Connect with us
Friday,20-March-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں بنا دوسرا شاہین باغ

Published

on

(وفا ناہید)

2019 جاتے جاتے مسلمانوں کو سی اے اے اور این آر سی جیسے کالے قانون کا وہ زخم دے کر گیا ہے کہ اپنے ہی ملک میں مسلمانوں سے ان کی شہریت ثابت کرنے کو کہا جارہا ہے. مودی حکومتح نے اپنے 6 سالہ اقتدار میں صرف مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ پی توڑے ہیں اور یہ بی جے پی قیادت والی مودی حکومت مسلمانوں کو ملک بدر کر کے اس جمہوری ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے درپے ہیں. مودی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردیا تھا. سب سے پہلے گئو رکھشا کے نام پر مسلمانوں کی مآب لنچنگ شروع کی گئی, گھر واپسی, لو جہاد اور پھر مسلم خواتین سے ہمدردی کا جھوٹا ناٹک کرکے طلاق ثلاثہ بل منظور کیا گیا. تب شہر عزیز کی خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں سڑک پر اتر کر اپنا تاریخی احتجاج درج کرایا تھا. مطلب مسلم خواتین نے مودی حکومت کی اس جھوٹی ہمدردی کو انہیں ہی لوٹا دیا تھا. اپنے اقتدار کی دوسری اننگ میں مودی حکومت نے پھر ایک شوشہ چھوڑا. ملک کو اکھنڈ بھارت بنانے کا سپنا فرقہ پرست آنکھیں کب سے دیکھ رہی تھیں. اس خواب کو ٹی جے پی کی مودی حکومت نے تعبیر دینے کا بیڑہ اٹھایا اور ملک میں سی اے اے اور این آر سی جیسے کالے قانون کو نافذ کردیا. این آر سی کے نفاذ کی وجہ یہ بتائی جارہی ہیں کہ پاکستان, افغانستان اور بنگلہ دیش کے مظلوم ہندوؤں کو این آر سی کے ذریعے ہندوستان کی شہریت دی جائے گی اور سی اے اے ایکٹ سے ہندوستانی مسلمانوں کی شہریت رد کردی جائے گی اور انہیں ڈٹیکشن کیمپ بھیج دیا جائے گا. اپنے باپ دادا کے کاغذات اور ان کی شہریت ثابت کرنا پڑے گی. اس طرح 2019 کے آخیر سے مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں. اس کے ساتھ ہی پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے. ہندو مسلم سکھ عیسائی سب مل کر سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں. مردوں کو احتجاج کرتے دیکھ خواتین اور بچے بھی سڑکوں پر آگئے ہیں. اب حالات یہ ہیں کہ ہر کوئی مہنگائی, بے روزگاری جیسے سلگتے مسائل کو بھول کر اس کالے قانون کو رد کرنے کے لئے اپنا احتجاج درج کرارہا ہے کیونکہ مسلمانوں کو ان کے ہی گھروں سے بے دخل کرنے کی جو شازش ہے اسے ناکام بنانا ہے . ساتھ ہی دستور اور ملک کو بچانا ہے. اس کے لئے دہلی کے شاہین باغ میں ڈیڑھ ماہ سے خواتین نے مورچہ سنبھالا ہے. برفیلی ٹھنڈ بھی ان خواتین کے حوصلے پست نہ کرسکیں. جسے دیکھ مالیگاؤں میں بھی شاہین باغ طرز پر سنی کونسل مالیگاؤں کے زیر اہتمام حسین سیٹھ کمپاؤنڈ میں آج 22 جنوری 2020 سے خواتین نے اپنا احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا ہے. جو کہ بے مدت جاری رہے گا. نامہ نگار نے جب دھرنا پنڈال پر حاضری دی تو وہاں سینکڑوں خواتین حکومت وقت کی بے حسی کے خلاف سراپا احتجاج تھیں . چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو گود میں اٹھائے یہ خواتین کالے قانون کے خلاف اپنا احتجاج درج کرارہی تھیں. انقلاب زندہ باد اور سی اے اے , این آر سی کے خلاف نعرے لگارہی تھیں. پورے پنڈال میں ریجیکٹ سی اے اے اور این آر سی کے پوسٹرس لگے ہوئے تھے. پورے دھرنا پنڈال کو ایک پردے کے ذریعے کور کردیا گیا ہے. تاکہ باپردہ خواتین بلا کسی جھجھک کے اپنا احتجاج جاری رکھ سکیں. واضح رہے کہ کہ اس احتجاج میں بزرگ خواتین بھی شامل ہیں. دھرنا پنڈال کے باہر خواتین کی رہنمائی کے لئے علماء کرام اور مردوں کا ایک جم غفیر موجود ہیں. پنڈال کے باہر ہی والنٹیرس اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف دکھائی دیئے. غرض مالیگاؤں کی خواتین نے مالیگاؤں کو ہی ایک اور شاہین باغ بنادیا.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

Published

on

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔

یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔

ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : باندرہ بی کے سی پاسپورٹ آفس کو بم سے اڑانے کی دھمکی، تلاشی کے دوران کوئی بھی دھماکہ خیز مادہ برآمد نہیں، علاقہ میں الرٹ جاری

Published

on

Bomb-Disposal-Team

ممبئی : باندرہ بی کے سی میں بم کی دھمکی کے بعد سنسی پھیل گئی ہے ۔ای میل میں 19 سائینائیڈ بم نیوکلیر بم ممبئی کے بی کے سی میں پاسپورٹ آفس میں نصب ہونے کی ای میل موصول ہونے کے بعد علاقے میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پولیس کو فوری طور پر اس ای میل کی اطلاع ملنے کے بعد بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں پاسپورٹ آفس میں بم کی دھمکی ملنے کے بعد ہنگامہ برپاہو گیا۔ یہ دھمکی ای میل کے ذریعے دی گئی ہے۔ پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں سائینائیڈ سے بھرے 19 بموں کی تنصیب کی دھمکی دی گئی۔ ای میل موصول ہونے کے بعد خوف و دہشت پیدا ہوگئی دھمکی آمیز ای میل میں کہا گیا کہ بم آج دوپہر 1.30 بجے پھٹ جائیں گے۔ اس دھمکی آمیز ای میل کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور بم ڈسپوزل سکواڈ موقع پر پہنچ گیا۔ پورے علاقے کو خالی کرا لیا گیا ہے اور بم اسکواڈ نے تلاشی لی لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس لیے پولیس اس ای میل کی تفصیلات لے رہی ہے جس کے ذریعے یہ دھمکی بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس پورے معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

: تین ای میل آئی ڈیز پر دھمکی آمیز میل
بدھ کو، بی کے سی میں پاسپورٹ آفس کو تین دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئے۔ جس میں پاسپورٹ آفس اور بیت الخلاء میں رکھے گئے 19 سائینائیڈ بم دوپہر 1.30 بجے پھٹنے کی دھمکی دی گئی۔ دھمکی آمیز میل Sourav_biswas21@hotmail.com، rpo.mumbai@mea.gov.in اور rpo.mumbai@cpo.gov.in ای میل پتے پر موصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور ممبئی پولیس کو فوری طور پر اس کی اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی شروع کردی۔ بی کے سی پولیس اسٹیشن کے سینئر افسران، اے ٹی ایس کی ٹیم اور یونٹ 8 کے افسران فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے پورے علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔

: شہریوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل
بم ڈسپوزل اور بم ڈسپوزل ٹیم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر پاسپورٹ آفس کی لابی، مرکزی داخلی دروازے، داخلی اور خارجی راستوں، علاقے میں موجود درختوں اور جھاڑیوں اور تمام اطراف کے علاقوں کا مکمل معائنہ کیا۔ خوش قسمتی سے اس معائنہ میں انہیں کوئی مشکوک یا قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ پھر بھی پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شہریوں سے چوکس رہنے کی اپیل کی ہے۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی مشکوک چیز نظر آئے تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔

جعلی دھمکی آمیز ای میلز بھی اکثر بھیجی جاتی ہیں۔ ایسی جعلی ای میلز خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے سائبر پولیس نے ای میل آئی ڈی کے بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کر دی ہیں۔ پاسپورٹ آفس کے سیکورٹی اہلکاروں کو بھی چوکس رہنے اور حفاظتی معیارات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے

Continue Reading
Advertisement

رجحان