سیاست
بھگوا پارٹیوں کی سیاسی مفاد پرستی طشت ازبام،دونوں پارٹیاں اپنی ضد پر قائم
۲۴؍اکتوبر کو ہریانہ اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حکومت بنانے میں مشکلیں پیش آسکتی ہیں جب کہ مہاراشٹر میں بی جے پی- شیوسینا اتحاد کی حکومت آسانی سے بنتی نظر آرہی تھی۔ 90 ممبران والی ہریانہ اسمبلی میں بی جے پی کو 40 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی جب کہ اسمبلی میں اکثریت کے لئے اسے 46 ممبران کی حمایت درکار تھی لیکن جلدی ہی آزاد ممبران کو اپنے پالے میں کر کے اس نے اکثریت کے لئے ضروری اعداد و شمار حاصل کرلئے، پھر دشینت چوٹالہ کی جے جے پی کی حمایت اس کے لئے سونے پہ سہاگہ ثابت ہوئی جس کے 10 امیدوار الیکشن جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔دوسری جانب 288 ممبران والی مہاراشٹر ودھان سبھا میں بی جے پی – شیوسینا اتحاد کو 161 سیٹیں ملیں یعنی اکثریت اس کے پاس تھی لیکن نتیجہ آنے کے ایک ہفتہ بعد بھی حکومت کو تشکیل دینا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شیوسینا اپنے اتحاد کی پوری قیمت وصولنا چاہتی ہے جب کہ بی جے پی اس کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں نظر آتی۔شیوسینا کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان 50-50 فارمولے کی بات ہوئی تھی یعنی اس بات پر رضا مندی ہوئی تھی کہ نئی حکومت میں پانچ سال کی مدت میں دونوں پارٹیوں کو ڈھائی ڈھائی سال تک حکومت کی قیادت کرنے کا موقع ملے گا لیکن بی جے پی اس سے انکار کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 50-50 جیسے فارمولے کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے اور موجودہ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس ہی اس مرتبہ بھی پورے پانچ سال کے لئے وزیراعلیٰ بنیں گے۔غور طلب ہے کہ شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کے کنبہ سے پہلی مرتبہ الیکشن لڑ کر پارٹی صدر اُدھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے ودھان سبھا پہنچے ہیں۔ انہیں ہی شیوسینا کی جانب سے وزیراعلیٰ کے عہدے کا دعویدار مانا جارہا ہے۔ حالانکہ شیوسینا نے سب کو چونکاتے ہوئے ایک ناتھ شندے کو پارٹی کے ممبران اسمبلی کا لیڈر چنا ہے، بہرحال اتحاد میں سودے بازی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن جس طرح شیوسینا اور بی جے پی اپنی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہیں۔فی الحال تو تنازعہ ختم ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے جس کودیکھتے ہوئے سیاسی ماہرین کہنے لگے ہیں کہ اقتدار کے لئے دونوں ہی بھگوا پارٹیوں کے اپنی اپنی ضد پرقائم رہنے سے ریاست میں صدرراج کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ بیچ بیچ میں یہ خبر بھی آجاتی ہے کہ شیوسینا کے تیور کچھ نرم پڑگئے ہیں اور وہ 50-50 کی اپنی ضد چھوڑ کر نائب وزیراعلیٰ کے عہدے پر راضی ہوگئی ہے لیکن شیوسینا نے اب صاف کر دیا ہے کہ اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو وہ قطعی تیار نہیں ہے۔ شیوسینا کے تیور کتنے تلخ ہیں اس کا اندازہ پارٹی کے لیڈر سنجے راوت کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے یہاں کوئی دشینت نہیں ہے جس کے باپ جیل میں ہیں۔غور طلب ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کو حمایت دینے والی جے جے پی کے لیڈر دشینت چوٹالہ کے والد بدعنوانی کے معاملے میں جیل میں ہیں اور جے جے پی کے بی جے پی کے ساتھ آنے کی یہ بھی ایک وجہ بتائی جارہی ہے۔ بی جے پی کو حمایت دینے کے فوراً بعد دشینت کے والد کو پیرول (چھٹی) پر جیل سے باہر آنے کو اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اب سنجے راوت نے ٹوئٹ کر کہا ہے کہ ”صاحب مت پالیے اہنکار، وقت کے ساگر میں کئی سکندر ڈوب گئے“ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شیوسینا چاہے تو اپنے دم پر حکومت بناسکتی ہے۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ اسمبلی میں تیسری بڑی پارٹی این سی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی جانب ہے۔ناراضگی اور تشکیل حکومت میں پیدا شدہ تعطل کے درمیان تازہ واقعات میں شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شردپوار سے بات چیت کے بعد قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ شیوسینا اپنے بل پر حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کرے گی اور شردپوار کی پارٹی این سی پی اس کی تائید کرے گی۔ امکان غالب ہے کہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کانگریس بھی شیوسینا حکومت کی تائید کرسکتی ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں این سی پی کو 54 نشستیں اور کانگریس کو 44 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ شردپوار کے ساتھ ٹھاکرے کی بات چیت کے بعد یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ شیوسینا کے ساتھ این سی پی۔ کانگریس مل کر اتحاد کریں گی اور شیوسینا حکومت کو باہر سے تائید کی جائے گی۔ لیکن کیا بی جے پی یہ تبدیلی ہونے کا موقع دے گی۔یہ اقتدار کی رسہ کشی دونوں پارٹیوں کے سیاسی مفادات کو ظاہر کرتی ہے۔ بی جے پی جہاں یہ عہدہ چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آتی وہیں شیوسینا بی جے پی کے نسبتاً کمزور موقف کو دیکھتے ہوئے موقع پرستی پر اتر آئی ہے۔ اس سے دونوں جماعتوں کے حقیقی چہرے عوام کے سامنے آگئے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود سے زیادہ اپنے اپنے اقتدار یا عہدوں کی لالچ میں بھگوا پارٹیاں سرگرم ہوگئی ہیں اور ہر پارٹی وزیراعلیٰ کا عہدہ چاہتی ہے۔ عوام کے سامنے مشترکہ رجوع ہوتے ہوئے مقابلہ کرنے والی یہ پارٹیاں اب آپس میں ہی متحد نظر نہیں آتیں۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ان پارٹیوں کے سامنے عوام یا ریاست کی فلاح و بہبود سے زیادہ اقتدار، عہدہ اور اپنے سیاسی مفاد کی زیادہ اہمیت رہ گئی ہے۔فی الحال صورت حال یہ ہے کہ دونوں اتحادی پارٹیاں اپنی اپنی ضد پر قائم ہیں اور سمجھوتہ کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ خاص طور سے شیوسینا کے تیور کافی تلخ نظر آرہے ہیں۔ نہ صرف اس کے لیڈر اپنے بیانوں سے بی جے پی پر حملے کر رہے ہیں بلکہ پارٹی کے ترجمان اخبار کے ذریعہ بی جے پی کے ساتھ ہی مرکز کی نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی سخت تنقید کر رہی ہے۔ایسے میں یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہے کہ آخرکار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔
‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔
میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔
مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔
سیاست
چیف جسٹس کو کور کمیٹی پر ہنگامہ آرائی کا سامنا دو نوجوانوں نے ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔

چھترپتی سنبھاجی نگر : مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں سی جے پی کی کور کمیٹی کو لے کر ایک تنازعہ چھڑ گیا ہے۔ نوجوانوں کا ایک گروپ ابھیجیت ڈپکے کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوا، پارٹی قیادت پر اقربا پروری اور جانبداری کا الزام لگا۔ انہوں نے جنتر منتر طلبہ تحریک سے وابستہ تمام رابطہ کاروں کی نمائندگی کا بھی مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ جنتر منتر پر طلبہ تحریک کے آغاز سے ہی سرگرم ہیں اور کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ حالیہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں ابھیجیت ڈپکے کے قریبی اور جاننے والوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا، جبکہ تحریک سے وابستہ بہت سے کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے ملک کے نوجوانوں کی تحریک تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 450 لوگ جنتر منتر تحریک سے کوآرڈینیٹر کے طور پر وابستہ تھے، لیکن انہیں میٹنگ میں شامل نہیں کیا گیا۔ نوجوانوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا کے ساتھ میٹنگ اور تحریک کو لے کر دیر رات تک بات چیت جاری رہی، لیکن انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ مظاہرین نے انتباہ دیا ہے کہ وہ ابھیجیت ڈپکے کے گھر کے باہر بھوک ہڑتال کریں گے اور اس وقت تک دھرنا اور بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک تحریک میں شامل تمام نوجوانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جاتی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے CJP کے کارکن منیش برہم بھٹ نے کہا، “ایک گروپ بنایا گیا ہے، اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر معاملات جمہوری طریقے سے آگے بڑھے تو یہ ملک کے لیے اچھا ہو گا۔ ہمیں آپ کے سامنے یہ بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی، اور ہمیں اس پر برا لگتا ہے۔ لیکن جب تک ہم آواز نہیں اٹھائیں گے، ہماری بات نہیں سنی جائے گی۔ ہمیں یہ احساس ہوا کہ رات کے 1 بجے کے قریب ہمیں یہ بات ہوئی۔” آج سے یہ قدم اٹھائیں، جب تک تمام فیصلے شفاف طریقے سے نہیں ہوتے، تب تک ہم اس تحریک کو ملک کے لیے حقیقی تحریک نہیں کہہ سکتے۔
منیش برہم بھٹ نے کہا، “میرا مقصد اور ہمارے تمام ساتھیوں کا مقصد واضح ہے، بشمول 100، 200، یا 500 لوگ وہاں بیٹھے ہیں۔ ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ صرف چند ایک ہی فیصلے کیوں کر رہے ہیں۔ اگر ہم واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، تو فیصلے جمہوری طریقے سے ہونے چاہئیں۔ میٹنگوں میں خاندان کے افراد اور دوستوں کو بٹھانا اور دوسروں کو سننے کے قابل نہ ہونے سے روکنا اور غیر اہم مسائل کو قبول کرنے سے روکنا ہے۔ اس تحریک میں شروع سے ہی جانبداری کو ناگوار ہونا چاہیے تھا۔”
منیش برہم بھٹ نے کہا، “حال کچھ بھی ہو، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جو لوگ شریک ہوئے انہیں سمجھنا چاہیے کہ کل راہول گاندھی نے پانچ لوگوں کو مدعو کیا تھا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگوں کو تکلیف ہے، انہیں مدعو کر کے مشاورت کرنی چاہیے تھی۔ اگر ہم اس طرح تحریک جاری رکھتے تو کب تک چلے گا؟”
منیش برہم بھٹ نے کہا، “حالات کچھ بھی ہوں، انہیں میٹنگ کرنے دیں، جن لوگوں نے شرکت کی انہیں سمجھنا چاہیے- راہول گاندھی نے کل پانچ لوگوں کو بلایا جو تحریک کی اہم شخصیت تھے، اب یہ ہماری تحریک کے چہرے ہیں، اگر انہیں مدعو کیا گیا یا میٹنگ میں شامل کیا گیا تو وہ لیڈر بھی نہیں تھے، بہت سے لوگ تکلیف میں ہیں، انہیں بلایا جانا چاہئے تھا اور مشورہ کیا جانا چاہئے تھا۔ اگر ہم یہ تحریک کتنی دیر تک جاری رہے گی؟”
چیف جسٹس کے کارکن نے کہا، “ہم یہاں بیٹھے ہیں، ہم یہیں رہیں گے جب تک ٹیم تمام رضاکاروں، ہر ریاست کے نمائندوں کو تحریک میں شامل کرنے کا فیصلہ نہیں کرتی، بغیر کسی اقربا پروری یا جانبداری کے، اور فیصلے جمہوری طریقے سے کیے جاتے ہیں، تب تک یہ ایک قومی تحریک نہیں بنے گی، ملک کو مستقبل میں دوبارہ دھوکہ دینے سے روکنے کے لیے، ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب کا احتساب کریں، تحریک انصاف کے لیے اب ہم سب کا احتساب کرنا چاہتے ہیں۔ شفاف تحریک”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
