Connect with us
Tuesday,03-November-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ٹائیگر شراف فائرنگ کیس : ہریانہ سے ایک خاتون سمیت 13ویں گرفتاری، بشنوئی گینگ میں خواتین اور لڑکیوں کی شمولیت کا انکشاف

Published

on

ممبئی : مشہور اداکار ٹائیگر شراف پر فائرنگ کے معاملے میں ہریانہ سے ایک خاتون ملزمہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کرائم برانچ نے کیا ہے اب اس گرفتاری کے ساتھ ملزمین کی تعداد ۱۳ ہوگئی ہے۔ اب بھی کرائم برانچ اس معاملے میں مطلوب ملزمین کی تلاش کر رہی ہے۔ ٹائیگر شراف پر 18 اکتوبر 2026 کو شام کے وقت جوہو احاطے میں دو پہیہ گاڑی سے آئے نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کی تھی۔ اس بارے میں جوہو پولیس تھانے میں 970/2026، دفعہ 109(1)، 3(5) بھارتیہ نیایہ سنہتا سہ دفعہ 3، 25 اسلحہ ایکٹ 1959 کے تحت جرم درج ہے۔ مذکورہ جرم کی مزید تفتیش کرائم برانچ کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس جرم میں اس سے پہلے کرائم برانچ نے کوٹہ (راجستھان)، دہلی اور سونی پت (ہریانہ) سے کل 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور تاریخ ۲۷ اکتوبر کو جرم میں مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول ایکٹ (مکوکا)، 1999 کی دفعات 3(1)(ii)، 3(2) و 3(4) کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جرم کی مزید تفتیش میں مذکورہ منظم گروہ کے جرائم پیشہ سرگرمی میں ہریانہ کی ایک خاتون کا حصہ ہونے کا پایا گیا۔ کرائم برانچ نے ہریانہ پولیس کی مدد سے کرنال ضلع، ہریانہ سے مذکورہ 22 سالہ خاتون ملزمہ کو تاریخ یکم نومبر کو حراست میں لے کر گرفتار کیا ہے۔ اس وجہ سے اس جرم میں اب تک کل 13 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جرم کی مزید تفتیش جاری ہے کرائم برانچ کی تفتیش میں خلاصہ ہوا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ میں نوجوانوں کے ساتھ اب خواتین و لڑکیاں بھی شامل کی جارہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

دیا مرزا کی ویڈیو ہٹانے پر ہائی کورٹ برہم، بی ایم سی کو ویڈیو بحال کرنے کا حکم، بھارت کو سیکولر ملک قرار دیا

Published

on

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا کی ایک ویڈیو سے متعلق تنازعہ پر بی جے پی رہنماؤں کی سخت سرزنش کی ہے۔ اس ویڈیو میں اداکارہ نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ عوامی مقامات یا سڑکوں پر پٹاخے نہ چلائیں۔ یہ ویڈیو ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن‘ (بی ایم سی ) کی جانب سے شروع کی گئی ایک آگاہی بیداری مہم کا حصہ تھی، جس کا مقصد پٹاخوں سے ہونے والی شور اور فضائی آلودگی کو کم کرنا تھا۔ بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد، بی ایم سی نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے یہ ویڈیو ہٹا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور بی ایم سی کو حکم دیا کہ وہ ویڈیو کو بحال کرے اور دوبارہ جاری کرے۔ دیا مرزا پر مشتمل یہ ویڈیو عوامی مقامات پر پٹاخے چلانے کی ممانعت کے بارے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے بنائی گئی تھی ۔ایک ایسا اقدام جو ہائی کورٹ کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔ اس میں شہریوں سے قوانین پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی تھی اور اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ عوامی مقامات پر پٹاخے چلانے سے عام لوگوں خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور جانوروں کو کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔

تاہم، اس ویڈیو نے ایک سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا، اور کچھ بی جے پی رہنماؤں نے اداکارہ کے موقف پر تنقید کی۔ نتیجے کے طور پر، بی ایم سی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ویڈیو ہٹانے کا فیصلہ کیا۔اس معاملے کی سماعت جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس ڈاکٹر نیلا گوکھلے پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران، بینچ نے بعض سیاسی رہنماؤں کے بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت کچھ سیاستدانوں کے غیر مربوط (بے ربط) تبصروں سے انتہائی پریشان ہے۔ مزید برآں، عدالت نے نشاندہی کی کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور کہا کہ عوامی آگاہی مہمات کو سیاسی یا مذہبی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔عوامی مقامات پر پٹاخے نہ چلانے کی اپیل کا تعلق ماحول اور عوامی مفاد سے ہے۔ عدالت کا موقف تھا کہ آگاہی پیدا کرنے کی ایسی کوششوں میں حصہ لینے والے افراد پر سیاسی اعتراضات اٹھا کر ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالنا نامناسب ہے۔دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن نے سیاسی مخالفت کے بعد ویڈیو ہٹا دی تھی، جس سے اس آگاہی مہم کے بنیادی مقصد پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا تھا۔ اس پورے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے، عدالت نے بی ایم سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر سے ہٹائی گئی ویڈیو کو بحال کرے۔ اس طرح، دیا مرزا پر مشتمل ویڈیو کے گرد پیدا ہونے والے سیاسی تنازعے میں مداخلت کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کی عوامی آگاہی مہم کو ایک نئی تحریک فراہم کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی نہور میں دعوت طعام میں باراتی غذائی سمیت کا شکار، پولس تفتیش جاری، ایف ڈی اے نے نمونہ حاصل کیا

Published

on

ممبئی نہور شادی کی تقریب میں دعوت طعام کے دوران ۷۰ سے ۸۰ باراتی کی طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے اس معاملہ میں ایف ڈی اے نے غذا کا سیمپل نمونہ حاصل کر لیا ہے اور پولس نے اس بھی اس معاملہ میں تفتیش شروع کرتی ہے غذائی رپورٹ کے معاملہ پولس اس معاملہ میں مقدمہ درج کرے گی اس کی تصدیق یہاں ڈی سی پی ابھئے سنہا دیشمکھ نے کی ہے یکم نومبر 2026 کو ناہور ویسٹ میں واقع نالندہ بدھ وہار ہال میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں تقریباً 400 سے 500 افراد نے شرکت کی۔شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 70 سے 100 کے درمیان افرادجنہوں نے کھانے کے آخری دور میں شرکت کی تھی فوڈ پوائزننگ (غذائی زہر) کا شکار ہو گئے۔ علامات ظاہر ہونے پر انہیں طبی علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ ان میں سے 22 افراد کو ملنڈ کے اگروال ہسپتال، 4 بچوں کو ملنڈکے ہی کامگار ہسپتال، اور 5 افراد کو وکھرولی کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ تمام مریضوں کی حالت فی الحال مستحکم ہے اور وہ زیرِ علاج ہیں۔ متعلقہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضروری کارروائی کر رہے ہیں۔پولس اس معاملہ میں جلد ہی ایف آئی آر درج کرے گی ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں پولس کی مستعدی سے ایک نوجوان کو سمندر سے بحفاظت باہر نکالا گیا

Published

on

ممبئی میں ایک مستعد پولیس سب انسپکٹر (پی ایس آئی ) نے خودکشی کی کوشش کرنے والے ایک شخص کو بچا لیاپولیس افسر کی بروقت مداخلت سے ایک قیمتی جان بچانے میں مدد ملی۔ ۲ نومبر کو سمندر میں خودکشی کی کوشش کرنے والے ایک شخص کی ممبئی پولس نے جان بچائی ہے ۲ نومبر کو رات ۱۲ بجے کے بعد، ممبئی پولیس کنٹرول روم کے ذریعے ایک اطلاع موصول ہوئی کہ ورلی کولیواڑا (ورلی کولیواڑا) کے علاقے میں ایک شخص خودکشی کی نیت سے سمندر میں اتر گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی، پولیس کانسٹیبل نمبر پوار (بیٹ مارشل1) اور سب انسپکٹر فوری طور پر ورلی کولیواڑا میں مذکورہ مقام پر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر ہم نے دیکھا کہ ایک شخص سمندر میں موجود ہے۔ اس بات کا احساس ہوتے ہوئے کہ اس شخص کی جان خطرے میں ہے، کانسٹیبل پوار اور میں پانی میں اترے اور اسے باہر نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ ہماری کوششوں کے نتیجے میں، اس شخص کو بحفاظت سمندر سے نکال لیا گیا۔ بعد ازاں، ہم نے اس شخص کی شناخت معلوم کی اور واقعے سے متعلق ضروری تفصیلات جمع کیں۔ اس شخص کی جسمانی حالت کا بھی جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے کہ اسے فوری طبی امداد فراہم کی جائے۔ ہماری بروقت آمد اور فوری کارروائی کی بدولت ایک ممکنہ جانی نقصان کو روکا جا سکا۔ یہ اطلاع سینئر پولیس انسپکٹر،بالکرشنا گھڈی گاؤنکر،
دادار پولیس اسٹیشن، ممبئی نے دی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان