Connect with us
Saturday,25-July-2026

(جنرل (عام

سپریم کورٹ نے معاملہ جوں کا توں رکھنے کا دیا حکم، ممبئی میٹرو کاکام جاری رکھنے کا فیصلہ

Published

on

آرے کالونی میں درخت کاٹنے پر سپریم کورٹ کی روک کے بعد ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے بیان دیا ہے کہ ان کے پاس تو ۲۱۸۵؍درخت کاٹنے کی اجازت تھی
ممبئی :سپریم کورٹ نے پیر کے روز ممبئی کی آرے کالونی میں میٹرو پروجیکٹ کے لیے درخت کاٹنے پر روک لگا دی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آنے میں کافی تاخر ہو گئی، کیونکہ ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے کہا ہے کہ وہ معاملہ عدالت میں پہنچنے تک 2141 درخت کاٹ چکا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممبئی میٹرو کے ترجمان نے کہا کہ اب مستقبل میں مزید درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔ حالانکہ کاٹے گئے درختوں کو ہٹا کر جگہ صاف کرنے اور دیگر تعمیری کام جاری رکھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “ہم سپریم کورٹ کے حکم کی عزت کرتے ہیں اور اب آرے مِلک کالونی میں کار شیڈ سائٹ کے آس پاس کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے کہا تھا کہ میٹرو کو جتنے درخت کاٹنے تھے، اتنے کاٹ لیے گئے ہیں۔ اس پر عرضی دہندہ کے وکیل سنجے ہیگڑے نے عدالت کے سامنے اندیشہ ظاہر کیا کہ کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے نام پر مزید درخت کاٹے جا سکتے ہیں، اس پر عدالت نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن میٹرو کے بیان سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کے حکم کو اس نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اسی لیے میٹرو نے کہا ہے کہ نئے درخت کاٹے نہیں جائیں گے اور کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے ساتھ ہی شیڈ بنانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سوموار کو ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگا دی تھی اور مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا تھا کہ اگلی سماعت تک وہ اس معاملے میں موجودہ حالات کو بنائے رکھیں۔ معاملے کی اگلی سماعت 21 اکتوبر کو فاریسٹ بنچ کے سامنے ہوگی۔غور طلب ہے کہ قانون کے طالب علموں کے ایک گروپ کے ذریعے اس بارےمیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے گئے خط کے بعد یہ دو ججوں کی بنچ تشکیل کی گئی تھی۔ اس سے پہلے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کی مانگ کو لےکر بامبے ہائی کورٹ پہنچے لوگوں کی عرضی کو کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سینئر وکیل سنجےہیگڑے اور گوپال شنکرنارائنن نے درخواست گزاروں کی پیروی کی۔ انہوں نے کورٹ کو بتایا کہ آرے جنگل ہے یا نہیں، ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی ٹی اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ آرے علاقہ ایکو۔سینسٹو ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لئے انتظامیہ کو فیصلہ آنے تک آرے کالونی کے درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے تھا۔
اس سے پہلے جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ کے دو ججوں چیف جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس بھارتی ڈانگرے کی بنچ نے درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کے بارے میں این جی او اور ماہرِ ماحولیات کے ذریعے دائر کی گئی پانچ عرضیوں کو خارج کر دیا تھا۔گزشتہ جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد رات کو نو بجے سے دو گھنٹے کے اندر ایم ایم آر سی ایل نے الیکٹرک مشین سے 450 درختوں کو کاٹ دیا تھا۔ حالانکہ مقامی لوگوں کے ذریعے مخالفت کے بعد کچھ دیر تک اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے سنیچر رات نو بجے تک آرے کالونی کے تقریباً 2134 درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ممبئی پولیس نے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کو لےکر ہوئے مظاہرہ کے بیچ سنیچر کی صبح کالونی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جس کے بعد 29 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ اس معاملے کو لےکر گرفتار کئے گئے تمام مظاہرین کو رہا کیا جائے۔ اس پر بھروسہ دلاتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا، ‘ اگر کسی کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے تو ان کو فوراً رہا کیا جائے گا۔دریں اثناء آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے، جس پر آج سماعت ہوگی ۔ سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے جاری ایک نوٹس میں اس بات کی معلومات دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے قانو ن کے طالب علم رشبھ رنجن کے خط کو مفاد عامہ کی عرضی میں بدل کر اس کی آج سماعت کے لئے خصوصی بینچ تشکیل دی ہے ۔ بینچ صبح 10 بجے اس معاملے کی سماعت کرے گی ۔ قانون طالب علم نے خط میں لکھا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے آرے کے درختوں کو جنگل کے زمرے میں رکھنے سے انکار کر دیا اور درختوں کی کٹائی سے متعلق عرضیاں مسترد کر دیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد بازی میں یہ فیصلہ لے رہی ہے ۔ واضح ر ہے کہ آرے میں کل 2700 درخت کاٹے جانے کا منصوبہ ہے، جن میں سے 1،500 درختوں کو گرا دیا ہے ۔میٹرو شیڈ کے لئے آرے کالونی کے درختوں کی کٹائی کی مخالفت سماجی اور ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ کئی معروف شخصیات کر رہی ہیں ۔

بالی ووڈ

راکھی ساونت کی سوشل میڈیا پوسٹ پر بحث چھڑ گئی

Published

on

Rakhi-Sawant

ممبئی : اداکارہ اور ٹیلی ویژن شخصیت راکھی ساونت کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ملک بھر میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پوسٹ حالیہ طلبہ احتجاج سے جوڑ کر دیکھی جا رہی ہے۔ پوسٹ میں سرخ رنگ کے سینیٹری پیڈ کی علامتی تصویر شیئر کی گئی تھی، جسے متعدد صارفین نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر دیکھا۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور اس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ افراد نے اسے اظہارِ رائے کی آزادی اور طلبہ کے ساتھ ہمدردی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اس علامتی انداز پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر مناسب اور متنازع قرار دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی شخصیات کے سماجی اور عوامی معاملات پر اظہارِ خیال، آزادیِ اظہار اور عوامی ذمہ داری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

تاحال راکھی ساونت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے حوالے سے کسی بھی سرکاری قانونی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اب بھی سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے اور مختلف طبقات اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے رئیس شیخ کی قیادت میں امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک پرامن ترنگا ریلی اختتام پذیر

Published

on

Mumbai-Protest

ممبئی بھیونڈی کے شہریوں نے جمعہ کے روز بے ساختہ ایک ‘ترنگا پیدل یاترا’ (ترنگا مارچ) کا اہتمام کیا تاکہ ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک اسکینڈل پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جاسکے اور ملک گیر طلباء کے احتجاج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاسکے۔ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے (بھیونڈی ایسٹ) رئیس شیخ کی قیادت میں پیدل مارچ میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹی کے کارکنوں اور لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ مارچ بھیونڈی کے امجدیہ روڈ سے شانتی نگر تک کے راستے کا احاطہ کرتے ہوئے شام کو جلوس نکالا گئا جلسے کے دوران کسی سیاسی جماعت کے جھنڈے نہیں لہرے گئے بلکہ ہاتھوں میں ترنگا تھام کر شہریوں نے یکجتی کا جذبہ کو سرشار کیا۔ پرامن جلوس کے ذریعے اتحاد کے جذبے ایک قوم، ایک جذبہ’ کا مظاہرہ کیا۔ “انقلاب زندہ باد” (انقلاب زندہ باد) جیسے نعرے سمیت دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات کے نعرے لگائے گئے بہت سے شرکاء نے ہندوستانی قومی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ دیگر نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ مارچ کا اختتام بھیونڈی سب ڈویژنل افسر کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہوا۔

تقریب کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ ’ترنگا مارچ‘ کسی مخصوص سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھا بلکہ بھیونڈی کے شہریوں کی طرف سے ایک بے ساختہ اقدام تھا۔ انہوں نے ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک ہونے اور احتجاج کرنے والے طلباء پر وحشیانہ لاٹھی چارج کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے ملک گیر غم و غصے کو نوٹ کیا۔ مارچ کا مقصد طلبہ کی تحریک کی حمایت کرنا اور امتحانی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کا مطالبہ کرنا تھا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ‘این ای ای ٹی’ پیپر لیک کے واقعہ کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے استعفیٰ دیں۔ ’ترنگا ریلی‘ کے ذریعہ جاری کردہ میمورنڈم میں چار مطالبات پیش کیے گئے ہیں: دہلی کے ’جنتر منتر‘ پر طلبہ کے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کی عدالتی تحقیقات؛ این ای ای ٹی پیپر لیک ہونے پر خودکشی کرنے والے طلباء کے اہل خانہ کو ایک کروڑ روپے کی مالی امداد؛ اور دہلی کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں طلباء مظاہرین کے خلاف درج پولیس مقدمات کو واپس لے لیا جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک طلبا احتجاج : سوشل میڈیا پر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں غصہ چوطرفہ کارروائی کا مطالبہ

Published

on

Shiwaji-Park-Protest

ممبئی : ممبئی میں شیواجی پارک دادر میں احتجاج کے دوران ایک پولس اہلکار کی شرمناک حرکت سامنے آنے کے بعد ممبئی پولس نے اس کانسٹبل دیپک کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہوا ہے, وہ ویڈیو غیر ذمہ دارانہ ہے اہلکار کی نیت خاتون سے بدسلوکی یا پھر اس سے چھیڑخانی نہیں تھی۔ جب ایک مرد کو مظاہرہ کے دوران پکڑنے اہلکار گیا تھا تو خاتون مظاہرین درمیان میں آگئی اور یہی وہ ویڈیو ہے اس معاملہ میں تفتیش کے بعد پولس محکمہ کے اعلیٰ افسران نے ویڈیو فوٹیج کا بغور معاملہ کے بعد مذکورہ بالا پولس اہلکار کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ پولس نے اپنے تردیدی بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین پر قابو کرنے والے کانسٹیبل کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس نے قصدا خاتون کو ہاتھ نہیں لگایا ہے, یہ بات ضرور ہے کہ وہ مظاہرین کو کنٹرول کر رہا تھا۔

اس معاملہ ایڈوکیٹ نتن ساتپوتے نے پولس کانسٹبل کو کلین چٹ دئیے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ سے اپیل کی ہے وہ ازخود اس اہلکار کے خلاف کیس درج کروائیں اگر اس معاملہ میں مقدمہ درج نہیں کیا گیا وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی اور دیگر میں طلبا پر تشدد برپا کرنے کے جو ویڈیوز وائرل ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ اس میں کئی ایسے ویڈیو بھی سامنے آئے ہیں جو انتہائی درندگی پر مبنی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک کانسٹبل دو طلبا کو جھوٹے ڈرگس کیس میں پھنسانے کی دھمکی دے رہا ہے تو دوسرے ویڈیو میں پولس کانسٹبل کی یہ شرمناک حرکت سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد کئی سیاسی لیڈران نے بھی اسے ٹوئٹ کیا ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, جبکہ اس معاملہ میں پولس نے کانسٹبل کو کلین چٹ دیدی ہے۔ اس سے پولس محکمہ کی شبیہ بھی متاثر ہے اس ویڈیو نے ممبئی پولس کو داغدار کر دیا ہے۔ پولس کے رویہ سے عوام میں ناراضگی ہے اور پولس کے تازہ موقف سے بھی عوام میں حیرت ہے کہ کانسٹبل بے قصور ہے اور اس کی کوئی خطا نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان