Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

مالیگاؤں میں الامین یونانی میڈیکل کالج کا عظیم الشان افتتاح

Published

on

مالیگاؤں (وفا ناہید )ریاست مہاراشٹر میں کل سات یونانی میڈیکل کالجز ہیں اور مزید پانچ کالج شروع ہونا چاہئے،آج حکومت ہندیونانی اور آیورویدک ادویات کو بڑھاوا دے رہی ہے کیونکہ یونانی قدیم طب ہے جو آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی قائم رہے گا اس طرح کا اظہار خیال مسیحا ء عصر ڈاکٹر زبیر شیخ نائب صدر سینٹرل کونسل انڈین میڈیسن نے مالیگاؤں شہر میں الامین یونانی میڈیکل کالج کی افتتاحی تقریب میں کیا۔ شہر مالیگاؤںمیں منصورہ کے بعد دوسری اقلیتی خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر انصرام الامین میڈیکل کالج کا افتتاح بروز اتوار 6 اکتوبر 2019 کو صبح 11 بجے مولانا عمرین محفوظ رحمانی کے دست مبارک سے ہوا، مولانا نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ایسے حالات میں ملک ہندوستان میں مسلم اقلیتی کالج قائم کرنا ایک کارنامہ عظیم ہے،یونانی ادویات ملک عرب اور یونان کی دین ہے، ایلوپیتھی کےدور میں طب یونانی سے استفادہ کیا جا رہا ہے ۔ ڈاکٹر اظہر احمد یونانی سائنسداں نے الامین کالج کے بانی مرحوم عبدالمطلب شیخ کو اس موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے الامین یونانی میڈیکل کالج کے مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا، انھوں نے کالج کی ترقی و کامرانی میں اپنے تعاون مشوروں اور خدمات کی یقین دھانی بھی کروائی، بعدازاں پرنسپل الامین میڈیکل کالج ڈاکٹر اظہر احمد نے کالج کی روداد کے بارے میں بتایا کہ اس کالج میں 75 فیصد طالبات اور 25 فیصد طلباء ہیں،کالج کی اجازت سال 2014 میں ملتوی کر دی گئی تھی لیکن چیئرمن رضوان شیخ کی کاوشوں سے سال 2019 میں حکومت ہند کی اجازت ملنے کے بعد آج عملی جامعہ پہنایا گیا، الامین یونانی میڈیکل کالج شہر کیلئے فخر کی بات ہے۔اس تقریب میں خاتون ایجوکیشن سو سائٹی صدر محمودہ آپا۔ چیئرمین رضوان شیخ اور وائس چیئرمین ریحان شیخ کا استقبال و اعزاز کیا گیا، نیز رضوان شیخ کی خدمت میں ایک سپاس نامہ تحریر کردہ عزیز اعجاز پیش کیا گیا، پروگرام کے اخیر میں رضوان مطلب نے تمام ہی مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا، موصوف نے کہا کہ خاتون ایجوکیشن سوسائٹی کا مقصد ہے کہ سماج کیلئے تعلیم فراہم کرنا ہے تاکہ سماج و معاشرہ اس سے استفادہ کریں، یونانی میڈیکل کالج کی مرحوم عبدالمطلب نے بنیاد رکھی تھی جو آج پایہ تکمیل تک پہنچا۔اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ مالیگاوں کی تاریخ میں نیا باب کھل رہا ہے ۔مرحوم عبدالمطلب سر کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔جو لوگ خواب دیکھنے کے دلدادہ ہوتے ہیں ان کے لیے راتیں طویل ہوتی ہیں لیکن جو لوگ خواب کی تکمیل چاہتے ہیں ان کے لیے دن چھوٹے پڑتے ہیں ۔ اچھے دنوں کا خواب دکھانے والے آج ہر سو لوگ ادارے بناتے ہیں اور اپنے والدین کے نام سے منسوب کرتے ہیں لیکن رضوان عبدالمطلب نے اپنے یونانی میڈیکل کا نام الامین یونانی میڈیکل کالج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے منسوب کیا ہے۔یونان سے اس طب کا افتتاح ہوا لیکن اسے بڑھایا عربوں اور مسلمانوں نے ۔ ہم نے باپ دادا کے علوم کو اپنے سے الگ کردیا ۔بچے پڑھنے کو تیار نہیں اور معاشرہ تماشہ دیکھ رہا ہے ۔جہاں بارش نہیں ہوتی وہاں کی فصلیں خراب ہوجاتی ہیں اور جہاں تعلیم نہیں ہوتی وہاں کی نسلیں خراب ہو جایا کرتی ہیں ۔حکیم اجمل خان کو سات سمندر پار لے کر یورپ علاج کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔حکیم عبدالوہاب نابینا تھے لیکن نبض دیکھ کر علاج کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ طب یونانی میں تاریخ ہے بس سمجھنے کی ضرورت ہے ۔سرپرستوں سے مخاطب ہو کر آپ نے کہا کہ ہم اپنے بچوںکے اہم ہاتھ میں کمپوٹر دیتے ہوئے ان کے دوسرے ہاتھ میں قرآن مجید بھی دیں ۔کل قیامت کے دن اولاد اپنے گناہوں کا بوجھ تنہا نہیں اٹھائے گی بلکہ ان کے ساتھ ان کے والدین بھی شامل ہوں گے۔ وقت کی رفتار کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا ۔وقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔استاد کے حوالے سے آپ نے کہا کہ استاد نسلوں کا محافظ ہوتا ہے۔ استاد جیسا ہوگا ویسا ہی شاگرد پیدا ہوگا ۔اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ روپیوں کی چمک دمک کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ آپ نسل نو معمار بنیں ۔آگر آج ہم تک علم کی کرنیں ہم تک پہنچ رہی ہیں تو یہ ہمارے صحابہ کرام کی ہمہ جہت کوششوں اور جد وجہد کا نتیجہ ہے۔افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر شیخ، ڈاکٹر اظہر احمد مولانا عمرین محفوظ رحمانی، اسحاق سیٹھ زر والا، مولانا عقیل ملی قاسمی رضوان شیخ، ریحان شیخ، ڈاکٹر وسیم یونانی سائنسداں، ڈاکٹر جاوید قریشی ،ڈاکٹر سلیم خان شاکر شیخ اور شہر مالیگاؤں کی تعلیمی، سماجی فلاحی و ملی شخصیات نے شرکت کی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان