Connect with us
Friday,04-April-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ نے سبھی مسلمانوں سے ایک بار پھر کی اپیل۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ آگے بھیجنے سے پہلے اسے ضرور پڑھ لیں

Published

on

all-india

کفارقریش نے بہت سے گالیوں سے بھرے اشعار لکھے جن میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ اشعار ہم تک نہیں پہنچے۔
کیوں؟ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ اشعار نہ ہی یاد کئے اور نہ ہی آپس میں شیئر کئے، اس طرح سے وہ سارےاشعار فنا ہوگئے۔ آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ گستاخانہ مواد کو دنیا میں کفارے سے زیادہ مسلمان پھیلارہے ہیں۔
اور وہ یوں کہ :
کفار ایک گستاخانہ خاکہ یاتصویر بناتے ہیں پھر اس کے اوپر لکھ دیتے ہیں کہ ’’ لکھنے یا بنانے والے پر لعنت بھیج کر آگے شیئر کریں۔‘‘
اب کفار کا کام ختم اور مسلمانوں کا شرروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد لعنت بھیجنے کے چکر میں ایسے شروع ہوتے ہیں کہ پوری دنیا تک یہ گستاخانہ مواد پہنچ جاتا ہے۔
حل :
کوئی بھی گستاخانہ خاکہ یاتصویر یا فلم کا ٹکڑا یا کوئی ایسی چیز آپ تک پہنچے تو آپ خود اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقش قدم پر چلیں، بغیر دیکھے، بغیر کسی کو شیئر کئے فوراًاسے ڈیلیٹ کردیں۔ لعنتی تو لعنتی ہے، اس کو لعنت بھیجنے سے کیا فرق پڑے گا۔ البتہ ہماری بیوقوفی کی وجہ سے گستاخانہ مواد کی دنیا بھر میں تشہیر ہوجاتی ہے اور کفار کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایسا مواد آگے مزیدShare کرنے کے بجائے اسے HIDEیاDELETEکردیں اور اس آئی ڈی کو رپورٹ کردیا کریں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس پر غور کریں گے اور اس نہایت غیر ذمہ دارانہ رویہ سے توبہ کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہیں کریں گے جس میں جہاں ایک طرف ہمارے ایمان کا تحفظ ہے تو دوسری جانب امن کا پیغام۔
شکریہ

(جنرل (عام

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

Published

on

Asaduddin-Owaisi

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔

اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بروقت کارروائی، سائبر دغابازی سے قبل ۱۱ کروڑ منجمد

Published

on

cyber-crime

ممبئی : ممبئی میں سائبر فرا ڈ اور دغابازوں پرقدغن لگانے کے ساتھ ممبئی کرائم کا سائبر سیل انتہائی الرٹ ہے, اس نے 24 گھنٹے کے اندر ہی گیارہ کروڑ روپے محفوظ کر لئے اور دغاباز کےاکاؤنٹ میں منتقلی سے پہلے ہی اسے منجمد کر دیا۔ ممبئی 3 مارچ، تقریباً ڈیڑھ بجے ممبئی کے پوائی سے ایک شکایت کنندہ نے ممبئی پولیس کی 1930 سائبر ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ ایک نامعلوم شخص نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک ای میل آئی ڈی کو ہیک کر لیا ہے۔ دھوکہ باز نے پھر کمپنی کے نام پر کوٹک مہندرا بینک کو ایک ای میل بھیجا، جس نے کاروباری کارروائیوں کے جھوٹے بہانے کے تحت بینک کو 11,34,85,258/ کے دو مختلف کھاتوں میں لین دین کی کارروائی میں گمراہ کیا، اس طرح سائبر فراڈ کا ارتکاب کیا۔

دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے بعد، شکایت کنندہ نے فوری طور پر 1930 سائبر ہیلپ لائن کو معاملے کی اطلاع دی۔ تیزی سے جواب دیتے ہوئے، پی آئی نورتی باوسکر، اے پی آئی ناگرال، پی ایس آئی راول، اور پی ایس آئی کاکڑ نے فوری طور پر این سی سی آر پی پورٹل پر شکایت درج کی اور بینک حکام کے ساتھ تال میل کیا۔ ان کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 11,19,50,501/- (11.19 کروڑ) کو دھوکہ دہی والے کھاتوں اکاؤنٹ میں کامیابی سے منجمد کیا گیا، جس سے مزید مالی نقصان کو روکا گیا۔

یہ اطلاع آج یہاں دتا نلاواڑے ڈی سی پی (ڈیٹیکشن) کرائم برانچ، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کلین اپ مارشل اور سوچھ ممبئی مہم کا خاتمہ، شہریوں سے جرمانہ وصولی پر بھی پابندی، بی ایم سی ہیلپ لائن نمبر جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے کلین اپ مارشل پالیسی کو ختم کر دیا ہے جس کے بعد اب کلین اپ مارشل کا شہر کی سڑکوں سے صفایا ہو گیا۔ میونسپل کارپوریشن نے کلین اپ مارشل پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے اور سوچھ ممبئی مشن کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے معرفت اب کوئی بھی کلین اپ مارشل جرمانہ یا دیگر تعزیری کارروائی کے لئے شہریوں کو مجبور نہیں کرسکتا۔ کلین اپ مارشل کے خلاف شکایت کے بعد ممبئی بی ایم سی نے فیصلہ کیا ہے آج سے کلین اپ مارشل کی سروس کو بند اور موخر کردیا گیا ہے۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ محکمہ کچرا اور صاف صفائی کے تحت ممبئی میں عوامی صفائی کی نگرانی اور ’سوچھ ممبئی مشن‘ کو 4 اپریل 2025 سے بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم میونسپل کارپوریشن انتظامیہ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر اس کے باوجود ان پرُکوئی جرمانہ عائد کیا گیا ہے, تو وہ اس کی شکایت کرسکتے ہیں۔ کلین اپ مارشل کی شکایت ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ڈویژنل کنٹرول روم سے 022-23855128 اور 022-23877691 (ایکسٹینشن نمبر 549/500) پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com