Connect with us
Sunday,27-September-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے چہرہ ڈھانپ کر کالج آنے کی اجازت نہیں دی، کالج کو 18 نومبر تک اپنا موقف پیش کرنے کا کہا ہے۔

Published

on

Hijab-&-Court

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے ممبئی کے ایک نجی کالج کی ہدایات پر جزوی طور پر پابندی لگا دی، جس میں حجاب، برقع اور نقاب پہننے پر پابندی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کیمپس میں مذہبی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کلاس روم کے اندر چہرے کو ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے این جی آچاریہ اور ڈی کے مراٹھے کالج چلانے والی ‘چیمبر ٹرامبے ایجوکیشن سوسائٹی’ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے 18 نومبر تک جواب دینے کو کہا ہے۔

مسلم طلباء نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کالج کی ہدایات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ جب انہیں بامبے ہائی کورٹ سے اس معاملے میں راحت نہیں ملی تو انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ جسٹس سنجیو کھنہ کی قیادت والی سپریم کورٹ بنچ نے کالج کی ایسی ہدایات پر حیرت کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ کیسا حکم ہے؟ ایسے قوانین کو نافذ کرنے کا مطلب مذہب کو بے نقاب کرنا نہیں ہے؟ کیا طلبہ کے ناموں میں مذہب کی جھلک نہیں ہوگی؟ کیا آپ کہیں گے کہ بچوں کی شناخت ان کے رول نمبروں سے کی جائے گی؟

کالج کی جانب سے سینئر وکیل مادھوی دیوان عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس نے سوال کیا کہ کالج کب سے چل رہا ہے؟ مادھوی دیوان نے جواب دیا کہ 2008 سے موجود ہے۔ اس پر جج نے کہا کہ آپ نے اتنے سال کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، پھر اچانک یاد آیا کہ یہ مذہب کا سوال ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ برسوں بعد ایسی ہدایات جاری کر رہے ہیں۔ کیا آپ یہ کہہ سکیں گے کہ تلک کے ساتھ آنے والے طلباء کو اجازت نہیں ہوگی؟ اس پر مادھوی دیوان نے کہا، ‘441 مسلم طلباء نے خوشی سے کالج میں داخلہ لیا ہے۔ صرف چند طلباء کو ان قواعد پر اعتراض ہے۔ اس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا یہ لڑکیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں؟

مادھوی دیوان نے سپریم کورٹ میں دلیل دی کہ نقاب اور برقعہ میں مسئلہ ہے کیونکہ اس سے چہرہ چھپاتا ہے۔ بنچ نے ان سے اتفاق کیا اور کہا، ‘کلاس میں چہرے کو ڈھانپنے والا کوئی لباس پہننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہم ایسی کسی ہدایات میں مداخلت نہیں کر رہے ہیں۔ ممبئی کے کالجوں میں حجاب، برقعہ اور نقاب پہننے پر پابندی کو بمبئی ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ اس کے بعد ہی معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ ابیہا زیدی نے کہا تھا کہ کالج میں یونٹ ٹیسٹ شروع ہونے کی وجہ سے فوری سماعت کی ضرورت ہے۔ 26 جون کو بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے سے متعلق 9 طالبات کی عرضی کو مسترد کر دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 13 اکتوبر 2022 کو حجاب پر پابندی کے معاملے میں سپریم کورٹ کا متضاد حکم آیا تھا۔ جہاں سپریم کورٹ کے اس وقت کے جسٹس ہیمنت گپتا نے حجاب پر پابندی پر کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، وہیں دوسرے جسٹس سدھانشو دھولیا نے حجاب پر پابندی کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا، تاکہ مناسب ہدایات جاری کی جاسکیں۔ اس کے ساتھ اس معاملے کو بھی ٹیگ کیا گیا، جس پر سپریم کورٹ نے کالجوں میں حجاب پر پابندی کی ہدایت پر پابندی لگا دی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان