Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

سوشانت اور کنگنا میں پورے ملک کو اُلجھادیا گیا، جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے

Published

on

ممبئی : ایسے کٹھن حالات میں جب پورا ملک کورونا کو شکست دینے میں ناکام ہیں. ملک کی معاشیت تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں. اب تو حال یہ ہوگیا ہے کہ کورونا اور لاک ڈاؤن کی مار جھیل رہی عوام خودکشی پر آمادہ ہوگئی ہیں. حکومت کے پی ایم کیئر سے عوام کو 3 مہینے تک500 -500 روپیہ کا لالی پاپ پکڑا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ تھما دیا گیا. اب حب کہ دوسرے اور مسائل ہیں جہاں میں, انہیں چھوڑ کر کنگنا اور سوشانت کو ہائی لائٹ کرکے عوام کا دھیان بھٹکا دیا گیا ہے اور حکومت وقت سارے مسائل سے چشم پوشی برت کر طوطا چشم بن گئی ہے. جس طرح کنگنا اور سوشانت پر سیاست کی جارہی ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ایک آزاد ملک کے لیڈران ہیں. عوام کو جب کی ضرورت ہیں. ایک ایسے وقت میں جب کورونا نامی طوفان نے ملک کو معاشی اور اقتصادی طور پر نقصان پہنچایا ہے. اس کورونا کے بھوت نے ہمارے کتنے اپنوں کو چھینا ہے. جن کا نا آخری دیدار ہوسکا اور نا آخری رسومات ادا کی جاسکی. بتادیں کہ کنگنا راناوت کو Y زمرے کی سکیورٹی فراہم کئے جانے کے بعد ملک کے مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ ایک تو کنگنا نے خود وطن مخالف بیان دیتے ہوئے ملک کے 135 کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ ممبئی میں ایسا کیا ہوگیا کہ کنگنا نے اُسے مقبوضہ کشمیر سے تعبیر کردیا جہاں قتل و غارت گری عام بات ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور میڈیا نے اسے سر پر بیٹھایا ہوا ہے اور تو اور میڈیا اِس وقت ملک کے اہم مسائل کو چھوڑ کر سوشانت سنگھ راجپوت قتل اور کنگنا راناوت میں اُلجھا ہوا ہے جیسے کہ یہ کوئی قومی مسائل ہوں۔ آل انڈیا پیپلز کنسرن کے صدر مہیش جگتاپ نے کہاکہ اس کوویڈ۔19 کے خاتمہ اور ملک کی معیشت کو دوبارہ معمول پر لانے کو اہمیت اور اوّلیت دیئے جانے کی ضرورت ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ چور جب کوئی بیل چُرانے کے لئے آتے ہیں تو اُس کے گلے کی گھنٹی اُتار کر اپنے ساتھی کو تھما دیتے ہیں اور وہ ساتھی گھنٹی کو لے کر بھاگتا ہے اور بیل کا مالک سمجھتا ہے کہ بیل کے بھاگنے سے گھنٹی بج رہی ہے جبکہ دیگر چور بیل کو دوسرے راستے سے صاف اُڑالے جاتے ہیں اور بیل مالک گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگتا ہی رہ جاتا ہے۔ آج پورے ملک میں لوگ اِسی گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کلین اپ مارشل اور سوچھ ممبئی مہم کا خاتمہ، شہریوں سے جرمانہ وصولی پر بھی پابندی، بی ایم سی ہیلپ لائن نمبر جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے کلین اپ مارشل پالیسی کو ختم کر دیا ہے جس کے بعد اب کلین اپ مارشل کا شہر کی سڑکوں سے صفایا ہو گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے کلین اپ مارشل پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے اور سوچھ ممبئی مشن کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے معرفت اب کوئی بھی کلین اپ مارشل جرمانہ یا دیگر تعزیری کارروائی کے لئے شہریوں کو مجبور نہیں کرسکتا۔ کلین اپ مارشل کے خلاف شکایت کے بعد ممبئی بی ایم سی نے فیصلہ کیا ہے آج سے کلین اپ مارشل کی سروس کو بند اور موخر کردیا گیا ہے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ محکمہ کچرا اور صاف صفائی کے تحت ممبئی میں عوامی صفائی کی نگرانی اور ’سوچھ ممبئی مشن‘ کو 4 اپریل 2025 سے بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر اس کے باوجود ان پرُکوئی جرمانہ عائد کیا گیا ہے, تو وہ اس کی شکایت کرسکتے ہیں۔ کلین اپ مارشل کی شکایت ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈویژنل کنٹرول روم سے 022-23855128 اور 022-23877691 (ایکسٹینشن نمبر 549/500) پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

سیاست

بجٹ اجلاس کے دوران وقف ترمیمی بل 2024 سمیت 16 بل منظور ہوئے، اکیلے 24 گھنٹے بحث، کل 26 اجلاس ہوئے، 173 ممبران نے شرکت کی۔

Published

on

Parliament

نئی دہلی : 31 جنوری کو شروع ہونے والا بجٹ اجلاس جمعہ کو وقف ترمیمی بل 2024 کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وقف (ترمیمی) بل سمیت کل 16 بل منظور کئے گئے۔ اپوزیشن ارکان کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان، برلا نے کہا کہ سیشن میں 26 نشستیں ہوئیں اور مجموعی پیداوار 118 فیصد رہی۔ صدر دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث میں 173 ارکان نے حصہ لیا۔ برلا نے کہا کہ ایوان میں مرکزی بجٹ پر بحث میں 169 ارکان نے حصہ لیا، جب کہ 10 سرکاری بلوں کو دوبارہ پیش کیا گیا اور وقف (ترمیمی) بل 2024 سمیت کل 16 بل منظور کیے گئے۔ قبل ازیں، جمعہ کو جب لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو بی جے پی کے ارکان نے کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی سے اپنے ایک تبصرہ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے ارکان نے امریکہ کے باہمی ٹیرف پر ایوان میں ہنگامہ کیا۔

تاہم ایوان میں ہنگامہ آرائی کے درمیان لوک سبھا اسپیکر نے وقفہ سوالات شروع کیا۔ بی جے پی کے ارکان کا ہنگامہ اس وقت بھی جاری رہا جب خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اناپورنا دیوی اپنی وزارت سے متعلق ایک ضمنی سوال کا جواب دینے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سونیا گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی توہین کی ہے۔ وہ جب چاہتی ہے، پارلیمنٹ پر حملہ کرتی ہے، صدر اور نائب صدر پر حملہ کرتی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر فی الحال راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی سربراہ سونیا گاندھی نے جمعرات کو حکومت پر وقف (ترمیمی) بل کو من مانی طور پر منظور کرنے کا الزام لگایا اور دعوی کیا کہ یہ بل آئین پر ایک کھلا حملہ ہے۔ نیز، یہ سماج کو مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھنے کے لیے بی جے پی کی منصوبہ بند حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔

اس دوران اپوزیشن اراکین نے ‘وزیراعظم جواب دو’ اور ‘وزیراعظم ایوان میں آئیں’ کے نعرے لگائے۔ جب نعرے بازی نہیں رکی تو برلا نے تقریباً 11.05 بجے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ بجٹ اجلاس کے آخری دن جب ایک مختصر التوا کے بعد دوپہر 12 بجے لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان میں سونیا گاندھی کے تبصرہ کا حوالہ دیا۔ اس پر برلا نے کہا کہ کسی سینئر رکن کے لیے لوک سبھا کی کارروائی پر سوال اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ برلا نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایوان کی کارروائی پر ایک سینئر رکن نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمانی جمہوریت کے وقار کے مطابق نہیں ہے۔ اس دوران کانگریس ارکان نے بھی اپنے خیالات پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کیا۔ چند منٹ بعد برلا نے ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ حکومت نے بجٹ سیشن کے دوران مختلف وزارتوں کے لیے گرانٹ کے مطالبات کے ساتھ مالیاتی بل کو لوک سبھا کی منظوری کے ساتھ بجٹ کا عمل مکمل کیا۔ صدر راج کے تحت منی پور کے بجٹ کو بھی ایوان نے منظور کرلیا۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی فوج کا غزہ میں بڑا فوجی آپریشن، آئی ڈی ایف کے حملے میں 50 فلسطینی ہلاک، نیتن یاہو نے بتایا موراگ راہداری منصوبے کے بارے میں

Published

on

Netanyahu-orders-army

تل ابیب : اسرائیلی فوج نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ اسرائیل غزہ میں ایک طویل اور وسیع مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج دو متوازی کارروائیاں شروع کرنے جا رہی ہے۔ ایک شمالی غزہ میں اور دوسرا وسطی غزہ میں۔ اس تازہ ترین مہم کا مقصد پورے غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں حماس کا اثر کم ہے۔ دوسرا علاقہ وہ ہے جہاں حماس کے دہشت گردوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیلی فوج غزہ پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے جا رہی ہے۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سکیورٹی کوریڈور قائم کر رہا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے اسے موراگ کوریڈور کا نام دیا۔ راہداری کا نام رفح اور خان یونس کے درمیان واقع یہودی بستی کے نام پر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوریڈور دونوں جنوبی شہروں کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں “بڑے علاقوں” پر قبضہ کرنے کے مقصد سے اپنے فوجی آپریشن کو بڑھا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اسرائیل غزہ کی پٹی میں ‘بڑے علاقوں’ پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجی کارروائیوں کو بڑھا رہا ہے۔ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دریں اثنا، غزہ کی پٹی میں حکام نے بتایا کہ منگل کی رات اور بدھ کی صبح سویرے اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً ایک درجن بچوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی مارے گئے۔ کاٹز نے بدھ کے روز ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی آپریشن کو “عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو کچلنے” اور “فلسطینی سرزمین کے بڑے حصوں کو ضم کرنے اور انہیں اسرائیل کے سیکیورٹی علاقوں سے جوڑنے کے لیے بڑھا رہا ہے۔”

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں کے ساتھ سرحد پر اپنی حفاظتی باڑ کے پار غزہ میں ایک “بفر زون” کو طویل عرصے سے برقرار رکھا ہوا ہے اور 2023 میں حماس کے ساتھ جنگ ​​شروع ہونے کے بعد سے اس میں وسیع پیمانے پر توسیع کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ بفر زون اس کی سلامتی کے لیے ضروری ہے، جب کہ فلسطینی اسے زمینی الحاق کی مشق کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے چھوٹے خطے کو مزید سکڑنا پڑے گا۔ غزہ کی پٹی کی آبادی تقریباً 20 لاکھ ہے۔ کاٹز نے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ فوجی آپریشن میں توسیع کے دوران غزہ کے کن کن علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔ ان کا یہ بیان اسرائیل کی جانب سے جنوبی شہر رفح اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرنے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کو کچلنے کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر کھلے لیکن غیر متعینہ سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ کاٹز نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں سے ‘حماس کو نکالنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے’ کا مطالبہ کیا۔ اس نے کہا، ‘جنگ ختم کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔’ اطلاعات کے مطابق حماس کے پاس اب بھی 59 اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے 24 کے زندہ ہونے کا اندازہ ہے۔ شدت پسند گروپ نے جنگ بندی معاہدے اور دیگر معاہدوں کے تحت متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کو بھی رہا کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com