Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

اردو آج ہندوستان کی ہی نہیں بین الاقوامی زبان بھی ہے : سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری

Published

on

Vice-President-Hamid-Ansari

اردو قارئین کی کم ہوتی تعداد پر تشویس کا اظہار کرتے ہوئے سابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے کہا کہ ہر دس سال میں آبادی تو بڑھ رہی ہے۔ لیکن اردو پڑھنے اور بولنے والوں کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کہی۔ اس کا اہتمام ’اردو صحافت دو سو سالہ تقریبات کمیٹی‘ نے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح آبادی بڑھ رہی ہے، اسی طرح اردو قارئین کی تعداد دن بہ دن کمی واقع ہو رہی ہے، جو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اسکولوں میں اردو نہیں پڑھائی جاتی اس وقت تک اردو پڑھنے اور لکھنے والے کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اسکولوں میں اردو اساتذہ کی کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب تک اسکولوں میں اردو پڑھنے والے طلبہ مقررہ تعداد نہیں ہوتی اردو استاذ نہیں رکھے جاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بچے اردو پڑھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ دوسری زبان پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مسٹر انصاری نے گھروں میں اردو پڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسکولوں میں اردو کی پڑھائی نہیں ہوتی اور گھر پر نہیں پڑھائیں گے تو پھر اردو کی پڑھائی کہاں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ جو کام والدین کو کرنا چاہئے وہ کام نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے ذمہ داری ان کی ہے، جن کی زبان ہے۔ لہذا اردو کے تئیں ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مطمئن رہیں کہ اردو زندہ رہے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت اردو صرف ہندوستان کی نہیں، بلکہ بین الاقوامی زبان بھی ہے۔ امریکہ، آسٹریلیاں اور دیگر ممالک میں اردو رسالے نکل رہے ہیں۔ اور اردو بولی جا رہی ہے۔

سابق مرکزی وزیر اور سابق وزیر اعلی جموں وکشمیر غلام نبی آزاد نے اردو صحافت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اردو صحافت کے آغاز کے بارے میں متضاد دعوے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلا شخص جسے کالاپانی بھیجا گیا تھا وہ ایک مسلم صحافی تھا۔ یہ تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ شخص کون تھا۔ انہوں نے کہاکہ 1794 میں ہندوستان کا پہلا اخبار ٹیپو سلطان نے ’فوجی اخبار‘ کے نام سے نکالا تھا، جو فوجیوں کے لئے تھا۔ اور پہلا پرنٹنگ پریس بھی ٹیپو سلطان نے ہی قائم کیا تھا۔

انہوں رکن نے جنگ آزادی میں اردو صحافت اور اردو صحافیوں کی خدمات کا ذکر کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں پر بات چیت بہت کم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو زبان آہستہ آہستہ سکڑ رہی ہے، اور آج کے بچے انگریزی زبان زیادہ پڑھنا پسند کرتے ہیں، کیوں کہ انہیں اس میں اپنا مستقبل نظر آتا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق سفارت کار میم افضل نے صدارت کرتے ہوئے آزادی کے بعد اردو کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذکر کیا، اور کہا کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان بنا دیا گیا ہے۔ اور اس میں کچھ حد تک اردو والے بھی شامل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اردو اس طرح توجہ نہیں دی گئی، جس کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ اردو دم توڑنے والی زبان نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اردو صحافت کے مستقبل کو زندہ رکھنا ہے، تو اپنے بچوں کو اردو پڑھائیں۔

پدم شری اور مولانا آزاد یونیورسٹی کے صدر پروفیسر اختر الواسع نے کہاکہ زبان کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اگر زبان کا مذہب ہوتا تو اردو کے پہلے اخبار جام جہاں نما کرتا دھرتا سدا سکھ لعل اور ہری دت نہیں ہوتے۔

دوسرے سیشن میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سربراہ پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ آج کا میڈیا حقائق پیش نہیں کرتا بلکہ اپنے حقائق پیش کرتا ہے۔ پہلے اخبارات حقائق کے ترجمان ہوتے ہیں، جب کہ آج دوسری طرح کے سچ بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بقول مولانا وحیدالدین خاں اردو صحافت احتجاج کی صحافت ہے۔

مشہور صحافی قربان علی نے کہا کہ جب تک اردو کو روزی روٹی سے نہیں جوڑا جائے گا، اس وقت تک نہ اردو صحافت بچیں گے، اور نہ ہی اردو کے اخبارات۔ اردو والے پیسے خرچ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اخبار کے صحافیوں کی تنخواہ انتہائی کم ہے۔ ممبئی سے شائع ہونے والا اخبار ہندوستان کے مدیر سرفراز آرزو نے اخبارات کی دگرگوں حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اشتہارات کی کمی کی وجہ سے اخبارات کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے، اور بقاء کیلئے کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اسلم پرویز نے کہا کہ اردو صحافت کا چیلنج یہ بھی ہے کہ جب تک ہم اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے اس وقت تک اردو کا بقاء ممکن نہیں ہے۔ روزنامہ آگ لکھنؤ کے مدیر اعلی ابراہم علوی نے اس سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں بچوں کو اردو پڑھائیں۔

خطاب کرنے والوں میں روزنامہ ندیم بھوپال کے ایڈیٹر عارف عزیز، شاہین نظر، ڈاکٹر سید فاروق، رکن پارلیمنٹ ندیم الحق، رئیس مرزا اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر متعدد صحافیوں کو ایوارڈ اور مومنٹو بھی پیش کیا گیا۔ جن میں یو این آئی اردو کے سابق سربراہ عبدالسلام عاصم شامل ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرضیہ عارف نے اپنی کتاب جہان فکر و فن کی کاپی سابق صدر جمہوریہ حامد انصاری کو پیش کیا۔

پہلے سیشن کی نظامت پروگرام کے کنوینر اور مشہور صحافی معصوم مرادآبادی نے کی، جب کہ دوسرے سیشن کی نظامت معروف صحافی سہیل انجم نے انجام دی۔

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بامبے ہائی کورٹ نے عصمت دری کیس میں ترون تیج پال کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

Published

on

ARREST-7

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو تہلکا کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو 2013 میں ایک جونیئر ساتھی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ان کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت عصمت دری اور دیگر جرائم کا مجرم قرار دیا۔ جسٹس نیلا گوکھلے اور امیت جمسانڈیکر کی بنچ نے سزا کا اعلان کیا اور تیج پال کو جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی۔

اس سے قبل، جسٹس گوکھلے کی قیادت والی بنچ نے ماپوسا سیشن کورٹ کے مئی 2021 کے فیصلے کے خلاف گوا حکومت کی اپیل کی اجازت دی تھی، جس نے تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں، بامبے ہائی کورٹ نے تیج پال کو آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(ایف) اور 376(2)(کے) (ریپ)، 354اے (جنسی حملہ) اور 354بی کے تحت مجرم قرار دیا۔

سزا سنانے کی سماعت کے دوران تیج پال کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دینے کے لیے ان کی سزا پر آٹھ ہفتے کے لیے روک لگانے کی درخواست کی۔ اس نے دلیل دی کہ اس فیصلے نے ان کی بریت کو پلٹ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کے خلاف کوئی اور مجرمانہ کیس نہیں ہے۔ تیج پال نے جسٹس گوکھلے کی بنچ کے سامنے نرمی کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو شکار سمجھتے ہیں اور ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت ہمدردانہ رویہ اپنائے۔

اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ اس کیس میں جنسی تشدد کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس نے کہا، “جب کوئی لڑکی ‘نہیں’ کہتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ‘نہیں’۔” کیس میں ایک جونیئر ساتھی کے الزامات شامل تھے کہ نومبر 2013 میں گوا کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران تیج پال نے لفٹ کے اندر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف عصمت دری سمیت کئی جرائم کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس کے بعد، اسے نومبر 2013 میں گرفتار کر لیا گیا تھا جب ایک مقامی عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے جولائی 2014 میں انہیں باقاعدہ ضمانت دی تھی۔ مئی 2021 میں ایڈیشنل سیشن جج کشما جوشی نے تیج پال کو بری کر دیا۔ جج نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے تفتیش میں مبینہ کوتاہیوں کا بھی حوالہ دیا، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج جیسے کچھ شواہد پیش کرنے میں ناکامی بھی شامل ہے۔ گوا حکومت نے بریت کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ حکومت نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے میں غلطی کی ہے۔

اپیل کی سماعت کے دوران استغاثہ نے دلیل دی کہ سیشن کورٹ نے ملزم کے خلاف شواہد کا جائزہ لینے کے بجائے متاثرہ کے رویے اور واقعے کے بعد کے پس منظر پر زیادہ توجہ دی۔ استغاثہ نے یہ بھی استدلال کیا کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کیا، جس میں مبینہ طور پر تیج پال کی طرف سے بھیجی گئی معافی کی ای میل بھی شامل ہے جب شکایت کنندہ نے اشاعت کے اس وقت کے منیجنگ ایڈیٹر کے ساتھ الزامات اٹھائے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کی مانخورد شیواجی نگر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مضافاتی ضلع کلکٹر کے ساتھ اہم میٹنگ

Published

on

Abu-Asim-A.

ممبئی : مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ممبئی کے مضافاتی ضلع کلکٹر (آئی اے ایس) سوربھ کٹیار سے ملاقات کی تاکہ مانخورد شیواجی نگر (گوونڈی) اسمبلی حلقہ میں مختلف زیر التواء اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔ ملاقات میں علاقے میں تعلیم، سماجی بہبود اور بحالی سے متعلق اہم مسائل کے حوالے سے تعمیری بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران ایم ایل اے اعظمی نے ضلع کلکٹر کے سامنے کلیدی مطالبات پیش کیے، جن میں مانخورد گوونڈی علاقے میں ڈگری کالج کے لیے سرکاری اراضی مختص کرنا، شیعہ مسلم کمیونٹی کے لیے تعزیہ کی تدفین کے لیے مناسب جگہ کی فراہمی، اور ٹرانزٹ کیمپوں میں رہنے والے مکینوں کی بحالی کے مسائل کا فوری حل شامل ہے۔ میٹنگ کے بعد ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، “عوامی مفاد اور حلقہ کی ہمہ جہت ترقی میرے بنیادی مقاصد ہیں۔ ضلع کلکٹر کے ساتھ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ جلد ہی اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں سازگار فیصلے کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان