکا دینے والے واقعے میں، باندرہ ایسٹ میں ایک 78 سالہ خاتون کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا، اور کھیرواڑی پولیس نے ملزم کو تھانے سے گرفتار کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اس معاملے کو حل کر لیا۔ متاثرہ، جس کی شناخت دھاراوی کی ساکن سوبھاگیما کتھیمیونار کے طور پر ہوئی ہے، 27 اپریل کو باندرہ ایسٹ میں ایک آر این اے عمارت کے قریب فٹ پاتھ پر بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی۔ اسے فوری طور پر سیون اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے داخلے سے قبل ہی اسے مردہ قرار دے دیا۔ ابتدائی طور پر، کیس کو حادثاتی موت کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کا گلا گھونٹ کر اور کسی کند چیز سے حملہ کیا گیا تھا، جس سے پولیس نے بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کے تحت قتل کا مقدمہ درج کرنے کا اشارہ کیا تھا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور جائے وقوعہ کے قریب نظر آنے والے ایک مشتبہ شخص کا سراغ لگایا۔ ملزم، جس کی شناخت بھانوداس وٹھل کامبلے (44) کے طور پر ہوئی ہے، کو بعد میں تھانے سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ 26 اپریل کی رات پیش آیا۔ ملزم ایک تقریب کے لیے باندرہ آیا تھا اور سڑک کے کنارے پیشاب کر رہا تھا کہ بزرگ خاتون نے اعتراض کیا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ مشتعل ہو کر اس نے ایک اینٹ اٹھا کر اس کے سر پر دے ماری۔ جب وہ چلاتی رہی تو اس نے اس کا گلا گھونٹ دیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ ملزم بعد میں جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی انٹیلی جنس ان پٹس کے ذریعے اس کا سراغ لگایا گیا۔ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی: نابالغ لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے الزام میں اے سی پی گرفتار، ورلی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج

Published

on

Arrest

ممبئی کے ورلی علاقے کے ایک پبلک پارک میں ایک اے سی پی سطح کے افسر کو مبینہ طور پر فحش اشارے کرنے اور 9 سالہ لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ورلی پولیس نے ملزمین کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) ایکٹ (پی او سی ایس او) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات کر رہی ہے۔ ورلی پولیس اسٹیشن سے ملی اطلاع کے مطابق متاثرہ لڑکی کل ورلی کے سنگھ گارڈن میں کھیلنے گئی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم افسر متاثرہ کے پاس گیا اور گھر واپس آنے پر اس کی طرف نازیبا پیش قدمی کی اور اسے اپنے پرائیویٹ پارٹس کو چھونے کو کہا۔ لڑکی اس واقعہ سے گھبرا گئی اور گھر واپس آکر اپنی ماں کو بتایا کہ کیا ہوا ہے۔ لڑکی کی ماں جو کہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہے، نے فوری طور پر پولیس سے رابطہ کیا۔ شکایت ملنے پر ورلی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور معاملے کی جانچ شروع کردی۔ ابتدائی پوچھ گچھ اور دستیاب حقائق کی بنیاد پر ملزم پولیس افسر کی شناخت کر کے اسے گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس میں اس وقت نیا موڑ آیا جب ایک اور نابالغ لڑکے نے بھی الزام لگایا کہ ملزم نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اس کے خلاف ایسی ہی حرکت کی تھی۔ پولیس نے اس دعوے کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے اور اس کی تصدیق کے لیے الگ سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ورلی پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 74 اور 79 کے ساتھ ساتھ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ الزامات انتہائی سنگین ہیں، اس لیے فوری طور پر گرفتاری عمل میں لائی گئی، اور تفتیش مکمل قانونی عمل کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم پولیس کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ سنگھ گارڈن کے علاقے میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ ملزم افسر اصل میں ناگپور کا رہنے والا ہے اور اسے نومبر 2025 میں ممبئی میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر میں تعینات کیا گیا تھا۔ وہ پولیس کمیونیکیشن اور آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ سے منسلک تھا اور ورلی پولیس کیمپ میں اکیلا رہتا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان