سیاست
گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف
مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
درختوں کے تحفظ کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی دو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف ممبئی میونسپل کارپوریشن کی سخت کارروائی

ممبئی : ممبئی کے درختوں کی حفاظت اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے درختوں کے تحفظ کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت موقف اپنایا ہےمتعلقہ تھانوں میں دو الگ الگ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف درختوں کو نقصان پہنچانے اور اجازت کے دائرہ سے باہر کی کٹائی کرنے پر مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ کرار پولس اسٹیشن میں ‘شیتل تپوون ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ (دینڈوشی میٹرو اسٹیشن کے قریب واقع) کے عہدیداروں اور ڈویلپر کے خلاف ان کے کمپلیکس کے باہر درختوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک ناقابل سماعت جرم درج کیا گیا ہے۔ مزید برآں، گھاٹکوپر (مغربی) میں ‘کلپتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جب یہ پایا گیا کہ میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ منظور شدہ حدود سے زیادہ درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ ممبئی میں درخت شہر کے ماحولیاتی توازن کے اہم اجزاء ہیں۔ کسی بھی فرد، تنظیم، یا ڈویلپر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں ہوگی جو درختوں کو نقصان پہنچاتا ہے یا درختوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ درختوں کے تحفظ اور تحفظ اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ٹری اتھارٹی کے وضع کردہ ضوابط کی سختی سے پابندی لازمی ہے۔ ڈاکٹر اویناش ڈھکنے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فرد، تنظیم، یا ڈویلپر کے خلاف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے جانے والے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی رہے گی۔
ڈی جی ایم شیتل تپوون ہاؤسنگ سوسائٹی ملاڈ (مشرق) میں دندوشی میٹرو اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔ ‘پی-نارتھ’ وارڈ آفس کو ایک آن لائن شکایت موصول ہوئی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کے سامنے واقع دو درختوں کو زہر کا انجیکشن لگا کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ گارڈن کے افسران نے شکایت کنندہ کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران یہ دیکھا گیا کہ سوسائٹی کے داخلی دروازے کے سامنے سڑک کے کنارے واقع ایک پیلٹوفورم کے درخت کے بیس کے قریب 20 سے 22 سوراخ کیے گئے تھے، جن میں زہر کا انجکشن لگایا گیا تھا۔ مزید برآں، سوسائٹی کے دوسرے دروازے کے سامنے ایک درخت مکمل طور پر مرجھا ہوا پایا گیا۔ جیسا کہ یہ پہلی نظر میں ظاہر ہوا کہ ہاؤسنگ سوسائٹی نے درختوں کو نقصان پہنچایا ہے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے متعلقہ فریقوں کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔ نتیجتاً، مہاراشٹرا (شہری علاقوں) درختوں کے تحفظ اور تحفظ کے ایکٹ، 1975 کے سیکشن 21 کے ساتھ پڑھا گیا سیکشن 8 کے تحت کرار پولس اسٹیشن میں ایک ناقابل شناخت جرم درج کیا گیا ہے۔
‘این’ وارڈ آفس کو گھاٹ کوپر (مغربی) میں کلپاتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ کمپلیکس میں میونسپل کارپوریشن کی طرف سے دی گئی اجازت کی حد سے زیادہ 100 سے زیادہ درختوں کی کٹائی کی شکایت موصول ہوئی تھی۔ شکایت کے بعد جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے پہلے مخصوص شرائط اور حدود کے ساتھ درختوں کی کٹائی کی اجازت دی تھی۔ تاہم، سائٹ پر ہونے والے معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ کٹائی مجاز حد سے زیادہ کی گئی تھی۔ میونسپل کارپوریشن سے پیشگی اجازت حاصل کرنا اور کسی بھی درخت کو کاٹنے، نقصان پہنچانے یا کٹائی سے پہلے منظور شدہ شرائط پر سختی سے عمل کرنا لازمی ہے۔ ان قواعد کی خلاف ورزی متعلقہ فرد، تنظیم یا ڈویلپر کے خلاف تعزیری اور مجرمانہ کارروائی کو راغب کرتی ہے۔ اس کے مطابق، ‘کلپتارو اورا ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ’ کے خلاف پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے نے کہا کہ درختوں کو نقصان پہنچانا، زہریلے مادے یا انجیکشن لگانا، اور درختوں کو کاٹنا یا تباہ کرنا قانون کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی صورت میں متعلقہ محکمے کو فوری طور پر مطلع کرکے ماحولیاتی تحفظ میں تعاون کریں۔
بین الاقوامی خبریں
اسرائیلی حملوں نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی، جس سے کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا۔

نئی دہلی : اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک بار پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان بشمول طائر، مرجعون اور بنت جبیل کے شہروں پر حملہ کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی (ایران) کے مطابق، پیر کے روز لبنان سے موصولہ رپورٹوں میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تازہ ترین اسرائیلی حملوں میں طائر، مرجعون اور بنت جبیل شہروں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے دیہاتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی ڈرون نے نبیطیہ کے علی الطاہر پہاڑی علاقے پر بھی بمباری کی، دھماکہ خیز مواد اور آگ لگانے والے ہتھیار گرائے۔
ایران کے مطابق اسرائیلی فوج نے طائر کے قریب واقع گاؤں چاما پر توپ خانے سے گولے داغے۔ فوجیوں نے طیبہ اور یارون کے دیہات میں زیتون کے باغات کو بھی آگ لگا دی۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 2 مارچ کو دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔ درحقیقت حزب اللہ نے اتوار کو اسرائیل پر حملہ کیا۔ حزب اللہ نے کہا کہ یہ حملے لبنان پر تقریباً روزانہ اسرائیلی حملوں کے جواب میں تھے۔
ایران نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اسرائیل نے زمینی فوجی آپریشن شروع کیا اور جنوبی لبنان کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ اسرائیل اور لبنان نے 16 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا لیکن اس معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔
26 جون کو، دونوں فریقوں نے واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی ثالثی امریکہ نے کی تھی۔ اس معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء اور ان کی جگہ لبنانی مسلح افواج کے یونٹوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے معاہدے کو اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کیا۔ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان 16 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد اسرائیلی انتظامیہ اور مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی کو ختم کرنا تھا۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیاست
اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔
اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
