Connect with us
Sunday,09-August-2026

جرم

بھیونڈی میں جہیز کی لعنت نے کلشوم صدیقی کو موت کی نیند سلادیا، شوہر گرفتار، ساس سسر اور نند فرار

Published

on

✍✍وفا ناہید ✍✍
جہیز کی لعنت کب ختم ہوگی؟ یہ جہیز نامی اژدھا نجانے کتنی معصوم و بے گناہ لڑکیوں کو سالم نگل چکا ہے. جہیز مخالف قانون 498 (A) کے بعد بھی جہیز کے لئے ایذا رسانی، قتل اور خودکشی پر مجبور کردینے کے واقعات منظر عام پر آتے ہی رہتے ہیں. گذشتہ دنوں بھیونڈی کے شانتی نگر میں انتہائی دل دہلادینے والی واردات رونما ہوئی. محمدیہ مسجد کے پاس، شانتی نگر کی ساکنہ یاسمین ناظم الدین صدیقی (سابق کونسلر) اس کے شوہر ناظم الدین صدیقی، بیٹا نیاز ناظم الدین صدیقی اور بیٹی سیمین صدیقی کو شانتی نگر پولس نے ان کی بہو کلشوم نیاز صدیقی کو جہیز کے لئے ایذاء پہنچانے اور خودکشی کے لئے مجبور کرنے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا ہے. نومبر 2019 میں یاسمین صدیقی نے اپنے بیٹے نیاز صدیقی کی شادی یوپی کے الہ آباد کے ساکن گڈو صدیقی کی بیٹی 19سالہ کلشوم صدیقی سے کی. شادی میں کلشوم کے والدین نے جہیز کے نام پر 5 لاکھ روپئے کی خطیر رقم اور 10 تولے کے سونے کے زیورات دیئے تھے مگر بروز جمعرات 12 مارچ کو صبح ساڑھے 9 بجے کلشوم صدیقی کی لاش اپنے سسرال میں پھانسی کے پھندے پر لٹکی ہوئی تھی. شادی کے محض 15 مہینوں میں کلشوم صدیقی ایک 4 ماہ کی بچی کو روتا بلکتا چھوڑ کر کیسے موت کی بانہوں میں سوگئی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب جاننے کے لئے جب نامہ نگار نے الہ آباد بذریعہ موبائل کلشوم والد سے رابط کیا تو کال اس کے چاچا نے رہسیو کیا اور دل دہلادینے والی سچائی بتائی. اس کے چاچا نے غمگین لہجے میں بتایا کہ ہماری بچی کو انہوں نے مار ڈالا. کلشوم کو شادی کے بعد سے ہی طرح طرح کی اذیت دی جاتی تھی. شادی کے بعد کلشوم تخلیق مراحل سے گھر رہی تھی. اس حالت میں بھی اسے ہراساں کیا جاتا. شادی کے سال بھر بعد کلشوم نے ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دیا. اپنی بیٹی کو پاکر کلشوم بہت خوش تھی مگر یہ خوشی بھی اسے راس نہ آئی. اپنی بچی کو لے کر وہ الہ آباد آنا چاہتی تھی مگر اسے کہا گیا کہ وہ بچی کو چھوڑ کر جائے. اتنی چھوٹی بچی کو چھوڑ کر کون ماں جائے گی. جب ممتا کی دیوانی وہ ماں بغیر اپنی بچی کہ الہ آباد نہیں آئی تو خودکشی کیسے کرسکتی ہیں. ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں آئی ہے. 2 -4 دن بعد ہم لوگ واپس بھیونڈی جائینگے. نمائندے نے اس کیس کے تعلق سے جب پی آئی پھڑتڑے میڈم سے رابط قائم کیا تو انہوں نے ممبئی پریس کو بتایا کہ بس نیاز صدیقی کو پولس نے حراست لیا ہے. یاسمین صدیقی، ناظم صدیقی اور سیمین صدیقی کورٹ میں حاضر ہوجائیں گے. 498 (A) اور 304 کے تحت مقدمہ درج کیا.
بروز سنیچر 14 مارچ 2020 کو نیاز صدیقی کو کورٹ میں حاضر کیا. جہاں کورٹ نے آج 17 مارچ تک پولس کسٹڈی دی تھی. تادم تحریر یاسمین صدیقی، ناظم الدین صدیقی اور سیمین صدیقی فرار ہے.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان