Connect with us
Monday,30-March-2026

سیاست

بینکس کی نجی کاری کیلئے ہڑتال دوسرے دن بھی کی گئی

Published

on

Banks nationwide strike

عوامی شعبہ کے بینکس کی مجوزہ نجی کاری کے مرکز کے فیصلہ کے خلاف بطور احتجاج 9 بینک یونینس کی تنظیم یونائیٹیڈ فورم آف بینک یونینس (یوایف بی یو) کی ملک گیر ہڑتال دوسرے دن میں داخل ہوگئی ہے۔ پیر سے ملک بھر میں بینکنگ سرگرمیاں متاثر ہوگئی ہیں، کیونکہ تقریبا دس لاکھ ملازمین، عہدیدار اور منیجرس ہڑتال پر چلے گئے۔ یو ایف بی یو کا اجلاس ہڑتال کے بعد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کو ترتیب دینے کے لئے تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ آل انڈیا بینک ائمپلائز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے یواین آئی کو یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال کامیاب رہی، اور معمول کی بینک سرگرمیاں متاثر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ریاستوں سے موصول ہونے والی اطلاعات میں کہا گیا کہ ہڑتال کامیاب رہی۔ کئی برانچس بند رہیں۔صرف چند برانچس جس میں اسکیل چھ اور اسکیل پانچ کے سینئر عہدیدارجیسے چیف منیجرس اوراسسٹنٹ جنرل منیجرس خدمات انجام دیتے ہیں ہی کھلی رہیں۔ ان بینکس نے ہڑتال کا احاطہ نہیں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان برانچس میں کوئی معاملات نہیں ہوئے کیونکہ دیگر اسٹاف ہڑتال میں شامل ہوگیا۔ وینکٹ چلم نے کہا کہ ممبئی، دہلی، کولکتہ، حیدرآباد، بنگالورو، احمد آباد، رانچی، آگرہ، بھوپال، چندی گڑھ، جئے پور، تروننتاپورم، رائے پور، راجکوٹ، بھونیشور، ناگپور، گوہاٹی، جموں، اگرتلہ، شملہ اور پنجی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ ہڑتال کامیاب رہی۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان ملازمین اس احتجاجی مظاہرہ میں آگے رہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے نجی کاری کے خطرات کو سمجھا ہے۔ وہ ملازمت کی طمانیت کے مستحق ہیجو بینکس کی نجی کاری پر متاثر ہوگی۔ وزیر فائنانس نرملا ستیارامن نے یکم فروری کو بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا، کہ حکومت آئی ڈی بی آئی کے علاوہ دیگر دو بینکس کی نجی کاری کرے گی۔ یہ نجی کاری مرکز کی سرمایہ نکاسی پالیسی کے حصہ کے طور پر کی جائے گی۔ اس ہڑتال کی وجہ سے رقم نکالنے، رقم جمع کرنے، چیکس کلیرنس اور دیگر خدمات متاثر رہیں۔ ساتھ ہی ٹریثری اور دیگر تجارتی معاملات پر بھی اثر پڑا، اور صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی شعبہ کے تمام بینکس بہتر طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اور منافع میں ہیں۔ مارچ 2020 تک ان بینکس نے 174,000 کروڑ روپئے کا جملہ منافع حاصل کیا ہے، تاہم ان بینکس کو 200,000 کروڑ کے قرض واجب الادا ہیں، اور اس سے 26,000 کروڑ روپئے کا جملہ نقصان ہوا ہے۔ اسی لئے اگر پرائیویٹ کارپوریٹ اداروں سے یہ رقم وصول کی جاتی ہے، تو بینکس مزید آمدنی حاصل کر پائیں گے۔ اے آئی بی ای اے کے جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ عوامی شعبہ، بھاری قرض جو واپس نہیں کیا گیا ہے، کے لئے ذمہ دار ہے۔ وینکٹ چلم نے کہا کہ مرکزی ٹریڈ یونینس کے مشترکہ پلیٹ فارمس نے اس ہڑتال کی حمایت کی ہے، اور بینکس کی نجی کاری کی مخالفت کی۔ بھارتیہ کامگار سیوا نے اپنے بینکس کی یونینوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہڑتال کریں۔ انہوں نے کہاکہ بیشتر ٹریڈ یونینس جن کا تعلق مختلف صنعتوں سے ہے نے بھی اپنی حمایت دی ہے۔ ایل آئی سی اور جی آئی سی کی تمام یونینس نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔بینکس کی دو روزہ ہڑتال کے بعد 17 مارچ کو جی آئی سی کمپنیوں کے ملازمین اور عہدیدار ہڑتال کریں گے۔ بعد ازاں اگلے دن ایل آئی سی کے ملازمین اور عہدیدار ایل آئی سی میں سرمایہ نکاسی کے خلاف اگلے دن ہڑتال کریں گے۔ اس طرح تمام مالیاتی شعبہ کی یونینس، بینکس اور انشورنس شعبہ کی نجی کاری کی پالیسی کی مخالفت کر رہا ہے۔ کانگریس، ڈی ایم کے، سی پی آئی، سی پی ایم، اے آئی ٹی سی، شیوسینا نے بھی اس ہڑتال کی کھل کر حمایت کی ہے۔ بعض ارکان پارلیمنٹ نے بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس مسئلہ کو اٹھایا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : شیواجی مہاراج سڑک پر رات میں موسیقی بند، مکینوں کو پریشانی کے بعد عارضی طور پر شب میں رکاوٹیں

Published

on

ممبئی: شیواجی مہاراج سڑک پر اب رات کے وقت موسیقی بند رہے گی کیونکہ یہاں رکاؤٹیں کھڑی کر دی گئی ہے شور و غل کے سبب شہریوں کو پریشانی نہ ہو جبکہ جو موسیقی کی ڈیسیبل ہے وہ مقررہ حد پر ہی ہے۔ موسیقی کو پوری طرح سے ختم نہیں کیا گیا بلکہ صرف رات کے اوقات اس موسیقی سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں ۔ ممبئی دھرمویر، سوراجیارکشک، چھترپتی سنبھاجی مہاراج کناری روڈ پروجیکٹ (جنوبی) پر سنگیت مارگ (میلوڈی روڈ) کو بند یا ہٹایا نہیں گیا ہے۔ اس لیے رات کے وقت اس 500 میٹر لمبے راستے پر رکاوٹیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس روڈ پر دن کے وقت بھی باقاعدہ ٹریفک جاری رہے گی۔ اس کے علاوہ جب علاقے کے مکینوں کی شکایات کے مطابق تصدیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہاں شور ڈیسیبل کی اجازت ڈیسیبل کی حد کے اندر ہے۔مختلف ذرائع ابلاغ دھرمویر، سوراجیارکشک، چھترپتی سنبھاجی مہاراج کوسٹل روڈ پروجیکٹ (جنوبی) پر میلوڈی روڈ کے بارے میں خبریں شائع اور نشر کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کی جانب سے یہ وضاحت دی جارہی ہے۔ سرنگ سے نکلنے والی سڑک پر دھرمویر، سوراجیارکشک، چھترپتی سنبھاجی مہاراج کوسٹل روڈ پروجیکٹ (جنوبی) کے شمالی چینل پر 500 میٹر لمبی میلوڈی روڈ بنائی گئی ہے۔ اس سڑک کو اس مقصد کے ساتھ تیار کیا گیا ہے کہ شہری ڈرائیونگ کے دوران اور تفریح ​​کے لیے اس سڑک پر بننے والی موسیقی سے لطف اندوز ہو سکیں۔ تاہم اس میلوڈی روڈ پر گاڑیوں کے چلنے کے دوران پیدا ہونے والے شور سے مقامی مکینوں نے متعلقہ محکمے کو آگاہ کر دیا تھا۔مقامی رہائشیوں کے مطالبے کے مطابق، اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ میلوڈی روڈ پر پیدا ہونے والا شور مکینوں کو پریشان ہونے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل اجازت ڈیسیبل کی حد کے اندر ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ڈھونگی بابا اشوک کھرات نے ۱۵۰ خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کیا, ایس آئی ٹی کی تفتیش میں کئی سنسنی خیز انکشافات۔

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈھونگی بابا اشوک کھرات نے اب تک ۱۵۰ سے زائد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے یہ انکشاف ایس آئی ٹی کی تفتیش میں ہوئی ہے جس خاتون کے ساتھ اس نے جنسی زیادتی کی تھی جب متاثرہ کو ایس آئی ٹی نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران شامل کیا تو اس کے بعد مزید نئے خلا صے ہوئے ہیں ایس آئی ٹی نے تفتیش کے دوران اس کا موبائل فون ضبط کیا ہے اس میں اس کے موبائل میں ڈھائی ہزار نمبر بھی ملے ہیں جو کوڈ فام میں تھے اس کے ساتھ ہی اشوک کھرات کی کروڑوں روپے کی جائیداد کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ اشوک کھرات سے متعلق تفتیش میں نت نئے خلاصے بھی ہو رہے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے اپنی تفتیش میں جنسی استحصال سے متعلق کئی ثبوت بھی جمع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے ڈھونگی بابا کا شکار متاثرین سے اپیل کی ہےکہ وہ اشوک کھرات کے خلاف شکایت درج کرائیں ان کے نام مخفی رکھا جائے گا۔ اشوک کھرات سے متعلق اہم دستاویزات بھی پولس کو ملے ہیں۔ کھرات کے دفتر اور ٹھکانے سے کئی ادویات کی بوتلیں اور گولیاں بھی ضبط کی گئی ہے ایس آئی ٹی کی ٹیم مسلسل چھاپہ مار کارروائی کر رہی ہے اشوک کھرات کی کونڈ کارنر علاقہ میں ایک جائیداد پر چھاپہ مار ا گیا۔ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران ۱۵۰ سے زائد خواتین کے ساتھ جنسی استحصال کا بھی انکشاف ہوا ہے اور ایس آئی ٹی یہ بھی معلومُ کر رہی ہے کہ آیا متاثرہ خواتین کے اس نے کہاں جنسی استحصال کیا اس متعلق بھی تفتیش جاری ہے آج ایس آئی ٹی نے چھاپہ مار کارروائی کے دوران ادویات کی بوتل ضبط کی متاثرہ خواتین کو لے کر ایس آئی ٹی مذکورہ بالا ٹھکانے پر پہنچا اشوک کھرات پر ۸ جنسی استحصال اور دو مالی معاملات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اشوک کھرات کا دو موبائل ضبط کیا گیا ہے اس میں بااثر شخصیت کا نمبر ڈمی نمبر کے طور پر فٹ کیا گیا ہے اشوک کھرات کے متعدد بینک اکاؤنٹ کو بھی ایس آئی ٹی نے منجمد کیا گیا ہے موبائل فون لیپ ٹاپ سمیت دیگر دستاویزات ضبط کیے گئے ہیں ملزم کی یکم اپریل تک ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔

Continue Reading

بزنس

ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ ڈوب گئی، سینسیکس 1200 پوائنٹ گرا اس اہم کمی کی بنیادی وجوہات جانیں۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ میں ہفتے کے پہلے کاروباری دن پیر کو زبردست گراوٹ دیکھی گئی۔ دونوں بڑے بینچ مارکس، سینسیکس اور نفٹی 50، 1 فیصد سے زیادہ کے نقصان کے ساتھ کھلے۔ ٹریڈنگ کے دوران، سینسیکس تقریباً 1,200 پوائنٹس یا 1.6 فیصد گر کر 72,326.54 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آگیا، جبکہ نفٹی 50 تقریباً 350 پوائنٹس یا 1.5 فیصد گر کر 22,453 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آگیا۔ دریں اثنا، مڈ کیپ اور سمال کیپ اسٹاکس میں بھی 1 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ اس تیزی سے گراوٹ کے نتیجے میں چند گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کو تقریباً ₹6 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا کل مارکیٹ کیپ ₹422.04 لاکھ کروڑ (جمعہ) سے گر کر ₹416.06 لاکھ کروڑ (رات 12:30 بجے تک) رہ گیا۔ مارکیٹ کی اس گراوٹ کے پیچھے کئی بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ امریکہ ایران جنگ ہے جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اپنے پانچویں ہفتے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس جنگ کے خاتمے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے اپنے فیصلے میں توسیع کی تھی لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا۔ دریں اثنا، یمن کے حوثی باغیوں کی شمولیت سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دوسری بڑی وجہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ برینٹ کروڈ 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں پر پڑنے والے اثرات نے سپلائی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہندوستان، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک، اپنی ضروریات کا 85-90 فیصد درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اس لیے مہنگا تیل معیشت پر دباؤ ڈالتا ہے۔ تیسری وجہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہے۔ اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، انڈیا VIX، 5 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 28.1 تک پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں میں بڑھتے ہوئے خوف اور غیر یقینی صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ عام طور پر، 12-15 کی سطح کو معمول سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر سطح اس سے اوپر بڑھ جاتی ہے، تو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھنے کا خطرہ ہے۔ چوتھی بڑی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے مسلسل فروخت ہے۔ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) نے 27 مارچ تک ہندوستانی مارکیٹ سے ₹ 1.23 لاکھ کروڑ نکال لیے۔ اس سے مارکیٹ پر کافی دباؤ پڑا ہے۔ پانچویں وجہ ایف اینڈ او (فیوچرز اینڈ آپشنز) کے معاہدوں کا ختم ہونا ہے۔ مارچ سیریز کے معاہدے 30 مارچ کو ختم ہو رہے ہیں جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان تمام وجوہات کی وجہ سے مارکیٹ کی کمزوری فی الحال برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے گریز کریں اور صبر کو برقرار رکھیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان