(جنرل (عام
سپریم کورٹ نے معاملہ جوں کا توں رکھنے کا دیا حکم، ممبئی میٹرو کاکام جاری رکھنے کا فیصلہ

آرے کالونی میں درخت کاٹنے پر سپریم کورٹ کی روک کے بعد ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے بیان دیا ہے کہ ان کے پاس تو ۲۱۸۵؍درخت کاٹنے کی اجازت تھی
ممبئی :سپریم کورٹ نے پیر کے روز ممبئی کی آرے کالونی میں میٹرو پروجیکٹ کے لیے درخت کاٹنے پر روک لگا دی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آنے میں کافی تاخر ہو گئی، کیونکہ ممبئی میٹرو ریل کارپوریشن نے کہا ہے کہ وہ معاملہ عدالت میں پہنچنے تک 2141 درخت کاٹ چکا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ممبئی میٹرو کے ترجمان نے کہا کہ اب مستقبل میں مزید درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔ حالانکہ کاٹے گئے درختوں کو ہٹا کر جگہ صاف کرنے اور دیگر تعمیری کام جاری رکھنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “ہم سپریم کورٹ کے حکم کی عزت کرتے ہیں اور اب آرے مِلک کالونی میں کار شیڈ سائٹ کے آس پاس کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا۔اس سے قبل سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل نے کہا تھا کہ میٹرو کو جتنے درخت کاٹنے تھے، اتنے کاٹ لیے گئے ہیں۔ اس پر عرضی دہندہ کے وکیل سنجے ہیگڑے نے عدالت کے سامنے اندیشہ ظاہر کیا کہ کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے نام پر مزید درخت کاٹے جا سکتے ہیں، اس پر عدالت نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن میٹرو کے بیان سے لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کے حکم کو اس نے اہمیت نہیں دی ہے۔ اسی لیے میٹرو نے کہا ہے کہ نئے درخت کاٹے نہیں جائیں گے اور کٹے ہوئے درختوں کو ہٹانے کے ساتھ ہی شیڈ بنانے کا کام شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سوموار کو ممبئی کی آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگا دی تھی اور مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا تھا کہ اگلی سماعت تک وہ اس معاملے میں موجودہ حالات کو بنائے رکھیں۔ معاملے کی اگلی سماعت 21 اکتوبر کو فاریسٹ بنچ کے سامنے ہوگی۔غور طلب ہے کہ قانون کے طالب علموں کے ایک گروپ کے ذریعے اس بارےمیں چیف جسٹس رنجن گگوئی کو لکھے گئے خط کے بعد یہ دو ججوں کی بنچ تشکیل کی گئی تھی۔ اس سے پہلے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کی مانگ کو لےکر بامبے ہائی کورٹ پہنچے لوگوں کی عرضی کو کورٹ نے خارج کر دیا تھا۔سپریم کورٹ میں اس معاملے میں سینئر وکیل سنجےہیگڑے اور گوپال شنکرنارائنن نے درخواست گزاروں کی پیروی کی۔ انہوں نے کورٹ کو بتایا کہ آرے جنگل ہے یا نہیں، ابھی یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر التوا ہے۔ اس کے علاوہ این جی ٹی اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ آرے علاقہ ایکو۔سینسٹو ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس لئے انتظامیہ کو فیصلہ آنے تک آرے کالونی کے درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے تھا۔
اس سے پہلے جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ کے دو ججوں چیف جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس بھارتی ڈانگرے کی بنچ نے درختوں کی کٹائی پر روک لگانے کے بارے میں این جی او اور ماہرِ ماحولیات کے ذریعے دائر کی گئی پانچ عرضیوں کو خارج کر دیا تھا۔گزشتہ جمعہ کو بامبے ہائی کورٹ سے فیصلہ آنے کے بعد رات کو نو بجے سے دو گھنٹے کے اندر ایم ایم آر سی ایل نے الیکٹرک مشین سے 450 درختوں کو کاٹ دیا تھا۔ حالانکہ مقامی لوگوں کے ذریعے مخالفت کے بعد کچھ دیر تک اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں پولیس کی مدد سے سنیچر رات نو بجے تک آرے کالونی کے تقریباً 2134 درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ممبئی پولیس نے آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کو لےکر ہوئے مظاہرہ کے بیچ سنیچر کی صبح کالونی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 نافذ کر دی تھی، جس کے بعد 29 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ اس معاملے کو لےکر گرفتار کئے گئے تمام مظاہرین کو رہا کیا جائے۔ اس پر بھروسہ دلاتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا، ‘ اگر کسی کو ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے تو ان کو فوراً رہا کیا جائے گا۔دریں اثناء آرے کالونی میں درختوں کی کٹائی کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے، جس پر آج سماعت ہوگی ۔ سپریم کورٹ رجسٹری کی جانب سے جاری ایک نوٹس میں اس بات کی معلومات دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے قانو ن کے طالب علم رشبھ رنجن کے خط کو مفاد عامہ کی عرضی میں بدل کر اس کی آج سماعت کے لئے خصوصی بینچ تشکیل دی ہے ۔ بینچ صبح 10 بجے اس معاملے کی سماعت کرے گی ۔ قانون طالب علم نے خط میں لکھا ہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے آرے کے درختوں کو جنگل کے زمرے میں رکھنے سے انکار کر دیا اور درختوں کی کٹائی سے متعلق عرضیاں مسترد کر دیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ حکومت بہت جلد بازی میں یہ فیصلہ لے رہی ہے ۔ واضح ر ہے کہ آرے میں کل 2700 درخت کاٹے جانے کا منصوبہ ہے، جن میں سے 1،500 درختوں کو گرا دیا ہے ۔میٹرو شیڈ کے لئے آرے کالونی کے درختوں کی کٹائی کی مخالفت سماجی اور ماحولیاتی کارکنوں کے ساتھ کئی معروف شخصیات کر رہی ہیں ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
(جنرل (عام
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی، بل پر سوال اٹھائے

نئی دہلی : پارلیمنٹ سے منظور شدہ وقف ترمیمی بل کے خلاف قانونی جنگ اب تیز ہونے لگی ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وقف بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ اب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ یہ بل راجیہ سبھا میں 128 ارکان کی حمایت سے پاس ہوا جب کہ 95 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ یہ بل لوک سبھا میں 3 اپریل کو منظور کیا گیا تھا جس کی 288 ارکان نے حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ حالانکہ وقف بل پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے، اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جارہی ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اویسی نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وقف (ترمیمی) بل کی دفعات مسلمانوں اور مسلم کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی کرتی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بل کا خوب چرچا ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے بھی وقف (ترمیمی) بل کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک اور ان کے انتظام پر من مانی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بل مسلم کمیونٹی کی مذہبی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے وکیل انس تنویر کے ذریعے درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ اس میں ان پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو دیگر مذہبی اداروں کے انتظام میں نہیں ہیں۔ اس سے قبل کانگریس سمیت انڈیا الائنس کی تمام جماعتوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے جمعہ کو کہا کہ وقف ترمیمی بل لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پاس ہو سکتا ہے۔ لیکن اسے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اس پر صدر کے دستخط ہونا باقی ہیں اور پھر اسے قانونی جنگ سے گزرنا پڑے گا۔ پرمود تیواری نے مزید کہا کہ ہم وہی کریں گے جو آئینی ہے۔ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ترمیمی بل غیر آئینی ہے۔
اگرچہ وقف ترمیمی بل پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا نے پاس کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی طور پر یہ بہت کمزور بل ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی وویک تنکھا نے کہا کہ یہ بل عدالت میں کھڑا نہیں ہوگا اور اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تنخا نے اس کے نفاذ کے عمل اور اس کے اثرات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ساتھ ہی سی پی ایم کے راجیہ سبھا رکن جان برٹاس نے کہا کہ بل پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پورے ملک میں یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ وہ متحد ہے۔ مرکزی حکومت پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر جاوید علی خان نے بھی اس بل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے ہی طے تھا کہ بل منظور کیا جائے گا لیکن یہ غیر آئینی ہے۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وقف ترمیمی بل پر طویل بحث ہوئی۔ مرکزی اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بدھ کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ جس پر 12 گھنٹے سے زائد میراتھن بحث ہوئی، پھر رات دیر گئے 2 بجے کے بعد ووٹنگ میں حکمراں جماعت بل کو منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پھر اگلے دن یعنی جمعرات کو مرکزی وزیر رجیجو نے راجیہ سبھا میں بل پیش کیا۔ راجیہ سبھا میں بھی 12 گھنٹے سے زیادہ بحث کے بعد دیر رات 2.32 بجے وقف بل کو ووٹنگ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس دوران بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں، چاہے وہ نتیش کمار کی جے ڈی یو ہو یا چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، سبھی نے بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اسی وجہ سے حکومت وقف ترمیمی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا