سیاست
بھیونڈی میں کانگریس پارٹی کے مرکزی دفترکا افتتاح ریاستی صدر نانا بھاؤ پاٹولے کے ہاتھوں کیا گیا

بھیونڈی: (نامہ نگار )
بھیونڈی کے زکواۃ ناکہ واقع کانگریس پارٹی کے مرکزی دفتر کی اعلیٰ طرز پر کی گئی تزئین کاری کے بعد اس کا افتتاح ریاستی صدر نانا بھاؤ پاٹولے کے ہاتھوں کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر کانگریس کے اعلیٰ لیڈران نے شہر میں ایڈوکیٹ عبدالرشید طاہر مومن کی قیادت میں متحد ہوکر پارٹی کی بقاء اور اور اس کی ترقی کے لئے مل جل کر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ اعلیٰ لیڈران نے کانگریس کے کچھ لیڈران کے ذریعہ پارٹی کے مقامی لیڈران سے ناراضگی اور پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ پارٹی سے بڑھ کر کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، پہلے پارٹی ہے اس کے بعد ہی کچھ اور۔ ریاستی لیڈران نے سخت لہجہ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بھی کانگریسی پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو پارٹی اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
واضح ہوکہ گزشتہ دنوں زکوٰۃ ناکہ واقع میونسپل کارپوریشن کے سامنے واقع کانگریس کے مرکزی دفتر کی تزئین کاری کے بعد افتتاح کی ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس میں مہاراشٹر اسمبلی کے سابق اسپیکر اور کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر نانا بھاؤ پاٹولے،کارگزار صدر عارف نسیم خان،نائب صدر موہن جوشی اورریاستی کانگریس کے اعلیٰ لیڈران موجود تھے۔ کانگریس کے ریاستی صدر اور ریاستی لیڈروں کا کارکنان کے ذریعے کلیان بائی پاس پر شاندار استقبال کیا گیا۔شرکاء کا کلیان روڈ پر جگہ جگہ استقبال کیا گیانیز لیڈران پر پھول برسائے کئے گئے۔
ریاستی لیڈران سب سے پہلے کلیان ناکہ پر نو تعمیر شدہ راجیو گاندھی چوک پر راجیو گاندھی کے مجسمہ پر پھولوں کا نذرانہ پیش کیا، اس کے بعد کانگریس کے مرکزی دفتر پہنچ کر اس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نانا پاٹولے نے مرکزی حکومت پر جم کر تنقید کی۔ انہوں نے ملک میں کورونا کی وباء کی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی کے سر پھوڑتے ہوئے کہا کہ نمستے ٹرمپ کے سبب ہی کورونا نے ملک میں دستک دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مہنگائی روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، بے روز گاری میں اضافہ ہورہا ہے، ملک کی اہم کمپنیوں، ایئرپورٹ ، ریلوے وغیرہ کو فروخت کیا جارہا ہے اس کی جانب سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ملک میں کورونا کی وباء کو پھیلایا جارہا ہے۔ انہوں نے شیوسینا اور این سی پی کے لیڈران پر بھی طنز کیا۔
عارف نسیم خان نے بھی اپنی تقریر میں مرکزی حکومت کے کام کاج پر سخت تنقید کی، انہوں نے شرکاء کو یقین دلایا کہ کانگریس نے ہمیشہ ہی بھیونڈی شہر کو دیا ہے۔ کانگریس نے1999ء میں جس وقت موجودہ صدر اور اس وقت کے رکن اسمبلی عبدالرشید طاہر مومن کی کوششوں سے اس وقت کے آنجہانی وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ نے پاور لوم پر ساڑھے چار سو کروڑ روپیوں کی سبسیڈی دی، بجلی بل کم کیا، پاور لوم کو راحت دلائی۔ کانگریس نے ہمیشہ ہی سے اس شہر کو کچھ نہ کچھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیڈران مل کر پارٹی کے لئے کام کریں ، پارٹی صدر کے ساتھ مل کر شہر میں کانگریس کے پیغام کو گھر گھر پہنچائیں انہوں نے سخت لہجہ میں کہا کہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں رہنے والوں کے خلاف ہائی کمان سخت اقدام کرے گی۔
تقریب افتتاح کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر اور لیڈران کے ساتھ شہر کی تعمیر وترقی کو لیکر مختلف میٹنگیں بھی کی گئیں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ کانگریس کے اہم لیڈران خود بھیونڈی میں آکر پاور لوم کے مسائل کو لیکر میٹنگ کی۔ صنعت کاروں اور پاور لوم کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں صنعت پارچہ بانی کی ترقی میں حائل دشواریوں پر گفتگو کی گئی۔ جس میں سبسیڈی کے لئے آن لائن اور آف لائن اندراج کے ساتھ پاور لوم کے دیگر مسائل پر کھل کر گفتگو ہوئی۔ میٹنگ میں نانا پاٹولے نے کہا کہ وہ جلد ہی وزیر اعلیٰ اور متعلقہ لیڈران و افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کرکے پاور لوم انڈسٹری کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
صنعت کاروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد لیڈران نے ٹیچروں اور ان کی تنظیموں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی گئی جس میں اساتذہ کے اہم مسئلوں پر بحث و مباحثہ کیا گیا، میٹنگ میں ہی نانا پاٹولے نے وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ کو فون کرکے انہیں اس سلسلے میں جلد سے جلد ایک میٹنگ منعقد کرنے کو کہا جس پر وزیر محترمہ نے اس پر رضا مندی ظاہر کی اور ٹیچروں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اس کے بعد کانگریسی لیڈران پپو راکا سے خیر سگالی ملاقات اور چائے پینے کی غرض سے ان کے دفتر گئے۔ جہاں کارپوریٹروں کے ساتھ بھی گفتگو کی گئی۔ وہاں بھی کانگریس کے اعلیٰ لیڈران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی صدر عبدالرشید طاہر مومن کے ساتھ مل کر سبھی متحد ہوکر پارٹی کو بڑھائیں اور مضبوط کریں۔ تاہم لیڈران اس بات سے ناراض نظر آئے کہ کارپوریٹروں کی میٹنگ پپو راکا کے دفتر میں میں رکھی گئی۔ ان کا خیال تھا کہ میٹنگ کانگریس آفس میں ہونی چاہئے تھی۔پارٹی لیڈران کا شاندار عشائیہ پارٹی کے مقامی صدر عبدالرشید طاہر مومن کے رہائش گاہ پر رکھا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاست
وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا