سیاست
گرم،دولیڈران کرسی کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف
مالیگاؤں:سابق رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کرنے والے خود اپنی ہی باتوں پر کیوں نہیں جمے رہتے ہیں؟یہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے جلسے گاہ میں آج جو بیان بازی اور تقریر کریں گے آئندہ پانچ سال بعد سوشل میڈیا پر وائر ل ہونے میں وقت نہیں لگے لگا۔ اپوزیشن جماعت اس کام کو بہت ہی خوبصورت انداز میں شارٹ کلپ کے ذریعے وائرل کرتی ہے۔ جس طرح تیسرا محاذ سے عوام نے بھرپور تائید مفتی اسماعیل کو دی تھی کیونکہ کوئی سیاسی بدنما داغ دامن میں نہیں تھا۔تیسرا محاذ سے جیت درج کرانے کے بعد سیاسی پلیٹ فارم سے خود کی حمایت حاصل کرنےکے لیے فتویٰ جاری کیاتھا کہ این سی پی کو ووٹ دینا حرام ہے۔ ہر بات کی طرح عوام نے اس بات کو بھی تسلیم کرلیا تھا کہ این سی پی کو ووٹ دے کر حرام کام میں ملوث نہیں ہوں گے۔ لیکن اپنی چھتری میں کوّا بھی حلال والی پالیسی اپنا کر این سی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ کیونکہ سابق ایم ایل اے کو پتہ تھا کہ میری اندھی عقیدت میں مبتلا شہر کی اکثریت میرا ہی ساتھ دیں گی۔لیکن سیاسی حربہ استعمال کرنے میں ناکام ہوگئے ، سیاسی تڑ جوڑ کا تجربہ نہ ہونے کی بناء پر کانگریس و این سی پی کا اتحاد ہونے پر رولنگ ایم ایل اے شیخ آصف کو ٹکٹ ملنا طے تھا۔ اتحاد کی بناء پر این سی پی کو بھی کانگریس کا سپورٹ کرنا پڑتا تھا ،بات کرسی کی تھی، لڑائی کرسی کی تھی اس لیے بہانہ بازی کا صحیح موقع تین طلاق کا مل گیا اور پارٹی کو نازک وقت میں چھوڑ کر علٰحیدہ ہوگئے۔ جب این سی پی میں تھے تب مجلس اتحادالمسلمین کو فرقہ پرست پارٹی کا لقب بھی دے دیا تھا، ان کے باپ دادا کی تاریخ بھی مختصر میں بیان کردی تھی ۔ مزید کہا تھا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے ورنہ بہت لمبی کہانی ہے۔
جو اکبرالدین اویسی کو ،اسدالدین اویسی کو ،صلاح الدین اویسی کو اور عبدالواحد اویسی تک کو فرقہ پرست بول دے پھر بھی انہیں ٹکٹ دے دیا جائے، تو مجلس کوایم ایل اے بڑھانے کی خاطر باپ داداؤں کو برا بولنے والے شخص کو بھی ٹکٹ دینا درست ہے؟ایک طرف اعجاز خان نے ایک چھوٹی سی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردی تو اسے ٹکٹ نہیں دیا گیالیکن ہزاروںکے مجمع میں مفتی محمد اسماعیل قاسمی اویسی برادران او ر ان کے باپ داداؤں کی کہانیاں منظر عام پر لانے کی کوشش بھی کریں تو انہیں ٹکٹ دے دیا جاتا ہے ۔ مجلس اتحادالمسلمین نے ٹکٹ کے معاملہ میں انصاف کیا؟کیا یہ سب حرکتیں عوام کو گمراہ کرنے کی نہیں ہیں؟عوام اس چیز کو بھی مان لیتی ہے کہ مفتی محمد اسماعیل قاسمی پہلے جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے صدر ہیں بڑے عہدے پر فائزہیں بعد میں سیاسی شخصیت ہیں ،مجلس کو فرقہ پرستی کا خطاب دینا جمعیۃ علماء کا موقف ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ وہ کوئی بھی فرقہ پرست پارٹی کو حمایت نہیں دیتی ہےچاہیے وہ مسلم فرقہ پرست پارٹی ہی کیوں نہ ہو اسی بنیاد پر مجلس اتحادالمسلمین کی حمایت جمعیۃ علماء نہیں کرتی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر گلزار اعظمی نے چند روز قبل شیخ آصف کی حمایت میں بات کی گلزار اعظمی چاہتےہیں کہ شیخ آصف ایم ایل اے بنے،لیکن کیوں؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی میں سیاسی سمجھ بوجھ کم ہے؟وہ صحیح کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں؟سیاسی صلاحیت شیخ آصف میں زیادہ ہے؟ مفتی محمد اسماعیل قاسمی فرقہ پرست پارٹی سے جڑے ہیں؟پانچ سال عوام نے دیاتھا تو کیا کام کرے تھے؟عوام کو بیوقوف بنانے میں یا ٹھیکیداروں کو خوش کرنے میں مصروف تھے؟یا سیاسی دلالوں کا دائرہ وسیع کرنے کی محنت میں وقت ضائع کرتے رہے تھے؟ عوام سے کام کی بنیاد پر ووٹ مانگیں ،بیوقوف بناکر نہیں ۔حالیہ ایم ایل اے شیخ آصف اورسابق ایم ایل اے شیخ رشید کانگریس کے دور میں ۲۰؍ سال تک شہر کے خزانے پر امت کی امانت کا کتنا خیال رکھا؟ ۲۰؍ سالوں میں کتنا کام کیاجاسکتا تھا؟ کارپوریشن میں سب بڑے بڑے عہدوں پر گھر کے لوگوں کو بٹھایا گیا۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کام کے معاملہ میں بات ہی نہ کروپھر سالانہ پانچ سو کروڑ روپئےمیں سے اخراجات کہاں کہاں کئےجارہے ہیں؟کانگریس نے ریزرویشن نہیں دیا تو بھی کانگریس کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا؟ کانگریس سے فائد ہ ملے تو امت کو پستی میں ڈھکیل دیا جاتا ہے کیا؟کانگریس کے دور میں شہرمالیگاؤں کے بے گناہوں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا تھا تو شیخ آصف نے بے گناہ ثابت ہونے والےمظلومین کے حق میں کانگریسیوں سے معافی کیوں نہیں منگوائی ؟جن فرقہ پرست ذہنیت کے پولس افسران نے مل کر بے گناہوں کو بلاسٹ کے معاملہ میں پھنسایا ان کو کانگریس نے ملازمت سے معطل کیوں نہیں کروایا؟ بلکہ ان کا پرومشن ہوگیا تو کیاکانگریس مسلم دشمنی میں ملوث تھی؟مسلم کانگریسی ایم ایل ایز و کارپوریٹرس کانگریسی قدآور لیڈران کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسی قطب ،ابدال کی قدر کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں مرکزی حکومت میں سابق وزیر رہ چکے سلمان خرشید نے کہا کہ کانگریس کے ہاتھوں پر مسلمانوں کے خون کے دھبے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ سلمان خرشید نے اعتراف کیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ براسلوک کیا۔
مسلمانوں کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والی پارٹی سے شیخ آصف نے کیوں ٹکٹ لیا؟ کانگریس سے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ مالیگاؤں کے بے قصور قیدیوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے کہ جس پارٹی نے انہیں دس سال بغیر کسی ظلم کے سلاخوں کے پیچھے سڑایا ہےاور ان کی جوانی کے ایام برباد کریں ہیں پھر بھی ان ظالم پارٹی سے استعفیٰ نہیں دیا؟ ملک میں بہت سی پارٹیاں ہیں لیکن کانگریس ہی کیوں؟ زیادہ بدعنوانی کرنے کا موقع دیتی ہے؟بڑے گھوٹالے کی اجازت آسانی سے ملتی ہے؟ کوئی حساب کتاب لینے والاموجود نہیں ہے؟شیخ آصف کے حامیوں کی تعداد بہت ہی کم ہے؟آزادامیدوار انتخابات کے میدان میں جیتا نہیں جاسکتا؟آپ کے حلقہ کی بغل میں دھولیہ شہر اسمبلی حلقہ ہے ،وہاں انیل اننا گوٹے، راج وردھن کدم بانڈے، ڈاکٹر مادھوری بافنا، رنجیت راجے جیسے قدآور لیڈران آزاد امیدواری کررہے ہیں اور ان چار میں سے ہی ایک ایم ایل اے بننے والاہے۔دھولیہ کی طرز پر مالیگاؤں میں انتخابات نہیں ہوسکتے ؟ ایک امیدوار نے منافرت پھیلانے والی مذہبی نعرہ بازی کی پارٹی کا دامن پکڑ لیا تو دوسرا امیدوارکو مسلمانوں کو دیمک کی طرح کھانے والی پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ آخر کیوں دونوں امیدوار آزاد انتخاب میں حصہ لینے پر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں؟ پارٹی فنڈکے چکر میں؟ منتخب ہونے کے بعد پانچ سال تک مزہ لینے کے لیے ؟ عوام کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے کہ مالیگاؤں شہر میں روزانہ پینے کا پانی مہیا کرایا جائے گا؟اقلیتی کالجس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔شہر میں روزگار دستیاب کرایا جائے گا۔راستوں کی مرمت کی جائے گی، آمدورفت کی سہولیات کے لیے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کا طریقہ اپنایا جائے گا۔ کیا یہ دونوں سیاسی لیڈران کے مشیر چاہتے ہیں کہ پڑھی لکھی عوام انہیں سیاسی دلال کا لیبل نہ لگا دیں؟روزگار میسر ہونے کے بعد ان کی ورکری کون کرے گا؟ ان کی آفس کون ڈالے گا؟ ایک چائے کے لیے ان کی خوشامد کون کریں گا؟ ورکری کے نام پر چلر کون دے گا؟ اپنی جھوٹی شہر ت اور انا کے خاطر لاکھوں افراد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ جہاں ایم ایل اے مسلم ، میئر مسلم، اسٹینڈنگ کمیٹی کا صدر مسلم ،نائب مئیر مسلم ،ہاؤس لیڈر مسلم وہ شہر کیسا ہونا چاہیے؟ اگر عوام ان کی پراپرٹی پر نظر دالیں تو حقیقت سامنے آجائے گی عوام کی محنت کے روپئے کیسے ان کی تجوری میں جاتے ہیں اور لیڈران کیسی مستی میں ملوث ہوتے ہیں۔ مالیگاؤں شہر ملک کے مسلمانوں کے لیے باعث فخر ہیں کہ میناروں کے اس شہر میں تعلیم یافتہ افراد اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
ملکی سطح پر اعلیٰ مقام تک پہنچے والے افراد کی اہم ذمہ داری ہے کہ ایم ایل اے و سابق ایم ایل اے کے نئے پرانے فتنوں سے اہلیان شہر کو نجات دلانے میں اہم رول ادا کریں۔خود شہر کی ترقی کے لیے قربانی پیش کرکے سیاست میں قدم رکھیں انہیں آخری موقع دیں بعد میں دونوں سیاستداں کے لیے مثال بنے کہ مالیگاؤں شہر بھی سنگاپور بن سکتا ہے اگر شہر کاخزانہ دیانتدار اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے ہاتھوں میں آجائے۔ ٹھیکہ پر کام دے کر کمیشن کھانے والوں کا کاروبار ختم ہونا چاہیے ۔ پہلے تو کام نہیں کرتے ہیں دوسری بات اگر کام کریں گے بھی تو بہت زیادہ کمیشن پر کام کرنے سے کام کی کوالیٹی اثرانداز ہوجاتی ہے۔ اس انتخاب میں عوام ان سے کہہ کہ کون سال بھر کا گوشوارہ عوام کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ؟ دونوں میں سے جو بھی فرد تیار ہو اسے ووٹ دیں یا کام کی بنیاد پر ووٹ دینے کو اولیت دی جائے۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں اسٹیج لگاکر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ان سے کہو اسٹیج پر کام کی بات کریں اگر آپ کو علم ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہے تو پولس اسٹیشن میں جاکر ان کے خلاف ایف آئی آر درج کراؤ اور ایف آئی آر کی کاپی جلسہ میں تقسیم کرو۔ اگر ایسا نہیں کرسکے تو سمجھ لو یہ دونوں مل کر عوام کو الو بنارہے ہیںاور گنگا دھر ہی شکتی مان ہے ۔اگر ان دھوکے باز کے دھوکے سے باہر نہیں نکلے گے تو پورا ملک سدھر جائے گا لیکن مالیگاؤں سدھر نہیں سکتا ہے۔
مہاراشٹر
منشیات کے اسمگلر سلیم ڈولا کو استنبول سے حوالگی کے بعد آج ممبئی لایا جائے گا، این سی بی کی جانچ تیز

ممبئی: ہندوستانی انٹیلی جنس اور انسداد منشیات ایجنسیوں کے لیے ایک اہم پیش رفت میں، انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی، بین الاقوامی منشیات کے اسمگلر سلیم ڈولا کو ترکی سے ہندوستان ڈی پورٹ ہونے کے بعد آج شام 5 بجے ممبئی لایا جائے گا۔ ڈولا کو منگل کی صبح ایک انتہائی خفیہ اور مربوط بین الاقوامی آپریشن کے تحت ہندوستان لایا گیا تھا۔ گلوبل ہنٹ۔’ وہ استنبول میں حراست میں لیے جانے کے بعد ایک خصوصی طیارے پر نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا جس کی بنیاد پر ہندوستانی ایجنسیوں نے غیر ملکی حکام کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا اشتراک کیا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد، حکام نے تصدیق کی کہ ڈولا کو آج بعد میں ممبئی لے جایا جائے گا، جہاں اسے مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے این سی بی کے دفتر لے جایا جائے گا۔ ڈولا ایک بین الاقوامی منشیات کی سمگلنگ سنڈیکیٹ کی ایک اہم شخصیت تھی جس کی کارروائیاں ہندوستان، دبئی اور کئی دیگر ممالک میں پھیلی ہوئی تھیں۔ مبینہ طور پر اس کا نام بڑے پیمانے پر مصنوعی منشیات کے ریکیٹ کے سلسلے میں سامنے آیا ہے، جس نے نیٹ ورک کی وسعت کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کیے ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ اس سنڈیکیٹ کے بدنام زمانہ ڈی-کمپنی کے ساتھ روابط ہیں، جو عالمی منشیات کے کارٹلز اور منظم جرائم کے گروہوں کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ڈولا مبینہ طور پر اپنا اڈہ دبئی منتقل کرنے سے پہلے ممبئی کے ڈونگری علاقے میں سرگرم تھا، جہاں سے اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھارت کو نشانہ بنانے والی منشیات کی سپلائی کا ایک بڑا سلسلہ چلا رہا ہے۔ حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بین الاقوامی سفر کی سہولت کے لیے سعودی عرب کا پاسپورٹ استعمال کیا تھا۔ گرفتاری اس کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل کارروائی کے بعد کی گئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں، ممبئی کرائم برانچ نے ان کے قریبی ساتھی محمد سلیم سہیل شیخ کو دبئی سے حوالے کیا۔ ایک ماہ بعد ان کے خاندان کے چار افراد بشمول ان کے بیٹے طاہر ڈولا کو بھی بیرون ملک گرفتار کرنے کے بعد بھارت لایا گیا۔ این سی بی نے اس سے قبل اس کی گرفتاری کی اطلاع دینے پر 1 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا، جبکہ انٹرپول کے ریڈ کارنر نوٹس نے عالمی سطح پر اس کا سراغ لگانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ ممبئی میں ڈولا کی حراست میں پوچھ گچھ سے بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں پر اہم لیڈز ملنے کی امید ہے اور اس سے منشیات کی عالمی سنڈیکیٹس اور آئی ووڈ کے نیٹ ورک کے درمیان گہرے روابط کا پردہ فاش ہو سکتا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
مہاراشٹر
ممبئی-پونے ایکسپریس وے ‘مسنگ لنک’ 1 مئی کو صرف ہلکی گاڑیوں کے لیے کھلے گا۔ ابتدائی طور پر ٹرکوں پر پابندی رہے گی۔

نوی ممبئی: یشونت راؤ چوہان ممبئی – پونے ایکسپریس وے پر بہت انتظار شدہ ’مسنگ لنک‘ اسٹریچ کو 1 مئی سے عوامی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جس میں ابتدائی مرحلے میں صرف ہلکی موٹر گاڑیاں (ایل ایم وی) اور مسافر بسوں کو ہی اجازت دی جائے گی، مہاراشٹر ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، مرحلہ وار منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ کام کے اندر حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا سکے۔ ٹنل سیکشن، جس میں سامان کی گاڑیوں کو ابتدائی مدت کے دوران راستہ استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ فیز I میں، یکم مئی سے 31 اکتوبر تک، ایل ایم وی اور مسافر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی رہے گی، جبکہ سامان لے جانے والی گاڑیاں ممنوع رہیں گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یکم نومبر سے پہلے چھ ماہ کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ مال گاڑیوں کو اجازت دینے کی فزیبلٹی کا جائزہ لیا جا سکے اور اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سمیت خطرناک یا آتش گیر مواد لے جانے والی گاڑیوں کو مسنگ لائن کے ساتھ مسنگ لائن لنک ٹو سیفٹی میں استعمال کرنے سے سختی سے منع کیا جائے گا۔ ایسی گاڑیاں موجودہ ایکسپریس وے کا استعمال جاری رکھیں گی۔ مسنگ لنک اسٹریچ پر کاروں کے لیے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور مسافر بسوں کے لیے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس نے یہ بھی واضح کیا کہ قابل اجازت مارجن کے اندر تیز رفتاری کی معمولی خلاف ورزیاں موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کی دفعہ 183 کے تحت کارروائی کو راغب نہیں کریں گی۔ یہ نوٹیفکیشن ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ٹریفک) پروین سالونکے نے جاری کیا تھا، جو مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ایس آر ڈی سی) کی جانب سے سڑکوں کو عوام کے استعمال کے لیے مزید کھولنے کا حکم دینے تک نافذ رہے گا۔
جرم
مہاراشٹر: دو الگ الگ حادثات میں ایک پولیس کانسٹیبل سمیت چار افراد کی موت ہو گئی۔

ممبئی/جلگاؤں، مہاراشٹرا میں بدھ کو دو الگ الگ حادثات میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہے۔ ان واقعات میں چھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ پہلا واقعہ مہاراشٹر کے جلگاؤں میں پیش آیا جہاں ایک کار میں سفر کرنے والے تین افراد کی موت ہو گئی جن میں ایک نوبیاہتا دلہن بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ جلگاؤں کے دھرنگاؤں تعلقہ کے ورد خورد گاؤں کے قریب پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ گجرات سے شادی کی بارات لے کر آکولہ جانے والی کروزر کا ٹائر پھٹ گیا جس کے باعث کروزر ہائی وے پر کھڑے گیس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب دلہن شادی سے واپس آرہی تھی۔ اس واقعہ سے بڑے پیمانے پر کہرام مچ گیا۔ مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو گاڑی سے نکالا گیا۔ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے جن میں ایک کمسن بچے کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کے فوراً بعد تمام زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم دلہن سمیت تین افراد پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مرنے والوں کی شناخت دلہن، پوجا روی واگھلکر، دتو بھاگوت اور جگدیش واگھلکر کے طور پر ہوئی ہے۔ دوسرا واقعہ ممبئی میں پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ مانکھرد علاقے میں ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایم آر ڈی اے) کے فلائی اوور کی تعمیر کے دوران کرین کا ایک حصہ پولیس کانسٹیبل سنتوش چوان پر گرا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ سنتوش چوان نہرو نگر پولیس اسٹیشن میں تعینات تھے۔ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا وہ گھر جا رہے تھے۔ ممبئی پولیس کے مطابق ڈرلنگ مشین ناہموار زمین پر تھی، اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کرین اس پر گری۔ ٹھیکیدار کے خلاف ممبئی کے مانکھرد پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
