Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

تھرٹی فرسٹ نائٹ کے نام پر نسل نو کا طوفان بد تمیزی اور ہمارا مسلم معاشرہ

Published

on

bike-washing

خیال اثر مالیگانوی

؛جاری سال 2020 اپنی آخری حدوں تک پہنچنے کے بعد اپنی زمام اقتدار 2021 کے سپرد کرنے سے چند قدموں دور ہے. گئے سال کے رخصت ہونے اور نئے سال کی آمد کے سنگم پر نوجوان طبقہ اپنی تمام تر خرمستیوں کے ساتھ عود آتا ہے. اپنی والدین کی خون پیسنے کی کمائی اس بری طرح لٹاتا ہے جیسے یہ کمائی ان کے والدین کو کہیں راہ میں پڑی ہوئی مل گئی ہو. شراب و کباب کی محفلیں سجانا, دور دراز کا سفر کرتے ہوئے ناچ گانوں کا اہتمام کرنا اور سڑکوں پر موٹر سائیکل کے ذریعے بےجا شور و غل مچانا آج کی نوجوان نسل کا شیوہ بن چکا ہے. آج کے خرافاتی دور میں مخلوط پارٹیوں کا اہتمام کرنا ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر رقص و سرور کی محفلیں سجانا آج کی نوجوان نسل اپنے اسلاف کے نام پر دھبہ لگانے جیسے افعال انجام دینا غیر مسلموں کا شیوہ ہو سکتا ہے لیکن مذہب اسلام نے ایسے کسی بھی افعال کی انجام دہی کو غیر شرعی قرار دیا ہے. ہر سال نئے سال کی آمد کو لے کر وہ ہنگامہ اور طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے کہ شیطان بھی شرما کر رہ جاتا ہے. بے فکر نوجوانوں کی ٹولیاں گلیوں گلیوں اور سڑکوں سڑکوں گھوم گھوم کر شور و غل مچاتی ہیں جس سے خواتین, معصوم بچے اور ضعیف العمر افراد گھنٹوں حیران و پریشان رہتے ہیں. موٹر سائیکلوں پر تین چار افراد سوار ہو کر جب دھوم اسٹائیل میں دوڑتے بھاگتے ہیں تو اکثر ناگہانی حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں. حادثہ کا شکار افراد مدتوں بے دست و پا مہنگے ترین اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا رہتے ہوئے اپنے والدین کے لئے بڑی پریشانی کا سبب بھی بنتے آئے ہیں. نئے سال کی آمد کے تناظر میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ شہروں میں موجود تمام ہی مہنگی ہوٹلیں خصوصی ناچ گانے کا اہتمام کرتی ہیں. شراب و شباب کی ہمراہ نوجوان نسل یہاں داد عیش دیتی رہتی ہیں. ترقی یافتہ شہروں کا لاجنگ بورڈنگ نظام بھی اپنے بلند بالا دروازوں پر ہاؤس فل یا نو انٹری کا بورڈ لگا کر عیاش صفت فضول خرچ نوجوانوں کی آمد کو مسدود کردیتا ہے. نوجوان نسل لاکھوں روپیوں کا بےجا اصراف کرتے ہوئے دین دھرم کے نام پر کالک پوتنے کا کام کرتی ہے. نئے سال کی آمد پر پولیس کی سختیاں بڑھ جاتی ہیں لیکن نئے سال کے جشن میں مدہوش نوجوان طبقہ ایسی ہر سختی اور پابندی کو اپنے پیروں تلے روند کر نئے سال کی آمد کا جشن منانا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے. جاری سال کے رخصت اور نئے سال کی آمد پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ رات کے بارہ بجتے ہی نوجوان طبقہ خصوصاً لڑکیاں انسانی لبادہ چھوڑ کر شیطانی ملبوس زیب تن کر لیتی ہیں. غیر مردوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر شیمپین اور بیئر کے نشے میں چور ان امیر زادیوں کا رقص ہوش ربا انھیں شیطان کی چیلیاں ثابت کرتا نظر آتا ہے نئے سال کی آمد پر ہزارہا نوجوان لڑکیوں کی عزت تار تار کی جاتی ہے. دولت کے نشے میں چور ان امیر زادیوں کی آنکھوں میں وہ ہوس ناک پرچھائیاں رقص کرتی ہیں کہ کوئی سادہ لوح اس کی تاب بھی نہیں لا سکتا.
دیکھئے….. دیکھئے وہ دور کہیں کسی بنگلے کی آہنی دروازوں سے نکل کر ایک طرح دار حسینہ پھٹا ہوا ملبوس زیب تن کئے بے لباسی کے عالم میں اپنے جسم کے دکھتے اعضاء دباتی ہوئی نشے میں چور نکلتی آرہی ہے. شاید اس بنگلے میں نئے سال کی آمد کا جم کر جشن مناتے ہوئے خوب شراب پی گئی ہو اور پھر ایک نہیں کئی نوجوانوں نے مل کر اس نو خیز حسینہ کی عزت سے کھلواڑ کیا ہو. ایسے لمحات میں نسل نو چاہیے کہ بےجا اصراف سے گریز کرتے ہوئے گئے سال میں انھوں نے کیا کھویا کیا پایا کی جمع تفریق کرتے ہوےآئندہ کے لئے کچھ ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں کہ ان کے لئے آنے والا نیا سال ایک جمع ایک دو ہو جائے ناکہ دو تفریق دو صفر رہ جائے.

یہ جشن مبارک ہو لیکن یہ بھی صداقت ہے
ہم لوگ حقیقت کے احساس سے عاری ہیں

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان