Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

Uncategorized

دفعہ 370 کے خاتمے کا مقصد جموں و کشمیر کو لوٹنا تھا : محبوبہ مفتی

Published

on

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کا مقصد جموں وکشمیر کو لوٹنا تھا، انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35 اے کسی دوسرے ملک نے جموں وکشمیر کو نہیں دئے تھے، بلکہ ان قوانین کو مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں وکشمیر کے تمام لوگوں کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت آئے روز جموں وکشمیر کے لئے نئے فرامین جاری کرتی ہے اور دربامو کی روایت کا خاتمہ تازہ فرمان ہے۔ موصوف صدر نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: میں گذشتہ کچھ روز سے یہاں کئی وفود سے ملی تو معلوم ہوا کہ جو مرکزی حکومت نے بتایا تھا کہ دفعہ 370 ہٹانے کے بعد جموں وکشمیر میں دودھ کی ندیاں بہیں گی، ہر طرف شہد ہی شہد ہوگا، لیکن اس کے مقابلے میں جموں وکشمیر کے لوگوں کے مشکلات مزید بڑھ گئے ہیں۔‘

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی اقتصادی حالت روز بروز کمزور ہو رہی ہے، اور ہماری سماجی ساخت پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ہماری مالی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے، اور ہماری سماجی ساخت پر حملے ہو رہے ہیں، روز بر روز نئے فرامین جاری کئے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’دربار مو کی روایت کا خاتمہ تازہ فرمان ہے یہ مہاراجہ ہری سنگھ کے وقت میں تھا اس میں اقتصادیات کی بات نہیں تھی بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سردیوں میں لوگ جموں جائیں، تاکہ لوگوں کی آپس میں بات چیت ہو، یہ بھائی چارے کی ایک بنیاد تھی۔‘

موصوفہ نے کہا کہ جموں ایک ایسا خطہ ہے جہاں مختلف مذہبوں اور ذاتوں کے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں، اور مجھے فخر ہے کہ یہ سب لوگ مل جل بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں، لیکن ان میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں مندروں کا شہر ہے اس کو شراب کا شہر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس کا فائدہ یہاں کے دکانداروں کو نہیں، بلکہ دوسرے علاقوں کے دکانداروں کو مل رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دفعہ 370 کسی دوسرے ملک نے نہیں دیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’جموں وکشمیر کو دفعہ 370 اور 35 اے کسی دوسرے ملک نے نہیں دیا تھا، بلکہ ان قوانین کو مہاراجہ ہری سنگھ نے یہاں کے تمام لوگوں، مسلمانوں، ڈوگروں، گوجروں، قبائیلوں کی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لایا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان دفعات کے خاتمے کا مقصد جموں و کشمیر کو لوٹنا تھا، اور آج باجری جیسی معمولی چیز کو لوٹا جا رہا ہے۔ موصوفہ نے کہا کہ ان دفعات کی تنیسخ کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں وکشمیر ملک کے ساتھ مل گیا، جیسے یہ پہلے ملک کے ساتھ ملا ہوا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے کہا جا رہا تھا کہ جموں وکشمیر پسماندہ ہے، جبکہ ہم کئی علاقوں سے بہت آگے ہیں، لیکن اگر ہمارے اقتصادیات پر اسی طرح حملے جاری رہے، تو ہماری حالت بدتر ہو سکتی ہے۔

Uncategorized

ممبئی چار سالہ بچہ کا اغوا اور قتل شناسا گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی چار سالہ بچہ کو اغوا کر قتل کر نے کے الزام میں ممبئی پولیس نے ملزم اکشے اشوک گروڈ 25 سالہ کوگرفتار کر نے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کے کاندیولی پولیس اسٹیشن کی حدود میں 4 سالہ بچہ کو اس کا ہی شناسا گروڈ نے پہلے تواغوا کیا اور اس کے بعد مغوی کا قتل کر دیا۔ ا س معاملہ میں کاندیولی پولیس میں 22 مارچ کو شکایت درج کی تھی۔ بچہ کی تلاش کیلئے پولیس نے ڈی سی پی آنند بھوئیٹے کی نگرانی میں 6 ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ اس نے کاندیولی،بوریولی، ملا ڈ، اندھیری، سانتا کروز ویرار اور سورت شہر کے 150 سے 200 سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا۔ اس میں ملزم کاسراغ ملا اور مفرور ملزم سورت میں روپوش ہے اس کی اطلاع ملی جس کے بعد پولیس ٹیم نے اسے سورت گجرات سے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر وویک پھنسلکر کی ایما پر ایڈیشنل پولیس کمشنر نارتھ ریجن ابھیشک تریمکھے، اے سی پی نیتا پاڑوی، سنیر انسپکٹر رویندر اڈانے کی سر براہی میں انجام دی گئی اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ممبئی پولیس نے اس معاملہ میں مزیدتفتیش شروع کر دی ہے۔
ممبئی میں چار سالہ بچہ کے اغوا کے بعد قتل کی واردات سے سنسنی پھیل گئی تھی اس کے شناسا نے ہی اس کا قتل کیا۔بچہ کو رات کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب اس کے والدین آرام فرما رہے تھے اس معاملہ میں پولیس نے قتل،اغواکاکیس در ج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے تفتیش کی جارہی ہے کہ آیا اس نے یہ بچہ کو اغوا کر نے کے بعد کیوں قتل کیاہے

Continue Reading

Uncategorized

باندرہ میں پولیس نے ایک نامعلوم موٹر سائیکل کے خلاف ایف آئی آر درج کی : ورلی سی لنک ٹول پلازہ پر سپروائزر پر گاڑی چڑھا دی

Published

on

ممبئی : باندرہ میں پولیس نے ایک نامعلوم موٹرسائیکل کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جس میں مبینہ طور پر باندرہ-ورلی سی لنک پر ٹول پلازہ پر سپروائزر میں گاڑی چڑھا دی گئی، اسے تقریباً 200 میٹر تک گھسیٹ لیا گیا، اور موقع سے فرار ہو گیا۔ یہ واقعہ پیر کو پیش آیا، جب ڈرائیور (لائسنس پلیٹ ایم ایچ 02 جی ایچ 0896) ورلی کی طرف جا رہا تھا۔ ڈرائیور نے ٹول ادا نہ کرنے پر سپروائزر نے گاڑی روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور اسے ٹکر مار کر فرار ہوگیا۔ متاثرہ سنیل کمار کپتان سنگھ (26) کو ایمبولینس میں بھابھا اسپتال، باندرہ (مغربی) لے جایا گیا۔ ابتدائی علاج کے بعد اسے سیون اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے موٹر وہیکل ایکٹ 1988 کے سیکشنز کے ساتھ بھارتیہ نیا سنہیتا کی دفعہ 125، 125(a) (دوسروں کی جان یا ذاتی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والا عمل) اور 281 (عوامی راستے پر تیز گاڑی چلانا یا سواری) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور ملزم کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Continue Reading

Uncategorized

ممبئی : مراٹھی نہ بولنے پر ورسووا ڈی مارٹ کے ملازم کی پٹائی

Published

on

D-Mart

ورسووا : ممبئی کے اندھیری ویسٹ علاقے میں ورسووا کے ڈی مارٹ اسٹور میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ مراٹھی زبان کو لے کر گاہکوں اور اسٹور ملازمین کے درمیان جھگڑا ہوا جو بعد میں تشدد میں بدل گیا۔ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ڈی مارٹ کے ایک ملازم نے ایک گاہک کو بتایا کہ وہ مراٹھی نہیں بول سکتا اور صرف ہندی میں بات کرے گا۔ اس سے ناراض گاہک اور ملازم کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں تک پہنچ گئی۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد،ایم این ایس ورسووا کے صدر سندیش دیسائی نے اپنے کچھ کارکنوں کے ساتھ ڈی مارٹ اسٹور کا دورہ کیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد انہوں نے اس ملازم کی پٹائی کی جس نے مراٹھی بولنے سے انکار کر دیا تھا۔

ایم این ایس کارکنوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں رہنے والے لوگوں کو مراٹھی زبان کا احترام کرنا چاہئے اور اسے بولنا جاننا چاہئے۔ یہ واقعہ مقامی لوگوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ زبان کے احترام کا مسئلہ ہے، جب کہ کچھ اسے غنڈہ گردی کا معاملہ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اس واقعہ کے بعد بھی پولیس میں کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے پر ڈی مارٹ انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایم این ایس کے کارکنوں نے مراٹھی زبان کو لے کر ایسی کارروائی کی ہو۔ اس سے پہلے بھی کئی بار تنظیم کے اراکین کو زبان اور علاقائی شناخت کے معاملے پر جارحانہ موقف اختیار کرتے دیکھا گیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر مراٹھی زبان اور باہر سے مہاراشٹر آنے والے لوگوں کے درمیان تناؤ کو اجاگر کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com