Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

جمعیۃ علمائے ہند نے مسلم بچوں کے ساتھ ہندو بچوں کو بھی اسکالر شپ دی

Published

on

Jamiat-Ulema-i-Hind

جمعیۃ علمائے ہند جس طرح رفاہی اور باز آباد کاری کے کاموں میں مذہبی تفریق سے اوپر اٹھ کر ضرورت مند لوگوں کو امداد فراہم کر رہی ہے، اسی طرح اس نے تعلیم کے میدان میں بھی اسکالر شپ دینے میں مذہبی تفریق کی دیوار کو توڑتے ہوئے مسلم بچوں کے ساتھ ہندو بچوں کو بھی اسکالر شپ دی ہے، جن کا تعلق مختلف صوبوں سے ہے، اور اس کے لئے اسکالر شپ کی رقم دوگنا کرتے ہوئے، ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند نے تعلیمی وظائف دینے کا باضابطہ سلسلہ 2012 شروع کیا ہے۔ اس سے قبل بھی اسکالر شپ دی جاتی تھی، لیکن انفرادی طور پر تھا، لیکن اسے 2012 میں باضابطہ ایک کمیٹی ’امدادی تعلیمی فنڈ‘ کے نام سے قائم کر کے تعلیمی وظائف دینے کا سلسلہ شروع کیا، جسے اس سال بڑھاکر ایک کروڑ روپے کی رقم کر دی گئی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے، کہ جو بھی جمعیۃ کے معیار پر پورا اترا ان سب کو وظیفہ دیا گیا ہے، جن میں ہندو طالب علموں کی بھی بڑی تعداد ہے، اور جتنے ہندو طالب اس کے معیار پر کھرے اترے، ان سب کو اسکالر شپ دی گئی ہے۔ 2020/2021 کے لئے 656 طلبہ کو اسکالر شپ دی گئی ہے۔

جمعیۃ علمائے ہند جن کورسوں کے لئے اسکالر شپ دیتی ہے، ان میں میڈیکل، ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، بی یو ایم ایس، ایم ڈی، فارمیسی، نرسنگ، انجینئرنگ، بی ٹیک، ایم ٹیک، پالی ٹیکنک، گریجویشن میں بی ایس سی، بی کام، بی اے، بی بی اے، بی سی اے، ماس کمیونی کیشن، ایم اے میں ایم کام، ایم ایس سی، ایم سی اے، ڈپلوما، پولی ٹیکنک، آئی ٹی آئی، بی ایڈ، ایم ایڈ، ڈی لیڈ وغیرہ شامل ہیں۔
جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے تعلیمی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے تعلیم کے مد میں بجٹ میں دوگنا اضافہ کرتے ہوئے اس کی رقم ایک کروڑ روپے کر دی ہے۔ مولانا مدنی کا احساس ہے کہ تعلیم کے بغیر قوم اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، اور اس کے لئے ذات پات، مذہب اور علاقہ سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جمعیۃ کی خاصیت رہی ہے کہ وہ ہر شعبے میں کام کرتی ہے، جہاں ایک طرف بے گناہوں کو جیل سے رہا کرواتی ہے، وہیں باز آباد کاری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند روز اول سے تعلیم کی ترویج واشاعت پر نہ صرف زور دے رہی ہے، بلکہ والدین کو اس بات کے لئے مسلسل تحریک بھی دیتی رہی ہے، کہ وہ اپنے بچوں کو بہر صورت زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ اس لئے ایک طرف جہاں یہ مکاتب ومدارس یہ قائم کر رہی ہے، وہیں اب اس نے ایسی تعلیم پر بھی زور دینا شروع کر دیا ہے، جو روز گار فراہم کرتا ہے۔ جمعیۃ کی ضرورت مند طلبہ کو یہ تعلیمی وظائف دینے کا مقصد یہ ہے کہ وسائل کی کمی یا غربت کی وجہ سے ذہین اور ہونہار بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ایسے دور میں جب کہ پانی پینے پر مذہب پوچھ کر زور وکوب کیا جاتا ہے، ایسے ہمیں جمعیۃ کی مذہب سے اوپر اٹھ کر تعلیمی مہم ملک کو نیا راستہ دکھائے گی، اور ہم تعلیم اور رفاہی کاموں کے ذریعہ نفرت کے زہر کو مٹانے کی کوشش کریں گے، تاکہ آگے کسی کو محض مذہب کی بنیاد پر پانی پینے پر زور کوب نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی شناخت گنگا جمنی تہذیب سے ہے، اور اس طرح کے تکلیف واقعات سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

فرقہ پرستی کو ملک کیلئے زہر ہلال قرار دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرستی نے ملک کو ترقی سے دور کر دیا ہے، اور اس قدر نفرت پھیل چکی ہے، کہ بات بات پر لوگ تشدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اسے تعلیم اور فلاحی کاموں سے ہی روکا جاسکتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان