Connect with us
Saturday,30-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

سپریم کورٹ مسلم پرسنل لاء کے تحت نابالغ لڑکی کی شادی کی اجازت پر فیصلہ کرے گی۔

Published

on

supreme-court

نئی دہلی : چائلڈ میرج (روک تھام) ایکٹ کے نافذ ہونے کے بعد بھی کیا مسلم پرسنل لاء کے تحت نابالغ لڑکی کی شادی کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کئی ہائی کورٹس نے اس معاملے پر مختلف فیصلے دیے ہیں۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایسے ہی ایک فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے منگل کو چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی بنچ کے سامنے معاملہ اٹھایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ہم سن کر معاملہ طے کریں گے۔ سماعت کی تاریخ کا بھی جلد فیصلہ کریں گے۔

2022 میں، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے جاوید کے معاملے میں کہا تھا، ‘ایک مسلم لڑکی جو نابالغ ہے لیکن بلوغت کو پہنچ چکی ہے یعنی جسمانی طور پر بالغ ہے، مسلم پرسنل لاء کے تحت شادی کر سکتی ہے۔’ اسی سال اسی طرح کا معاملہ کیرالہ ہائی کورٹ میں بھی پہنچا تھا۔ پھر کیرالہ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مسلم پرسنل لاء کے تحت نکاح چائلڈ میرج (روک تھام) ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہے۔ این سی پی سی آر نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ لڑکی کی عمر 16 سال ہے اور ہائی کورٹ نے شادی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ تشار مہتا این سی پی سی آر کی جانب سے پیش ہوئے اور عدالت عظمیٰ سے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگانے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تبصروں سے بچوں کی شادی پر اثر پڑ سکتا ہے اور (پی او سی ایس او) ایکٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا، ‘جب ہم کیس کی سماعت کر رہے ہیں تو کوئی کیسے نقل کر سکتا ہے۔ ہم پورے معاملے کا جائزہ لیں گے۔

13 جون 2022 کو پنجاب ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا۔ عدالت کے سامنے 16 سال کی لڑکی اور 21 سال کے لڑکے نے درخواست گزار کی حفاظت کی گہار لگائی۔ 8 جون کو انہوں نے نکاہ کر لیا تھا۔ سوال کرنے والے نے مسلم پرسنل لا کا ہوالا دینے کا دعویٰ کیا تھا، ‘اگر لڑکی پیوبرٹی لیتی ہے تو وہ بالیگ مانی کی قسم ہے۔ جیسے میں مرجی سے نکاہ کرنے کا حقدار ہے۔’ ہائی کورٹ نے بھی کہا تھا کہ مسلم پرسنل لا کی شق 195 کے تحت نابالیگ لڑکی کو پیوبرٹی حاصل کرنے کے بعد نکاہ کے لیے مناسب نسل ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ بنتا ہے کہ نجیر این سی پی سی آر نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپل دخیل کی ہے اور کہا ہے کہ ہائی کورٹ نے مسلم پرنسل لا کے تحت نکاہ کی درستگی کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔ ہائے عدالت نے اصول کی غلط تشریح کی ہے۔ ویسے ہی نابالگ کے ساتھ جسمانی تعلقات کی کمزوری سے یہ کیوں نہیں ہو سکتا ہے اس کے تحت جرم ہے۔ اگر مسلم پرسنل لا پُوبرٹی کو نکاہ کی عمر مانتا ہے تو بھی نکاہ کی درستگی کو جانا چاہیے اور اس کی عدالت نے نظربند کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس بات کی غلط بات کی ہے کہ پیوبرٹی اور بالیگ ہونے سے نکاہ درست ہے، اس کے خلاف قانون لاگو ہے اور معافی سے بھی نابالغ کے ساتھ تعلق جرم ہے۔ اب کیس چونکی سپریم کورٹ کے سامنے اس معاملے میں جو قانونی سوال اٹھائے جاتے ہیں ان کا جواب دینا اور آگے ایک احمد نجیر بنتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com