قومی خبریں
شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ شاہین باغ مظاہرین

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔
خاتون مظاہرین میں شامل ملکہ خاں، ترنم،نصرت آراء، شیزہ اور دیگر نے الزام لگایا کہ حکومت نے شاہین اور ملک کے دیگر شاہین باغ کو ختم کرانے کے لئے تمام حربے اپنائے ہیں لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ملی اور ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب سی اے اے کے خلاف اکسانے کا الزام لگاکر کچھ مسلم نوجوانوں کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شاہین باغ میں مکانوں پر کچھ نمبر لکھ کر وہاں کے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کا حق آئین دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی شاہین باغ معاملے میں واضح طور پر کہا ہے کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ تو پھر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف بولنا جرم کیسے ہوگیا ہے جو اس وقت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش ہے اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ڈر اور خوف کے حصار سے ہم لوگ نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم لوگ ضروری کاموں کے علاوہ گھر سے نہیں نکلتی تھیں لیکن آج شاہین باغ ہی پورے ملک میں ڈھائی سو سے زائد شاہین باغ بن چکے ہیں اور ہر جگہ خواتین نے احتجاج کا مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اب خواتین خوف و دہشت کے قید سے آزاد ہوچکی ہیں اور اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار شدہ مسلم نوجوان سی اے اے کے خلاف اکسارہے تھے۔ہم لوگ جاننا چاہتی ہیں کہ سی اے اے کے خلاف بیدار کرنا جرم کیسے ہوگیا اور پولیس کیسے ان لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح سی اے اے کے خلاف دھرنا مظاہرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے بات چیت کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور اس سیاہ قانون کو واپس لے۔ ایسا کرنے سے ہی ملک کا بھلا ہوگا اور ملک کے وقار میں اضافہ، مشترکہ تہذیب میں یقین اور سماج تقسیم ہونے سے بچ جائے گا۔
دہلی میں فساد میں فساد اور پچاس سے زائد لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد سے مشرقی دہلی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ بند ہے لیکن کئی مقامات پر شروع ہوگئے ہیں۔بہار کے سہسرام میں شاہین باغ بناکر خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور جب تک حکومت اس کو واپس نہیں لیتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ اڑیسہ کے بھدرک میں ’شاہین باغ بھدرک‘ بناکر خواتین قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے آئین کو بچائیں گے۔ اس کے لئے جو بھی قربانی دینی ہوگی دیں گے لیکن دستور کی ہر حال میں حفاظت کریں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر جیل بھی بھیجوائیں گے تو بھی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ساتھ ہی مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہاکہ یہ قانون ملک کو توڑنے والا ہے اوراس سے سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔
اسی کے ساتھ حضرت نظام میں میں خواتین کے احتجاج کا آج46واں دن ہوگیا ہے۔26جنوری سے احتجاج شروع ہوا تھا۔ وہاں کے انتظام و انصرام دیکھنے والے محمد عمر اور شیخ غلام جیلانی نے بتایا کہ اس احتجاج میں شریک ہونے والے میں سے سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، مشہور وکیل پرشانت بھوشن، ہندو سینا کے صدر یوراج سنگھ، انجلی بھاردواج، راہل اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ پنجاب میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مسلسل ریلیاں اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین نے شاہین باغ کی حمایت اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف زبردست ریلی نکالی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔کل پولیس کے آنے سے کچھ بدمزدگی پیدا ہوگئی تھی لیکن جلد ہی پولیس وہاں سے چلی گئی۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، آزاد مارکیٹ،جامع مسجدمیں مظاہرہ جاری ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور ٹونک کے موتی باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسورکے نیلم باغ، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
سیاست
بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل 2024 سمیت 16 بل منظور ہوئے، اکیلے 24 گھنٹے بحث، کل 26 اجلاس ہوئے، 173 ممبران نے شرکت کی۔

نئی دہلی : 31 جنوری کو شروع ہونے والا بجٹ اجلاس جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2024 کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف (ترمیمی) بل سمیت کل 16 بل منظور کئے گئے۔ اپوزیشن ارکان کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان، برلا نے کہا کہ سیشن میں 26 نشستیں ہوئیں اور مجموعی پیداوار 118 فیصد رہی۔ صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں 173 ارکان نے حصہ لیا۔ برلا نے کہا کہ ایوان میں مرکزی بجٹ پر بحث میں 169 ارکان نے حصہ لیا، جب کہ 10 سرکاری بلوں کو دوبارہ پیش کیا گیا اور وقف (ترمیمی) بل 2024 سمیت کل 16 بل منظور کیے گئے۔ قبل ازیں، جمعہ کو جب لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو بی جے پی کے ارکان نے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی سے اپنے ایک تبصرہ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے ارکان نے امریکہ کے باہمی ٹیرف پر ایوان میں ہنگامہ کیا۔
تاہم ایوان میں ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کیا۔ بی جے پی کے ارکان کا ہنگامہ اس وقت بھی جاری رہا جب خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اناپورنا دیوی اپنی وزارت سے متعلق ایک ضمنی سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سونیا گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے۔ وہ جب چاہتی ہے، پارلیمنٹ پر حملہ کرتی ہے، صدر اور نائب صدر پر حملہ کرتی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر فی الحال راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی سربراہ سونیا گاندھی نے جمعرات کو حکومت پر وقف (ترمیمی) بل کو من مانی طور پر منظور کرنے کا الزام لگایا اور دعوی کیا کہ یہ بل آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔ نیز، یہ سماج کو مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھنے کے لیے بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔
اس دوران اپوزیشن اراکین نے ‘وزیراعظم جواب دو’ اور ‘وزیراعظم ایوان میں آئیں’ کے نعرے لگائے۔ جب نعرے بازی نہیں رکی تو برلا نے تقریباً 11.05 بجے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ بجٹ اجلاس کے آخری دن جب ایک مختصر التوا کے بعد دوپہر 12 بجے لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان میں سونیا گاندھی کے تبصرہ کا حوالہ دیا۔ اس پر برلا نے کہا کہ کسی سینئر رکن کے لیے لوک سبھا کی کارروائی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ برلا نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایوان کی کارروائی پر ایک سینئر رکن نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمانی جمہوریت کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔ اس دوران کانگریس ارکان نے بھی اپنے خیالات پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کیا۔ چند منٹ بعد برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ حکومت نے بجٹ سیشن کے دوران مختلف وزارتوں کے لیے گرانٹ کے مطالبات کے ساتھ مالیاتی بل کو لوک سبھا کی منظوری کے ساتھ بجٹ کا عمل مکمل کیا۔ صدر راج کے تحت منی پور کے بجٹ کو بھی ایوان نے منظور کرلیا۔
سیاست
آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے ہزاروں مساجد کو منہدم کرکے مندروں کو واپس لینے کے خلاف احتجاج کیا، ہمیں ماضی میں نہیں پھنسنا چاہیے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے مبینہ طور پر مندروں کو گرا کر تعمیر کی گئی ہزاروں مساجد کو واپس لینے کے بڑھتے ہوئے مطالبے کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے کہا کہ سنگھ اس خیال کے خلاف ہے۔ تاہم، ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے سادھوؤں اور سنتوں کی تحریک کو آر ایس ایس کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ سنگھ اپنے اراکین کو وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی وارانسی میں کاشی وشواناتھ مندر اور متھرا میں کرشنا جنم بھومی کے مقامات حاصل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرنے سے نہیں روکے گا۔ ہوسابلے نے کہا کہ مبینہ طور پر مندروں کی جگہوں پر بنائی گئی مساجد کو منہدم کرنے کی کوششیں ایک مختلف زمرے میں آتی ہیں۔
لیکن اگر ہم باقی تمام مساجد اور تعمیرات کی بات کریں تو کیا ہمیں 30,000 مساجد کھود کر تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ ہوسابلے نے ایک انٹرویو میں کہا۔ کیا اس سے معاشرے میں مزید دشمنی اور ناراضگی پیدا نہیں ہوگی؟ کیا ہمیں ایک معاشرے کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے یا ماضی میں پھنسے رہنا چاہیے؟ سوال یہ ہے کہ ہم تاریخ میں کتنا پیچھے جائیں گے؟ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے، سنگھ کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ مبینہ طور پر متنازعہ مساجد کی جگہوں پر کنٹرول کا مطالبہ سماج کی دیگر ترجیحات جیسے کہ چھوت چھوت کا خاتمہ اور اس کے خاتمے کی بھاری قیمت پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہی کرتے رہے تو دیگر اہم سماجی تبدیلیوں پر کب توجہ دیں گے۔ اچھوت کو ختم کرنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم نوجوانوں میں اقدار کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟
ہوسابلے نے یہ بھی کہا کہ ثقافت، زبانوں کا تحفظ، تبدیلی مذہب، گائے کا ذبیحہ اور محبت جہاد جیسے مسائل بھی اہم ہیں۔ لہذا، بحالی کے ایجنڈے پر یک طرفہ کوشش جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ نے کبھی نہیں کہا کہ ان مسائل کو نظر انداز کرنا چاہئے یا ان پر کام نہیں کرنا چاہئے۔ ہوسابلے نے کہا کہ متنازعہ مقامات پر تعمیر نو کی تحریک مندر کے تصور کے مطابق نہیں ہے۔ مندر کے تصور پر غور کریں۔ کیا ایک سابقہ مندر جسے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا ہے اب بھی ایک الہی مقام ہے؟ کیا ہمیں پتھر کے ڈھانچے کی باقیات میں ہندو مذہب کو تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے، یا ہمیں ان لوگوں کے اندر ہندومت کو بیدار کرنا چاہئے جنہوں نے خود کو اس سے دور کر لیا ہے؟ پتھروں کی عمارتوں میں ہندو وراثت کے آثار تلاش کرنے کے بجائے اگر ہم ان اور ان کی برادریوں کے اندر ہندو جڑوں کو زندہ کریں تو مسجد کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
سیاست
وقف بل پر امیت شاہ کا دو ٹوک بیان… سرکاری املاک کو عطیہ نہیں کیا جاسکتا، پارلیمنٹ کا قانون سب کو ماننا پڑے گا، کسی غیر مسلم شخص کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندہ اپنی جائیداد سے دیا جا سکتا ہے، سرکاری زمین کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف خیراتی وقف کی ایک قسم ہے۔ اس میں وہ شخص ایک مقدس عطیہ کرتا ہے۔ چندہ صرف اسی چیز کا دیا جا سکتا ہے جو ہماری ہے۔ میں سرکاری جائیداد یا کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا۔ یہ ساری بحث اسی پر ہے۔ یہی نہیں، اپنی بات پیش کرتے ہوئے شاہ نے واضح طور پر کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا قانون ہے اور سب کو اسے ماننا پڑے گا۔ امیت شاہ نے لوک سبھا میں کہا کہ میں اپنے کابینہ کے ساتھی کے ذریعہ پیش کردہ بل کی حمایت میں کھڑا ہوں۔ میں دوپہر 12 بجے سے جاری بحث کو غور سے سن رہا ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ بہت سے اراکین کے ذہنوں میں بہت سی غلط فہمیاں موجود ہیں، یا تو معصومانہ طور پر یا سیاسی وجوہات کی بنا پر، اور ایوان کے ذریعے ملک بھر میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے کہ اس ایکٹ کا مقصد مسلمان بھائیوں کی مذہبی سرگرمیوں اور ان کی عطیہ کردہ جائیداد میں مداخلت کرنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیلا کر اور اقلیتوں کو ڈرا کر ووٹ بینک بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میں چند باتیں واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔
مرکزی وزیر شاہ نے ایوان میں واضح طور پر کہا کہ سب سے پہلے وقف میں کسی غیر مسلم شخص کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے نہ تو مذہبی اداروں کے انتظام کے لیے غیر مسلموں کو مقرر کرنے کا کوئی بندوبست کیا ہے اور نہ ہی ہم ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وقف کونسل اور وقف بورڈ کا قیام 1995 میں ہوا تھا۔ ایک غلط فہمی ہے کہ یہ ایکٹ مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں اور عطیہ کردہ جائیدادوں میں مداخلت کرتا ہے۔ یہ غلط معلومات اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے اور مخصوص ووٹر ڈیموگرافکس کو خوش کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔ شاہ نے کہا کہ وقف عربی کا لفظ ہے۔ وقف کی تاریخ کچھ احادیث سے منسلک ہے اور آج جس معنی میں وقف کا استعمال کیا جاتا ہے اس کا مطلب ہے اللہ کے نام پر جائیداد کا عطیہ… مقدس مذہبی مقاصد کے لیے جائیداد کا عطیہ۔ وقف کا عصری مفہوم اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وجود میں آیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر آج کی زبان میں وضاحت کی جائے تو وقف خیراتی اندراج کی ایک قسم ہے۔ جہاں کوئی شخص جائیداد، زمین مذہبی اور سماجی بہبود کے لیے عطیہ کرتا ہے، اسے واپس لینے کی نیت کے بغیر۔ اس میں چندہ دینے والے کی بڑی اہمیت ہے۔ چندہ صرف اسی چیز کا دیا جا سکتا ہے جو ہماری ہے۔ میں سرکاری جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا، میں کسی اور کی جائیداد عطیہ نہیں کر سکتا۔ امت شاہ نے کانگریس پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر 2013 میں وقف بل میں آئی ترمیم نہ کی گئی ہوتی تو آج اس ترمیم کو لانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس وقت کانگریس حکومت نے دہلی میں 125 لوٹین جائیدادیں وقف کو دی تھیں۔ ناردرن ریلوے کی زمین وقف کو دی گئی۔ ہماچل میں وقف زمین ہونے کا دعویٰ کر کے ایک مسجد بنائی گئی۔ انہوں نے تمل ناڈو سے کرناٹک تک کی مثالیں دیں جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کیا اور ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔
امیت شاہ نے مزید کہا کہ میں پورے ملک کے مسلمان بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایک بھی غیر مسلم آپ کے وقف میں نہیں آئے گا۔ وقف بورڈ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو جائیدادیں بیچتے ہیں اور انہیں سینکڑوں سالوں کے کرایہ پر مہنگے داموں دیتے ہیں۔ انہیں پکڑنے کا کام وقف بورڈ اور وقف کونسل کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو ملی بھگت ان کے دور حکومت میں ہوئی وہ جاری رہے، ایسا نہیں چلے گا۔ لوک سبھا میں امت شاہ نے کہا، ‘وقف قانون کسی کی طرف سے عطیہ کردہ جائیداد کے بارے میں ہے، آیا اس کا نظم و نسق ٹھیک سے چل رہا ہے یا نہیں، قانون کے مطابق چل رہا ہے یا نہیں۔ یا تو چندہ کسی وجہ سے دیا جا رہا ہے، یہ دین اسلام کے لیے دیا گیا ہے، یا تو غریبوں کی نجات کے لیے دیا گیا ہے۔ یہ ریگولیٹ کرنے کا کام ہے کہ آیا اسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا