(جنرل (عام
مالیگاؤں میں الامین یونانی میڈیکل کالج کا عظیم الشان افتتاح
مالیگاؤں (وفا ناہید )ریاست مہاراشٹر میں کل سات یونانی میڈیکل کالجز ہیں اور مزید پانچ کالج شروع ہونا چاہئے،آج حکومت ہندیونانی اور آیورویدک ادویات کو بڑھاوا دے رہی ہے کیونکہ یونانی قدیم طب ہے جو آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی قائم رہے گا اس طرح کا اظہار خیال مسیحا ء عصر ڈاکٹر زبیر شیخ نائب صدر سینٹرل کونسل انڈین میڈیسن نے مالیگاؤں شہر میں الامین یونانی میڈیکل کالج کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ شہر مالیگاؤںمیں منصورہ کے بعد دوسری اقلیتی خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر انصرام الامین میڈیکل کالج کا افتتاح بروز اتوار 6 اکتوبر 2019 کو صبح 11 بجے مولانا عمرین محفوظ رحمانی کے دست مبارک سے ہوا، مولانا نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ایسے حالات میں ملک ہندوستان میں مسلم اقلیتی کالج قائم کرنا ایک کارنامہ عظیم ہے،یونانی ادویات ملک عرب اور یونان کی دین ہے، ایلوپیتھی کےدور میں طب یونانی سے استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر اظہر احمد یونانی سائنسداں نے الامین کالج کے بانی مرحوم عبدالمطلب شیخ کو اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے الامین یونانی میڈیکل کالج کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، انھوں نے کالج کی ترقی و کامرانی میں اپنے تعاون مشوروں اور خدمات کی یقین دھانی بھی کروائی، بعدازاں پرنسپل الامین میڈیکل کالج ڈاکٹر اظہر احمد نے کالج کی روداد کے بارے میں بتایا کہ اس کالج میں 75 فیصد طالبات اور 25 فیصد طلباء ہیں،کالج کی اجازت سال 2014 میں ملتوی کر دی گئی تھی لیکن چیئرمن رضوان شیخ کی کاوشوں سے سال 2019 میں حکومت ہند کی اجازت ملنے کے بعد آج عملی جامعہ پہنایا گیا، الامین یونانی میڈیکل کالج شہر کیلئے فخر کی بات ہے۔اس تقریب میں خاتون ایجوکیشن سو سائٹی صدر محمودہ آپا۔ چیئرمین رضوان شیخ اور وائس چیئرمین ریحان شیخ کا استقبال و اعزاز کیا گیا، نیز رضوان شیخ کی خدمت میں ایک سپاس نامہ تحریر کردہ عزیز اعجاز پیش کیا گیا، پروگرام کے اخیر میں رضوان مطلب نے تمام ہی مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا، موصوف نے کہا کہ خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کا مقصد ہے کہ سماج کیلئے تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ سماج و معاشرہ اس سے استفادہ کریں، یونانی میڈیکل کالج کی مرحوم عبدالمطلب نے بنیاد رکھی تھی جو آج پایہ تکمیل تک پہنچا۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ مالیگاوں کی تاریخ میں نیا باب کھل رہا ہے ۔مرحوم عبدالمطلب سر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔جو لوگ خواب دیکھنے کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کے لیے راتیں طویل ہوتی ہیں لیکن جو لوگ خواب کی تکمیل چاہتے ہیں ان کے لیے دن چھوٹے پڑتے ہیں ۔ اچھے دنوں کا خواب دکھانے والے آج ہر سو لوگ ادارے بناتے ہیں اور اپنے والدین کے نام سے منسوب کرتے ہیں لیکن رضوان عبدالمطلب نے اپنے یونانی میڈیکل کا نام الامین یونانی میڈیکل کالج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منسوب کیا ہے۔یونان سے اس طب کا افتتاح ہوا لیکن اسے بڑھایا عربوں اور مسلمانوں نے ۔ ہم نے باپ دادا کے علوم کو اپنے سے الگ کردیا ۔بچے پڑھنے کو تیار نہیں اور معاشرہ تماشہ دیکھ رہا ہے ۔جہاں بارش نہیں ہوتی وہاں کی فصلیں خراب ہوجاتی ہیں اور جہاں تعلیم نہیں ہوتی وہاں کی نسلیں خراب ہو جایا کرتی ہیں ۔حکیم اجمل خان کو سات سمندر پار لے کر یورپ علاج کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔حکیم عبدالوہاب نابینا تھے لیکن نبض دیکھ کر علاج کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ طب یونانی میں تاریخ ہے بس سمجھنے کی ضرورت ہے ۔سرپرستوں سے مخاطب ہو کر آپ نے کہا کہ ہم اپنے بچوںکے اہم ہاتھ میں کمپوٹر دیتے ہوئے ان کے دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید بھی دیں ۔کل قیامت کے دن اولاد اپنے گناہوں کا بوجھ تنہا نہیں اٹھائے گی بلکہ ان کے ساتھ ان کے والدین بھی شامل ہوں گے۔ وقت کی رفتار کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا ۔وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔استاد کے حوالے سے آپ نے کہا کہ استاد نسلوں کا محافظ ہوتا ہے۔ استاد جیسا ہوگا ویسا ہی شاگرد پیدا ہوگا ۔اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ روپیوں کی چمک دمک کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ آپ نسل نو معمار بنیں ۔آگر آج ہم تک علم کی کرنیں ہم تک پہنچ رہی ہیں تو یہ ہمارے صحابہ کرام کی ہمہ جہت کوششوں اور جد وجہد کا نتیجہ ہے۔افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر شیخ، ڈاکٹر اظہر احمد مولانا عمرین محفوظ رحمانی، اسحاق سیٹھ زر والا، مولانا عقیل ملی قاسمی رضوان شیخ، ریحان شیخ، ڈاکٹر وسیم یونانی سائنسداں، ڈاکٹر جاوید قریشی ،ڈاکٹر سلیم خان شاکر شیخ اور شہر مالیگاؤں کی تعلیمی، سماجی فلاحی و ملی شخصیات نے شرکت کی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مالیگاؤں 2006 بم دھماکہ مقدمہ : سپریم کورٹ نے مقدمے سے ڈسچارج کیے گئے مسلم ملزمین کے خلاف بامبے ہائی کورٹ کے تبصروں پر روک لگا دی

نئی دہلی : مالیگاؤں 2006/ بم دھماکہ مقدمہ سے گذشتہ ماہ ڈسچارج کیئے گئے چار ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کے خلاف بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی ہے جس پر آج سماعت عمل میں آئی، اسی طرح مقدمہ سے ڈسچارج کئے گئے مسلم ملزمین کے خلاف دیئے گئے ہائی کورٹ کے تبصرے کو حذف کرنے کی پٹیشن بھی داخل کی گئی تھی, جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ مسلم ملزمین کے خلاف زیر سماعت اپیل پر ہائی کورٹ کے حالیہ تبصرے سے متاثر ہوئے بغیر سماعت کرے، مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے 9/ مسلمانوں کے خلاف مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دھان سنگھ و دیگر نے بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپول پنچولی کے سامنے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن اور سادان فراست نے بحث کی۔ بم دھماکہ متاثرین اور مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے مسلم ملزمین کی جانب سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے قانونی پیروی کی۔
آج دوران سماعت ایڈوکیٹ سادان فراست نے دو رکنی بینچ کو بتایا کہ گذشتہ دنوں بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے چار ملزمین (دھان سنگھ و دیگر) کو مقدمہ سے نا صرف ڈسچارج کردیا تھا بلکہ اپنے فیصلے میں مسلم ملزمین کے خلاف کچھ تبصرے بھی کئے تھے، یہ تبصرے مسلم ملزمین کی غیر موجودگی میں انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیئے بغیر کئے گئے تھے, لہذا عدالت بامبے ہائی کورٹ کے ان تبصروں کو حذف کرے۔ ایڈوکیٹ سادان فراست کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے فیصلے میں کیئے گئے تبصر ے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے ملزمین نورالہدی اور دیگر کے ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز نہیں ہونگے اور ہائی کورٹ اپیلوں پر میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ سینئر ایڈوکیٹ سادان فراست کی بحث کے اختتام کے بعد سینئر ایڈوکیٹ نتیار اما کرشنن نے بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے ملزمین راجندر چودھری، منوہر رام سنگھ نرواریا، دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو مقدمہ سے ڈسچارج کردیا جبکہ ٹرائل کورٹ میں ان کے خلاف چارج فریم ہوچکا تھا۔ دو رکنی بینچ نے سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کو ہدایت دی کہ وہ بم دھماکہ متاثرین کی جانب سے داخل اپیلوں پر اگلے ہفتہ بحث کرے اور مقدمہ کی سماعت ملتوی کر دی۔
آج کی عدالتی کارروائی پر ممبئی میں صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے، بم دھماکہ متاثرین اور 2016/ میں مقدمہ سے ڈسچارج کیئے گئے ملزمین نورالہدا، محمد علی شیخ، آصف بشیر اور محمد زاہد اور ئیس احمد نے مولانا عبدالقیوم کے توسط سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی سے درخواست کی تھی کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا جائے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ سینئر وکلاء سے صلاح و مشورہ کرکے سپریم کورٹ میں چار پٹیشن (ایس ایل پی) داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی اور مقدمہ کی موثر قانونی پیروی کے لیئے ملک کے نامور کریمنل وکلاء کی خدمت حاصل کی گئی تھی جس کے نتیجے میں آج ہمیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی پیروی کے نتیجے میں مہاراشٹر اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے 9/ مسلم نوجوانوں کو پہلے ضمانت پر رہا کرایا گیا تھا پھر اس کے بعد انہیں مقدمہ سے ڈسچارج کرایا گیا لیکن اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے ملزمین اور مہاراشٹر اے ٹی ایس نے مسلم ملزمین کے مقدمہ سے ڈسچارج ہونے والے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا جس پر سماعت چل رہی ہے۔ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مزید کہا کہ انہیں بہت کم امید ہے کہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو این آئی اے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کریگی کیونکہ این آئی اے نے مالیگاؤں 2008/ بم دھماکہ مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمین کے خلاف ابتک ہائی کورٹ میں اپیل داخل نہیں کی ہے, اس کے برعکس بم دھماکہ متاثرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں اپیل داخل کردی ہے, جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ 8/ ستمبر 2006/ کو حمیدیہ مسجد بڑا قبرستان اور مشاورت چوک میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں میں 31/ لوگ شہید ہوئے تھے جبکہ 312/ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
نہرو سائنس سینٹر سے نہرو پلینیٹریم تک فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ 31 جنوری 2027 تک مکمل کیا جائے، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت۔

ممبئی : ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے آج (30 ستمبر 2026) پروجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا تاکہ ورلی میں نہرو سائنس سینٹر اور نہرو پلینیٹریم کے درمیان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیرِ تعمیر فلائی اوور اور سب وے پروجیکٹ کا معائنہ کر سکیں۔ دورے کے دوران، انہوں نے مختلف کاموں کی موجودہ صورتحال اور پیش رفت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل کا بھی جائزہ لیا۔ بانگر نے کام کی رفتار بڑھانے کے لیے واضح ہدایات جاری کیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پروجیکٹ کے بقیہ کام مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں؛ خاص طور پر انہوں نے ہدایت کی کہ فلائی اوور کا کام 31 جنوری 2027 تک مکمل کر لیا جائے۔ نہرو سائنس سینٹر (این ایس سی) کی جانب، 1200 ملی میٹر قطر والے مین پائلز (مین پائلز) کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ کل 18 میں سے 17 پائل کیپس (پائل کیپس)، 17 پیئرز (پیئر ) اور 17 پیئر کیپس (پیئر کیپس) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح، جیجاماتا نگر کی جانب بھی 1200 ملی میٹر قطر والی مین پائلنگ کا کام مکمل ہے, کل 17 میں سے 17 پائل کیپس، 17 پیئرز اور 17 پیئر کیپس کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ پروجیکٹ سائٹ اور مینوفیکچرنگ یونٹ، دونوں جگہوں پر پورٹل بیمز (پورٹل بیمز) اور گرڈرز (گرڈرز) کی تیاری کا کام جاری ہے۔ تمام 14 پورٹل بیمز پر کام مکمل ہو چکا ہے، اور 18 میں سے 17 گرڈر اسپینز (گرڈر اسپینز) کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ بقیہ گرڈر اسپین پر کام فی الحال جاری ہے۔ پورٹل بیمز اور گرڈر اسپینز کو نصب کرنے کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کل 14 پورٹل بیمز میں سے 13 نصب کیے جا چکے ہیں، اور 18 میں سے 9 گرڈر اسپینز کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مزید برآں، 18 میں سے 7 اسپینز (اسپینز) کے لیے ڈیک سلیب کی کنکریٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مزید 2 اسپینز پر کام جاری ہے۔
نہرو سائنس سینٹر فلائی اوور مسافروں کے سفر کے وقت میں بچت کا باعث بنے گا۔ فی الحال، اس راستے کو استعمال کرنے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ورلی ناکا (آچاریہ آترے چوک) کے راستے متبادل اور طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ مجوزہ فلائی اوور سے سفر کے وقت میں تقریباً 15 منٹ کی کمی متوقع ہے۔ یہ ای. موزس روڈ (ای موسز روڈ) سے اینی بیسنٹ روڈ اور دھرم ویر سوراجیہ رکشک چھترپتی سمبھاجی مہاراج کوسٹل روڈ تک ایک زیادہ آسان اور براہ راست راستہ فراہم کرے گا۔ لوئر پریل، مہالکشمی اور کری روڈ سے آنے والی گاڑیاں بھی براہ راست اس فلائی اوور کو استعمال کر سکیں گی۔ نتیجتاً، اس سے ورلی ناکا کے علاقے میں ٹریفک کے رش کو کم کرنے میں مدد ملے گی, سفر کی مسافت اور ٹریفک جام میں کمی سے گاڑیوں کے مالکان کے ایندھن کی بھی بچت ہوگی۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے ہدایت کی کہ منصوبے کے بقیہ کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کے لیے افرادی قوت، مشینری اور وسائل کے حوالے سے مناسب منصوبہ بندی پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کام کی رفتار بڑھانے اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر باہمی رابطے کے ذریعے منصوبے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر ٹریفک پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اس موقع پر چیف انجینئر (برجز) راجیش مولے، دیگر متعلقہ حکام اور انجینئرز بھی موجود تھے۔
(جنرل (عام
احمد آباد سیریل دھماکے : سپریم کورٹ نے سزائے موت کے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کو عبوری ریلیف دیتے ہوئے پھانسی پر روک لگا دی

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جمعرات کو 2008 کے احمد آباد سیریل دھماکوں کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے قیدی احمد باوا ابوبکر بریلوی کی پھانسی پر عمل درآمد روک دیا۔ عدالت نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست پر نوٹس بھی جاری کیا جس میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس آگسٹین جارج مسیح اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل ایک خصوصی بنچ نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بریلوی کی ‘اسپیشل لیو پٹیشن’ (ایس ایل پی) کی سماعت کے دوران یہ عبوری حکم جاری کیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے گجرات حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست پر ان کا جواب طلب کیا۔ وکیل آشوتوش ٹھاکر کی نمائندگی میں بریلوی نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں سیریل دھماکوں کے مقدمے میں ان کی مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھا گیا تھا۔
سماعت کے دوران، ان کے وکیل نے مجرمانہ حیثیت اور سزائے موت کو برقرار رکھنے والے عدالتی نتائج کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ انہیں مکمل طور پر مبینہ سازش کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ بریلوی ان 38 مجرموں میں شامل تھے جنہیں احمد آباد سیشن کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی؛ اس مقدمے میں 18 فروری 2022 کو 78 ملزمان میں سے 49 کو مجرم قرار دیا گیا تھا۔ باقی 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 29 کو بری کر دیا گیا تھا۔ یہ دھماکے 26 جولائی 2008 کو احمد آباد کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے جن میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس مقدمے میں بڑے پیمانے پر تفتیش کی گئی، جس کے دوران 35 ایف آئی آر (ایف آئی آر ایس) درج کی گئیں اور 548 چارج شیٹس دائر کی گئیں۔ ہزاروں شواہد اور 1,163 گواہوں کے جائزے کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تقریباً 7,000 صفحات پر مشتمل تھا، جبکہ اس مقدمے کی دستاویزات کی فائل (پیپر بک) مبینہ طور پر تقریباً 7.88 لاکھ صفحات پر مشتمل تھی۔ اس کیس کے ملزمان ملک کے مختلف حصوں بشمول گجرات، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، اتر پردیش، آندھرا پردیش اور جھارکھنڈ کے رہائشی تھے۔ ان پر تعزیرات ہند، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے کے قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت سزائے موت سنائی گئی تھی۔ سیشن کورٹ، گجرات حکومت نے 38 مجرموں کے خلاف سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اب سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی بریلوی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
