سیاست
گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف
مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔
سیاست
مہا حکومت قحط زدہ علاقوں میں کسانوں کے ساتھ کھڑی رہے گی : ڈی وائی سی ایم شندے

ستارہ : گنیشوتسو تہوار کے لیے ستارہ ضلع میں اپنے آبائی گاؤں درے کا دورہ کرتے ہوئے، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے جمعہ کو مہاراشٹر میں بارش کی صورتحال کا جائزہ لیا اور کسانوں کو یقین دلایا کہ خشک موسم کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسان برادری کو ترک نہیں کرے گی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ریاستی حکومت خشک سالی کا اعلان کرتی ہے اور فوری امدادی امداد تقسیم کرتی ہے۔ ڈی سی ایم شندے نے تسلیم کیا کہ ودربھ اور مراٹھواڑہ کے کچھ حصوں میں خشک موسم نے کھڑی فصلوں کو جھلسایا ہے۔ اصل نقصانات کی بنیاد پر امداد کی تقسیم کے لیے فی الحال فصلوں کے نقصانات کا جائزہ (پنچنامے) جاری ہیں۔
اس نے بحران کا جائزہ لینے کے لیے عثمان آباد (دھراشیو) کے سرپرست وزیر پرتاپ سارنائک، ایم پی اومراجے نمبالکر اور ضلع کلکٹر کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ ضلع کے سرپرست وزراء فعال طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں، اور انہوں نے تصدیق کی کہ وہ کسانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کے لیے جلد ہی خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا ذاتی طور پر معائنہ کریں گے۔ اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے، ڈی سی ایم شندے نے کہا کہ مہایوتی حکومت سیاسی زبانی جھگڑے میں شامل ہونے کے بجائے اپنے کام کو بولنے کو ترجیح دیتی ہے۔ بلوبیری جیسی فصلیں، کافور اور ہینگ (ہنگ) کے ساتھ، شندے نے ایتھنول، جدید انفراسٹرکچر، اور روزمرہ کے تجارتی سامان کی پیداوار میں بانس کے ورسٹائل استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تہوار کے موسم میں ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر بانس کی کاشت پر زور دیا۔
ڈی سی ایم شندے نے اپنے سیاسی حریفوں پر ان کے آبائی شہر، دہلی یا لندن کے دوروں پر مسلسل تنقید کرنے پر بھی سخت تنقید کی۔ “جب بھی میں اپنے آبائی گاؤں جاتا ہوں، سیاسی حریفوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ اب مجھے ان کی بدہضمی کو دور کرنے کے لیے دواؤں کا پودا تلاش کرنا پڑے گا یا جمال گوٹا (روایتی جلاب) تجویز کرنا پڑے گا۔ میں ایک عملی آدمی ہوں اور تنقید کا جواب الفاظ سے نہیں، اپنے کام سے دوں گا۔” اس سے قبل، این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندرا کو ایک خط میں لکھا تھا۔ مانسون کی بے ترتیب بارشوں کی وجہ سے ریاست کے شدید زرعی بحران اور نو اہم نکات پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ پوار کا خط وزیر اعلیٰ کے مراٹھواڑہ یوم آزادی کے موقع پر مراٹھواڑہ کو خشک سالی سے پاک بنانے کا عزم ظاہر کرنے کے فوراً بعد آیا ہے۔
واضح زمینی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے، پوار، جنہوں نے جمعہ کو ایکس پر خط اپ لوڈ کیا، اس بات پر زور دیا کہ بارش کی کمی نے مراٹھواڑہ اور ریاست کے دیگر حصوں میں فصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے کسانوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اپنے خط میں، پوار نے کھڑی فصلوں، پینے کے پانی کی قلت، اور چارے کی کمی کے بارے میں فوری تشویش کا اظہار کیا، اس سال ریاست بھر میں مویشیوں کے لیے بارش کی ناکامی کے زیادہ تر حصوں کے لیے چارے کی کمی۔ کاشتکار برادری کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے جیسا کہ سویا بین، کپاس، جوار (باجرا)، مکئی، مونگ (مونگ) اور کالا چنا سوکھ گیا ہے، نتیجتاً، زراعت اور پینے کے لیے پانی کی فراہمی کے حوالے سے صورتحال ابتر ہے۔
بین الاقوامی خبریں
بحیرہ احمر میں کشیدگی، مکہ پر حملے کی کوشش علاقائی استحکام کو خطرہ : ایم ای اے

نئی دہلی : بحیرہ احمر کے خطہ میں سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ پر حملے کی کوشش پر اپنی سنگین تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ اس پیش رفت سے علاقائی استحکام کے ساتھ ساتھ آبنائے باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بھی خطرہ ہے۔ نئی دہلی میں دو ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے، وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے حملوں کو “ناقابل قبول” قرار دیا اور خطے میں امن اور استحکام کی جلد واپسی پر زور دیا۔” ہمیں بحیرہ احمر کے علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال میں اضافے پر گہری تشویش ہے۔ آپ نے ایک بیان بھی دیکھا ہوگا جو ہم نے مقدس شہر مکہ پر حملے کی کوشش کے بعد جاری کیا ہے جو کہ علاقائی امن و سلامتی کو متاثر کرتے ہیں یا انہیں نقصان پہنچاتے ہیں اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بھی خطرہ ہے۔
“ظاہر ہے، مختلف وجوہات کی بناء پر، یہ ہمارے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ ہمیں امید ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کی جلد بحالی ہوگی۔” انہوں نے مزید کہا۔ بدھ کو مکہ کے قریب ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ایم ای اےکے ترجمان نے سعودی عرب کے شہر کی مذہبی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس واقعے کو “خاص طور پر تشویشناک” قرار دیا۔ سعودی عرب کی خود مختار سرزمین پر حملوں اور شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے، مکہ مکرمہ کے قریب واقعہ خاص طور پر دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس شہر کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر ہے،” جیسوال نے ایک بیان میں کہا، “ہم سعودی عرب کے دفاعی اور فضائی دفاع کے لیے سعودی عرب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی جلد بحالی کی امید ہے۔” منگل کو حوثیوں کی طرف سے ایک دشمن ڈرون کو مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔
اس ہفتے کے شروع میں، ایم ای اے نے یہ بھی کہا تھا کہ یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان تازہ ترین حملوں کے تبادلے کے درمیان، بحیرہ احمر کے علاقے میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر ہندوستان گہری تشویش میں مبتلا ہے۔” ہمارے وزیر خارجہ (ایس جے شنکر) نے برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ کے ساتھ ایک میٹنگ کی۔ میٹنگ کے دوران انہوں نے کئی بین الاقوامی مسائل سمیت خطے کی ترقی اور ترقی کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ حوثیوں کی طرف سے حال ہی میں سعودی عرب پر بھی ایک حملہ ہوا، جس کی ہم نے بحیرہ احمر کے علاقے میں بڑھتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے باب المندب سے گزرنا ہمارے لیے واضح طور پر ناقابل قبول ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
گنپتی وسرجن کے لیے بی ایم سی کی جانب سے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں دستیاب

ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کی انتظامیہ مہاراشٹر کے ریاستی تہوار گنیش اتسو کو ماحول دوست انداز میں منانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جس میں وسرجن کے جلوس کے لیے مختلف سہولیات اور انتظامات شامل ہیں۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق، بی ایم سی نے اس سال چھ فٹ تک اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 383 سے زائد مصنوعی جھیلیں تعمیر کی ہیں۔ اس کے علاوہ، چھ فٹ سے زیادہ اونچی مورتیوں کے وسرجن کے لیے 67 قدرتی مقامات پر مختلف سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، اس سال ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ (ایک گنپتی، ایک درخت) کا اقدام شروع کیا گیا ہے، جس کا تصور میئر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا تھا۔ بی ایم سی نے ممبئی میں وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی کل تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ’ایک گنپتی، ایک درخت‘ کے تصور کے تحت، بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک پھیلے اس تہوار کو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ مزید برآں، مورتی وسرجن کی تقریب کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے 25,000 سے زائد افسران اور ملازمین پر مشتمل عملے کے ساتھ جامع اور مکمل انتظامات کیے گئے ہیں۔
اس سال، گنیش اتسو کا تہوار 14 ستمبر 2026 کو شروع ہوا۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی، میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے کی رہنمائی میں،ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے پورے ممبئی، اور خاص طور پر وسرجن کے مقامات پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ وسرجن کے راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے، سڑکوں کے گڑھوں اور نکاسی آب کے ڈھکنوں کی مرمت، اور درختوں کی کانٹ چھانٹ جیسے کام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ سمندری ساحلوں اور قدرتی و مصنوعی وسرجن مقامات پر مختلف سہولیات اور خدمات—جن میں اسٹیل کی پلیٹس، رافٹس (تیرنے والے تختے)، کرینیں، ایمبولینسیں، لائف گارڈز، ‘نرمالیہ’ (پوجا کے بعد بچ جانے والے پھول اور دیگر اشیاء) جمع کرنے کے ڈبے، کنٹرول رومز، مشاہداتی ٹاورز، روشنی کا انتظام، عارضی بیت الخلاء اور ضروری افرادی قوت شامل ہیں—فراہم کی گئی ہیں۔
ایک گنپتی، ایک درخت گنپتی عقیدت، ایمان اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار ہے۔ اس تہوار کے ذریعے عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچانے کے مقصد سے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال وسرجن کی جانے والی گنیش کی مورتیوں کی تعداد کے برابر درخت لگانے کا عہد کیا ہے۔ ‘ایک گنپتی – ایک درخت’ (ایک گنپتی، ایک درخت) کے اقدام کا تصور مئیر ریتو ٹاوڈے نے پیش کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھگوان گنیش کی آمد سے لے کر وسرجن تک کے تہوار کے دوران ماحولیاتی تحفظ کو شامل کرنا ہے، جس کے تحت ہر وسرجن کی جانے والی مورتی کے بدلے ایک درخت لگایا جائے گا اور اس طرح ممبئی کے سرسبز مستقبل میں اپنا حصہ ڈالا جائے گا۔ گنیش اتسو تہوار کے ذریعے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے عوامی شرکت سے ممبئی کو سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست بنانے کا عزم کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ شجرکاری، درختوں کے تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا بھی ارادہ کیا ہے۔ اس سال بھگوان گنیش کے بتوں کے وسرجن کے لیے، قدرتی وسرجن کے 67 مقامات (جن میں 44 ساحل/جیٹیز اور 23 قدرتی جھیلیں شامل ہیں) اور 383 مصنوعی وسرجن مقامات دستیاب کیے گئے ہیں۔ ان مقامات پر درج ذیل انتظامات کیے گئے ہیں: 1,194 اسٹیل پلیٹس، 23 جرمن رافٹس (rafts)، 34 کرینیں، 85 ایمبولینسیں، 10 موٹر بوٹس، 498 ‘نرمالیہ’ (پوجا کی نذر/سامان) جمع کرنے والے برتن، 326 ‘نرمالیہ’ ڈمپرز، 261 استقبالیہ مراکز، 228 کنٹرول رومز، 75 مشاہداتی ٹاورز، 1,132 لائف گارڈز، 6,052 فلڈ لائٹس/سرچ لائٹس اور 489 عارضی بیت الخلاء۔ مزید برآں، میونسپل کارپوریشن کے تقریباً 25,000 اہلکار اور مختلف رضاکار تنظیمیں ڈیوٹی پر مامور ہوں گی۔
چھ فٹ سے کم اونچائی والے بتوں کا مصنوعی جھیلوں میں وسرجن ہائی کورٹ کی 20 اگست 2026 کی ہدایات کے مطابق، عوامی مفاد کی عرضداشت (پی آئی ایل) پر حتمی فیصلہ ہونے تک 24 جولائی 2025 کے حکم کی تعمیل لازمی ہے۔ لہٰذا، 6 فٹ تک اونچائی والے بھگوان گنیش کے بتوں کو مصنوعی جھیلوں میں وسرجن کرنا لازمی ہے اور میونسپل کارپوریشن نے اس کے لیے ضروری انتظامات کیے ہیں۔ اس اقدام کے حوالے سے عوامی بیداری کی مناسب مہم بھی چلائی گئی ہے۔ ممبئی میں 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب ماحول دوست ‘گنیش اتسو’ کو فروغ دینے اور مصنوعی تالابوں میں بتوں کے وسرجن کی حوصلہ افزائی کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 278 مقامات پر 383 سے زائد مصنوعی تالاب قائم کیے ہیں۔ مزید برآں، میونسپل انتظامیہ 6 فٹ سے زیادہ اونچے بتوں کے لیے قدرتی وسرجن کے 67 مقامات پر ضروری سہولیات فراہم کرے گی۔ سوراجیہ بھومی (گرگاؤں چوپاٹی) میں 12 مصنوعی تالاب سوراجیہ بھومی جو عام طور پر ‘گرگاؤں چوپاٹی’ کے نام سے مشہور ہےممبئی میں گنیش کے بتوں کے وسرجن کی سب سے بڑی تعداد کا مرکز ہے۔ شہر بھر میں عوامی ’منڈلوں‘ اور گھروں سے مورتیاں وسرجن (جل پرواہ) کے لیے یہاں لائی جاتی ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
