Connect with us
Tuesday,22-September-2026

سیاست

بھگوا پارٹیوں کی سیاسی مفاد پرستی طشت ازبام،دونوں پارٹیاں اپنی ضد پر قائم

Published

on

۲۴؍اکتوبر کو ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حکومت بنانے میں مشکلیں پیش آسکتی ہیں جب کہ مہاراشٹر میں بی جے پی- شیوسینا اتحاد کی حکومت آسانی سے بنتی نظر آرہی تھی۔ 90 ممبران والی ہریانہ اسمبلی میں بی جے پی کو 40 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جب کہ اسمبلی میں اکثریت کے لئے اسے 46 ممبران کی حمایت درکار تھی لیکن جلدی ہی آزاد ممبران کو اپنے پالے میں کر کے اس نے اکثریت کے لئے ضروری اعداد و شمار حاصل کرلئے، پھر دشینت چوٹالہ کی جے جے پی کی حمایت اس کے لئے سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی جس کے 10 امیدوار الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔دوسری جانب 288 ممبران والی مہاراشٹر ودھان سبھا میں بی جے پی – شیوسینا اتحاد کو 161 سیٹیں ملیں یعنی اکثریت اس کے پاس تھی لیکن نتیجہ آنے کے ایک ہفتہ بعد بھی حکومت کو تشکیل دینا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیوسینا اپنے اتحاد کی پوری قیمت وصولنا چاہتی ہے جب کہ بی جے پی اس کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں نظر آتی۔شیوسینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان 50-50 فارمولے کی بات ہوئی تھی یعنی اس بات پر رضا مندی ہوئی تھی کہ نئی حکومت میں پانچ سال کی مدت میں دونوں پارٹیوں کو ڈھائی ڈھائی سال تک حکومت کی قیادت کرنے کا موقع ملے گا لیکن بی جے پی اس سے انکار کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 50-50 جیسے فارمولے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور موجودہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس ہی اس مرتبہ بھی پورے پانچ سال کے لئے وزیراعلیٰ بنیں گے۔غور طلب ہے کہ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کے کنبہ سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑ کر پارٹی صدر اُدھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے ودھان سبھا پہنچے ہیں۔ انہیں ہی شیوسینا کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے کا دعویدار مانا جارہا ہے۔ حالانکہ شیوسینا نے سب کو چونکاتے ہوئے ایک ناتھ شندے کو پارٹی کے ممبران اسمبلی کا لیڈر چنا ہے، بہرحال اتحاد میں سودے بازی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جس طرح شیوسینا اور بی جے پی اپنی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہیں۔فی الحال تو تنازعہ ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے جس کودیکھتے ہوئے سیاسی ماہرین کہنے لگے ہیں کہ اقتدار کے لئے دونوں ہی بھگوا پارٹیوں کے اپنی اپنی ضد پرقائم رہنے سے ریاست میں صدرراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ بیچ بیچ میں یہ خبر بھی آجاتی ہے کہ شیوسینا کے تیور کچھ نرم پڑگئے ہیں اور وہ 50-50 کی اپنی ضد چھوڑ کر نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر راضی ہوگئی ہے لیکن شیوسینا نے اب صاف کر دیا ہے کہ اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو وہ قطعی تیار نہیں ہے۔ شیوسینا کے تیور کتنے تلخ ہیں اس کا اندازہ پارٹی کے لیڈر سنجے راوت کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں کوئی دشینت نہیں ہے جس کے باپ جیل میں ہیں۔غور طلب ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حمایت دینے والی جے جے پی کے لیڈر دشینت چوٹالہ کے والد بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہیں اور جے جے پی کے بی جے پی کے ساتھ آنے کی یہ بھی ایک وجہ بتائی جارہی ہے۔ بی جے پی کو حمایت دینے کے فوراً بعد دشینت کے والد کو پیرول (چھٹی) پر جیل سے باہر آنے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اب سنجے راوت نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ”صاحب مت پالیے اہنکار، وقت کے ساگر میں کئی سکندر ڈوب گئے“ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیوسینا چاہے تو اپنے دم پر حکومت بناسکتی ہے۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ اسمبلی میں تیسری بڑی پارٹی این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی جانب ہے۔ناراضگی اور تشکیل حکومت میں پیدا شدہ تعطل کے درمیان تازہ واقعات میں شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار سے بات چیت کے بعد قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ شیوسینا اپنے بل پر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گی اور شردپوار کی پارٹی این سی پی اس کی تائید کرے گی۔ امکان غالب ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کانگریس بھی شیوسینا حکومت کی تائید کرسکتی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں این سی پی کو 54 نشستیں اور کانگریس کو 44 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ شردپوار کے ساتھ ٹھاکرے کی بات چیت کے بعد یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ شیوسینا کے ساتھ این سی پی۔ کانگریس مل کر اتحاد کریں گی اور شیوسینا حکومت کو باہر سے تائید کی جائے گی۔ لیکن کیا بی جے پی یہ تبدیلی ہونے کا موقع دے گی۔یہ اقتدار کی رسہ کشی دونوں پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو ظاہر کرتی ہے۔ بی جے پی جہاں یہ عہدہ چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آتی وہیں شیوسینا بی جے پی کے نسبتاً کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے موقع پرستی پر اتر آئی ہے۔ اس سے دونوں جماعتوں کے حقیقی چہرے عوام کے سامنے آگئے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنے اپنے اقتدار یا عہدوں کی لالچ میں بھگوا پارٹیاں سرگرم ہوگئی ہیں اور ہر پارٹی وزیراعلیٰ کا عہدہ چاہتی ہے۔ عوام کے سامنے مشترکہ رجوع ہوتے ہوئے مقابلہ کرنے والی یہ پارٹیاں اب آپس میں ہی متحد نظر نہیں آتیں۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ان پارٹیوں کے سامنے عوام یا ریاست کی فلاح و بہبود سے زیادہ اقتدار، عہدہ اور اپنے سیاسی مفاد کی زیادہ اہمیت رہ گئی ہے۔فی الحال صورت حال یہ ہے کہ دونوں اتحادی پارٹیاں اپنی اپنی ضد پر قائم ہیں اور سمجھوتہ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ خاص طور سے شیوسینا کے تیور کافی تلخ نظر آرہے ہیں۔ نہ صرف اس کے لیڈر اپنے بیانوں سے بی جے پی پر حملے کر رہے ہیں بلکہ پارٹی کے ترجمان اخبار کے ذریعہ بی جے پی کے ساتھ ہی مرکز کی نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی سخت تنقید کر رہی ہے۔ایسے میں یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہے کہ آخرکار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی ہائی کورٹ نے وجے مالیا کو سوشل میڈیا پر عدالتی دستاویزات پوسٹ کرنے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

Published

on

ممبئی : بامبے ہائی کورٹ نے “مفرور اقتصادی مجرم” برطانیہ میں مقیم کاروباری وجے مالیا کو سوشل میڈیا پر عدالتی دستاویزات پوسٹ کرنے کے خلاف خبردار کیا جب کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے معاملے کی تحقیقات جاری ہے، ایک وکیل نے منگل کو کہا۔ مالیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تحقیقاتی ایجنسی کا حلف نامہ اپ لوڈ کرنے سے پہلے ہی عدالت اس کے مندرجات پر غور کیا تھا۔ 13 اکتوبر کو اس معاملے کی سماعت کے لئے پوسٹ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو ہدایت کی کہ وہ ای ڈی کے انکشافات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا حلف نامہ داخل کرے۔

انہوں نے انگلینڈ کی عدالتوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں ملک چھوڑنے سے روکا گیا۔ ہائی کورٹ مالیا کی طرف سے دائر دو درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔ ایک درخواست مفرور اقتصادی مجرم ایکٹ (ایف ای او اے) کے تحت ان کے نامزدگی کو چیلنج کرتی ہے، جبکہ دوسری عدالت کے حکم کا مقابلہ کرتی ہے، جس میں اسے باضابطہ طور پر اشتہاری قرار دینے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ مالیا نے سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کا حوالہ دیا تھا جہاں درخواست گزاروں کی غیر موجودگی میں بھی رٹ درخواستوں کی سماعت کی گئی تھی۔ انہوں نے عرض کیا تھا کہ مالیا کے خلاف برطانیہ میں حوالگی کی کارروائی جاری ہے اور ان کا مؤکل ان سے واقف ہے لیکن عدالتی احکامات کے پابند ہونے کی وجہ سے وہ انگریزی دائرہ اختیار کو چھوڑنے سے قاصر ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے مالیا کے عدالت میں پیش ہونے کے ارادے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ یہ واضح کیے بغیر برطانیہ کی عدالت کے احکامات پر بھروسہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ آیا ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔

بنچ نے اشارہ کیا کہ اس طرح کے بھروسہ کو کمبل جواز کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو مالیا کے حلف نامہ کا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس نے دیسائی سے بھی کہا کہ وہ سماعت کے دوران دیئے گئے تمام بیانات کو ریکارڈ پر رکھتے ہوئے ایک تفصیلی حلف نامہ جمع کریں تاکہ ہندوستانی یونین اس کے مطابق جواب دے سکے۔

Continue Reading

سیاست

بی جے پی ملازمین پارٹ ٹائم سیاست دان نہیں: نتن نبین نے راہل گاندھی پر تنقید کی۔

Published

on

سہارنپور: لوک سبھا لیڈر آف اپوزیشن (ایل او پی) راہول گاندھی پر پردہ دار طنز کے طور پر، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر نتن نبین نے منگل کو کہا کہ پارٹی کے کارکن “جزوقتی سیاست دان نہیں ہیں”۔ یہ بات ان دنوں کے بعد آئی ہے جب تمل ناڈو کے بی جے پی کے سربراہ نینر ناگینتھرن نے کانگریس لیڈر کو “پارٹ ٹائم پولیٹیکل وزیر اعظم پور پور” کی مذمت کرتے ہوئے کہا۔ نریندر مودی اندور میں گاندھی کے ‘چھترون کی گونج’ پروگرام کے دوران۔ اتر پردیش کے سہارنپور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، نتن نبین نے کسی کا نام لیے بغیر کہا: “بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک کارکن چوبیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ ہمارے کارکن پارٹ ٹائم سیاستدان نہیں ہیں۔ میں ہر جگہ کارکنوں میں نظر آنے والے جوش اور جوش سے بہت خوش ہوں، اور اس پختہ عزم کے ساتھ کہ وہ اتر پردیش میں ایک بار پھر بی جے پی کی حکومت بنانے کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔”

بی جے پی کے سربراہ نے امید ظاہر کی کہ پارٹی 2027 کے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ اقتدار میں آئے گی۔”مغربی اتر پردیش کا دورہ کرنے، کارکنوں سے بات چیت کرنے اور سینئر لیڈروں کے ساتھ معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد، مجھے یقین ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی 2027 کے لیے اپنے مشن کو کامیابی سے حاصل کرے گی،” انہوں نے کہا۔ نبین نے مزید کہا: “ہمارا خیال ہے کہ پچھلے دس سالوں میں وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پر غور کیا جائے گا۔ گزشتہ 12 سالوں پر محیط وزیر مودی کا دور – عوام کو ہماری ترقی کے نقطہ نظر اور ہماری خارجہ پالیسی پر واضح یقین ہے کہ یہ حکومت ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں بدل دے گی اور اتر پردیش کو ایک ‘اتر پردیش’ (ایک مثالی ریاست) میں بدل دے گی۔” نتن نبی پیر سے اتر پردیش کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ ایک دن قبل انہوں نے کریل پارک میں اپنے دورے کا آغاز کیا۔ میرٹھ۔ایکس پر ایک پیغام میں نبین نے کہا:

“آج، اتر پردیش کے دورے کے دوران، میرٹھ میں کارگل شہداء میموریل پارک پہنچ کر، میں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور ان بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ملک کے دفاع کے لیے عظیم قربانی دی، اور ان کی یاد میں ایک درخت لگایا۔” “ہمارے فوجیوں کی ہمت، ان کی لگن اور ملک کی سرحدوں کے لیے ان کی قربانیوں نے ہمیشہ ملک کے دفاع کے لیے قربانیاں دیں۔ ہر ہندوستانی کے لیے ترغیب کا ذریعہ بنے رہیں۔” انہوں نے کہا۔ نبین کے ریاست کے دورے کے دوران، پارٹی قیادت بوتھوں، ‘شکتی کیندر’ (بوتھوں کا جھرمٹ)، منڈلوں اور ضلعی سطحوں پر تنظیمی تیاریوں کا جائزہ لینے اور پارٹی کارکنوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان