سیاست
گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف
مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔
سیاست
امریکہ میں عبدال السید کی کامیابی پر اسد الدین اویسی کا بیان! کہا، ’’اب اتر پردیش میں بھی ایک عبدال لیڈر بنے گا‘‘

حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بدھ کے روز امریکہ میں ڈیموکریٹک امیدوار عبد السید کی جیت کی دعوت دیتے ہوئے، اتر پردیش میں مسلم سیاسی شناخت بنانے پر زور دیا، اور کہا کہ ایک عبد اب ریاست میں لیڈر بن جائے گا۔ “ایک ‘عبد’ مشی گن میں جیت گیا ہے؛ اب، اتر پردیش کے ‘عبد’ کو اپنی سیاسی شناخت کو مضبوط کرنا چاہیے،” اویسی نے ایکس پر پوسٹ کیا۔ وہ ریاستہائے متحدہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر ردعمل دے رہے تھے جہاں عبد السید نے مشی گن سینیٹ کی دوڑ جیت کر پہلے مسلمان امریکی سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ’سنگھیوں‘ نے ’عبد‘ نام کا مذاق اڑانے کی کئی کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ‘عبد اللہ’ کے سوا کسی کی بندگی میں نہیں جھکتا، اب ہم دوسروں کے لیے قالین بچھانے والے نہیں رہیں گے۔ اویسی نے یہاں اپنی پارٹی کے ہیڈکوارٹر دارالسلام میں میڈیا سے بات چیت کے دوران بھی اس مسئلہ پر بات کی۔ “بی جے پی کہتی تھی ‘عبد پنکچر بناتا ہے’۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ عبدل اب لیڈر بنے گا۔ نہ قالین بچھائے گا، نہ آر ایس ایس سے ڈرے گا اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکے گا۔ عبدل اپنا کام کرے گا اور لیڈر بنے گا۔” اویسی نے دہلی ہائی کورٹ کو یہ بتانے پر مرکز کی بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ نئی دہلی کے کرشی بھون کمپاؤنڈ کے اندر واقع صدیوں پرانی قدیمی مسجد کو سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت کامن سینٹرل سیکریٹریٹ (سی سی ایس) کی دوبارہ تعمیر کے لیے ہٹایا جانا چاہیے۔ حاصل کیا
“یہ مسجد ملک کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کا ایک حصہ ہے۔ یہ کرشی بھون سے پہلے بھی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رجسٹرڈ وقف ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مرکزی اقلیتی بہبود کے وزیر کرن رجیجو کو ان لوگوں کو بتانا چاہئے کہ حکومت مالک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے قومی راجدھانی بننے اور ہندوستان کا آئین بننے سے پہلے بھی مسجد موجود تھی۔ ’’اگر آپ یہ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ سرکاری جائیداد ہے تو وقف ٹربیونل میں جائیں اور وہاں بحث کریں۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وقف رجسٹرڈ ہے، وہاں گزٹ ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ کرشی بھون کی ملکیت ہے۔ یہ کرشی بھون کی جائیداد نہیں ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔ انہوں نے مرکز کی اس دلیل پر تنقید کی کہ مسجد “جائز اور سرکاری املاک کے سیکولر کردار سے مطابقت نہیں رکھتی”۔
’’کیا یہ آپ کا سیکولرازم ہے کہ آپ ایک رجسٹرڈ وقف املاک کو منہدم کرنا چاہتے ہیں جسے قانونی تحفظ حاصل ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اویسی نے یاد دلایا کہ مودی حکومت نے بھومی پوجا کے ساتھ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کا افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بظاہر، سیکولرازم کسی عوامی منصوبے کے لیے ایک عقیدے کی رسومات کے استعمال سے ناراض نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی مسجد سے الرجک ہے جو 1912 سے پہلے، کرشی بھون کی تعمیر سے بہت پہلے تک وہاں کھڑی تھی۔‘‘ حیدرآباد کے ضلع الیکشن آفیسر آر وی کے بارے میں جب اویسی سے ردعمل طلب کیا گیا تو اویسی نے پوچھا، ’’امیت شاہ اب کیا کہیں گے؟‘‘ کرنان کا بیان کہ حیدرآباد کی انتخابی فہرستوں میں کوئی غیر قانونی تارکین وطن نہیں پایا گیا۔ انہوں نے بی جے پی قائدین کے بیانات کو یاد کیا کہ حیدرآباد پر سرجیکل اسٹرائیک کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) مشق کی وجہ سے غریبوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم نے ایس آئی آر کے عمل کے دوران تمام اہل ووٹروں کی مدد کی، ان کے مذہب سے قطع نظر۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یونیفارم سول کوڈ دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہے: ابو عاصم اعظمی

ممبئی : ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابوعاصم اعظمی نے مرکزی حکومت کے مجوزہ ‘یونیفارم سول کوڈ’ (یو سی سی ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “یو سی سی بل دراصل ‘یونیفارم سول کوڈ’ نہیں، بلکہ حکومت کی جانب سے ایک ‘کنٹرول کوڈ’ ہےپریس کانفرنس کے دوران، ابو عاصم اعظمی نے یو سی سی بل کے حوالے سے اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخ پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ “اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے جو مہلت یعنی 15 نومبر تک دی گئی ہے وہ ناکافی ہے؛ لہٰذا، اس آخری تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔اس عمل پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے، اعظمی نے کہا کہ “تجاویز جمع کراتے وقت شہریوں سے ان کی ذات اور مذہب کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، اس عمل میں شامل سوالات بھی نامناسب انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں۔ انہی بے ضابطگیوں اور ناقص طریقوں کی وجہ سے کمیٹی کے رکن آشیش چوہان نے کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہےشہری حقوق کے معاملے پر حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “جب شہری حقوق کی بات آتی ہے، تو حکومت صرف مذہب سے متعلق معاملات پر ہی کارروائی کر رہی ہے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی ۳ گرفتار

ممبئی سائبر ساؤتھ نے ممبئی میں شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ دھوکہ دہی کے معاملہ میں بڑی کارروائی انجام دیتے ہوتےسائبر جرائم میں، 3 ملزمان کو ناگپور سے گرفتار کر کے ممبئی کے 06 اور کل 73 جرائم میں حصہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاریخ ۱۰ جون ۲۰۲۶ سے تاریخ ۸ ستمبر کے دوران، خاتون میرا آئیر اور ان کے ساتھی دار نے شکایت کنندہ کو شئیر ٹریڈنگ انویسمنٹ کے ذریعے زیادہ نفع کا لالچ دے کر شکایت کنندہ کو مختلف بینک کھاتوں میں کل 58,72,410/- اتنی رقم مختلف بینک کھاتوں میں منتقلی کر شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کی اس معاملہ میں سائبر پولیس تھانہ، ممبئی میں 79/2026، دفعہ 318(4)، 319(2)، 338، 340، 61(2) بھارتیہ نیائے سنہیتا دفعہ 66(ک)، 66(ڈ) معلوماتی تکنیک قانون کے تحت جرم درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ جرم کی تفتیش میں شکایت کنندہ کی دھوکہ دہی کل رقم میں سے روپے 24,75,000/ رقم سنٹرل بینک آف انڈیا، شاخ، ناگپور اس بینک میں گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی اس کمپنی کے نام سے موجود جاری کھاتہ میں منتقل کی گئی ایسا پایا گیا تکنیکی تجزیہ اور نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر موجود معلومات کی بنیاد پر، مذکورہ بینک کھاتہ دار ملزم کا سراغ ناگپور میں ملا ، ۲ اکتوبر کو مذکورہ جرم کے سرغنہ سمیت 03 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزمان نے سازش رچ کر، ملزم انیرودھ اوکے اور مرکزی سرغنہ ملزم امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم نام رتیک شیلیش دھارگاوے کے نام سے گرین گارڈن ڈیلائٹس پرالی کمپنی قائم کی مذکورہ کمپنی قائم کرنے کے لیے جھوٹا معاہدہ کیامرکزی سرغنہ ملزم نام امیت دلیپ راؤ کالے نے ملزم ساتھی دار نام رتیک دھارگاوے کے نام سے موجود موبائل اپنے میں لاگ ان کرکے استعمال کرکے دھوکہ دہی کا کاروبار انجام دینے کے لیے مذکورہ موبائل نمبر دیگر ساتھی داروں کو دے کر دھوکہ دہی کی رقم آن لائن منتقل کی گئی تفتیش میں اس کا خلاصہ ہوا ۔
گرفتار ملزمین کے پاس سے
1) 11 مختلف بینک کھاتوں کے ضبط کیے گئے چیک بکس اور پاس بکس
2) 25 مختلف کمپنیوں کے سم کارڈز
3) 11 بناوٹ کمپنیوں کے ربڑ اسٹیمپس اور 03 اسٹیمپ پیڈز
4) ڈیبٹ/اے-ٹی-ایم کارڈز، کیو-آر کوڈ
5) بناوٹ کمپنیوں کے کاغذات و پین کارڈز برآمد ہوئے ہیں ان کی شناخت 1) امیت دلیپ راؤ کالے، عمر- 34 سال، پلاٹ نمبر 18، واٹوڈا روڈ، چیتنیشور نگر، واٹوڈا، ناگپور، رتیک شیلیش دھارگاوے، عمر – 25 سال، نیو اندرا ریپبلکن نگر، لائن نمبر 2، جریپٹکا، ناگپور ، 3) انیرودھ ستیش اوکے، عمر – 30 سال، پلاٹ نمبر 3564 اے/1، بدھ گیا بدھ وہار کے قریب، سرسوتی نگر، جریپٹکا، ناگپور کے طور پر ہوئی ۔ مذکورہ جرم میں مرکزی سرغنہ ملزم اور اس کے دیگر 02 ساتھی داروں کو گرفتار کرنے میں ساؤتھ سائبر پولیس تھانہ،ممبئی کو کامیابی ملی ہے۔ مذکورہ قابل ستائش کارکردگی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی ، جوائنٹ پولس کمشنر انیل کنبھارے ، ڈی سی پی بجرنگ بنسوڑے نے انجام دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
