(جنرل (عام
دیگر خلیجی کے ممالک کے مقابلے میں قطر میں اردو کا مستقبل روشن ہے۔ فوزیہ رباب
دیار غیر میں اردو کی ترویج و اشاعت پر روشنی ڈالتے ہوئے گوا کی مشہور شاعر ہ فوزیہ رباب نے کہاکہ دیگر خلیجی کے ممالک کے مقابلے میں قطر میں اردو کا مستقبل روشن ہے اورہندوستانی تارکین وطن نے یہاں اردو کے پر چم کو بلند کررکھا ہے۔ یہ بات انہوں نے قطر کے عالمی مشاعرے میں شرکت کے بعد وطن واپسی پر کہیانہوں نے کہاکہ قطر کی قدیم ترین معتبر ادبی تنظیم ’بزمِ اردو‘ نے یہاں اردو کی ترویج و اشاعت کاشمع روشن کر رکھا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں اردو بولنے ’لکھنے اور پڑھنے والے ہیں اور آئے دن یہاں اردو کی سرگرمیوں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔قطر میں بزم اردو کا قیام1959میں ہوا تھااور اس وقت سے یہ تنظیم اردو کے فروغ میں کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بزم اردو کے عہدیداران یو ں تو پوری دنیا سے اردو شاعروں اور ادیبوں کو یہاں کی اردو کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دیتے ہیں لیکن پہلی بار ہوا ہے کہ گوا سے ایک شاعرہ (فوزیہ رباب) کو دعوت دی گئی۔
فوزیہ رباب نے بزم اردو قطر کے سربراہان صبیح بخاری، احمد اشفاق اور قطر کے باذوق ادبی حلقے کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اگر اس طرح کے اردو کے قدرداں ہر جگہ ہوں گے تو اردو زبان کی ترقی اور فروغ کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہاکہ قطر میں اردو ریڈیو سروس، اردو پندرہ روزہ ’سیاست مڈل ایسٹ‘ اخبار نکل رہا ہے اور اس کے علاوہ انڈین اسکول میں بھی اردو پڑھائے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اپنے والہانہ لب ولہجے، مخصوص ڈکشن اور البیلے پن کے حوالے سے کم عمری میں ہی ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرلینے والی شاعرہ فوزیہ رباب کو قطر کی قدیم ترین معتبر ادبی تنظیم بزمِ اردو نے اپنی ساٹھویں سال گرہ پلاٹینم جوبلی کے موقع پر منعقدہ شاندار عالمی مشاعرے میں بحیثیت شاعرہ دعوت دی تھی۔قطر میں موجود ان کے سینکڑوں مداحوں نے ان کے کلام کی بھرپور پذیرائی کی۔سامعین کا تاثر تھا کہ آج کل جس طرح سے مشاعروں کا ادبی معیار زوال آمادہ ہوتا جارہا ہے، مشاعرہ جیسا اہم ادبی و تہذیبی ادارہ ایک پستی کی طرف مائل ہے،مشاعرے کے نام پر بدذوقی اور سستے پن کا طوفانِ بدتمیزی بپا کیا جاتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں نفیس اور اعلٰی شعری ذوق کے حامل سامعین کے لیے فوزیہ رباب امید کی ایک نئی کرن ہیں۔ ان کے کلام میں شائستہ اور نکھرے ہوئے خیالات کا نہایت خوبصورت اظہار ملتا ہے۔
بزمِ اردو قطر کے سرپرست صبیح بخاری نے فوزیہ رباب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صرف قطر ہی نہیں بلکہ پورے خلیج کے کسی مشاعرے میں پہلی بار گوا کی نمائندگی ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ اس عالمی مشاعرے میں مشہور فلم اسٹار شتروگھن سنہا بحیثیت مہمانِ خصوصی شریک ہوئے تھے اور اس کی صدارت جشنِ بہار کی کنوینر کامنا پرشاد نے کی تھی۔فوزیہ رباب کا شعری مجموعہ ’آنکھوں کے اس پار‘ شائع ہوکر مقبول عام ہوچکا ہے۔
(Monsoon) مانسون
اس مانسون کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی، ہائی ٹائیڈز کے حوالے سے دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی اپیل

ممبئی : اس مانسون کے دوران یعنی جون سے ستمبر تک 4 ماہ کے دوران سمندر میں 24 اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اونچی لہر کا مطلب ہے کہ اس جوار کے دوران سمندر میں ساڑھے چار میٹر سے زیادہ اونچی لہریں اٹھیں گی۔ اس میں جوار کی تاریخ اور وقت کے ساتھ ساتھ سمندر میں اٹھنے والی لہروں کی اونچائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، اس مانسون میں سب سے زیادہ لہریں 16 جولائی 2026 کو اٹھیں گی۔ میونسپل انتظامیہ نے ایک بار پھر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام دنوں میں تیز لہر کے دوران ساحلوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور اس سلسلے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
جون 2026
- اتوار، 14.06.2026 اے ایم – 11.24 AM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
- پیر، 15.06.2026 پی ایم – 12.14 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.80
- منگل، 16.06.2026 پی ایم – 01.05 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.87
- بدھ، 17.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86
- جمعرات، 16.06.2026 پی ایم – 01.55 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.86 18.06.2026 پی ایم – 02.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.79
- جمعہ، 19.06.2026 پی ایم – 03.32 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.64
جولائی 2026
- پیر، 13.07.2026 اے ایم – 11.14 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.53
- منگل، 14.07.2026 پی ایم – 12.04 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
- بدھ، 15.07.2026 پی ایم – 12.51 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.85
- جمعرات، 16.07.2026 پی ایم – 01.36 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.89
- جمعہ، 17.07.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
- ہفتہ، 18.07.2026 پی ایم – 03.00 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.66
اگست 2026
- بدھ، 12.08.2026 اے ایم – 11.48 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.68
- جمعرات، 13.08.2026 پی ایم – 12.28 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.81
- جمعہ، 14.08.2026 پی ایم – 01.07 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.83
- ہفتہ، 15.08.2026 پی ایم – 01.44 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.73
- اتوار، 16.08.2026 پی ایم – 02.19 لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.50
ستمبر 2026
- جمعرات، 10.09.2026 اے ایم – 11.26 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.57
- جمعہ، 11.09.2026 پی ایم – 12.00 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.65
- ہفتہ، 12.09.2026 پی ایم – 12.34 PM لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.61
- اتوار، 13.09.2026 آدھی رات – 01.02 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
- پیر، 28.09.2026 آدھی رات – 00.38 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.51
- منگل، 29.09.2026 آدھی رات – 01.14 اے ایم لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.59
- بدھ، 30.09.2026 آدھی رات – 01.53 بجے۔ لہر کی اونچائی (میٹر) – 4.56
(Tech) ٹیک
گوریگاؤں-ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ : فیز 3-بی کے تحت جڑواں سرنگوں کی تعمیر کے لیے ٹنل بورنگ مشین کے اسپیئر پارٹس کو شافٹ سے جوڑنے کا کام زوروں پر۔

ممبئی : پہلی ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام جون کے دوسرے ہفتے تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس دوران دوسری ٹنل بورنگ مشین کو جوڑنے کا کام متوازی طور پر زوروں پر ہے۔ پروجیکٹ کی جگہ پر پہلی ٹنل بورنگ مشین کے پورے سسٹم کو انسٹال کرنے کے بعد، اس کی کارکردگی، حفاظت اور تمام سسٹمز کے مناسب کام کو جانچنے کے لیے ایک سائٹ ایکسیپٹنس ٹیسٹ (ایس اے ٹی) کرایا جائے گا۔ اس میں بنیادی طور پر مکینیکل، الیکٹریکل، ہائیڈرولک، کنٹرول اور حفاظتی نظام کی جانچ شامل ہوگی۔ مقررہ معیار کے مطابق تمام ٹیسٹ تسلی بخش پائے جانے کے بعد اصل سرنگ کی کھدائی شروع کر دی جائے گی۔
گوریگاؤں میں دادا صاحب پھالکے چتر نگری سے ملنڈ کے کھنڈی پاڑا تک جڑواں اور زیر زمین سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔ یہ جڑواں سرنگیں، جو ایک دوسرے کے متوازی ہیں، ہر ایک کی لمبائی 4.70 کلومیٹر ہے۔ سنجے گاندھی قومی پناہ گاہ کے علاقے میں ان متوازی سرنگوں کا قطر 14.20 میٹر اور 13 میٹر ہے۔
دونوں سرنگوں کی کھدائی طے شدہ شیڈول کے مطابق شروع کر دی گئی ہے اور اکتوبر 2028 سے پہلے سرنگوں کی کھدائی کو مکمل کرنے کا مقصد مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، میونسپل کارپوریشن اس منصوبے کو دسمبر 2028 تک مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کی جانب سے غریب نگر کے متاثرین کے لیے ریلیف آپریشن, اس سے قبل 400 غذائی پیکیٹ بھی تقسیم کیے گئے تھے

شہر کے غریب نگر علاقے میں حالیہ کارروائی کے دوران بے گھر ہونے والے شدید مشکلات کے شکار خاندانوں کی بازآبادکاری اور فوری امداد کے لیے جماعتِ اسلامی ہند ممبئی نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ منگل، ۲ جون ۲۰۲۶ء کو جماعت کی جانب سے غریب نگر کے ۱۸ منتخب متاثرہ خاندانوں میں مالی امداد تقسیم کی گئی، جو اس وقت کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان مستحق خاندانوں کا انتخاب رضاکاروں کی ایک ٹیم کی جانب سے کیے گئے تفصیلی اور منظم زمینی سروے (آن گراؤنڈ سروے) کے بعد کیا گیا۔ سروے کا مقصد متاثرین کے حقیقی حالات کا جائزہ لینا تھا تاکہ یہ مالی امداد بلا تفریق صرف انتہائی ضرورت مند، بے سہارا اور متاثرہ گھرانوں تک پہنچائی جا سکے۔
جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ یہ مالی امداد ان خاندانوں کی فوری اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور اس انتہائی کٹھن وقت میں انہیں حوصلہ فراہم کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اس مستقل مالی امداد سے قبل، کارروائی کے فوراً بعد جماعتِ اسلامی ہند ممبئی کی جانب سے ہنگامی ریلیف کے طور پر متاثرہ مکینوں میں ۴۰۰ تیار شدہ غذائی پیکیٹ (فوڈ پیکٹ) بھی تقسیم کیے گئے تھے، تاکہ متاثرین کو فاقہ کشی سے بچایا جا سکے۔ جماعت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر مظلوموں اور ضرورت مندوں کی مدد کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست10 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
(جنرل (عام10 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
