Connect with us
Saturday,30-August-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی : خلیل الرحمٰن

Published

on

Conference

شاہ بہاؤ الدین باجن کی ادبی اور شعری خدمات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ خلیل الرحمن نے کہا کہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سر زمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ یہ بات انہوں نے دارالسرور ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی برہان پور کے زیر اہتمام آن لائن کانفرنس ’اردو شاعری کے ارتقائی سفر میں باجن کی حصہ داری‘ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

صوفی شاعر حضرت شاہ بہاؤالدین باجن کے 530 سالہ عرس کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں انہوں نے کہا: شاہ بہاؤ الدین باجن کی شعر وادب کی ثروت مندی میں جو حصہ ہے وہ بہت بڑا ہے، ایک جلسہ یا ایک مقالہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ موصوف نے مزید کہا کہ آپ یقین کیجیے برہان پور کی سرزمین پانچ سو سالوں میں باجن جیسی شخصیت پیدا نہیں کر سکی۔ افسوس نہ ان کا کوئی کام دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ان کا تعارف۔ انہوں نے مقالہ نگاران کے مقالات پر مختراً تبصرہ و تجزیہ بھی پیش کیا۔
کویت سیصدر بزم صدف انٹرنیشنل، کویت، جنرل سکریٹی آداب غزل اکیڈمی کویت اور صاحب دیوان شاعر مسعود حساس نے بڑی خوبصورت نظامت فرمائی۔ اپنے مرصع و مسجع جملوں سے نظامت میں چار چاند لگا دیئے اور انہوں نے شاہ باجن کی شاعری تصوف ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ضرورت اس بات کی ان پر کام کیا جائے اور ان کی خدمات کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ خاص طور پر ان کی شاعری کی موجودہ دور میں بہت اہمیت اور ضرورت ہے۔

سوسائٹی کے چیئرمین تنویر رضا برکاتی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا: آج کی یہ کانفرنس باجن کے کے تعارف کے سلسلے میں عالمی سطح پر نقش اول کی اہمیت رکھتی ہے۔ ہم آئندہ باجن پر انٹرنیشنل سیمینار اور کانفرنس کے انعقاد کا عزم رکھتے ہیں۔

برہان پور کے معروف استاد شاعر و ادیب جمیل اصغر نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا: اردو زبان و ادب کے مؤرخین و محققین نے باجن کی تصنیف خزانۂ رحمت کو اردو کا نہایت قدیم ماخذ قرار دیا ہے، اور خود باجن کو اردو کے اولین شاعر کی حیثیت سے سے متعارف کروایا ہے۔

خلیل انصاری ایڈووکیٹ (سابق پروفیسر شعبۂ قانون سیوا سدن کالج، برہان پور) نے اپنے مقالے میں کہا: زبان و ادب کی خدمات کے سلسلے میں باجن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اردو زبان کے آغاز و ارتقاء میں عوامی زبان کو رفتہ رفتہ علمی و ادبی حیثیت سے باجن نے اردو دکنی گوجری میں اپنی نظم و نثر کے ذریعہ پندو نصائح کے نمونے پیش کیے ہیں۔

معروف شاعر و ناظم طاہر نقاش (پرنسپل گورنمنٹ اردو ہائر سیکنڈری اسکول، لالباغ) نے اپنے مقالے میں کہا: اردو زبان جو آج پوری دنیا میں اپنی شیرینی کا لوہا منوا رہی ہے اس کے ابتدائی تدوین میں باجن کے ملفوظات اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کانفرنس کو سوسائٹی کے فیس بک پیج پر لائیو نشر کیا گیا جس میں تقریباً 22 ملکوں سے ایک ہزار شرکاء نے شرکت کی۔ تنویر رضا برکاتی نے تمام مہمانان اور لائیو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی مراٹھا مورچہ بی ایم سی کی صاف صفائی مہم

Published

on

cleanliness

ممبئی مراٹھا مورچہ کے سبب مہاراشٹر بھر سے احتجاج مظاہرین کی ممبئی آزاد میدان آمد کے تناظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع آزاد میدان میں میونسپل کارپوریشن نے مختلف ضروری شہری خدمات اور سہولیات فراہم کی ہیں۔ آزاد میدان اور آس پاس کے علاقے میں ‘پے اینڈ یوز’ کے اصول پر تمام عوامی بیت الخلا مظاہرین کے استعمال کے لیے مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ مظاہرین کے استعمال کے لیے آزاد میدان کے اندر کل 29 بیت الخلاء مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ آزاد میدان سے متصل مہاتما گاندھی مارگ پر کل تین موبائل بیت الخلاء، جن میں سے ہر ایک میں 10 بیت الخلاء دستیاب ہیں۔ آزاد میدان میں میٹرو سائٹ کے قریب ایگزیکٹو انجینئر (ٹرانسپورٹ) (مغربی مضافات) کے دفتر کی طرف سے کل 12 پورٹیبل بیت الخلا فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں. احتجاج کے مقام پر مظاہرین کو پینے کے پانی کے لیے کل 6 ٹینکرز فراہم کیے گئے ہیں۔ اضافی ٹینکرز منگوائے گئے ہیں۔ بارش کی وجہ سے احتجاج کی جگہ کیچڑ تھی۔ شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے احتجاجی مقام تک جانے والی سڑک پر موجود کیچڑ کو ہٹا کر اس سڑک پر 2 ٹرک بجری ڈال کر سڑک کو ہموار کر دیا گیا ہے۔ میڈیکل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شہریوں کے علاج اور طبی معائنے کے لیے ایک طبی امدادی کمرہ قائم کیا گیا ہے۔ 108 ایمبولینس خدمات بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ برسات کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے آزاد میدان اور آس پاس کے علاقوں میں کیڑے مار دوا کا اسپرے ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا ہے۔ احتجاجی مقام اور آس پاس کے پورے علاقے کی صفائی کے لیے مناسب تعداد میں عملہ تعینات کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بارش، اب بتائیے یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

Published

on

Prophet-is-celebration

آمد رسول سے قبل لڑکیاں زمین میں زندہ دفن کردی جاتی تھیں، جس دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اس دن جتنی بھی ولادت ہوئی ان میں کوئی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، اس لئے کہ اللہ کو یہ گوارہ ہی نہیں ہوا کہ جس دن میرے محبوب کی دنیا میں آمد ہو اس دن پیدا ہونے والی لڑکی زندہ دفن ہو، یہ بات بارہا علماء کرام سے سنا گیا ہے، پھر یہ آمد رسول کا جشن اور خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ آتش کدہ بجھ گیا جو ایک مدت سے جل رہا تھا جسے دیکھ کر لوگوں کے اندر گھمنڈ پیدا ہوتا تھا اور لوگ ظالم بن جایا کرتے تھے، آمد رسول کے موقع پر آتش کدہ کا بجھنا یہ جشن آمد رسول و خوشی نہیں تو اور کیا ہے؟

آمد رسول سے قبل جہالت کی انتہا تھی، عرب کے لوگ ایک ایک روٹی اور ایک ایک بوٹی کے لئے قتل وغارت گری کیا کرتے تھے، جوا اور شراب عام تھی دسترخوان پر کھانے کے ساتھ پانی نہیں شراب رکھا کرتے تھے، جوا کھیلنے میں اپنی بیویاں تک ہار جایا کرتے تھے، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اپنی ماں کو بیوی بنا لیا کرتا تھا، بیوہ عورت کو منحوس مانا جاتا تھا، بچی پیدا ہوتی تو زمین میں زندہ دفن کردیا جاتا تھا، محمد سے پہلے تھا عالم نرالا، لگایا تھا شیطاں نے ظلمت کا تالا، کہیں تیر و نشتر کہیں تیغ و بھالا، دوشنبہ کا دن تھا سحر کا اجالا، کہ مکے میں پیدا ہوا کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم) سعودی عرب میں سعود خاندان کی حکومت قائم ہوئی تو 23 ستمبر کو نیشنل ڈے منایا جانے لگا، یوم سعودیہ منایا جانے لگا جبکہ نبی پاک کی ولادت کا دن انسان کی آزادی کا دن ہے، سسکتی بلکتی اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی آزادی کا دن ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم انسانیت کے لئے رب کائنات کا عظیم تحفہ ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر خوشی ہوتی ہے اور تحفہ حاصل ہونے پر یقیناً خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور کیا بھی جانا چاہئے۔

ہاں جشن عید میلادالنبی و جلوس محمدی کے تقدس کو برقرار رکھنا ضروری ہے نماز چھوٹنی نہیں چاہئے، کوئی بھی خلاف شرع کام نہیں ہونا چاہئے، باجا نہیں بجنا چاہئے، کیک نہیں کاٹا جانا چاہئے، کسی کی دل آزاری نہیں ہونا چاہئے اور نعرہ بھی ایسا ہی لگایا جانا چاہئے کہ اسلام کی صداقت و حقانیت کا اعلان ہو، اسلامی تعلیمات کا اعلان ہو، سیرت النبی کا اعلان ہو، اس لئے کہ ہم اس مقدس ہستی کا جشن منا رہے ہیں جو رحمۃ للعالمین ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں۔

راقم الحروف کے اس مضمون کو مسلکی نظر سے نہ دیکھا جائے جو جس مسلک کا ماننے والا ہے وہ اس پر قائم رہے یا نہ رہے یہ اس کی مرضی لیکن خدا کے واسطے اختلافات کی زنجیروں کو توڑئیے کم از کم ولادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر جشن و خوشی کو اختلافات کا رنگ نہ دیجیے، جس کا کلمہ پڑھتے ہیں اس کی آمد پر خوشی کا اظہار کیجئیے، ہاں اسے سیر وتفریح کا ذریعہ ہرگز ہرگز نہیں بنائیے، غریبوں، مسکینوں، یتیموں کے لئے سہارا بنئیے، نزدیکی اسپتالوں میں پہنچ کر ذات برادری اور مسلک و مذہب پوچھے بغیر مریضوں کی عیادت کیجئیے، انہیں پھل فروٹ دیجئے، غریب مریضوں کا مالی تعاؤن کیجیئے، لوگوں کو پانی پلائیے یہ سب کچھ کر کے اچھا انسان بننے کا ثبوت پیش کیجئے انسانیت کو فروغ دیجئیے اور مسلمان ہونے کا حق ادا کیجئیے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

Published

on

cyber Attack

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com