(جنرل (عام
تعلیمی, مذہبی و سیاسی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شہر کے معتبر گھرانے کے چشم و چراغ حکیم فضل الرحمان کا انتقال ایک مکمل عہد کا خاتمہ !!
(خیال اثر)
مالیگاوں کی سابق ایم ایل اے مرحومہ عائشہ حکیم اور پہلی خاتون ایم بی بی ایس ڈاکٹر, ڈاکٹر شکیلہ سید و ممبئی کی سماجی و ثقافتی بنیادوں میں اپنی شمولیت کا استحکام عطا کرنے والی ایڈوکیٹ نیلوفر سعید اختر کے برادر محترم حکیم فضل الرحمان علالت کے سبب کل دوپہر انتقال فرما گئے. کل سہ پہر 4 بجے بے شمار سوگواروں کی موجودگی میں مرحوم کی تدفین عمل میں آئی.لاک ڈاون کے پیش نظر ہزارہا افراد تدفین میں شامل ہونے سے محروم رہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا 6دسمبر 1942 مرحوم کی پیدائش کا دن تھا. حکیم فضل الرحمان ایس ایس سی تک تعلیمی مدارج طے کئے تھے لیکن وقت اور حالات کے وہ نباض تھے. زندگی کے ہر شعبہ حیات میں انہوں نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا.
مرحوم گونا گوں صفات کے مالک تھے. شہر کی قدیم ترین اردو لائبریری کے جنرل سیکریٹری رہتے ہوئے لائبریری کی بقاء اور عام افراد کو مطالعے کی ترغیب دینے کے شب و روز سرگرداں اور متحرک رہے. عصری تعلیم کو بڑھاوا دینے کے لئے انجمن معین الطباء اور علوم دینیہ کے عظیم مرکز معہد ملت کے قیام میں بھی مرحوم کے خانوادے کا کافی عمل دخل رہا ہے. حکیم فضل الرحمان شہر کی انڈسٹریل سوسائٹی, جنتا بینک اور اسپنگ میل کے تحفظ و بقاء کے لئے بھی تعمیری محاذ کے پرچم تلے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے. صنعت پارچہ بافی سے منسلک ہونے کے بعد اپنی سیساسی سرگرمیوں کو ختم کردیا تھا لیکن پارلیمنٹ, اسمبلی , کارپوریشن یا جنتا بینک یا انڈسٹریل سوسائٹی کے الیکشنوں میں مرحوم کے نام اور تصویروں کا استعمال سبھی دھوم دھام سے کیا کرتے تھے. نیشنل ہائے نمبر 3 سے لگ کر چندن پوری گاؤں میں مرحوم کی وسیع و عریض ذرعی زمین موجود ہے جہاں وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے. مرحوم اخیر عمر تک صوم و صلوۃ کے پابند رہے. ہر عمر کے افراد سے مرحوم نرم لہجے میں گفتگو کیا کرتے تھے.سابق ایم ایل اے مرحومہ عائشہ حکیم کے انتقال سے مرحوم ٹوٹ کر رہ گئے تھے.مرحومہ عائشہ حکیم کی سیاسی, تعلیمی, ثقافتی خدمات کا احاطہ کرنا انتہائی مشکل کام ہے. تعلیم سے فراغت کے بعد مرحومہ نے ایک سال تک انجمن ترقی تعلیم کے ذریعے جاری اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں مدرسی کے فرائض انجام دینے کے بعد مالیگاوں ہائی اسکول میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئیں. 1972 کی دہائی میں مہاراشٹر کے جید شوشلیٹ رہنما ساتھی نہال احمد کو شکست فاش دے کر ایم ایل اے منتخب ہوئیں اور مالیگاوں کی جھونپڑ پٹیوں کو سلم ایکٹ سے متعارف کرانے کا کارہائے نمایاں انجام دیا. مالیگاوں میں موجود ایم ایچ بی کالونی المعروف ہزار کھولی اور فلٹر پلانٹ کے قیام میں بھی حکیم خانوادے کا اہم رول رہا ہے. مرحومہ پر ہونے والا قاتلانہ حملہ اور مرحومہ کے انتقال کر جانے کے بعد اس خانوادے نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن تعمیری محاذ کے پرچم تلے جاری و ساری اداروں کی ترویج و ترقی کے لئے حکیم خانوادہ خصوصاً فضل الرحمان حکیم ہمہ وقت مصروف رہے ہیں. قدوائی روڑ پر موجود انڈسٹریل سوسائٹی کی عمارت کے اوپری حصے میں موجود خان صاحب عبدالرحیم ہال اسی خانوادے کی خدمات کا اعتراف نامہ ہے. عائشہ حکیم پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے انھیں گہرا صدمہ پہنچا تھا اگرچہ مرحوم کا خانوادہ مسلم لیگ اور محمد علی جناح کی پالیسوں سے متفق تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد مرحوم کا خانوادہ کانگریس پارٹی سے منسلک ہو گیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ مرحومہ عائشہ حکیم کو کانگریس پارٹی سے ایم ایل اے بننے کا شرف حاصل ہوا تھا. مرحومہ عائشہ حکیم کے بعد حکیم فضل الرحمان کے انتقال پر ملال سے مرحوم کے خاندان میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کی بھرپائی نا ممکن ہے لیکن ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے پر یقین کامل رکھتے ہوئے ہم جنھیں کوئی دعا یاد نہیں اللہ رب العزت کے حضور دست دعا دراز کریں کہ مرحوم کی قبر کو اپنے نور خاص سے منور کردے اور اہل خانہ کو صبر و قرار کی دولتیں تقویض کردے کہ یہی مرحوم کی خدمات کا نعم البدل قرار پائے گا.
ممبئی پریس خصوصی خبر
سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
