Connect with us
Monday,04-May-2026

سیاست

مجلس کوبی جے پی پسند ہے ،کام کرنے والے نہیں

Published

on

شہر دھولیہ میں اسمبلی انتخابات میں نام نہاد پارٹیوں کے ذمہ داران و عہدیداران نے بغاوت کا سُر پھونک کر اپنی حمایتی پارٹی کو نقصان پہنچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ بی جے پی شیوسینا کے شہر دھولیہ حلقہ کے امیدوار ہلال ماڑی کے ساتھ بی جے پی کے عہدیداران نے غداری کرتے ہوئے آزاد امیدوار راج وردھن کدم بانڈے کا ساتھ دیا ، اسی طرح جلگاؤں میں گلاب راؤ پاٹل کے ساتھ بھی یہی حرکت کی گئی۔ ادھو ٹھاکرے سے گلاب راؤ پاٹل نے شکایت کی تھی کہ شیوسینا سے بی جے پی بغاوت کررہی ہیں اور آزاد امیدوار کو ووٹ دلانے کی محنت کی جارہی ہیں ۔ادھو ٹھاکرے نے گلاب راؤ پاٹل کی شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے رابطہ کرکے باغی عہدیداران پر کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ شہر دھولیہ میں بھی شیوسینا سے بغاوت کرکے راج وردھن کدم بانڈے کا کام کرنے پر شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان دشمنی عام عوام کے سامنے عیاں ہوگئی۔ لوک سنگرام کے امیدوار انیل گوٹے کی حمایت میں شرد پوار اور کانگریس کے اعلیٰ حکام نے ہدایت جاری کی تھی کہ ہمارے اتحادی محاذ میں لوک سنگرام کا امیدوار ہے انیل گوٹے ہیں اس وجہ سے ہم اپنے امیدوار کو میدان میں نہیں اتارے ہیں ہمارا امیدوار ہی لوک سنگرام کا امیدوار ہیں۔ لیکن اپنے ذاتی مفاد کی خاطر این سی پی اور کانگریس کے کارپوریٹرس، سابق کارپوریٹرس اور عہدیداران کی اکثریت پارٹی کے حکم کے خلاف راج وردھن کدم بانڈے کا کام کرتے رہیں تھے۔ عوام نے مفاد پرستوں کو سبق سکھاتے ہوئے مسلم اتحاد کی مثال پیش کی اور مسلم ایم ایل اے کو منتخب کرکے دکھادیا۔ انگریزوں کے زمانے میں ایڈوکیٹ قاضی کے بعد مجلس اتحادالمسلمین کے امیدوار فاروق شاہ کو عوام نے جیت کر ایم ایل اے بنایا ہے۔ جیت کا دعویٰ کرنے والے سابق ایم ایل اے انیل گوٹے نے کہا کہ میں نے شہر دھولیہ میں تاریخی کاموں کو انجام دیا اس کے باوجود اہلیان شہر کے کچھ لالچی لوگوں نے میرا ساتھ نہ دے کر روپئےکو اہمیت دے کر کام کرنے والے امیدوار کی سیٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اپنی ہار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میں شکست کھایا ہواہوں اور قبول کرتا ہوں کیونکہ بی جے پی والوںکومجلس اتحادالمسلمین کاامیدوار پسند ہے لیکن کام کرنے والا لیڈر پسند نہیں ہیں۔ہندؤںکوجھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ ہندؤں میںسیاسی بیداری مسلمانوں سےکم دکھائی دی ہے۔ مسلمانوںکی ۲۷؍فیصد ووٹنگ ہوچکی تھی تب ہندو علاقوںمیں۱۲؍فیصد ووٹ ڈالی گئی تھی،کیونکہ ہندؤں میں ووٹ بیچنے اور خریدنے کا نظام ہی غلط ہے۔ شام ۴؍ بجے تک روپئے کے انتظار میں رہنے والے لوگوں کی وجہ سےووٹ کا فیصد کم ہوتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھولیہ مسلم بستی پر کارروائی سراسرناانصافی،ابوعاصم اعظمی کا اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کاروائی اور نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کی درخواست

Published

on

ممبئی: مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے دھولیہ میں مسلم بستیوں کو غیر قانونی طریقے سے مکانات خالی کرنے اور انہدامی کارروائی کے نوٹس پر اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ اقلیتی کمیشن چیئرمین پیارے خان سے کیا ہے۔ انہوسن نے کہا کہ دھولیہ میں ۲۷۵ مسلمانوں کو بےگھر کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ سرکار نے وزیر اعظم آواس یوجنا کے معرفت ان کی بازآبادکاری کرنے کا جی آر بھی جاری کیا تھا یہ کنبہ دھولیہ لال سردارنگر اینٹ بٹی علاقہ میں ۴۰ سے ۵۰ برسوں سے آباد تھا لیکن انتظامیہ نے اچانک انہدامی کارروائی کر انہیں بے دخل کردیا ہے انہیں 21 اپریل کو غیرقانونی طریقے سے نوٹس ارسال کی گئی۔ ریاستی سرکار نے ۲۶ مارچ ۲۰۲۶ کے جی آر کے مناسبت سے وزیر اعظم آواس یوجنا کے تحت مکینوں کی بازآبادکاری کا منصوبہ بھی تیار کیا تھاانتظامیہ کی اچانک کارروائی غیر انسانی او ر غیرقانونی ہے اس لئے اقلیتی کمیشن سے درخواست ہے کہ وہ اس غیر قانونی نوٹس پر اسٹے حکم امتناعی نافذ کرے اور مکینوں پر انصاف دے اس متعلق دھولیہ کے ایڈوکیٹ زبیر اور مکینوں نے درخواست کی ہے کہ انہیں انصاف میسر ہو اور غیر قانونی انہدامی نوٹس پر اسٹے عائد ہو۔ ابوعاصم اعظمی نے مکینوں کے مطالبہ پر اقلیتی کمیشن کو مکتوب ارسال کر کے کارروائی پر روک اور اسٹے عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading

جرم

پونے عصمت دری اور قتل کیس : اپوزیشن نے مہاراشٹرا کے محکمہ داخلہ پر سنگین الزامات لگائے، ایس آئی ٹی جانچ کا مطالبہ

Published

on

پونے ضلع کی بھور تحصیل کے نصرا پور میں چار سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل نہ صرف امن و امان کا مسئلہ بن گیا ہے بلکہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے دیویندر فڑنویس پر سخت حملہ کیا ہے، جن کے پاس ہوم پورٹ فولیو ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پولیس کی لاپرواہی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی ایس آئی ٹی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر وجے ودیٹیوار نے پولس کے کام کاج پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ملزم کے ماضی کے مجرمانہ ریکارڈ سے آگاہ تھی لیکن یہ معلومات عدالت میں پیش نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے عدالت کی سرزنش کے بعد ہی ریمانڈ کی درخواست میں ترمیم کی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پولیس اتنی ہی لاپرواہ ہے تو متاثرہ کو انصاف کیسے ملے گا؟ کیا غمزدہ خاندان اور عوام پر لاٹھی چارج ان کا واحد کارنامہ ہے؟ ودیٹیوار نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جائے جس کی سربراہی ایک خاتون آئی پی ایس افسر ہو۔ انہوں نے کہا کہ پونے پولیس کا رویہ غیر حساس رہا ہے اور اس سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اسی دوران شیوسینا (یو بی ٹی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فڑنویس 24/7 سیاست میں ڈوبے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے محکمہ داخلہ مکمل طور پر قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ راؤت نے طنزیہ انداز میں پوچھا، “اگر ‘لڑکی بھین’ (لڑکی بہن) کو ماہانہ 1500 روپے ملتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ان کی بیٹیوں کا استحصال ہوتا ہے، تو کیا وہ خاموش رہیں؟” ممبئی کانگریس کی صدر اور ایم پی ورشا گائیکواڑ نے بھی اس واقعہ کو انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے اور پولیس کا احتساب کمزور ہو گیا ہے۔ دریں اثنا، مہاراشٹر نونرمان سینا کے رہنما امیت ٹھاکرے نے گہرے غم اور غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اور بھی تکلیف دہ ہے کہ لڑکی صرف چھٹیاں منانے اپنی دادی کے گھر آئی تھی لیکن اس کے ساتھ ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا۔ ایک بزرگ نے اس کی عصمت دری اور پھر قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے احتجاج شروع کردیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب پولیس نے مظاہرین اور متاثرہ خاندان پر لاٹھی چارج کیا، جو فوری انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس سے اپوزیشن کے حکومتی بے حسی کے دعوؤں کو مزید تقویت ملی۔ قبل ازیں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت پر دھبہ قرار دیا۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ کیس کو بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کی جائے گی، اور حکومت مجرموں کو سزائے موت دینے کی کوشش کرے گی۔ مزید برآں عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے علاقے میں پولیس گشت بڑھانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔1

Continue Reading

سیاست

آسام انتخابی نتائج : بی جے پی کے ہتیندر ناتھ گوسوامی نے جورہاٹ سے گورو گوگوئی کو شکست دی، چھٹی بار ایم ایل اے بنے

Published

on

آسام کے گوہاٹی میں جورہاٹ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار ہتیندر ناتھ گوسوامی نے بھاری اکثریت سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے کانگریس امیدوار گورو گوگوئی کو 23,182 ووٹوں سے شکست دی۔ بی جے پی لیڈر ہتیندر ناتھ گوسوامی کو کل 69,439 ووٹ ملے، جب کہ گورو گوگوئی کو 46,257 ووٹ ملے۔ ہتیندر ناتھ گوسوامی چھٹی بار یہاں سے ایم ایل اے بنے ہیں۔ جورہاٹ، آسام کے سب سے اہم شہری مراکز میں سے ایک، نہ صرف اقتصادی اور ثقافتی طور پر بلکہ سیاسی طور پر بھی اثر انداز ہے۔ اس کی انتخابی تاریخ قریبی مقابلہ جات، مینڈیٹ بدلنے اور ممتاز لیڈروں کے درمیان مقابلے کے لیے جانی جاتی ہے۔ جورہاٹ اسمبلی سیٹ ایک عام (غیر محفوظ) نشست ہے اور جورہاٹ ضلع میں آتی ہے۔ یہ جورہاٹ لوک سبھا حلقہ کے 10 اسمبلی حلقوں میں سے ایک ہے۔ جورہاٹ سیٹ 1951 میں بنی تھی۔ تب سے اب تک یہاں 16 اسمبلی انتخابات ہوئے ہیں۔ اس عرصے کے دوران کانگریس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے، سات جیت کے ساتھ۔ آسوم گنا پریشد (اے جی پی) نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ بی جے پی نے تین بار کامیابی حاصل کی ہے، اور آزاد امیدواروں نے دو بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جنتا پارٹی ایک بار جیت چکی ہے۔ جورہاٹ سیٹ کی انتخابی تاریخ دو لیڈروں، ہتیندر ناتھ گوسوامی اور رانا گوسوامی کے درمیان دشمنی کے بغیر ادھوری ہے۔ ہتیندر گوسوامی تقریباً 25 سال تک اس سیٹ پر دبنگ شخصیت تھے۔ انہوں نے اے جی پی اور بی جے پی دونوں ٹکٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ رانا گوسوامی اور ہتیندر گوسوامی نے چار بار براہ راست مقابلہ کیا، دونوں نے دو بار کامیابی حاصل کی۔ اس بار ان کا مقابلہ کانگریس لیڈر گورو گوگوئی سے ہوا، جس میں انہوں نے اپنی جیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2006 میں، رانا گوسوامی نے کانگریس کے ٹکٹ پر 4,880 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2011 میں، انہوں نے ایک بار پھر ہتیندر گوسوامی کو 37,971 ووٹوں سے شکست دی۔ 2016 میں، مساوات بدل گئی، اور ہتیندر گوسوامی نے، بی جے پی کے امیدوار کے طور پر، رانا گوسوامی کو 13,638 ووٹوں سے شکست دی۔ دونوں کا 2021 میں دوبارہ مقابلہ ہوا، جہاں ہتیندر گوسوامی نے 6,488 ووٹوں کے فرق سے سیٹ برقرار رکھی۔ 10 فروری 2026 کو جاری حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق جورہاٹ اسمبلی حلقہ میں کل 148,280 اہل ووٹر ہیں۔ یہ 2024 میں 146,731 ووٹرز سے تھوڑا سا اضافہ ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ 2019 کے مقابلے میں کم ہوا، جب رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 175,267 تھی۔ جورہاٹ حلقے کے انتخابی نتائج میں سماجی حرکیات بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، درج فہرست ذات کے ووٹر 8.04 فیصد، درج فہرست قبائل کے ووٹر 1.95 فیصد، اور مسلم ووٹر 7 فیصد سے کم ہیں۔ حلقے میں شہری ووٹرز کا غلبہ ہے، 64.87 فیصد اور دیہی ووٹرز 35.13 فیصد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی، سڑکیں، تجارت، روزگار اور شہری سہولتیں بڑے انتخابی مسائل بنی ہوئی ہیں۔ جورہاٹ کو آسام کا ثقافتی دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر ادب، موسیقی، تھیٹر اور روایتی آسامی ثقافت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ آسام ساہتیہ سبھا کے صدر دفتر، بیہو تہوار، ستریا رقص کی روایت، اور متعدد ثقافتی اداروں نے اسے ایک الگ پہچان دی ہے۔ برطانوی دور میں یہ چائے کی صنعت کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔ آج بھی چائے کے باغات، زراعت، تجارت، تعلیم اور چھوٹی صنعتیں شہر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان