Connect with us
Saturday,20-June-2026

سیاست

دہلی اسمبلی الیکشن میں شکست سے پارٹی مایوس نہیں بلکہ اس سے سبق لے گی : کانگریس

Published

on

کانگریس نے کہا ہے کہ دہلی اسمبلی الیکشن میں شکست سے پارٹی مایوس نہیں بلکہ اس سے سبق لے گی، اور زیادہ محنت کرکے دو سال بعد ہونے والے میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں واپسی کرے گی اور دہلی میں پھر مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
دہلی کانگریس کے انچارج پی سی چاکو، ریاستی صدر سبھاش چوپڑا، میڈیا کمیٹی کے صدر کرتی آزاد اور مواصلات شعبہ کے سربراہ رن دیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اس شکست سے پارٹی لیڈر اور کارکنان مایوس نہیں ہیں۔ پارٹی لیڈروں اور کارکنوں نے الیکشن کے دوران پوری محنت کی ہے، لیکن شاید لوگوں تک اپنی بات پہنچانے میں ناکام رہے اس لیے انتخابات کے نتائج خاطر خواہ نہیں رہے۔
مسٹر چاکو نے کہا کہ پارٹی کو ملی شکست سے سبق لیں گے اور پارٹی کو مضبوط کریں گے لیکن اس الیکشن میں دہلی کی عوام نے صف بندی کی سیاست کرنے اور کرنٹ لگاو اور گولی مارنے کی بات کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو جس طرح سے مسترد کیا ہے، اور اسمبلی الیکشن میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو زبردست شکست دی ہے، اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
مسٹر چوپڑا نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے 192 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، اور دہلی کے عوام کو بتایا کہ اس نے کیا کام کیا ہے۔ وزیراعلی اروند کیجریوال نے کام تو زمین پر کچھ نہیں کیا، لیکن اشتہارات دے کر لوگوں کے درمیان کام کرنے کے صرف کھوکھلے دعوے کیے ہیں، جن پر دہلی کی عوام نے یقین کیا اور انہیں پھر سے اقتدار سونپ دی، لیکن اصلیت یہ ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران ریاستی صدر کے طور پر انہوں نے دہلی کی خستہ حالی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ مسٹر مودی، مسٹر شاہ اور مسٹر کیجریوال دہلی کی سلامتی کی بات کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دہلی کے بچے اپنے تعلیمی اداروں کے کیمپس میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ دہلی کو سیکورٹی دینے کی بات کرنے والے ملک کے وزیراعظم ’وزیر داخلہ اور دہلی کے وزیر اعلی اس وقت کہاں تھے۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی صدر کے طور پر انہوں نے پوری محنت کی ہے، اور اس دوران انہیں سب کا تعاون ملا ہے، لیکن الیکشن میں پارٹی کی شکست ہوئی ہے اور وہ اس کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہیں۔
مسٹر چوپڑا نے کہا کہ ان کے کام میں ضرور کوئی کمی رہی ہوگی، جس کی وجہ سے نتائج برخلاف رہے لیکن کانگریس کے کارکنوں نے ان کے ساتھ پوری محنت کی ہے۔ اس لئے کسی کا بھی حوصلہ پست نہیں ہوا ہے۔ دو سال بعد دہلی میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ہیں، اور پارٹی وہاں اپنی اس توانائی کا استعمال کرے گی۔ دہلی کے لوگ جانتے ہیں کہ کانگریس کے اقتدار میں دہلی کی ترقی ہوئی تھی اور اس ترقی کے عمل کو بہت آگے لے جانے کا اس وقت کی وزیراعلی شیلا دکشت کا خواب تھا جسے پارٹی پورا کرے گی۔
مسٹر سرجے والا نے کانگریس پارٹی اور دہلی کانگریس کی طرف سے دوسری مرتبہ دہلی میں حکومت بنانے کا میندیٹ حاصل کرنے کے لیے عام آدی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال کو مبارک باد دی اور کہا کہ کانگریس دہلی میں تعمیری تعاون اور ناقدانہ رول ادا کرے گی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان