Connect with us
Saturday,02-May-2026

قومی خبریں

شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔ شاہین باغ مظاہرین

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے دہلی کے مختلف علاقوں میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اکسانے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ شاہین باغ اور ملک کے دیگر شاہین کو ختم کرنے کی ایک سازش ہے۔
خاتون مظاہرین میں شامل ملکہ خاں، ترنم،نصرت آراء، شیزہ اور دیگر نے الزام لگایا کہ حکومت نے شاہین اور ملک کے دیگر شاہین باغ کو ختم کرانے کے لئے تمام حربے اپنائے ہیں لیکن اسے اب تک کامیابی نہیں ملی اور ہمارا احتجاج جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اب سی اے اے کے خلاف اکسانے کا الزام لگاکر کچھ مسلم نوجوانوں کرکے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ شاہین باغ میں مکانوں پر کچھ نمبر لکھ کر وہاں کے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کسی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کا حق آئین دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی شاہین باغ معاملے میں واضح طور پر کہا ہے کہ مظاہرہ کرنا آپ کا حق ہے۔اس سے کوئی روک نہیں سکتا۔ تو پھر قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف بولنا جرم کیسے ہوگیا ہے جو اس وقت مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش ہے اور ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ڈر اور خوف کے حصار سے ہم لوگ نکل آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا جب ہم لوگ ضروری کاموں کے علاوہ گھر سے نہیں نکلتی تھیں لیکن آج شاہین باغ ہی پورے ملک میں ڈھائی سو سے زائد شاہین باغ بن چکے ہیں اور ہر جگہ خواتین نے احتجاج کا مورچہ سنبھال رکھا ہے۔ یہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ اب خواتین خوف و دہشت کے قید سے آزاد ہوچکی ہیں اور اپنا حق لینا جانتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جیسا کہ دہلی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار شدہ مسلم نوجوان سی اے اے کے خلاف اکسارہے تھے۔ہم لوگ جاننا چاہتی ہیں کہ سی اے اے کے خلاف بیدار کرنا جرم کیسے ہوگیا اور پولیس کیسے ان لوگوں کو گرفتار کرسکتی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کا ایک ہی مقصد ہے کسی طرح سی اے اے کے خلاف دھرنا مظاہرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے بات چیت کرے، ان کے خدشات کو دور کرے اور اس سیاہ قانون کو واپس لے۔ ایسا کرنے سے ہی ملک کا بھلا ہوگا اور ملک کے وقار میں اضافہ، مشترکہ تہذیب میں یقین اور سماج تقسیم ہونے سے بچ جائے گا۔
دہلی میں فساد میں فساد اور پچاس سے زائد لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد سے مشرقی دہلی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ بند ہے لیکن کئی مقامات پر شروع ہوگئے ہیں۔بہار کے سہسرام میں شاہین باغ بناکر خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف احتجاج کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ اس سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور جب تک حکومت اس کو واپس نہیں لیتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ اڑیسہ کے بھدرک میں ’شاہین باغ بھدرک‘ بناکر خواتین قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے آئین کو بچائیں گے۔ اس کے لئے جو بھی قربانی دینی ہوگی دیں گے لیکن دستور کی ہر حال میں حفاظت کریں گے۔ ان لوگوں نے کہا کہ اگر جیل بھی بھیجوائیں گے تو بھی کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ ساتھ ہی مظاہرہ کرنے والی خواتین نے کہاکہ یہ قانون ملک کو توڑنے والا ہے اوراس سے سماج میں تفرقہ پیدا ہوگا۔
اسی کے ساتھ حضرت نظام میں میں خواتین کے احتجاج کا آج46واں دن ہوگیا ہے۔26جنوری سے احتجاج شروع ہوا تھا۔ وہاں کے انتظام و انصرام دیکھنے والے محمد عمر اور شیخ غلام جیلانی نے بتایا کہ اس احتجاج میں شریک ہونے والے میں سے سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر، فلمی اداکارہ سورا بھاسکر، مشہور وکیل پرشانت بھوشن، ہندو سینا کے صدر یوراج سنگھ، انجلی بھاردواج، راہل اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے ذمہ داروں شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ پنجاب میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف مسلسل ریلیاں اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ پنجاب کے مالیر کوٹلہ میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین نے شاہین باغ کی حمایت اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف زبردست ریلی نکالی۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔کل پولیس کے آنے سے کچھ بدمزدگی پیدا ہوگئی تھی لیکن جلد ہی پولیس وہاں سے چلی گئی۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، آزاد مارکیٹ،جامع مسجدمیں مظاہرہ جاری ہے۔
راجستھان کے میوات میں امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور،اودن پور اور ٹونک کے موتی باغ میں خواتین کا احتجاج جاری ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسورکے نیلم باغ، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خاتون مظاہرین میں شامل55سالہ فریدہ کی بارش میں بھیگنے کی وجہ سے موت ہوگئی۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔

سیاست

ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں۔ رام مندر کی تعمیر ملک کی قیادت اور عوامی حمایت سے ہوئی : موہن بھاگوت

Published

on

mohan-bhagwat

نئی دہلی : آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر اقتدار میں رہنے والوں کے عزم اور ملک بھر کے لوگوں کی حمایت کی وجہ سے بنایا گیا تھا۔ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ پہلے سے ہی ایک حقیقت ہے۔ بھاگوت نے یہ بیان پیر کو ناگپور میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی قیادت کرنے والوں کے اعزاز میں ایک تقریب کے دوران دیا۔ آر ایس ایس کی طرف سے جاری کردہ ایک ریلیز کے مطابق اس تقریب کا اہتمام ناگپور کے ریشم باغ میں ڈاکٹر ہیڈگیوار میموریل کمیٹی نے کیا تھا۔ بھاگوت نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر بھگوان رام کی مرضی سے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے بھگوان کرشن کے گووردھن پہاڑ کو اٹھانے کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اس نے کہا، “یہ بھگوان کی انگلیوں پر ٹکی ہوئی ہے، لیکن انگلیاں اس وقت تک حرکت نہیں کرتی جب تک کہ لوگ اپنی لاٹھی نہ جوڑ لیں۔ اس طرح ہیکل کی تعمیر ہوئی۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ رام مندر کی تعمیر اقتدار میں رہنے والوں کی پرعزم قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ بھاگوت نے کہا کہ یہ سیاسی مرضی کے بغیر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا، “مندر کی تعمیر کا فیصلہ لیا گیا تھا، لیکن یہ مضبوط بنیاد کے بغیر کیسے کھڑا ہوسکتا ہے؟ ہندوستان کے ہر فرد نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔” ان کے مطابق بھگوان رام کی انگلی نے مندر کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ ہندو قوم کے بارے میں موہن بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کے بطور ہندو قوم کے تصور کا کبھی مذاق اڑایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہی لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان ہندوؤں کی سرزمین ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ رام مندر کی تعمیر میں شامل لوگوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے، اب ہمیں اپنا کرنا ہے، انہیں مندر بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اور انہوں نے توقع سے زیادہ کام کیا ہے۔

Continue Reading

سیاست

پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری ایک بار پھر خبروں میں! انہوں نے چار بچے پیدا کرنے کی اپیل کی اور ایک بچہ آر ایس ایس کو دینے کو کہا۔

Published

on

Dhirendra-Mohan

ناگپور : پنڈت دھیریندر کرشنا شاستری اپنے بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اس بار انہوں نے ایک بیان دیا جس کا ویڈیو اب تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ناگپور میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا، “ہم پورے ہندوستان کو ایک بات بتانا چاہتے ہیں۔ جب بھی ہندوستان میں کہیں بھی کوئی آفت آتی ہے، لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتے ہیں، لیکن ہمارے آر ایس ایس کا ایک ایک کارکن اپنی جان کے لیے نہیں بھاگتا، وہ وہاں جا کر جان بچاتا ہے، یہ آر ایس ایس ہے۔ ہم پورے ہندوستان سے گزارش کرتے ہیں کہ چار بچے پیدا کریں، اور ایک آر ایس ایس کو دیں تاکہ وہ دوسروں کو بچانے میں مدد کر سکیں”۔ تقریب کے دوران انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی تعریف کی۔ اس کے بعد انہوں نے موہن بھاگوت کی طرف دیکھا اور کہا، “ہم چاہتے ہیں کہ آپ اسی طرح مسکراتے رہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے پاس جلد ہی ایک متحد ہندوستان ہوگا اور ہم خوش ہوں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ بالاجی آپ کو کچھ بڑا کرنے پر مجبور کریں گے۔” آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت خود اس تقریب میں موجود تھے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس، مرکزی وزیر نتن گڈکری، اور کئی دوسرے سنت بھی موجود تھے۔

اس دوران دھریندر شاستری نے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں ایک اہم بیان بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج لڑتے لڑتے تھک چکے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سمرتھ رام داس سوامی کے پاس گئے اور کہا کہ وہ اب لڑنا نہیں چاہتے اور تاج اور اقتدار سونپنا چاہتے ہیں۔ رام داس سوامی نے جواب دیا کہ ایک شاگرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے گرو کے حکم کی تعمیل کرے، اس لیے اسے اقتدار سنبھالنا چاہیے۔ اس سے پہلے، انہوں نے پریاگ راج، اتر پردیش میں کہا تھا کہ سناتن دھرم ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے اور تمام سناتن پرستوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ہندو قوم بنانے کا ہدف بہت مشکل تھا اور قربانی مانگتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

“اگر ہندوستان اور پاکستان دوست بن جائیں تو آبنائے ہرمز کا مسئلہ حل ہو جائے گا،” پاکستانی ماہر نے آئی پی آئی اور ٹی اے پی آئی منصوبوں کی وضاحت کی

Published

on

shahbaz-&-modi

اسلام آباد : آبنائے ہرمز کے بحران نے جنوبی ایشیائی ممالک کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ چین بھارت تنازع کے باوجود تجارت جاری رہنے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی ماہرین نے پاکستانی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرے۔ موسمیاتی تبدیلی اور ترقی کے ماہر علی توقیر شیخ نے شہباز حکومت کو مشورہ دیا کہ آبنائے ہرمز کے بحران نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارت سے دوستی کرنا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان پہلے ہی بھارت کے ساتھ تجارت نہ کرنے کی قیمت چکا رہا ہے اور ہرمز کے بحران نے صورتحال کو کافی خراب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 81 فیصد تیل کی درآمد آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ ہندوستان اپنے 40 فیصد تیل اور 80 فیصد گیس کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ دو پائپ لائن منصوبے ہیں جن پر اگر ہندوستان اور پاکستان اکٹھے ہو جائیں تو دونوں ممالک اپنے توانائی کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ پہلا- ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن اور دوسرا تاپی منصوبہ۔

علی توقیر شیخ نے ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن پر شہباز شریف کی حکومت کو اہم مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایران پاکستان پائپ لائن کا ایرانی حصہ پہلے ہی تعمیر ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اپنے 780 کلومیٹر کے حصے میں سے صرف 80 کلومیٹر مکمل کرنے کی ضرورت ہے، لیکن امریکی پابندیوں اور ایران کے 18 بلین ڈالر کے جرمانے کی وجہ سے وہ ایسا کرنے سے قاصر ہے۔ اگر امریکی پابندیاں ہٹا دی جاتی ہیں تو اس پائپ لائن کو مکمل کرنے سے پاکستان کی صنعتوں کو تقویت ملے گی، بجلی کی لاگت میں کمی آئے گی، اور پائیدار اقتصادی سرگرمیاں پیدا ہوں گی جو کسی بھی ملک کو اندر سے مضبوط کرتی ہیں۔ ایران کا جنوبی پارس گیس فیلڈ دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے اور یہ خلیج فارس، بحیرہ کیسپین اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ اگر مکمل ہو جاتا ہے تو ایران، پاکستان-بھارت پائپ لائن مشرق وسطیٰ کے گیس کے سب سے بڑے ذخائر کو جنوبی ایشیا کی توانائی کی سب سے بڑی منڈیوں سے جوڑ دے گی۔ مزید برآں، شمال میں ترکمانستان سے ایران کے موجودہ رابطوں کا مطلب یہ بھی ہے کہ مستقبل میں وسطی ایشیائی گیس کو افغانستان سے گزرے بغیر اس راستے سے مشرق کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کے لیے ٹرانزٹ فیس پیدا ہوگی۔ خلیجی ممالک پر ہندوستان کا انحصار کم ہوگا اور ایران کو عالمی معیشت میں دوبارہ شامل ہونے کا موقع ملے گا۔

TAPI پروجیکٹ کیا ہے؟

  1. TAPI پروجیکٹ قدرتی گیس پائپ لائن کا ایک پرجوش منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد ترکمانستان کے گیس کے وسیع ذخائر کو افغانستان اور پاکستان کے راستے بھارت سے جوڑنا ہے۔ اس میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور ہندوستان شامل ہیں۔
  2. پائپ لائن تقریباً 1,814 کلومیٹر لمبی ہوگی اور اس سے سالانہ تقریباً 33 بلین کیوبک میٹر (بی سی ایم) قدرتی گیس کی نقل و حمل کی توقع ہے۔
  3. گیس ترکمانستان کے گالکنیش گیس فیلڈ سے حاصل کی جائے گی، جو دنیا کے سب سے بڑے فیلڈ میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے کو بھارت کے لیے توانائی کی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جاتا تھا لیکن افغانستان میں عدم استحکام اور پاکستان کے ساتھ تنازعات نے اس منصوبے کو روک دیا۔

ان دو گیس پائپ لائنوں کا حوالہ دیتے ہوئے، علی توقیر شیخ بتاتے ہیں کہ وہ مل کر خطے کو مغرب اور شمال دونوں طرف سے زمینی توانائی فراہم کرتے ہیں اور راہداری بناتے ہیں جن کے ذریعے بالآخر قابل تجدید توانائی کی تجارت کی جائے گی۔ مزید برآں، یہ حریفوں کو تعاون کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی وجہ فراہم کرے گا۔ یہ آب و ہوا کی سرمایہ کاری اور حکمت عملی دونوں ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہرمز کے بحران نے معاشی تنہائی کی حقیقی قیمت کو ظاہر کر دیا ہے۔ اس کا حل مزید تنہائی میں نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کے اکٹھے ہونے میں ہے، جس سے وہ اپنے توانائی کے مسائل کا دیرپا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان